نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

January, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زندگی کی خوشیاں

انسان جب بھی خوش رہنے کے لیے سوچتا ہے تو وہ خوشی کے ساتھ دولت کو ضرور وابستہ کرتا ہے اور وہ امارت کو مسرت سمجھ رہا ہوتا ہے۔ حالانکہ امارت تو خوف ہوتا ہے اور آدمی امیر دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے بننا چاہتا ہے۔ جب یہ باتیں ذہن کے پس منظر میں آتی ہیں تو پھر خوشی کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔
ہم ایک بار ایک دفتر بنا رہے تھے اور مزدور کام میں لگے ہوۓ تھے۔ وہاں ایک شاید سلطان نام کا لڑکا تھا وہ بہت اچھا اور ذہین آدمی تھا اور میں متجسس آدمی ہوں اور میرا خیال تھا کہ کام ذرا زیادہ ٹھیک ٹھاک انداز میں ہو۔ میں اس مزدور لڑکے کا کچھ گرویدہ تھا۔ اس میں کچھ ایسی باتیں تھیں جو بیان نہیں کی جا سکتیں۔ ہم دوسرے مزدوروں کو تیس روپے دیہاڑی دیتے تھے لیکن اسے چالیس روپے دیتے تھے۔ وہ چپس کی اتنی اچھی رگڑائی کرتا تھا کہ چپس پر کہیں اونچ نیچ یا دھاری نظر نہیں آتی تھی۔ وہ ایک دن دفتر نہ آیا تو میں نے ٹھیکدار سے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آیا۔ میں بھی دیگر افسر لوگوں کی طرح جس طرح سے ہم گھٹیا درجے کے ہوتے ہیں میں نے اس کا پتہ کرنے کا کہا۔ وہ اچھرہ کی کچی آبادی میں رہتا تھا۔ میں اپنے سیکرٹری کے ساتھ گاڑی م…

About Ashfaq Ahmed - اشفاق احمد کے بارے میں

Ashfaq Ahmed, PP, SI (Urdu: اشفاق احمد) (August 22, 1925 – September 7, 2004) was a distinguished writer, playwright, broadcaster, intellectual and spiritualist from Pakistan. His prime qualities of heart and hand earned appreciations across the borders. He was regarded by many as the best Urdu Afsana (short-story) writer after Saadat Hasan Manto, Ismat Chughtai and Krishan Chander following the publication of his famous short-story "Gaddarya" - The Shepherd in 1955.

Life and career

Ahmed was born on 22 August 1925 in Garhmukteshwar village, Ghaziabad, British India. He obtained his early education in his native district. Shortly before independence in 1947, he migrated to Pakistan and made the Punjab metropolis, Lahore as his abode. He completed his Masters in Urdu literature from Government College Lahore. Bano Qudsia, his wife and companion in Urdu literary circles who is also one of the best novelists of Urdu, was his classmate at Government College.

After P…

پنجاب کا دوپٹہ

جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہےتو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے- کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے- مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے پہلے کی زندگی کے حالات مختلف ٹکڑیوں میں ملتے ہیں- میں چاہتا ہوں کہ اب وہ آپ کے حوالے کر دوں- حالانکہ اس میں تاریخی نوعیت کا کوئی بڑا واقعہ آپ کو نہیں ملے گا لیکن معاشرتی زندگی کو بہ نظرِ غائر دیکھا جائے تو اس میں ہماری سیاسی زندگی کے بہت سے پہلو نمایاں نظر آئیں گے۔ آج سے کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے میں کسی سرکاری کام سے حیدرآباد گیا تھا۔ سندھ میں مجھے تقریباً ایک ہفتے کے لئے رہنا پڑا، اس لئے میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے، چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ تھی- دو دن وہاں گزارنے کے بعد میری طبیعت جیسے بے چین ہو گئی-میں اکثراس حوالے سے آپ کی خدمت میں ُ ُ بابوں“ کا ذکر کرتا ہوں- میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بھٹ شاہ (شاہ عبدالطیف بھٹائی ) کا مزار یہاں قریب ہی ہے اور آج جمعرات بھی ہے، اس لئے آج ہم وہاں چلتے ہیں- وہ میری بات مان گئی- میزبانوں نے بھی ہمیں گاڑی اور ڈرائی…