نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ماضی کا البم

انسانی زندگی میں بعض اوقات ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی کو کسی چیز سے ایسی چڑ ہو جاتی ہےکہ اس کا کوئی خاص جواز نہیں ہوتا مگر یہ ہوتی ہے- اور میں اُن خاص لوگوں میں سے تھا جس کو اس بات سے چڑ تھی کہ "دروازہ بند کر دو-“ بہت دیر کی بات ہے کئی سال پہلے کی، جب ہم سکول میں پڑھتے تھے، تو ایک انگریز ہیڈ ماسٹر سکول میں آیا- وہ ٹیچرز اور طلباء کی خاص تربیت کے لئے متعین کیا گیا تھا - جب بھی اُس کے کمرے میں جاؤ وہ ایک بات ہمیشہ کہتا تھا- "Shut The Door Behind You "
پھر پلٹنا پڑتا تھا اور دروازہ بند کرنا پڑتا تھا-
ہم دیسی آدمی تو ایسے ہیں کہ اگر دروازہ کُھلا چھوڑ دیا تو بس کُھلا چھوڑ دیا، بند کر دیا تو بند کر دیا، قمیص اُتار کے چارپائی پر پھینک دی، غسل خانہ بھی ایسے ہی کپڑوں سے بھرا پڑا ہے، کوئی قاعدہ طریقہ یا رواج ہمارے ہاں نہیں ہوتا کہ ہر کام میں اہتمام کرتے پھریں-
یہ کہنا کہ دروازہ بند کر دیں، ہمیں کچھ اچھا نہیں لگتا تھا اور ہم نے اپنے طورپر کافی ٹریننگ کی اور اُنہوں نے بھی اس بارے میں کافی سکھایا لیکن دماغ میں یہ بات نہیں آئی کہ بھئی دروازہ کیوں بند کیا جائے؟ رہنے دو ،کُھلا کیا کہتا ہے، آپ نے بھی اپنے بچّوں، پوتوں، بھتیجوں کو دیکھا ہو گا وہ ایسا کرنے سے گھبراتے ہیں- بہت سال پہلےجب میں باہر چلا گیا تھا اور مجھے روم میں رہتے ہوئے کافی عرصہ گُزر گیا وہاں میری لینڈ لیڈی ایک "درزن“ تھی جو سلائی کا کام کرتی تھی- ہم تو سمجھتے تھے کہ درزی کا کام بہت معمولی سا ہے لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ یہ عزّت والا کام ہے- اُس درزن کی وہاں ایک بوتیک تھی اور وہ بہت با عزّت لوگ تھے-
میں اُن کے گھر میں رہتا تھا- اُن کی زبان میں درزن کو "سارتہ" کہتے ہیں میں جب اُس کے کمرے میں داخل ہوتا اُس نے ہمیشہ اپنی زبان میں کہا”دروازہ بند کرنا ہے“ وہ چڑ جو بچپن سے میرے ساتھ چلی تھی وہ ایم اے پاس کرنے کے بعد، یونیورسٹی کا پروفیسر لگنے کے بعد بھی میرے ساتھ ہی رہی- یہ بات بار بار سُننی پڑتی تھی تو بڑی تکلیف ہوتی، اور پھر لوٹ کے دروازہ بند کرنا، ہمیں تو عادت ہی نہیں تھی-کبھی ہم آرام سے دھیمے انداز میں گروبا پائی سے کمرے میں داخل ہی نہیں ہوئے، کبھی ہم نے کمرے میں داخل ہوتے وقت دستک نہیں دی، جیسا کہ قران پاک میں بڑی سختی سے حُکم ہے کہ جب کسی کے ہاں جاؤ تو پہلے اُس سے اجازت لو، اور اگر وہ اجازت دے تو اندر آؤ، ورنہ واپس چلے جاؤ- پتہ نہیں یہ حُکم اٹھارویں پارے میں ہے کہ اُنتیسویں میں کہ”اگر اتّفاق سے تم نے اجازت نہ لی ہو اور پھر کسی ملنے والے کے گھر چلے جاؤ اور وہ کہ دے کہ میں آپ سے نہیں مل سکتا تو ماتھے پر بل ڈالے بغیر واپس آ جاؤ-“
کیا پیارا حُکم ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی اس کو تسلیم نہیں کرتا- ہم کہتے ہیں کہ اندر گُھسا ہوا ہے اور کہ رہا ہے کہ میں نہیں مل سکتا، ذرا باہر نکلے تو اس کو دیکھیں گے وغیرہ وغیرہ، ہماری انا اس طرح کی ہے اور یہ کہنا کہ”دروازہ بند کر دیں“ بھی عجیب سی بات لگتی ہے- ایک روز میں نے بار بار یہ سُننے کے بعد روم میں زچ ہو کر اپنی اُس لینڈ لیڈی سے پوچھا کہ آپ اس بات پر اتنا زور کیوں دیتی ہیں- میں ایک بات تو سمجھتا ہوں کہ یہاں (روم میں) سردی بہت ہے، برف باری بھی ہوتی ہے کبھی کبھی اور تیز”وینتو“ (رومی زبان کا لفظ مطلب ٹھنڈی ہوائیں چلنا) بھی ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ کُھلے ہوئے دروازے سے میں بالکل شمشیر زنی کرتی ہوئی کمروں میں داخل ہوتی ہیں- یہاں تک تو آپ کی دروازہ بند کرنے والی فرمائش بجا ہے لیکن آپ اس بات پر بہت زیادہ زور دیتی ہیں- چلو اگرکبھی دروازہ کُھلا رہ گیا اور اُس میں سے اندر ذرا سی ہوا آگئی یا برف کی بوچھاڑ ہوگئی تو اس میں ایسی کون سی بڑی بات ہے-
اس نے کہا کہ تم ایک سٹول لو اور یہاں میرے سامنے بیٹھ جاؤ (وہ مشین پر کپڑے سی رہی تھی ) میں بیٹھ گیا وہ بولی دروازہ اس لئے بند نہیں کرایا جاتا اور ہم بچپن سے بچّوں کو ایسا کرنے کی ترغیب اس لئے نہیں دیتے کہ ٹھنڈی ہوا نہ آجائے یا دروازہ کُھلا رہ گیا تو کوئی جانور اندر آ جائے گا بلکہ اس کا فلسفہ بہت مختلف ہے اور یہ کہ اپنا دروازہ، اپنا وجود ماضی کے اوپر بند کر دو، آپ ماضی میں سے نکل آئے ہیں اور اس جگہ پر اب حال میں داخل ہو گئے ہیں- ماضی سے ہر قسم کا تعلق کاٹ دو اور بھول جاؤ کہ تم نے کیسا ماضی گُزارا ہے اور اب تم ایک نئے مُستقبل میں داخل ہو گئے ہو- ایک نیا دروازہ تمہارے آگے کُھلنے والا ہے، اگر وہی کُھلا رہے گا تو تم پلٹ کر پیچھے کی طرف ہی دیکھتے رہو گے- اُس نے کہا کہ ہمارا سارے مغرب کا فلسفہ یہ ہے اور دروازہ بند کر دو کا مطلب لکڑی، لوہے یا پلاسٹک کا دروازہ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب تمہارے وجود کے اوپر ہر وقت کُھلا رہنے والا دروازہ ہے- اُس وقت میں ان کی یہ بات نہیں سمجھ سکا جب تک میں لوٹ کے یہاں (پاکستان) نہیں آگیااور میں اپنےجن”بابوں“ کا ذکر کیا کرتا ہوں ان سے نہیں ملنے لگا۔ میرے”بابا“ نے مومن کی مجھے یہ تعریف بتائی کہ مومن وہ ہے جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو- ( کہ یا اللہ پتہ نہیں آگے چل کے کیا ہونا ہے ) وہ حال میں زندہ ہو-
آپ نے ایک اصلاح اکثر سُنی ہو گی کہ فلاں بُزرگ بڑے صاحبِ حال تھے- مطلب یہ کہ اُن کا تعلق حال سے تھا وہ ماضی کی یاد اور مستقبل کی فکر کے خوف میں مبتلا نہیں تھے- مجھے اُس لینڈ لیڈی نے بتایا کہ دروازہ بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب تم ایک نئے عہد، ایک نئے دور ایک نئے Era اور ایک اور وقت اور زمانے میں داخل ہو چکے ہیں اور ماضی پیچھے رہ گیا ہے- اب آپ کو اس زمانے سے فائدہ اُٹھانا ہے اور اس زمانے کے ساتھ نبرد آزمائی کرنی ہے ۔جب میں نے یہ مطلب سُنا تو ہم چکاچوند گیا کہ میں کیا ہم سارے ہی دروازہ بند کرنے کا مطلب یہی لیتے ہیں جو عام طور پر ہو یا عام اصطلاح میں لیا جاتا ہے- بچّوں کو یہ بات شروع سے سکھانی چاہئے کہ جب تم آگے بڑھتے ہو، جب تم زندگی میں داخل ہوتے ہو، کسی نئے کمرے میں جاتے ہو تو تمہارے آگے اور دروازے ہیں جو کُھلنے چاہئیں- یہ نہیں کہ تم پیچھے کی طرف دھیان کر کے بیٹھے رہو-

جب اُس نے یہ بات کہی اور میں نے سُنی تو پھر میں اس پر غور کرتا رہا اور میرے ذہن میں اپنی زندگی کے واقعات، ارد گرد کے لوگوں کی زندگی کے واقعات بطور خاص اُجاگر ہونے لگے اور میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ ہم لوگوں میں سے بہت سے لوگ آپ نے ایسے دیکھے ہوں گے جو ہر وقت ماضی کی فائل بلکہ ماضی کے البم بغل میں دبائے پھرتے ہیں- اکثر کے پاس تصویریں ہوتی ہیں- کہ بھائی جان میرے ساتھ یہ ہو گیا، میں چھوٹا ہوتا تھا تو میرے ابّا جی مجھے مارتے تھےسوتیلی ماں تھی، فلاں فلاں، وہ نکلتے ہی نہیں اس یادِ ماضی سے- میں نے اس طرح ماضی پر رونے دھونے والے ایک دوست سے پوچھا آپ اب کیا ہیں؟ کہنے لگے جی میں ڈپٹی کمشنر ہوں لیکن رونا یہ ہے کہ جی میرے ساتھ یہ زمانہ بڑا ظلم کرتا رہا ہے- وہ ہر وقت یہی کہانی سُناتے- ہمارے مشرق میں ایشیاء، فارس تقریباً سارے مُلکوں میں یہ رواج بہت عام ہے اور ہم جب ذکر کریں گے اس”دردناکی“ کا ذکر کرتے رہیں گے- ہماری ایک آپا سُکیاں ہیں- جو کہتی ہیں کہ میری زندگی بہت بربادی میں گزری بھائی جان، میں نے بڑی مشکل سے وقت کاٹا ہے- اب ایک بیٹا تو ورلڈ بینک میں ملازم ہے ایک یہاں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہے- اہک بیٹا سرجن ہے ( ان کے خاوند کی بھی اچھی تنخواہ تھی، اچھی رشوت بھی لیتے رہے،اُنہوں نے بھی کافی کامیاب زندگی بسر کی ۔)
میں نے ایک بار اُن سے پوچھا تو کہنے لگے بس گُزارا ہو ہی جاتا ہے، وقت کے تقاضے ایسے ہوتے ہیں- میں نے کہا کہ آدھی رشوت تو آپ سرکاری افسر ہونے کے ناطے دے کر سرکاری سہولتوں کی مد میں وصول کرتے ہیں مثلاً آپ کی اٹھارہ ہزار روپے تنخواہ ہو گی تو ایک کار ایک دوسری کار، پانچ نوکر، گھر، یہ اللہ کے فضل سے بہت بڑی بات ہے کیا اس کے علاوہ بھی چاہیئے- وہ بولے ہاں اس کے علاوہ بھی ضرورت پڑتی ہے لیکن ہم نے بڑا دُکھی وقت گُزارا ہے، مشکل میں گُزارا، ہمارا ماضی بہت دردناک تھا- وہ ماضی کا دروازہ بند ہی نہیں کرتے- ہر وقت یہ دروازہ نہ صرف کُھلا رکھتے ہیں بلکہ اپنے ماضی کو ساتھ اُٹھائے پھرتے ہیں- میں نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے، آج کے بعد آپ بھی غور فرمائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے پاس اپنے ماضی کی رنگین البمیں ہوتی ہیں- ان میں فوٹو لگے ہوئے ہوتے ہیں اور دُکھ درد کی کہانیاں بھری ہوئی ہوتی ہیں- اگر وہ دُکھ درد کی کہانیاں بند کر دیں، کسی نہ کسی طور پر”تگڑے“ ہو جائیں اور یہ تہیہ کر لیں کہ اللہ نے اگر ایک دروازہ بند کیا تو وہ اور کھولے گا، تو یقیناً اور دروازے کُھلتے جائیں گے-
اگر آپ پلٹ کر پیچھے دیکھتے جائیں گے اور اُسی دروازے میں سے جھانک کے وہی گندی مندی، گری پڑی چیزوں کو اکٹھا کرتے رہیں گے تو آگے نہیں جا سکتے- اس طرح سے مجھے پتہ چلا کہ Shut behind the door کا مطلب یہ نہیں ہے جو میں سمجھتا رہا ہوں- وہ تو اچھا ہو گیا کہ میں اتفاق سے وہاں چلا گیا ورنہ ہمارے جو انگریز اُستاد آئے تھے اُنہوں نے اس تفصیل سے نہیں بتایا تھا- آپ کو ہم کو، سب کو یہ کوشش ضرور کرنی چاہئے کہ ماضی کا پیچھا چھوڑ دیں-
ہمارے بابے، جن کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، بار بار کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، اُن کے ڈیروں پر آپ جا کر دیکھیں، وہ ماضی کی بات نہیں کریں گے- وہ کہتے ہیں کہ بسم اللہ آپ یہاں آگئے ہیں، یہ نئی زندگی شروع ہو گئی ہے، آپ بالکل روشن ہو جائیے، چمک جایئے- جب ہمارے جیسے نالائق بُری ہیئت رکھنے والے آدمی اُن کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، تو وہ نعرہ مار کے کہتے ہیں”واہ واہ! رونق ہو گئی، برکت ہوگئی، ہمارے ڈیرے کی کہ آپ جیسے لوگ آ گئے-“ اب آپ دیکھئے ہمارے اوپر مشکل وقت ہے، لیکن سارے ہی اپنے اپنے انداز میں مستقبل سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ پتا نہیں جی کیا ہوگا اور کیسا ہوگا ؟ میں یہ کہتا ہوں کہ ہمیں سوچنا چاہئے- ہم کوئی ایسے گرے پڑے ہیں، ہم کوئی ایسے مرے ہوئے ہیں، ہمارا پچھلا دروازہ تو بند ہے، اب تو ہم آگے کی طرف چلیں گے اور ہم کبھی مایوس نہیں ہوں گے، اس لئے کہ اللہ نے بھی حکم دے دیا ہے کہ مایوس نہیں ہونا، اس لئے حالات مشکل ہوں گے، تکلیفیں آئیں گی، بہت چیخیں نکلیں گی- لیکن ہم مایوس نہیں ہوں گے، کیونکہ ہمارے اللہ کا حکم ہے اور ہمارے نبیﷺ کے ذریعے یہ فرمان دیا گیا ہے کہ لَا تَـقنُـطـومِـن رحـمـۃِ اللہ (“یعنی اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں“)- بعض اوقات یہ پتا نہیں چلتا کہ اللہ کی رحمت کے کیا کیا رُوپ ہوتے ہیں- آدمی یہ سمجھتا ہے میرے ساتھ یہ زیادتی ہو رہی ہے، میں Demote ہو گیا ہوں، لیکن اس Demote ہونے میں کیا راز ہے؟ یہ ہم نہیں سمجھ سکتے- اس راز کو پکڑنے کے لئے ایک ڈائریکٹ کنکشن اللہ کے ساتھ ہونا چاہئے اور اُس سے پوچھنا چاہئے کہ جناب! اللہ تعالٰی میرے ساتھ یہ جو مشکل ہے، میرے ساتھ یہ تنزّلی کیوں ہے؟ لیکن ہمیں اتنا وقت نہیں ملتا اور ہم پریشانی میں اتنا گُم ہوجاتے ہیں کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملتا، ہمارے ساتھ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں بازاروں میں جانے کا وقت مل جاتا ہے، تفریح کے لئے مل جاتا ہے،دوستوں سے ملنے، بات کرنے کا وقت مل جاتا ہے- لیکن اپنے ساتھ بیٹھنے کا، اپنے اندر جھانکنے کا کوئی وقت میسر نہیں آتا-
آپ ہی نہیں، میں بھی ایسے لوگوں میں شامل ہوں- اگر میں اپنی ذات سے پوچھوں کہ”اشفاق احمد صاحب! آپ کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا کتنا وقت ملتا ہے؟ کبھی آپ نے اپنا احتساب کیا ہے؟“تو جواب ظاہر ہے کہ کیا ملے گا- دوسروں کا احتساب تو ہم بہت کر لیتے ہیں-اخباروں میں، کالموں میں، اداریوں میں لیکن میری بھی تو ایک شخصیت ہے، میں بھی تو چاہوں گا کہ میں اپنے آپ سے پوچھوں کہ ایسا کیوں ہے، اگر ایسا ممکن ہو گیا، تو پھر خفیہ طور پر، اس کا کوئی اعلان نہیں کرنا ہے، یہ بھی اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اُس نے ایک راستہ رکھا ہوا ہے، توبہ کا! کئی آدمی تو کہتے ہیں کہ نفل پڑھیں، درود وظیفہ کریں، لیکن یہ اُس وقت تک نہیں چلے گا، جب تک آپ نے اُس کئے ہوئے برے کام سے توبہ نہیں کر لی، توبہ ضروری ہے- جیسا آپ کاغذ لے کے نہیں جاتے کہ”ٹھپہ“ لگوانے کے لئے- کوئی "ٹھپہ“ لگا کر دستخط کردے گا اور پھر آپ کا کام ہو جاتا ہے، اس طرح توبہ وہ”ٹھپہ“ ہے جو لگ جاتا ہے اور بڑی آسانی سے لگ جاتا ہے،اگر آپ تنہائی میں دروازہ بند کر کے بیٹھیں اور اللہ سے کہیں کہ !”اللہ میاں پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا، مجھ سے یہ غلطی، گُناہ ہو گیا اور میں اس پر شرمندہ ہوں-“ ( میں یہ Reason نہیں دیتا کہ Human Being کمزور ہوتا ہے، یہ انسانی کمزوری ہے یہ بڑی فضول بات ہے ۔ایسی کرنی ہی نہیں چاہئے) بس یہ کہے کہ مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے اور میں اے خداوند تعالٰی آپ سے معافی چاہتا ہوں اور میں کسی کو یہ بتا نہیں سکتا، اس لئے کہ میں کمزور انسان ہوں- بس آپ سے معافی مانگتا ہوں-
اس طرح سے پھر زندگی کا نیا، کامیاب اور شاندار راستہ چل نکلتا ہے- لیکن اگر آپ اپنے ماضی کو ہی اُٹھائے پھریں گے، اُس کی فائلیں ہی بغل میں لئے پھریں گے اور یہی رونا روتے رہیں گے کہ میرے ابا نے دوسری شادی کر لی تھی، یا میرے ساتھ سختی کرتے رہے، یا اُنہوں نے بڑے بھائی کو زیادہ دے دیا، مجھےکچھ کم دے دیا، چھوٹے نے زیادہ لے لیا، شادی میں کوئی گڑ بڑ ہوئی تھی- اس طرح تو یہ سلسلہ کبھی ختم ہی نہیں ہوگا، پھر تو آپ وہیں کھڑے رہ جائیں گے، دہلیز کے اوپر اور نہ دروازہ کھولنے دیں گے، نہ بند کرنے دیں گے، بس پھنسے ہوئے رہیں گے- لیکن آپ کو چاہئے کہ آپ Shut Behind The Door کر کے زندگی کو آگے لے کر چلیں- آپ زندگی میں یہ تجربہ کر کے دیکھیں- ایک مرتبہ تو ضرور کریں- آپ میری یہ بات سننے کے بعد جو میری نہیں میری لینڈ لیڈی ، اُس اطالوی درزن کی بات ہے، اس پہ عمل کر کے دیکھیں-
اس کے بعد میں نے رونا چھوڑ دیا اور ہر ایک کے پاس جا کر رحم کی اور ہمدردی کی بھیک مانگنا چھوڑ دی- آدمی اپنے دُکھ کی البم دکھا کر بھیک ہی مانگتا ہے نا! جسے سُن کر کہا جاتا ہے کہ بھئی! غلام محمّد، یا نور محمّد یا سلیم احمد تیرے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی- اس طرح دو لفظ آپ کیا حاصل کر لیں گے اور سمجھیں گے کہ میں نے بہت کچھ سر کر لیا، لیکن وہ قلعہ بدستور قائم رہے گا، جسے فتح کرنا ہے- اگر آپ تہیہ کر لیں گے کہ یہ ساری مشکلات، یہ سارے بل، یہ سارے یوٹیلیٹی کے خوفناک بل تو آتے ہی رہیں گے، یہ تکلیف ساتھ ہی رہے گی، بچّے بھی بیمار ہوں گے، بیوی بھی بیمار ہوگی، خاوند کو بھی تکیلف ہو گی، جسمانی عارضے بھی آئیں گے، روحانی بھی، نفسیاتی بھی- لیکن ان سب کے ہوتے ہوئے ہم تھوڑا سا وقت نکال کراور مغرب کا وقت اس کے لئے بڑا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ یوں تو سارے ہی وقت اللہ کے ہیں، اس وقت الگ بیٹھ کر ضرور اپنی ذات کے ساتھ کچھ گُفتگو کریں اور جب اپنے آپ سے وہ گُفتگو کر چکیں، تو پھر خفیہ طور پر وہی گُفتگو اپنے اللہ سے کریں، چاہے کسی بھی زبان میں، کیونکہ اللہ ساری زبانیں سمجھتا ہے، انگریزی میں بات کریں، اردو، پنجابی، پشتو اور سندھی جس زبان میں چاہے اس زبان میں آپ کا یقیناً اُس سے رابطہ قائم ہو گا اور اس سے آدمی تقویت پکڑتا ہے، بجائے اس کے آپ مجھ سے آ کر کسی بابے کا پوچھیں، ایسا نہیں ہے- آپ خود بابے ہیں- آپ نے اپنی طاقت کو پہچانا ہی نہیں ہے- جس طرح ہمارے جوگی کیا کرتے ہیں کہ ہاتھی کی طاقت سارے جانوروں سے زیادہ ہے۔ لیکن چونکہ اس کی آنکھیں چھوٹی ہوتی ہیں، اس لئے وہ اپنی طاقت، وجودکو پہچانتا ہی نہیں- ہاتھی جانتا ہی نہیں کہ میں کتنا بڑا ہوں- اس طرح سے ہم سب کی آنکھیں بھی اپنے اعتبار سے چھوٹی ہیں اور ہم نے اپنی طاقت کو، اپنی صلاحیت کو جانا ہی نہیں- اللہ میاں نے تو انسان کو بہت اعلٰی و ارفع بنا کر سجود و ملائک بنا کر بھیجا ہے- یہ باتیں یاد رکھنے کی ہیں کہ اب تک جتنی بھی مخلوق نے انسان کو سجدہ کیا تھا، وہ انسان کے ساتھ ویسے ہی نباہ کر رہی ہے- یعنی شجر، حجر، نباتات، جمادات اور فرشتے وہ بدستور انسان کا احترام کر رہے ہیں- انسان سے کسی کا احترام کم ہی ہوتا ہے- اب جب ہم یہاں بیٹھے ہیں، تو اس وقت کروڑوں ٹن برف کے۔ ٹو (K2) پر پڑی آوازیں دے کر پکار پکار کر سورج کی منّتیں کر رہی ہے کہ "ذرا ادھر کرنیں زیادہ ڈالنا، سندھ میں پانی نہیں ہے- جہلم، چناب خشک ہیں اور مجھے وہاں پانی پہنچانا ہے اور نوعِ انسان کو پانی کی ضرورت ہے-“ برف اپنا آپ پگھلاتی ہے اور آپ کو پانی دے کر جاتی ہے- صبح کے وقت اگر غور سے سوئی گیس کی آواز سُنیں اور اگر آپ اس درجے یا جگہ پر پہنچ جائیں کہ اس کی آواز سن سکیں، تو وہ چیخ چیخ کر اپنے سے سے نیچے والے کو کہ رہی ہوتی ہے”نی کُڑیو! چھیتی کرو- باہر نکلو، جلدی کرو تم تو ابھی ہار سنگھار کر رہی ہو- بچوں نے سکول جانا ہے- ماؤں کو انہیں ناشتہ دینا ہے- لوگوں کو دفتر جانا ہے- چلو اپنا آپ قربان کرو-“ وہ اپنا آپ قربان کر کے جل بھن کر آپ کا ناشتہ، روٹیاں تیار کرواتی ہے-
یہ سب پھل، سبزیاں اپنے وعدے پر قائم ہیں- یہ آم دیکھ لیں، آج تک کسی انور راٹھور یا کسی ثمر بہشت درخت نے اپنا پھل خود کھا کر یا چوس کر نہیں دیکھا- بس وہ تو انسانوں سے کئے وعدے کی فکر میں رہتا ہے کہ میرا پھل توڑ کر بلوچستان ضرور بھیجو، وہاں لوگوں کو آم کم ملتا ہے- اس کا اپنے اللہ کے ساتھ رابطہ ہے اور وہ خوش ہے- آج تک کسی درخت نے افسوس کا اظہار نہیں کیا- شکوہ نہیں کیا کہ ہماری بھی کوئی زندگی ہے، جی جب سے گھڑے ہیں، وہیں گھڑے ہیں- نہ کبھی اوکاڑہ گئے نہ کبھی آگے گئے، ملتان سے نکلے ہی نہیں- میرا پوتا کہتا ہے”دادا! ہو سکتا ہے کہ درخت ہماری طرح ہی روتا ہو، کیونکہ اس کی باتیں اخبار نہیں چھاپتا-“ میں نے کہا وہ پریشان نہیں ہوتا، نہ روتا ہے، وہ خوش ہے اور ہوا میں جھومتا ہے- کہنے لگا، آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہ خوش ہے؟ میں نے کہا کہ وہ خوش ایسے ہے کہ ہم کو باقاعدگی سے پھل دیتا ہے- جو ناراض ہو گا ، تو وہ پھل نہیں دے گا-
میں اگر اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھوں، میں جو اشفاق احمد ہوں، میں پھل نہیں دیتا- میرے سارے دوست میرے قریب سے گُزر جاتے ہیں- میں نہ تو انور راٹھور بن سکا، نہ ثمر بہشت بن سکا نہ میں سوئی گیس بن سکا-
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15