"سنت "

لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ۔ اور آپ کی ضرورتیں بھی رک جائیں گی ۔ صرف منہ سے بات کر کے خدمت نہیں ہوتی اس پر عمل بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے عملی زندگی بسر کرتےتھے ۔ امام غزالیؒ پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے لوگوں سے ملے جلے ۔ شیخِ اکبر ابنِ عربی فریدالدین عطار، رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی حضرت بختیار کاکی یہ سب لوگ کام کرتے تھے ۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی ۔ اور یہ سب لوگ اس سنت پر عمل کر کے ہی آگے بڑھ سکتے تھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 401 

"حضرت بلال"

صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے  ہیں ۔ کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے جا  رہے میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا ۔ ان کی ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدارمجھ  پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ہوتا ۔ وہ حضور ﷺ سے مل کر آتے اور میں ان کو دیکھ لیا کرتا اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔ 


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463

"ماننے والے "

اب باباابراہیم ؑ وہ ماننے والے تھے اور ان کی کمال کی شخصیت تھی ۔ وہ جدالانبیاء تھے ۔اگر آپ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ کو ان پر اتنا پیار آ جائے گا کہ آپ آبدیدہ ہو جائیں گے ۔ ایک وہ تھے اور ایک ان کے فرمانبردار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے ۔ ابا خدا کے گھر کی تعمیر کے لیے گارالگا رہے ہیں اور بیٹا اینٹیں پکڑا رہا ہے ۔ لق و دق صحرا ہے ، نہ بندہ ہے نہ بندے کی ذات ،نہ سایہ ہے نہ گھاس ، وہاں پانی بھی نہیں ہے ۔ اب سخت رونے کا مقام تو وہ ہے نا جی ۔ کہ حکم مل گیا ہے تعمیر کا اور کوئی سہولت بھی نہیں ۔ 
لیکن آپ ماننے والوں کو دیکھیے کہ وہ کس قدر طاقتور ہیں انہوں نے حکم ملتے ہی کہا " بسم اللہ " ۔ 
اور جب اللہ کا گھر اتنی مشکل کے بعد بن گیا جس کا آپ اندازہ نہیں کر سکتے ۔ گھر بن چکنے کے بعد اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم اب یہاں اذان دے ۔ لوگوں کو حج کے لیے بلا " ۔ 
اب ابراہیم ؑ حیران ہوئے ہوں گے کہ ہم یہاں دو کھڑے ہیں ۔ یہاں حج کے لیے کون آئے گا ۔ 
اللہ نے فرمایا کہ " اے ابراہیم تو لوگوں کو بلا ، لوگ چاروں طرف سے چلتے آئیں گے ۔وہ لاغر اونٹنیوں پر سوار ہو کر آئیں گے " ۔ 
اس حکم کے بعد اذان ابراہیمی گونجی اور دین کی روشنی وہاں سے پھوٹی۔ 


اشفاق احمد زاویہ 3 " مسٹر بٹ سے اسلامی بم تک " صفحہ 166

" مولوی صاحب "

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ  چائے پیئیں ۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی بیٹھ کر جس پر وہ لکھتے تھے ۔ اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادہر ادہر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے تو وہ بولے  آپ ہم کو بتاؤ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے ! میں تو مسافر ہوں مولوی صاحب نے کہا میں بھی تو مسافر ہوں ۔ کیا جواب تھا اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ آذان دیتا تھا ۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی ۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتاتھا ۔ میں سمجھا کہ اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے وہ ہوگا وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں اللہ کے فضل سے بہت صحت مند بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ ٹٹولتا رہتا ہے۔ کہنے لگے جی یہ اللہ والا آدمی ہے اور خدا کے اصل بندے جو ہیں وہ ہر وقت جیبوں کی تلاشی لیتے رہتے ہیں کہ اس میں کوئی چیز تو نہیں پڑی جو اللہ کو ناپسند ہو ۔ میں نے کہا ہم تو بڑے بد نصیب ہیں اور اس شہر سے آتے ہیں جہاں نا پسند چیزیں ہم جیبوں میں ہی نہیں دل کے اندر تک بھرتے  ہیں اور بہت خوش ہوتے ہیں ۔


اشفاق احمد زاویہ 2 پانی کی لڑائی اور سندیلے کی طوائفیں صفحہ 134