"پالنہار"


مجھ میں کمی یہ ہے کہ مجھے ایسا وقت نہیں ملتا، ایسی دھوپ نہیں ملتی، ایسا لان نہیں ملتا کہ جہاں پر میں ہوں اور میرا پالن ہار، اور کچھ نہ کچھ اس سے بات ہو۔ عبادت اپنی جگہ، بلکل ٹھیک ہے لیکن اللہ خود فرماتا ہے کہ جب تم نماز ادا کر چکو پھر میرا ذکر کرو، لیٹے ہوئے، بیٹھے ہوئے یا پہلو کے بل۔
لیکن آدمی ایسا مجبور ہے کہ وہ اس ذکر سے محروم رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچیں کہ اس وقت میرا اللہ کہاں ہے؟ کیسے ہے؟ شہ رگ کے پاس تو ہے مگر میں کیوں خالی خالی محسوس کرتا ہوں؟
تو پھر آپکو ایک حرکت، ایک وائبریشن محسوس ہوتی ہے۔
یہ بڑے مزے کی اور دلچسپ باتیں ہیں لیکن ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ اس طرف جا ہی نہیں سکتے۔

اشفاق احمد، زاویہ کے باب حقوق العباد سے انتخاب

" باوقار لوگ "


مجھے حضرت نظام الدین اولیا رح کے خلیفہ خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی کی وہ بات یاد آتی ہے جب ایک بار قحط پڑ گیا اور دٍلی میں‌بہت “سوکھا“ ہو گیا
تو لوگوں نے کہا کہ یا حضرت ‌(وہ چبوترے پر تشریف فرما تھے) آپ تو چراغٍ دلی ہیں، آپ جا کے نمازٍ استسقاء پڑھائیے اور بارانٍ رحمت کے لئے دعا کیجئے تو وہ کہنے لگے کہ میں کچھ مُتردَّد ہوا، پریشان ہوا کہ میں‌کیسے دعا کروں۔ یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ وہ بارانٍ رحمت کرے یا نہ کرے۔ خیر وہ طے شدہ مقام پر نمازٍ استسقاء پڑھانے چلے گئے۔ وہاں‌جا کر نماز پڑھائی اور دعا کی اور دعا کے بعد دیکھا کہ آسمان پر کچھ بھی نہیں، نہ کوئی ابر کے آثار ہیں نہ بارش کے۔ وہ لوٹ آئے اور کچھ شرمندہ تھے۔ وہاں‌ایک بزرگ یوسف سرہندی تھے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب پہلے بھی ایک ایسا واقعہ پیش آچکا ہے۔ ہم نے بھی ایک بار بارش کے لئے دعا کی تھی لیکن وہ بدترین قحط اور Drought کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا تھا اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ کہنے لگے کہ ہمارے زمانے میں جب ہماری دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو ایک صاحب میرے پاس آئے اور انہوں ‌نے کہا کہ اگر تم بارانٍ رحمت کے لئے دعا کرانا چاہتے ہو تو کسی باوقار Editorialized آدمی سے کرواؤ اور اللہ باوقار اور غیرت مند آدمی پر بڑا اعتماد کرتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ تو میں‌نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہمیں‌اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے تو بتاؤ کہ کس سے دعا کروائیں تو اس شخص نے بتایا کہ سیری دروازے کے پاس ایک بزرگ رہتے ہیں، وہاں چلتے ہیں۔ یوسف سرہندی نے مزید کہا کہ وہ شخص مجھے ان کےپاس لے گیا اور میں دیکھ کر بہت حیران اور شرمندہ بھی ہوا کہ بزرگ جو تھے وہ خواجہ سرا تھے یعنی ہیجڑے (مُخَنَّث تھے اور ان کا نام خواجہ راحت تھا)۔ اب وہ شخص کو مجھے وہاں لے کر گیا تھا، اس نے خواجہ رحمت مخنث سے کہا کہ یہ (یوسف سرہندی) آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ مینہ یا باراں یا Rain Fall کے لئے دعا فرمائیں تو انہوں نے کہا،کیوں کیا ہوگا؟ اس شخص نے کہا یا حضرت (اس ہیجڑے سے کہا، مجھے انہیں ہیجڑا کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے اور یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے ایسی بزرگ شخصیت کے لئے لیکن چونکہ وہ مخنث تھے اور اپنے آپ کو خود بھی کہتے تھے، دیکھئے باوقار لوگ بھی کیا ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی ذات، عورت، مرد یا مخنث سے تعلق نہیں ہوتا۔یہ وقار ایک الگ سی چیز ہے جو انسان کے اندر روح سے داخل ہوتا ہے) دِلّی سوکھا ہے، بارش نہیں ہو رہی۔ ان حضرت نے اپنی خادمہ سے کہا کہ پانی گرم کرو، وضو کیا اور دعا مانگی اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ پھر کہنے لگے کہ اے یوسف سرہندی آپ جائیں‌اور اپنے معروف طریقے سے بارش کے لئے نماز ادا کرو اور خدا سے دعا مانگیں کہ وہ اپنی مخلوق کو بارش عنایت فرمائے لیکن اگر پھر بھی بارش نہ ہو تو (انہوں‌نے اپنی قباسے ایک دھاگہ یا بڑھا ہوا ڈورا کھینچا) اس ڈورے کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر اللہ سے درخواست کرنا کہ یہ خواجہ رحمت مخنث جس نے تیری رضا کا چولا پہن لیا ہے اور اب لوگوں سے نہیں ملتا اور ایک مقام پر ایک وقار کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اس طرح‌ مخلوق میں بھی شامل نہیں‌ہوتا کہ وہ دعائیں منگواتا پھرے، اس نے بارش کے لئے عرض کیا ہے۔ یوسف صاحب کہنے لگے کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ وہاں‌بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ پورا دلی امڈ کے آیا ہوا تھا۔ وہاں نماز استسقا پڑھی لیکن بد قسمتی سے کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر میں‌نے اپنی دستار سے خواجہ رحمت مخنث کی قباء کا وہ ڈورا نکالا اور اسے دائیں‌ہاتھ پر رکھ کر خدا سے دعا کی تو وہاں‌کھڑے کھڑے بادل گھٍر کر آیا اور موسلا دھار بارش ہونے لگی اور اس قدر زور کی بارش شروع ہو گئی کہ لوگ تیزی سے بھاگنے کے باوجود اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے۔

خواتین و حضرات! اب یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم کس وقار کے ساتھ اور اس امّہ سے تعلق رکھتے ہوئے کیسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ خدا ہم کو عزت و وقار سے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔

ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔

لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو تب بھی سپاہی نے کہا کہ یار پہلے گاڑی والے کو چھوڑ دیا ہے تو اس موٹر سائیکل والے کو بھی جانے دو۔

(اب میں وہاں کھڑا تماشہ دیکھ رہا ہوں) پھر جب تیسرا سکاؤٹ کوئی شکایت لے کر آیا تو میں نے سپاہی سے آ کر کہا یار تُو تو باکمال اور چودھری قسم کا سارجنٹ ہے سب کو چھوڑ رہا ہے اور یہ ساری سکاؤٹ تمہیں سیلوٹ مار رہے ہیں۔

وہ کہنے لگا کہ یہ سارے ایچی سن کالج کے لڑکے ہیں، ان کے گھر والے انہیں گاڑیوں پر چھوڑ گئے ہیں اور لعنت ہے کہ تین دن ہو گۓ ہیں ایک پیسہ کسی سے نہیں لے سکا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس وجہ سے کہ یہ سارے آپ کے سر پر کھڑے ہیں۔ آپ پیسے لیں یہ بھلا آپ کو روکتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ نہیں سر اس وجہ سے نہیں کہ یہ میرے سر پر کھڑے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ آ کر مجھے سیلوٹ کرتے ہیں اور “سر“ کہتے ہیں۔ کہتا ہوں اگر ایک بھی پیسہ لوں تو میں لعنتی ہوں کیونکہ ان کا سیلوٹ مجھے ایک معزز شخص بنا دیتا ہے اور معزز آدمی رشوت نہیں لیتا۔ ان نے کہا کہ اس کی بیوی رشوت کے پیسے نہ لانے کے باعث ناراض ہے اور یہ آٹھ دن سے اس کو سیلوٹ کۓ جا رہے ہیں۔ وہ سپاہی کہنے لگا کہ سر میں سوکھی روٹی کھاؤں گا اور جب تک یہ مجھے سر کہتے ہیں اور سیلوٹ کرتے ہیں رشوت نہیں لوں گا۔

اشفاق احمد باب   چیلسی کے باعزت ماجھے گامے 

" بابا رتن ہندی "


ہمارے یہاں قریب ہی بھارت میں ایک جگہ ہے جسے بٹھندہ کہتے ہیں - صدیوں پہلے اس شہر میں ریت کے میداں میں شام کو نوجوان اکٹھے ہوتے تھے ، اور اپنے اس زمانے کی ( بہت عرصہ بہت صدیاں پہلے کی بات کر رہا ہوں ) کھیلیں کھیلتے تھے - ایک دفعہ کہانیاں کہتے کہتے کسی ایک نوجوان لڑکے نے اپنے ساتھیوں سے یہ ذکر کیا کہ اس دھرتی پر ایک "اوتار" آیا ہے - لیکن ہمیں پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے - اس کے ایک ساتھی " رتن ناتھ " نے کہا : " تجھے جگہ کا پتا نہیں ہے " اس نے کہا مجھے معلوم نہیں لیکن یہ بات دنیا والے جان گئے ہیں کہ ایک " اوتار " اس دھرتے پے تشریف لایا ہے ۔
اب رتن ناتھ کے دل میں " کھد بد " شروع ہو گئی کہ وہ کونسا علاقہ ہے اور کدھر یہ "اوتار " آیا ہے اور میری زندگی میں یہ کتنی خوش قسمتی کی بات ہوگی اور میں کتنا خوش قسمت ہونگا اگر " اوتار " دنیا میں موجود ہے اور میں اس سے ملوں اور اگر ملا نہ جائے تو یہ بہت کمزوری اور نا مرادی کی بات ہوگی - چنانچہ اس نے ارد گرد سے پتا کیا ، کچھ بڑے بزرگوں نے بتایا کہ وہ عرب میں آیا ہے اور عرب یہاں سے بہت دور ہے وہ رات کو لیٹ کر سوچنے لگا بندہ کیا عرب نہیں جاسکتا - اب وہاں جانے کےذرائع تواس کے پاس تھے نہیں لیکن اس کا تہیہ پکا اور پختہ ہو گیا - اس نے بات نہ کی اور نہ کوئی اعلان ہی کیا - کوئی کتاب رسالہ نہیں پڑھا بلکہ اپنے دل کے اندر اس دیوتا کا روپ اتار لیا کہ میں نے اس کی خدمت میں ضرور حاضر ہونا ہے اور میں نے یہ خوش قسمت آدمی بننا ہے۔
وہ چلتا گیا چلتا گیا ، راستہ پوچھتا گیا اور لوگ اسے بتاتے گئے - کچھ لوگوں نے اسے مہمان بھی رکھا ہوگا لیکن ہمارے پاس اس کی ہسٹری موجود نہیں ہے - وہ چلتا چلتا مہینوں کی منزلیں ہفتوں میں طے کرتا مکہ شریف پہنچ گیا -غالباً ایران کے راستے سے اور اب وہ وہاں تڑپتا پھرتا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ ایک " اوتار " آیا ہے - اب کچھ لوگ اس کی بات کو لفظی طور پر تو نہیں سمجھتے ہونگے لیکن اس کی تڑپ سے اندازہ ضرور لگایا ہوگا کسی نے اسے بتایا ہوگا کہ وہ اب یہاں نہیں ہے بلکہ یہاں سے آگے تشریف لے جا چکے ہیں اور اس شہر کا نام مدینہ ہے - اس نے کہا میں نے اتنے ہزاروں میل کا سفر کیا ہے یہ مدینہ کونسا دور ہے ، میں یہ ٦٠٠ سو کلو میٹر بھی کر لونگا - ووہ پھر چل پڑا اور آخر کار "مدینہ منورہ " پہنچ گیا -
بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہیں ، اور کہیں بھی اس کا ذکر اس تفصیل کیساتھ نہیں آتا جس طرح میں عرض کر رہا ہوں - شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رح نے اپنی کتاب میں ایک جملہ لکھا ہے کہ " بابا رتن ہندی " حضور نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ، پھر معلوم نہیں کہ اس کا کیا ہوا " لیکن غالب گمان ہے اور عقل کہتی ہے اور ہم اندازے سے یقین کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں کہ وہ مدینہ شریف میں حضور نبی کریم کی خدمت میں رہا اور حضور کے پسندیدہ لوگوں میں سے تھا - اب وہ کس زبان میں ان سے بات کرتے ہونگے کیسے رابطے کرتے ہونگے اور رتن کس طرح سے مدینہ شریف میں زندگی بسر کرتا ہوگا ؟ کہاں رہتا ہوگا اس کا ہمیں کچھ معلوم نہیں ہے لیکن وہ رہتا وہیں تھا اور وہ کب تک وہاں رہا اس کے بارے میں بھی لوگ نہیں جانتے - اس کی طلب تھی اور اس کی خوش قسمتی تھی اور خوش قسمتی ہمیشہ طلب کے واسطے سے پیدا ہوتی ہے - اگر آپ کی طلب نہ ہو تو خوش قسمتی خود گھر نہیں آتی -
وہ اتنے معزز میزبان کا مہمان ٹھہرا اور وہاں رہا - آپ کو یاد ہوگا جب رسول پاک نبی اکرم مدینہ شریف تشریف لے گئے تو وہاں کی لڑکیوں نے اونچے ٹیلے پر کھڑے ہو کر دف پر گانا شروع کر دیا کہ " چاند کدھر سے چڑھا " وہ خوش قسمت لوگ تھے - ایک فکشن رائٹر کے حوالے سے میں یہ سوچتا ہوں کہ اس وقت کوئی ایسا محکمہ پبلک سروس کمیشن کا تو نہیں ہوگا ، اس وقت کوئی پبلک ریلیشن یا فوک لور کا ادارہ بھی نہیں ہوگا کہ لڑکیوں سے کہا جائے کہ تم ٹیلے پر چڑھ کے گانا گاؤ - وہ کونسی خوش نصیب لڑکی ہوگی جس نے اپنے گھر والوں سے یہ ذکر سنا ہوگا ، رات کو برتن مانجھتے یا لکڑیاں بجھاتے ہوئے کہ رسول الله تشریف لا رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ عنقریب پہنچ جائیں گے اور پھر اس نے اپنی سہیلیوں سے بات کی ہوگی اور انھوں نے فیصلہ کیا ہوگا کہ جب وہ آئیں گے تو ہم ساری کھڑی ہو کر دف بجائیں گی اور گیت گائیں گی - اب جب حضور کے آنے کا وقت قریب آیا ہوگا تو کسی نے ایک دوسری کو بتایا ہوگا کہ بھاگو ، چلو ، محکمہ تو ہے کوئی نہیں کہ اطلاع مل گئے ہوگی ، یہ طلب کونسی ہوتی ہے ، وہ خوش نصیب لڑکیاں جہاں بھی ہونگی ، وہ کیسے کیسے درجات لے کر بیٹھی ہونگی - انھوں نے خوشی سے دف بجا کر جو گیت گایا اس کے الفاظ ایسے ہیں کہ دل میں اترتے جاتے ہیں - انھیں آنحضور کو دیکھ کر روشنی محسوس ہو رہی ہے ،پھر وہ کونسی جگہ تھی جسے بابا رتن ہندی نے قبول کیا اور سارے دوستوں کو چھوڑ کر اس عرب کے ریتیلے میدان میں وہ اپنی لاٹھی لے کر چل پڑا کہ میں تو " اوتار" سے ملونگا -
بہت سے اور لوگوں نے بھی رتن ہندی پر ریسرچ کی ہے - ایک جرمن اسکالر بھی ان میں شامل ہیں -
جب یہ سب کچھ میں دیکھ چکا اور پڑھ چکا تو پھر میرے دل میں خیال آیا بعض اوقات ایسی حکایتیں بھی بن جاتی ہیں لیکن دل نہیں مانتا تھا - یہ پتا چلتا تھا جرمن ریسرچ سے کہ وہ حضور کے ارشاد پر اور ان کی اجازت لے کر واپس ہندوستان آ گئے-
ہندوستان آئے تو ظاہر ہے وہ اپنے گاؤں ہی گئے ہونگے اور بٹھندا میں ہی انھوں نے قیام کیا ہوگا ،میری سوچ بھی چھوٹی ہے ،درجہ بھی چھوٹا ہے، لیول بھی چھوٹا ہے پھر بھی میں نے کہا الله تو میری مدد کر کہ مجھے اس بارے میں کچھ پتا چل جائے اب تو پاکستان بن چکا ہے میں بٹھندا جا بھی نہیں سکتا اور پوچھوں بھی کس سے ١٤٠٠ برس پہلے کا واقعہ ہے -
کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر مسعود سے میری دوستی ھوگئی - ان سے ملنا ملانا ہوگیا ، وہ گھر آتے رہے ، ملتے رہے ، ان کے والد سے بھی ملاقات ہوئی وہ کسی زمانے میں اسکول ٹیچر رہے تھے - ایک دن باتوں باتوں میں ڈاکٹر مسعود کے والد صاحب نے بتایا کہ میں کافی سال بٹھندا کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں ہیڈ ماسٹر رہا ہوں - میں نے کہا یا الله یہ کیسا بندہ آپ نے ملوا دیا ، میں نے کہا آپ یہ فرمائیں ماسٹر صاحب کہ وہاں کوئی ایسے آثار تھے کہ جن کا تعلق بابا رتن ہندی کے ساتھ ہو - کہنے لگے ان کا بہت بڑا مزار ہے وہاں پر اور وہاں بڑے چڑھاوے چڑھتے ہیں - ہندو ، مسلمان عورتیں ، مرد آتے ہیں اور تمہارا یہ دوست جو ہے ڈاکٹر مسعود ، میرے گھر ١٣ برس تک اولاد نہیں ہوئی ، میں پڑھا لکھا شخص تھا ، ایسی باتوں پر اعتبار نہیں کرتا تھا جو ان پڑھ کرتے ہیں - لیکن ایک دن جا کر میں بابا رتن ہندی کے مزار پر بڑا رویا - کچھ میں نے کہا نہیں ، نا کچھ بولا - پڑھے لکھ سیانے بندوں کو شرک کا بھی ڈر رہتا ہے ، اس لئے کچھ نہ بولا ، اور مجھے ایسے ہی وہاں جا کر بڑا رونا آگیا - بابا رتن ہندی کی کہانی کا مجھے پتا تھا کہ یہ مدینہ تشریف لے گئے تھے - مزار پر جانے کے بعد میں گھر آ گیا - رات کو مجھے خواب آیا کہ جس میں ہندوستانی انداز کے سفید داڑھی والے بابا جی آئے اور کہنے لگے " لے اپنا کاکا پھڑ لے " ( لو ، اپنا بچہ لو ) یہ الله تعالیٰ نے تمہارے لئے بھیجا ہے - میں نے کہا جی یہ کہاں سے آگیا ، ماسٹر صاحب نے بتایا کہ جب میں نے خواب میں وہ بچہ اٹھایا تو وہ وزنی تھا - میں نے پوچھا " بابا جی آپ کون ہیں " تو وہ کہنے لگے " میں رتن ہندی ہوں " کیا ایسے بے وقوفوں کی طرح رویا کرتے ہیں ، صبر سے چلتے ہیں ، لمبا سفر کرتے ہیں ، ہاتھ میں لاٹھی رکھتے ہیں اور ادب سے جاتے ہیں " 
 ماسٹر صاحب کہنے لگے مجھے سفر اور لاٹھی کے بارے میں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا باتیں ہیں ، میں نے ان سے کہا جی اس کا مصالحہ میرے پاس ہے اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ لڑکیاں جو حضور کا استقبال کرنے کے لئے موجود تھیں وہ خوش قسمت تھیں - ہم کچھ مصروف ہیں - کچھ ہمارے دل اور طرف مصروف ہیں - ہم اس سفر کو اختیار نہیں کر سکتے لیکن سفر کو اختیار کرنے کی " تانگ " ( آرزو ) ضرور دل میں رہنی چاہیے اور جب دل میں یہ ہو جائے پکا ارادہ اور تہیہ تو پھر راستہ ضرور مل جاتا ہے۔