نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ملٹی نیشنل خواہشیں

پچھلی گرمیوں کا آخری مہینہ میں نے اپنے بھانجے جاوید کے گھر گزارا- اُس کے گھر میں ایک بڑا اچھا سوئمنگ پول ہے۔اُس کا ایک چھوٹا بیٹا ہے۔اُس کے بیٹے کا ایک چھوٹا کُتّا "جیکی" ہے- میں کُتّوں بارے میں چونکہ زیادہ نہیں جانتا اس لیے اتنا سمجھ سکا ہوں کہ وہ چھوٹے قد کا نہایت محبّت کرنے والا اور تیزی سے دُم ہلانے والا کُتّا ہے-جیکی کی یہ کیفیت ہے کہ وہ سارا دن کھڑکی کی سل پر اپنے دونوں پنجے رکھ کر کھڑکی سے باہر دیکھتا رہتا ہے اور جب آوارہ لڑکے اسے پتھر مار کر گُزرتے ہیں تو وہ بھونکتا ہے- جب آئس کریم کی گاڑی آتی ہے تو اُس کا باجا سُنتے ہی وہ اپنی کٹی ہوئی دُم بھی "گنڈیری“ کی طرح ہلاتا ہے اور ساتھ بھونکنے کے انداز میں " چوس چوس“ بھی کرتا ہے (شاید اُسکی آرزو ہو کہ مجھے اس سے کچھ ملے گا)- پھر جب غبّارے بیچنے والا آتا ہے تو وہ اُس کےلئے بھی ویسا ہی پریشان ہوتا ہے اور وہ منظر نامہ اُس کی نگاہوں کے سامنے سے گُزرتا رہتا ہے- پھر جس وقت سکول سے اُ س کا محبوب مالک توفیق آتا ہے تو پھر وہ سل چھوڑ کر بھاگتا ہےاور جا کر اُس کی ٹانگوں سے چمٹتا ہے۔
شام کے وقت جب وہ سوئمنگ پول میں نہاتے ہیں اور جب اُس کُتّے کا مالک، اُس کا ساتھی توفیق چھلانگ لگاتا ہے تو وہ (جیکی) خود تو اندر نہیں جاتا، لیکن جیسے جیسے وہ تالاب میں تیرتا ہوا آگے جاتا ہے- جیکی بھی اُس کے ساتھ آگے بھاگتا ہے اور تالاب کے اِرد گِرد " پھرکی“ کی طرح چکر لگاتا ہے، غرّاتا ہے، بھونکتا ہے، پھسلتا ہے اور پانی کے سبب دُور تک پھسلتا جاتا ہے- میں اس قیام کے سارے عرصہ میں اسے دیکھتا رہا کہ یہ کیا کرتا ہے- پھر میں نے بچّوں کو اکٹّھا کرکے ایک دن کہا کہ آؤ اس جیکی کو سمجھائیں کہ تم تو اس طرح بھاگ بھاگ کے ہلکان ہو جاؤ گے، زندگی برباد کر لو گے- بچّوں نے کہا اچھا دادا- اور اُن سب نے جیکی کو بُلا کر بٹھایا اور اُس سے کہا کہ جیکی میاں دادا کی بات سُنو-میں نے جیکی سے کہا، دیکھو وہ (توفیق) تو تیرتا ہے۔ وہ تو انجوائے کرتا ہے۔ تم خواہ مخواہ بھاگتے ہو،پھسلتے ہو اور اپنا مُنہ تُڑواتے ہو۔ تم اس عادت کو چھوڑ دو لیکن وہ یہ بات سمجھا نہیں- اگلے روز پھر اُس نے ایسے ہی کیا، جب اُس کو میں سمجھا چکا اور رات آئی اور میں لیٹا لیکن ساری رات کروٹیں بدلنے کے بعد بھی مجھے نیند نہ آئی تو میں نے اپنا سر دیوار کے ساتھ لگا کر یہ سوچنا شروع کیا کہ میرے بیٹے نے جو سی ایس ایس کا امتحان دیا ہے کیا وہ اس میں سے پاس ہو جائے گا؟ پوتا جو امریکہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گیا ہے کیا اُس کو ورلڈ بینک میں کوئی نوکری مل جائے گی؟ ہمارے اوپر جو مقدّمہ ہے، کیا اُس کا فیصہ ہمارے حق میں ہو جائے گا اور وہ انعامی بانڈ جو ہم نے خریدا ہے،وہ نکل آئے گا کہ نہیں؟ میری اتنی ساری بے چینی اور یہ سب کچھ جو مل کر میری Desires، میری آرزوئیں، میری میری تمنائیں اور خواہش گڈمڈ ہوگئیں تو میں نے کہا کہ میں بھی کسی صورت میں جیکی“ سے کم نہیں ہوں۔ جس طرح وہ بے چین ہے، جیسے وہ تڑپتا ہے، جیسے وہ نا سمجھی کے عالم میں چکر لگاتا ہے، تو حالات کے تالاب کے اِرد گِرد میں بھی چکر لگاتا ہوں تو کیا میں اس کو کسی طرح روک سکتا ہوں، کیا میں ایسے سیدھا چل سکتا ہوں جیسے سیدھا چلنے کا مجھے حُکم دیا گیا ہے- میں جیسے پہلے بھی ذکر کیا کرتا ہوں، میں نے اپنے بابا جی سے پوچھا کہ جی یہ کیوں بے چینی ہے، کیوں اتنی پریشانی ہے، کیوں ہم سکونِ قلب کے ساتھ اور اطمینان کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتےہیں تو اُنہوں نے کہا کہ دیکھو تم اپنی پریشانی کی پوٹلیاں اپنے سامنے نہ رکھا کرو، اُنہیں خُدا کے پاس لے جایا کرو، وہ ان کو حل کردے گا- تم انہیں زور لگا کر خود حل کرنے کی کوشش کرتے ہو، لیکن تم انہیں حل نہیں کر سکو گے-
میں جب چھوٹا تھا تو ہمارے گاؤں میں میری ماں کے پاس ایک بوڑھی عورت آیا کرتی تھی، ہم اسے تائی سوندھاں کہتے تھے- اُس کے پاس چھوٹی چھوٹی پوٹلیاں ہوتی تھیں- وہ میری ماں کے پاس بیٹھ جاتی اور ایک ایک پوٹلی کھول کے دکھاتی کہ بی بی یہ ہے- کسی پوٹلی میں سُوکھے بیر ہوتے، کسی میں سُوکھی لکڑیاں، جیسے مُلٹھی ہوتی ہے، وہ ہوتیں- وہ کہتی کہ اگر ان لکڑیوں کو جلاؤ تو مچھر نہیں رہتا، کسی پوٹلی میں چھوٹے چھوٹے پتھر ہوتے تھے، کسی میں بڑ کے درخت سے گری ہوئی "گولیں“ ہوتی تھیں- اُس کے پاس ایسی ہی سُوکھی چیزوں کی بے شمار پوٹلیاں ہوتی تھیں، اُن میں کوئی بھی کام کی چیز نہیں ہوتی تھی، میرا یہ اندازہ ہے اور میری ماں کا بھی یہ اندازہ تھا- میری ماں کہتی کہ نہیں سوندھاں مت کھول ان کو ٹھیک ہے اور میری ماں اُسے کچھ آٹھ آنے، چار آنے دے دیتی تھی- اُس زمانے میں آٹھ چار آنے بہت ہوتے تھےاور وہ دعائیں دیتی ہوئی چلی جاتی تھی- اُس کی کسی کے حضور پوٹلیاں کُھل کر یا نہ کُھل کربھی اُس کو بہت فائدہ عطا کرتی تھیں- اور میرا بابا مجھ سے یہ کہتا تھا کہ تُو اپنی پوٹلیاں اللہ کے پاس لے جا، ساری مشکلات کسی وقت بیٹھ کر دیوار سے ڈھو لگا کر کہو کہ اے اللہ یہ بڑی مشکلات ہیں یہ مجھ سے حل نہیں ہوتیں- یہ میں تیرے حضور لے آیا ہوں-
میں چونکہ بہت ہی پڑھا لکھا آدمی تھا اور ولایت سے آیا تھا، میں کہتا، کہاں ہوتا ہے خُدا؟ اُس نے کہا، خُدا ہوتا نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے، نہ جانا جاتا ہے، نہ جانا جا سکتا ہے اور خُدا کے بارے میں تمہارا ہر خیال وہ حقیقت نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی اُس کو جانا جانا چاہیے- میں کہتا تھا کیوں جانا جانا چاہیےاور آپ اس کا کیوں بار بار ذکر کرتے ہیں، آپ ہر بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نہ جانا جاتا ہے اور نہ جانا جا سکتا ہے، کہنے لگے کہ پرندہ کیوں گاتا ہے اور کیوں چہچہاتا ہے، اس لیے نہیں کہ پرندے کے پاس کوئی خبر ہوتی ہے، کوئی اعلان ہوتا ہے، یا پرندے نے کوئی ضمیمہ چھاپا ہوا ہوتا ہے کہ "آگئی آج کی تازہ خبر“ پرندہ کبھی ضمیمے کی آواز نہیں لگاتا، پرندہ اس لیے گاتا ہے کہ اُس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے اور ہم خُدا کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ پرندے کی طرح ہمارے پاس بھی اُس کے نام کا گیت ہے- جب تک آپ اس میں اتنے گہرے، اتنے Deep اور اتنے عمیق نہیں جائیں گے اُس وقت تک تمہارا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا- لیکن میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اور بہت زور لگانے کے با وصف "جیکی“ کی طرح بے چین ہی رہا اوراپنے حالات کے تالاب کے اِرد گِرد ویسے ہی بھاگتا رہا، چکر کاٹتا رہا جیسے کہ جیکی میرے پوتے کے اِرد گِرد بھاگتا ہے-
کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا-
میرے "بابا“ نے کہا یہ بڑی غور طلب بات ہے- جو شخص بھی گول چکروں میں گھومتا ہے اور اپنے ایک ہی خیال کے اندر”وسِ گھولتا“ہے اور جو گول گول چکر لگاتا رہتا ہے، وہ کُفر کرتا ہے، شِرک کرتا ہے کیونکہ وہ اِھدِناالصّراطَ المُستَقیم (دکھا ہم کو سیدھا راستہ) پر عمل نہیں کرتا- یہ سیدھا راستہ آپ کو ہر طرح کے مسئلے سے نکالتا ہے لیکن میں کہتا ہوں سر اس” دُبدا“ (مسئلے) سے نکلنے کی آرزو بھی ہےاور اس بے چینی اور پیچیدگی سے نکلنے کو جی بھی نہیں چاہتا، ہم کیا کریں- ہم کچھ اس طرح سے اس کے اندر گِھرے ہوئے ہوتے ہیں، ہم یہ آرزو کرتے ہیں اور ہماری تمنّا یہ ہے کہ ہم سب حالات کو سمجھتے جانتے، پہچانتے ہوئے کسی نہ کسی طرح سے کوئی ایسا راستہ کوئی ایسا دروازہ ڈھونڈ نکالیں، جس سے ٹھنڈی ہوا آتی ہو- یا ہم باہر نکلیں یا ہوا کو اندر آنے دیں، لیکن یہ ہمارے مقدّر میں آتا نہیں ہے- اس لیے کہ ہمارے اور Desire کے درمیان ایک عجیب طرح کا رشتہ ہے جسے بابا بدھا یہ کہتا ہے کہ جب تک خواہش اندر سے نہیں نکلے گی (چاہے اچھی کیوں نہ ہو) اُس وقت تک دل بے چین رہے گا- جب انسان اس خواہش کو ڈھیلا چھوڑ دے گا اور کہے گا کہ جو بھی راستہ ہے، جو بھی طے کیا گیا ہے میں اُس کی طرف چلتا چلا جاؤں گا، چاہے ایسی خواہش ہی کیوں نہ ہو کہ میں ایک اچھا رائٹر یا پینٹر بن جاؤں یا میں ایک اچھا” اچھا“ بن جاؤں- جب انسان خواہش کی شدّت کو ڈھیلا چھوڑ کر بغیر کوئی اعلان کئے بغیر خط کشیدہ کئے یا لائن کھینچے چلتا جائے تو پھر آسانی ملے گی-
ایک گاؤں کا بندہ تھا، اسے نمبر دار کہہ لیں یا زیلدار اُس کو خواب آیا کہ کل ایک شخص گاؤں کے باہر آئے گا، وہ جنگل میں ہو گا اور اُس کے پاس دنیا کا سب سے قیمتی ہیرا ہو گا اور اگر کسی میں ہمّت ہے اور اُس سے وہ ہیرا لے سکے تو حاصل کر لے- چنانچہ وہ شخص جنگل میں گیا اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک درخت کے نیچے واقعی ایک بُدھو سا آدمی بیٹھا ہوتا ہے، اُس نے جا کر اُس شخص سے کہا کہ تیرے پاس ہیرا ہے، اُس نے جواب دیا، نہیں میرے پاس تو کوئی ہیرا نہیں- اُس نے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ تیرے پاس ایک ہیرا ہے- اُس نے پھر نفی میںجواب دیا کہ نہیں اور کہا کہ میرے پاس میرا ایک تھیلا ہے” گتُھلہ“ اس کے اندر میری ٹوپی، چادر، بانسری اور کچھ کھانے کے لیے سُوکھی روٹیاں ہیں، گاؤں کے شخص نے کہا، نہیں تم نے ضرور ہیرا چھپایا ہوا ہے، اس پر اُس پردیسی نے کہا کہ نہیں میں کوئی چیز چھپاتا نہیں ہوں اور ہیرے کی تلاش میں آنے والے کی بے چینی کو دیکھا (جیسا مجھ میں اور جیکی میں بے چینی ہے) اور تھیلے میں ہاتھ ڈال کر کہا کہ جب میں کل اس طرف آرہا تھا تو راستے میں مجھے یہ پتھر کا ایک خوبصورت،چمکدار ٹُکڑا ملا ہے- یہ میں نے تھیلے میں رکھ لیا تھا- اُس شخص نے بے قراری سے کہا، بیوقوف آدمی یہی تو ہیرا ہے تو اُس نے کہا ، اس کا میں نے کیا کرنا ہے تُو لے جا- وہ اُس پتھرکو لے گیا- وہ گاؤں کا شخص ہیرا پا کر ساری رات سو نہ سکا، کبھی اسے دیکھتا، کبھی دیوار سے ڈھو لگا کر پھر آنکھیں بند کر لیتا اور پھر اسے نکال کر دیکھنے لگتا- ساری رات اسی بے چینی میں گُزر گئی-
صبح ہوئی تو لوٹ کر اُس شخص کے پاس گیا، وہ یسے ہی آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا- اُس نے دیکھ کر کہا، اب میرے پاس کیا مانگنے آیا ہے- اُس نے کہا، میں تیرے پاس وہ اطمینان مانگنے آیا ہوں جو اتنا بڑا، قیمتی ہیرا دے کر تجھے نصیب ہے اور تُو آرام سے بیٹھا ہوا ہے، تیرے اندر بے چینی کیوں پیدا نہیں ہوئی- اُس نے جواب دیا کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں کہ بے چینی کس طرح پیدا ہوتی ہے اور کیسے کی جاتی ہے! اُس گاؤں کے شخص نے کہا تو آجا اور ہمارے گاؤں میں رہ کے دیکھ- میں تجھے اس بات کی ٹریننگ دوں گا اور بتاؤں گا کہ بے چینی کس چیز کا نام ہے- لیکن وہ انکار کر گیا اور کہا کہ میرا راستہ کچھ اور طرح کا ہے- تُو یہ ہیرا رکھ اپنے پاس- اُس نے پھر کہا کہ گو میں نے تم سے یہ ہیرا لے لیا ہے، لیکن میری بےچینی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے- میں اس پریشانی میں مُبتلا ہو گیا ہوں کہ ایسا کس طرح اور کیسے ہو سکتا ہے جیسے تُو نے کر دیا ہے-اب میں وہاں سے آتو گیا ہوں اور میں اپنے گھر میں ہوں لیکن میرے اندر کا”جیکی“ وہ اس طرح سے آدھا پانی میں بھیگا ہوا۔ لعاب گراتا ہوا، اس بے چینی کے ساتھ گھوم رہا ہے اور اُس کو وہ سکون نصیب نہیں ہوا، جو ہونا چاہیے تھااور میں اپنی تمام تر کوشش کے باوصف اس خواہش سے، اس آرزو سے، اس تمنّا سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا، باہر نہیں نکل سکا جو اس عمر میں جو کہ ایک بڑی عمر ہے، نکل جانا چاہیے تھا- میں سڑک پر باہر نکل کر دیکھتا ہوں تو پریشانی کے عالم میں بہت سارے جیکی میرے شہر کی سڑکوں پر بے چینی کے عالم میں بھاگ رہے ہوتے ہیں- وہ بھی میرے جیسے ہی ہیں- ان کے اندر بھی یہ بیماری چلی جا رہی ہےاور بڑھتی چلی جا رہی ہے- میں لوٹ کر آگیا ہوں اور اس وقت اپنے وجود کی کھڑکی میں آرزو کے پنجے رکھ کر باہر دیکھ رہا ہوں اور ہر آنے جانے والی چیز کو دیکھ رہا ہوں اور حاصل کرنے والی چیز کے لیے بڑی شدّت کے ساتھ دُم ہلا رہا ہوں- میری کوئی مدد نہیں کرتا، کوئی آگے نہیں بڑھتا حالانکہ میری خواہش یہ ہے کہ ایسے لوگ مجھے بھی ملیں جن کے تھیلے میں وہ من موہنا ہیرا ہو جو لوگوں کو دیکھ چکنے کے بعد کچھ عطا کر دیتا ہے- اب جبکہ میں بڑا بے چین ہوں اور اس عمر میں یہ بےچینی زیادہ بڑھ گئی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں ایک بڑا حصّہ ملٹی نیشنل کا بھی ہے- پہلے یہ چیزیں نہیں تھیں-
ایک صبح جب میں جاگا اور میں باہر نکلا تو میرے شہر کے درودیوار بدل گئے-اُن کے اوپر اتنے بڑے بڑے ہورڈنگ، سائن بورڈز اور تصویریں لگ گئی ہیں جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں جو پُکار پُکار کر مجھے کہ رہی تھیں کہ مجھے خریدو، مجھے لو، مجھے استعمال کرو، میں ان کو نہیں جانتا تھا- آپ یقین کریں کہ آج سے ستر برس پہلے بھی میں زندہ تھا- میں خُدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میں آج سے پہلے زندہ تھا اور بڑی کامیابی کے ساتھ زندہ تھا اور صحت مندی کے ساتھ زندہ تھا اور اب اس بڑھاپے میں میری انکم کا ستر فیصدی حصّہ ان آئٹمز پر خرچ ہو رہا ہے جو آج سے 70 برس پہلے ہوتی ہی نہیں تھیں-1960ء میں یہ آئٹمز ہوتی ہی نہیں تھیں- یہ ایک بڑی ٹریجڈی ہے-آپ یقین کریں کہ 1960ء میں فوٹو اسٹیٹ مشین کا کوئی تصوّر نہیں تھا کہ یہ کیا ہوتی ہے- اب مجھے اتنا فوٹو اسٹیٹ کروانا پڑتا ہے کہ میں پیسے بچا بچا کر رکھتا ہوں- میرا پوتا کہتا ہے کہ دادا اس کی میں فوٹو اسٹیٹ کروا لاتا ہوں- فلاں چیز کی بھی ہو جائے- وغیرہ وغیرہ- جب میں کسی دفتر میں جاتا ہوں اور میں وہا ں جا کر عرضی دیتا ہوں کہ جناب مجے اپنی Date of Birth چاہیے تو سب سے پہلے وہ کہتے ہیں کہ جی اس کی دو فوٹو اسٹیٹ کروا لائیں- بھئی کیوں کروا لاؤں؟ کہتے ہیں اس کا مجھے نہیں پتہ، بس فوٹو اسٹیٹ ہونا چاہئے- آپ یقین کریں کہ جب میں بی اے میں پڑھتا تھا ، بہت دیر کی بات ہے تو وہاں ہمارا ایک سِکھ دوست ہرونت سنگھ تھا،اُس نے مجھے کہا ہتھیلی آگے بڑھا، میں نے ہتھیلی آگے بڑھائی- اُس نے ایک گندی لیس دار چیز میری ہتھیلی پر لگا دی- میں نے کہا”ظالما! یہ تُو نے کیا کِیا، سکھا“- اُس نے کہا، اس پر پانی گرا اور سر پر مَل اور پھر دیکھ- میں نے اس پر پانی گرا کر سر پر مَلا تو” پھپھا پھپ“ جاگ ہو گئی، کہنے لگا اس کو شیمپو کہتے ہیں-ہم تو اُس وقت لال صابن سے نہاتے تھے- اُس نے کہا یہ میرے چاچے نے لندن سے بھیجی ہے-
ہمارے مُلک میں شام کے وقت جب میں اپنے ٹی وی پر Advertisement دیکھتا ہوں تو مجھے یہ پتہ چلتا ہے کہ میرے مُلک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کون سا شیمپو استعمال کیا جائے- ایک لڑکی کہتی ہے، خبردار جوئیں پڑ جائیں گی، وہ شیمپو نہیں لگانا- دوسری کہتی ہے، نہیں میں تو”ٹیکافوری“ لگاتی ہوں-وہ کہتی ہے، مت لگا، ٹیکا فوری خراب ہوتا ہے-"چوچا چوچی" کا اچھا ہے- میرے سارے بچّےکہتے ہیں، ہمیں فلاں شیمپو چاہئے- میرا ایک پوتا مجھ سے کہتا ہے کہ دادا تم خُدا کے فضل سے بڑے صحت مند آدمی ہو، اللہ کے واسطے یہ پانی مت پیو جو تم 78 برس سے پیتے آرہے ہو- تم منرل واٹر پیو، یہ بالکل Pure Water ہوتا ہے- اُس کے کہنے کا مطلب شاید یہ ہوتا ہے کہ اس کے پینے والا زندہ رہتا ہے- دوسرے سب فوت ہوئے پڑے ہیں!! اس سب کے ساتھ ساتھ مجھے رونا بھی آ رہا ہے کہ میں اپنے یوٹیلیٹی بلز پر دباؤ ڈالتا ہوں اور ان پرکُڑھتا ہوں- میرا اس میں کوئی قصور نہیں- یوٹیلیٹی بل بھیجنے والوں کا بھی کوئی قصور نہیں- قصور میری خواہشات کا ہے، میری Desires کا دائرہ اتنی دُور تک پھیل گیا ہے اور وہ میرے اختیار میں بالکل نہیں رہا- میں کتنی بھی کوشش کیوں نہ کر لوں، میں اس دائرے کے اندر نہیں آ سکتا- بار بار مجھے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ بھی تمہارے استعمال کی چیز ہے- وہ بھی تمہارے استعمال کی چیز ہے اور جب تک تم اسے استعمال میں نہیں لاؤ گے، اُس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا-
1948ء میں ہم نے ایک فریج خریدا،کیونکہ میری بیوی کہتی تھی کہ فریج ضرور لینا یہ دُنیا کی سب سے قیمتی اور اعلٰیٰ درجے کی چیز ہے- ہمارے خاندان میں کسی کے پاس فریج نہیں تھا- وہ ہمارے گھر سالم تانگے کروا کر فریج دیکھنے آتے تھے کہ سُبحان اللہ کیا کمال کی چیز ہے- میری بیوی انہیں دکھاتی تھی کہ دیکھو ڈھکنا کُھلا ہے اور اس میں ساری چیزیں پڑی ہیں اور ان پر روشنی پڑ رہی ہے- ساری چیخیں مارتی تھیں کہ آپا جی بتّی جلتی رہے گی- تو وہ کہتی” ہے ہے! جب دروازہ بند ہوگا توبتّی خود بخود بجھ جائے گی- اس میں یہ کمال ہے-“ تو وہ ساری بیچاریاں دست بستہ ہو کر ڈر کے پیچھے ہو کر کھڑی ہو جاتیں- میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ فریج تو آ گیا ہے اس کے ساتھ کی ساری نیگٹیؤ چیزیں بھی آئیں گی- اُس نے کہا، نہیں یہ بڑی مُفید چیز ہے-
اگلے روز عید تھی- جب میں نمازِ عید پڑھ کے صوفی غلام مُصطفٰی تبسّم کے گھر کے آگے سے گُزرا تو گھروں میں صفائی کرنے والی دو بیبیاں جا رہی تھیں، میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا- ایک نے دوسری سے پوچھا کہ اس بی بی نے تجھے کتنا گوشت دیا ہے- تو اُس نے کہا، دفع دُور! اُس نے ٹھنڈی الماری خرید لی ہے، سارا بکرا کاٹ کے اندر رکھ دیا ہے، کچھ بھی نہیں دیا- اب آپ لوگ میرا بندوبست کرو کہ میں اپنے آپ کو کیسے بچاؤں- میں جتنی دیر بھی اور زندہ رہنا چاہتا ہوں، خوش دلی اور خوش بختی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہوں-مجھ پر ایسا دباؤ نہ ڈالو، میں محسوس کرتا ہوں کہ جیکی میرے مُقابلے میں اب زیادہ پُرسکون ہو گیا ہے، یہ بات شاید اب سمجھ میں آگئی ہو جبکہ میں اِرد گِرد بھاگا پھرتا ہوں اور بے چین ہوں-
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ -

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…