سانس

اللہ کے فضل کی صورت بھی عجیب ہے ۔ وہ مجھے سخت گرمی میں بھگا کر ، ہنکا کر اور پسینہ پسینہ کر کے اپنا کرم کرتا ہے ۔ سخت سردی میں منجمد کر کے مجھ پر اپنا فضل کرتا ہے ۔ مجھے کھانے کو دے کر بھی مہربانی کرتا ہے اور بھوکا رکھ کر بھی عنایات کرتا ہے ۔ بیماری میں مجھے نحیف و نزار بھی کرتا ہے اور بے زری میں مجھے پریشان بھی رکھتا ہے لیکن ان ساری چیزوں کو اپنا کر میں مسکرا کر اپنا چہرہ اوپر اٹھاتا ہوں تو وہ میری شہہ رگ کے پاس اسی سانس کا حصہ ہوتا ہے جو میں روشنی حاصل کرنے کے لیے اندر کھینچتا ہوں اور اور جو میں زندگی حاصل کرنے کے لیے باہر نکالتا ہوں ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 480


" ترشنا "

خدا کی عبادت ، خدا کے بارے میں سوچ اور خدا کے بارے میں مجلس آرائی ہم کو خدا تک نہیں پہنچاتی ۔ خدا تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے خاموشی ۔ جب ہم خاموش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور ہمارا دل ترشنا سے بھر جاتا ہے پھر اس کے فضل برسنے کا موقعہ ہوتا ہے پھر وجود کے آسمان پر اس کے بادل آتے ہیں اور عطا کی بارش ہوتی ہے ۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ اصول اور ضابطے سے بڑھ کر اس کے فضل کا کمال ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 489

" سہارا "

میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں ، وہ بڑے مزے میں رہتے ہیں ۔ اور وہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں ۔ ہم کو انہوں نے بتایا ہوتا ہے ہم ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی رکھیں اور وہ خود بیچ میں سے نکل کر اللہ کو دوست بنا لیتے ہیں ۔ ان کے اوپر کوئی تکلیف ، کوئی بوجھ ، کوئی پہاڑ نہیں گرتا ۔ سارے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے آپ کے ہیں ، لیکن ان لوگوں کو ایک سہارا ہوتا ہے ۔ ایک ایسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی ۔ 

اشفاق احمد  زاویہ دوم سلطان سنگھاڑے والا صفحہ 68

آسانی

جسے معاف کیا جائے ، اسے آسانی عطا کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا  صفحہ 499