" سیلف "




جو اپنا تجزیہ کرتے ہیں ان کو پتہ چلتا رہتا ہے  اپنے اس  " سیلف " کا جو لے کر انسان پیدا ہوا تھا  وہ محفوظ رکھا ہوا ہے یا نہیں ۔ گو ہم نے تو اپنے  " سیلف " کے اوپر بڑے بڑے سائن بورڈ لگا لیے ہیں ، اپنے نام تبدیل کر لئے ہیں ، اپنی ذات کے اوپر ہم نے پینٹ کر لیا ہے ۔ ہم جب کسی سے ملتے ہیں مثلاًمیں آپ سے اشفاق کی طرح نہیں ملتا میں تو ایک رائٹر، ایک دانشور، ایک سیاستدان، ایک مکار، ایک ٹیچر بن کر ملتا ہوں ۔ 
اس طرح جب آپ مجھ سے ملتے ہیں آپ اپنے سائن بورڈ مجھے دکھاتے ہیں ۔ اصل " سیلف " کہاں ہے وہ نہیں ملتی ۔ اصل " سیلف " جو اللہ نے دے کر پیدا کیا ہے ، وہ تب ہی ملتا ہے ، جب آدمی اپنے نفس کو پہچانتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اکیلا بیٹھ کر غور کرتا ہے ۔ 
کوئی اس کو بتا نہیں سکتا اپنے نفس سے تعارف اس وقت ممکن ہے جب آپ اس کے تعارف کی پوزیشن میں ہوں اور اکیلے ہوں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں " جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا " ۔ 

اشفاق احمد زاویہ 2 صفحہ 45 

" خدا پر یقین "






 "ایک دن میں اپنے پوتے سے کہ رہا تھا کہ " بلال میاں ، میں اپنے الله کو مان کے مرنا چاہتا ہوں 

وہ کہنے لگا کہ " بابا تم تو بہت اچھے آدمی ہو " 
میں نے کہا نہیں " مجھے میرے ابّا جی نہ کہا تھا کہ ایک الله ہوتا ہے - میں نے یہ بات مان لی اور الله کوئی ماننے لگا - " 
میں الله کو خود سے ڈائریکٹ ماننا چاہتا ہوں - بس خدا پر یقین کی ضرورت ہے ، میرے ابّا جی بتایا کرتے تھے کہ ایک دن ان کے ہاں دفتر میں کام کرنے والے ملازم کی تنخواہ چوری ہو گئی تو سب نے کہا کہ یار بڑا افسوس ہے - تو وہ کہنے لگے کہ " خدا کا شکر ہے نوکری تو ہے " 
ایک ماہ بعد خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی نوکری بھی چلی گئی 
لوگوں اور ابا جی نے ان سے افسوس کیا تو کہنے لگے جی " خدا نے اپنا گھر دیا ہے ، اندر بیٹھ کر اچار روٹی کھالیں گے - الله کا فضل ہے - پرواہ کی کوئی بات نہیں - " 
یہ خدا کی طاقت تھی - 
مقدمے بازی میں کچھ عرصے بعد اس کا گھر بھی فروخت ہو گیا - 
وہ پھر بھی کہنے لگا کہ " فکر نہیں میرے ساتھ میری بیوی ہے - یہ بیالیس سال کا ساتھ ہے - " 
بیوی فوت ہوئی تو اس نے کہا کہ " کوئی بات نہیں میں تو زندہ سلامت ہوں - تندرست ہوں " 
وہ شوگر کا مریض تھا اس کی ایک ٹانگ کٹ گئی - میرے والد نے کہا کہ " بہت برا ہوا -" 
اس نے کہا ڈاکٹر صاحب " ایک ٹانگ تو ہے - " 
بیماری بڑھنے کے بعد اس کی دوسری ٹانگ بھی کٹ گئی - 
میرے والد بتاتے ہیں کہ جب وہ فوت ہوا تو اس نے اپنے بہو سے کہا کہ " بیٹا کمال کا بستر ہے جس پر میں فوت ہو رہا ہوں - کیا خوبصورتی سے اس چارپائی کی پائینتی کسی ہوئی ہے - مزہ آ رہا ہے - " 
ایسی طاقت اور قناعت پسندی کی ضرورت ہے ایسی طاقت اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے اپنا کندھا ، بازو یا صرف کان کھلا رکھتے ہیں اور لوگوں کو سہارا مہیا کرتے ہیں 
الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے - آمین 

از اشفاق احمد زاویہ ٣ دو بول محبّت کے صفحہ ٥٦ ،

" غلطی "




 اس میں کوئی شک نہیں کہ غلطی پکڑنا اور غلطی کی نشاندہی کرنا انسانی فطرت میں شامل ہے ۔ لیکن یہ بات بھی ہر حال میں یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان غلطی بھی کرتا ہےاورناکام بھی ہوتا ہے ۔ اور اپنی ترقی کے راستے پہ رک بھی جاتا ہے ۔ لیکن اس ساری کائنات میں صرف خدا کی ذات وہ ہستی ہے جو نہ تو کبھی غلطی کرتی ہے اور نہ ہی کبھی ناکام ہوتی ہے ۔ جو لوگ ہر وقت دوسروں کی غلطیاں پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں یا جو ہر وقت اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر افسوس کرتے رہتے ہیں وہ نعوذباللہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ اور جب ان سے خدا نہیں بنا جاتا کہ ایسا ممکن ہی نہیں تو پھر وہ شیطان بننے کی کوشش کرنے لگتے ہیں اور اس میں اپنا اور دوسروں کا نقصان کر نا شروع کر دیتے ہیں ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 417

" پنجاب کا دوپٹہ "




جب وہ لوٹ کر آئی تو تو بہت پریشان تھی ۔ بہت گھبرائی ہوئی تھی ۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ۔میں نے کہا خیر ہے ! کہنے لگی آپ اٹھیں میرے ساتھ چلیں ۔  میں آپ کو ایک چیز دکھانا چاہتی ہوں ۔ میں اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا ۔ وہاں رات کو دربار کا دروازہ بند کر دیتے ہیں ۔ اور زائرین باہر بیٹھے رہتے ہیں ۔ صبح جب دروازہ کھلتا ہے تو پھر لوگ دعائیں وغیرہ مانگنا شروع کر دیتے ہیں ۔ 
جب ہم وہاں گئے تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی آپ ادھر آئیں ۔ شاہؒ کے دروازے کے عین سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی ۔  اس کے سر پر جیسا ہمارا دستر خوان ہوتا ہے اس سائز کی چادر کا ٹکڑا تھا ، اور اس کا اپنا جو دوپٹہ تھا وہ اس نے شاہ ؒ کے دروازے کے کنڈے کے ساتھ گانٹھ دے کر باندھا ہوا تھا ۔ اور اپنے دوپٹے کا آخری کونہ ہاتھ میں پکڑے کھڑی تھی ۔ اور بلکل خاموش تھی اسے آپ بہت ہی خوبصورت لڑکی کہہ سکتے ہیں ۔ 
اس کی عمر کوئی سولہ ، سترہ ، یا اٹھارہ برس ہوگی وہ کھڑی تھی لیکن لوگ ایک ہلکا سا حلقہ بنا کر اسے تھوڑی سی آسائش عطا کر رہے تھے تا کہ اس کے گرد جمگھٹا نہ ہو ۔ کچھ لوگ جن میں عورتیں بھی تھیں ایک حلقہ سا بنائے کھڑے تھے ۔ 
میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ میری بیوی کہنے لگی اس کے پاؤں دیکھیں ۔جب میں نے اس کے پاؤں دیکھیں تو آپ یقین کریں کہ پانچ سات کلو کے اتنا بڑا ہاتھی کا پاؤں بھی نہیں ہوتا ۔ بالکل ایسے تھے جیسے سیمنٹ ، پتھر ، یا اینٹ کے بنے ہوئے ہوں ۔ حالانکہ لڑکی بڑی دھان پان کی اور دبلی پتلی سی تھی ۔ ہم حیرانی اور ڈر کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے تو وہ منہ ہی منہ میں کچھ بات کر رہی تھی ۔
وہاں ایک سندھی بزرگ تھے ہم نے ان سے پوچھا کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے ؟ 
اس نے کہا سائیں کیا عرض کریں ! یہ بیچاری بہت دکھیاری ہے۔ یہ پنجاب کے کسی گاؤں سے آئی ہے ۔ اور ہمارے اندازے کے مطابق ملتان یا بہاولپور سے ہے ۔ 
یہ گیارہ دن سے اسی طرح کھڑی ہے اور اس مزار کا بڑا خدمتگار ، وہ سفید داڑھی والا بزرگ اس کی منت سماجت کرتا ہے تو ایک کھجور کھانے کے لیے یہ منہ کھول دیتی ہے ۔ چوبیس گھنٹے میں ۔ میری بیوی کہنے  لگی کہ اسے ہوا کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اس کے بھائی کو پھانسی کی سزا ہوئی ہے اور یہ بیچارگی کے عالم میں وہاں سے چل کر یہاں پہنچی ہے اور اتنے دن سے کھڑی ہے اور ایک ہی بات کہہ رہی ہے کہ " اے شاہ ؒ ! تُو تو اللہ کے راز جانتا ہے تو میری طرف سے ربّ کی خدمت میں درخواست کر کہ میرے بھائی کو رہائی ملے اور اس پر سے مقدمہ ختم ہو " ۔ وہ بس یہ بات کہہ رہی ہے ۔
شاہؒ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں کہ " اے لوگو ! چودہویں کے چاند کو جو بڑا خوبصورت اور دلکش ہوتا ہے ، پہلی کے چاند کو جو نظر بھی نہیں آتا اور لوگ چھتوں پر چڑھ کر انگلیون کا اشارہ کر کے اسے دیکھتے ہیں ۔ یہ کیا راز ہے َ تم میرے قریب آؤ میں تمہیں چاند کا راز سمجھاتا ہوں ۔
(یہ شاہ عباللطیف بھٹائی کی نظم کا ایک حصہ ہے )
وہ لڑکی بھی بیچاری کہیں سے چل کر چلتی چلتی پتہ نہیں اس نے اپنے گھر والوں کو بتایا بھی ہے کہ نہیں لیکن وہ وہاں پہنچ گئی ہے ، اور وہاں کھڑی تھی ۔ چونکہ رات کو مزار کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اس لیے کوئی کنکشن نہیں رہتا اس نے اپنا دوپٹہ وہاں  اتار کر وہاں باندھ رکھا ہے ۔ وہ بابا بتا رہا تھا کہ اب اس کا چلنا مشکل ہے ۔ بڑی مشکل سے قدم اٹھا کر چلتی ہے اور ہم سب لوگ اس لڑکی کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ ہم اپنا ذاتی کام بھول جاتے ہیں اور اس لڑکی کے لیے اللہ سائیں سے گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ تو اس پر فضل کر ۔

کتنی چھوٹی سی جان ہے اور اس نے اپنے اوپر کیا مصیبت ڈال لی ہے ۔ میں کھڑا اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کا دوپٹہ اگر سر سے اتر جاتا تو وہاں کے لوگ اپنے پاس سے اجرک کا یا کوئی اور کپڑا اس کے سر کے اوپر ڈال دیتے ۔
میں اس کو دیکھتا رہا ۔ مجھے باہر دیکھنا ، وائی سننا ، اور دودھ پینا سب کچھ بھول گیا ۔ میں چاہتا تھا کہ اس سے بات کروں لیکن حوصلہ نہیں پڑ رہا تھا کیونکہ وہ اتنے بلند کردار اور طاقت کے مقام پر تھی کہ ظاہر ہے ایک چھوٹا معمولی آدمی اس سے بات نہیں کر سکتا تھا ہمیں وہاں کھڑے کھڑے کافی دیر ہو گئی ۔ ہم نے وہاں ساری رات گزارنے کا فیصلہ کیا ہم نے ساری رات  اس لڑکی کے لیے دعائیں کیں بس ہم اس کے لیے کچی پکی دعائیں کرتے رہے ۔ صبح میں نے اپنی بیوی سے چلتے ہوئے کہا جب تک پنجاب کا دوپٹہ شاہ عباللطیف بھٹائی کے کنڈے سے بندھا ہے ۔ پنجاب اور سندھ میں کسی قسم کا کریک نہیں آ سکتا ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 پنجاب کا دوپٹہ صفحہ 9،10