" انانیت"

جس شخص کا یہ ایمان ہے کہ دوسرے لوگ اس کی ذاتی اور شخصی خواہشوں کا احترام کریں اور ان کو اسی طرح سے پسند کریں جیسے وہ خود کو کرتا ہے ۔ تو اس شخص کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں سوائے اس کے تصور کے اور سوائے اس کی پسند کے اور کسی کو ٹھہرے کا حق نہیں ۔ یہ ایک سیدھی سی اور موٹی سی انانیت ہے جو کسی اندھے کو بھی نظر آتی ہے ۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس خود پسندی اور خود خواہی کی وجہ سے خود اذیتی کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور وہ شخص اپنے آپ کو سزائیں دینے لگتا ہے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 556

"اندھا پن "

اس وقت ہم عذاب میں ہیں ۔ ہم کیا ساری دنیا عذاب میں ہے ۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے ؟ کارن کیا ہے ؟ اس وجہ کو ڈھونڈنے کے لیے دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ دماغ بالکل ٹھیک ہے اور اپنی جگہ چوکس ہے ۔ فقط دل گھاٹے میں آ گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے مقام سے ہل گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آگہی اور جانکاری کسی علم سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ تجربے سے ملتی ہے ۔ وہ آنکھیں جو زندگی کی راہوں کو روشن کرتی ہیں وہ دماغ کی آنکھیں نہیں ہوتیں بلکہ دل کی آنکھیں ہوتی ہیں ۔ اگر دل اندھا ہے تو زندگی کی راہ تاریک ہی رہے گی اور ساری عمر اندھیرے میں گذر جائے گی ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 607

"سنت "

لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنا اور ان کی ضرورتیں پوری کرنا ہی عبادت ہے ۔ وہ آپ کی محبت سے اور شفقت سے محروم رہیں گے تو معاشرے میں کال پڑ جائے گا ۔ اور آپ کی ضرورتیں بھی رک جائیں گی ۔ صرف منہ سے بات کر کے خدمت نہیں ہوتی اس پر عمل بھی ہونا چاہیے ۔ ہمارے جتنے بھی ادیب اور شاعر تھے عملی زندگی بسر کرتےتھے ۔ امام غزالیؒ پڑھنا لکھنا چھوڑ کر صاحبِ مال ہوئے لوگوں سے ملے جلے ۔ شیخِ اکبر ابنِ عربی فریدالدین عطار، رومی ادہر ہندوستان میں داتا صاحب ، معین الدین چشتی حضرت بختیار کاکی یہ سب لوگ کام کرتے تھے ۔ مخلوقِ خدا کے کام آتے تھے ۔ ان کی بہتری کے لیے ان کے ہاتھ بٹاتے تھے ۔ کیونکہ یہ حضور کی سنت تھی ۔ اور یہ سب لوگ اس سنت پر عمل کر کے ہی آگے بڑھ سکتے تھے ۔

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 401 

"حضرت بلال"

صراطِ مستقیم کے لوگ سیدھی راہ پر چلتے  ہیں ۔ کاش میں ان کے نقوشِ پا پر چل سکتا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ چلے جا  رہے میری آرزو ہے میں ان کا غلام ہوتا ۔ ان کی ٹوکری اور جوتے میرے ہاتھ میں ہوتے اور میں اس راہ پر چلتا جس پر وہ چلے جا رہے ہیں ۔ میں ان کے گھر کا مالی ہوتا ۔ اندر سے مجھے حکم ملتا اور میں سودا سلف وغیرہ خرید کر لایا کرتا ۔ واپس آتا جھڑکیاں کھاتا ، چاہے ان کے دوسرے رشتیدارمجھ  پر سختی کرتے لیکن مجھے اس تعلق سے خوشی ہوتی کہ میں ان کا ہوتا ۔ وہ حضور ﷺ سے مل کر آتے اور میں ان کو دیکھ لیا کرتا اتنی ہی میری حیثیت ہوتی ۔ 


اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 463