نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

پرائی نہیں، اپنی جیب ٹٹولو۔۔۔

مولوی صاحب بھی عجیب و غریب آدمی تھے ۔ ان کے گھر کے دو حجرے تھے ہم سے کہنے لگے کہ ( ممتا ز مفتی ان کے بڑے دوست ہو گئے تھے ) میرے ساتھ چائے پی لیں۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور جس کمرے میں ہمیں بٹھایا اس میں ایک صندوقچی تھی، اسی پر بیٹھ کر وہ لکھتے وغیرہ تھے اور باقی ایک صف بچھی ہوئی تھی ۔
ممتاز مفتی تھوڑی دیر ادھر، ادھر دیکھ کر کہنے لگے مولوی صاحب آپ کا سامان کہاں ہے؟ تو وہ بولے آپ ہم کو بتاؤ۔۔۔ آپ کا سامان کدھر ہے ؟
ممتاز مفتی کہنے لگے، میں تو مسافر ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا، میں بھی تو مسافر ہوں۔ اب یہ کیا جواب تھا۔ اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کا ایک خادم تھا وہ اذان دیتا تھا۔ اس نے واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ وہ اندر آ کے کبھی ایک اور کبھی دوسری جیب میں ہاتھ ڈالتا تھا۔ میں سمجھا کہ شاید اسے خارش کا کوئی مرض لاحق ہوگا یا ایک "جھولے " کا مرض ہوجاتا ہے، وہ ہوگا۔ وہ بار بار جیب دیکھتا تھا۔ اس سے مجھے بڑا تجسس پیدا ہوا۔ میں نے کہا، مولوی صاحب کیا آپ کا یہ خادم بیمار ہے تو کہنے لگے نہیں۔۔۔ اللہ کے فضل سے بہت صحت مند، بہت اچھا اور نیک آدمی ہے۔ میں نے کہا جی یہ ہر وقت جیب میں ہ…
حالیہ پوسٹس

ان سے بھی عید ملیے۔۔۔

تھانے میں جب اندر داخل ہوا تو میں نے کہا جناب اجازت ہے؟ کہنے لگے! فرمائیے جناب عالی ۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں، میں تو آپ سے ملنے آیا ہوں ۔ کہنے لگا جی حکم ۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پاؤں اتار دیے میز سے اور بیٹھ گئے۔ تھانے والے جناب عالی یا جنابِ اعلیٰ کہہ کر پکارتے ہیں ۔ ان کا ایک انداز ہے تو کہنے لگے جنابِ عالی کیا کام ہے ؟ میں نے کہا کوئی کام نہیں ، میں تو ایسے ہی آیا ہوں آپ سے ملنے ۔ کہنے لگا ! یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی آدمی تھانے میں آئے اور اس کا کوئی کام نہ ہو ۔۔۔۔۔ میں نے کہا نہیں ، میں اس غرض سے نہیں آیا ۔ آپ ایس ایچ او ہیں ؟ کہنے لگا ! جی ، میں ایس ایچ ہوں ۔۔۔۔ میں نے کہا ، میں آپ سے عید ملنے کے لیے آیا ہوں تو وہ بڑے حیران سے ہوئے اور کہنے لگے ۔۔۔ بڑی مہربانی وعلیکم عید مبارک ۔ میں نے کہا دیکھیے تھانیدار صاحب وعلیکم عید مبارک ایسے تو نہیں ہو جاتی ۔ آپ کو اٹھ کر کھڑا ہونا پڑے گا اور پھر میرے ساتھ عید ملنے پڑے گی یہ تو کوئی طریقہ نہ ہوا عید ملنے کا ۔ میں اتنی دور سے آیا ہوں ۔ ان کو میری بات سمجھ نہیں آئی تو میں نے گستاخی کرتے ہوئے ان کے کندھوں سے پکڑ کر جہاں اسٹارز لگے ہوئے تھے ان…

گدھا وہی لیکن تھڑا نیا ہے۔۔۔

پرانے زمانے میں بچے آزاد کھیلتے تھے اور جب وہ جوان ہوتے تو سردار کی بتائی ہوئی رسم کے مطابق انہیں جنگجو گروہوں مین شامل کر لیا جاتا تھا ۔ اب جب بچہ جوان ہو جاتا ہے تو اس کو ڈگری دے کر اور ملازمت کی رسم ادا کر کے اداروں میں شامل کر لیا جاتا ہے ۔ پرانے زمانے میں جوان کو شکار مارنے، شکار تلاش کرنے، اور موقع آنے پر دوسرے قبیلے کے لوگوں کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا۔ آج کے زمانے میں اُسے روٹی کما کر لانے، اس کا ذخیرہ جمع کرنے، اور مدِ مقابل کو شکست دے کر اپنے لیے نئی راہیں پیدا کرنے پر متعین کیا جاتا ہے۔

بندہ بچا لو۔۔۔

میں پہلے تو نہیں اب کبھی کبھی یہ محسوس کرتا ہوں کہ عمر کے اس حصّے میں میری طبیعت پر ایک عجیب طرح کا بوجھ ہے، جو کسی طرح سے جاتا نہیں- میں آپ سے بہت سی باتیں کرتا ہوں- اب میں چاہوں گا کہ میں اپنی شکل آپ کے سامنے بیان کروں اور آپ بھی میری مدد کریں، کیونکہ یہ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ مجھ جیسے پریشان اور درد مند آدمی کا سہارا بن جائیں- ہمارے بابے جنکا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی محفل میں کسی یونیورسٹی، سیمینار، اسمبلی میں، کسی اجتماع میں یا کسی بھی انسانی گروہ میں بیٹھے کوئی موضوع شدّت سے ڈسکس کر رہے ہوں اور اُس پر اپنے جواز اور دلائل پیش کر رہے ہوں اور اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی دلیل آجائے جو بہت طاقتور ہو اور اُس سے اندیشہ ہو کہ اگر میں یہ دلیل دوں گا تو یہ بندہ شرمندہ ہو جائے گا کیونکہ اُس آدمی کے پاس اس دلیل کی کاٹ نہیں ہو گی- شطرنج کی ایسی چال میرے پاس آ گئی ہے کہ یہ اس کا جواب نہیں دے سکے گا- اس موقع پر”بابے“ کہتے ہیں کہ"اپنی دلیل روک لو، بندہ بچا لو، اسے ذبح نہ ہونے دو، کیونکہ وہ زیادہ قیمتی ہے-“

نوٹ: محبوب وہ ہوتا ہے۔۔۔

میری بیوی (بانو قدسیہ) اپنے بیٹے کو، جو سب سے بڑا بیٹا ہے، اس کو غالب پڑھا رہی تھی، وہ سٹوڈنٹ تو سائنس کا تھا، B.Sc کا، اردو اس کا آپشنل مضمون تھا۔ غالب وہ پڑھا رہی تھی تو وہ اوپر بیٹھا کچھ توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں نیچے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ہماری ایک میانی سی ہے اس پر بیٹھ کر پڑھ رہے تھے تو میری بیوی نے آواز دے کر شکایت کی کہ دیکھو جی یہ شرارتیں کر رہا ہے، اور کھیل رہا ہے کاغذ کے ساتھ ، اور توجہ نہیں دے رہا۔ میں اس کو پڑھا رہی ہوں۔ تو اس نے کہا، ابو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ امی کا قصور ہے۔ اس سے پوچھ رہا ہوں۔ امی محبوب کیا ہوتا ہے، اور یہ بتا نہیں سکتیں کہ محبوب کیا ہے۔ میں نے کہا، بیٹے میں بتاتا ہوں کہ محبوب وہ ہوتا ہے جس سے محبت کی جائے۔ کہنے لگا، یہ تو آپ نے ٹرانسلیشن کر دی۔ ہم تو سائنس کے سٹوڈنٹ ہیں ہم اس کی Definition جاننا چاہتے ہیں کہ محبوب کیا ہوتا ہے۔ یہ امی نے بھی نہیں بتایا تھا۔ آپ ایک چھوڑ کر دو ادیب ہیں۔ دونوں ہی ناقص العقل ہیں کہ آپ سمجھا نہیں سکے۔ میں نے کہا، یہ بات تو ٹھیک کہہ رہا ہے۔ یہ تو ہم نے اس کا ٹرانسلیشن کر دیا، لیکن محبوب کی Definition تو نہیں دے سکے …

ڈپریشن کا علاج: بونگیاں

" ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈپریشن کے مرض سے پریشان ہیں کروڑوں روپے کی ادویات سے ڈپریشن ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور یہ مرض ایسا ہے کہ خوفناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اچھوت کی بیماری لگتا ہے ۔ ہمارے بابے جن کا میں ذکر کرتا ہوں۔اور وہ بھی اس Stress یا ڈپریشن کے مرض کا علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوئے ہیں تا کہ لوگوں کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جائے ۔پرسوں ہی جب میں نے باباجی کے سامنے اپنی یہ مشکل پیش کی تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ڈپریشن کے مریض کو اس بات پر مائل کر سکتے ہیں کہ وہ دن میں ایک آدھ دفعہ​ " بونگیاں ' مار لیا کرے ۔ یعنی ایسی بات کریں جس کا مطلب اور معنی کچھ نہ ہو ۔ جب ہم بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے اور جوہڑ کے کنارے جاتے تھے اور اس وقت میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت بھی پاپ میوزک آج کل کے پاپ میوزک سے بہت تیز تھا اور ہم پاپ میوزک یا گانے کے انداز میں یہ تیز تیز گاتے تھے ​ ' مور پاوے پیل​ سپ جاوے کھڈ نوں ​ بگلا بھگت چک لیا وے ڈڈ نوں ​ تے ڈڈاں دیاں لیکھاں نوں کون موڑ دا '​ ( مور ناچتا ہے جبکہ سانپ اپنے سوراخ یا گڑھے میں جاتا ہے ۔ بگلہ مینڈک …

سنگ دل (آخری حصہ)

رات کو امر اپنی چارپائی میرے کمرے میں اٹھا لایا۔ بہت دیر تک باتیں کرتا رہا لیکن میں نے شاید ہی اس کی کسی بات کا جواب دیا ہو۔ پر جب وہ پمی کی کوئی بات کرتا تو میں غور سے سنتا اور شوق سے جواب دیتا۔ سونے سے پہلے اس نے اپنی قمیص اتار کر رکہا، 'آپ کو پمی جتنی اچھی لگتی ہے، مجھے اتنی ہی بری!' اور پھر کروٹ بدل کر خاموش ہو گیا۔ دوسرے دن صبح پمی نے امر کو جھنجھوڑتے ہوئے میرے گال پر بھی ایک ہلکا سا طمانچہ لگا دیا۔ میں نے ویسے ہی آنکھیں بند کیے ہوئے جواب دیا، 'بھئی ہم تو جاگ رہے ہیں، یہ سزا کس جرم کی ہے؟' 'جاگ رہے ہیں تو اٹھیے نا!' اس نے میری ناک اینٹھی، 'جب بڑی ہی دن کے دس بجے تک سویا کریں گے تو چھوٹوں سے کوئی کیا کہے گا؟' جب میں اٹھ کر بیٹھ گیا تو اس نے امر کی الٹی قمیص سیدھی کرتے ہوئے کہا، 'اتنی چھوٹی ریاست سے اتنی بڑی تنخواہ پاتے ہو۔ کچھ کام بھی کر لیا کرو!' میں نے ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی فائلوں کا پلندہ اٹھا لیا اور بغیر کچھ بولے کاغذات الٹنے لگا۔ پمی جو کہتی تھی، اس کا جواب دینے کی بجائے اس پر عمل کرنے کا لطف آتا تھا۔ امر سکول چلا گیا تو وہ نمک مر…