نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللہ کا پسندیدہ فعل

محمد حسین: لیکن سرکار، یہ رنگا رنگ مورتیاں۔۔۔ یہ شکلیں شباہتیں۔۔۔ یہ دھینگا مشتی۔۔۔ مار دھاڑ۔۔۔ کھینچا تانی، یہ کیا؟

ارشاد: میاں محمد حسین صاحب راج دلارے! نہ کوئی ساجد ہے نہ مسجود۔۔۔ نہ عابد نہ معبود۔۔۔ نہ آدم نہ ابلیس۔۔۔ صرف ایک ذات قدیم صفات رنگارنگ میں جلوہ گر ہے۔ نہ اس کی ابتداء نہ انتہاء۔۔۔ نہ کو کسی نے دیکھا نہ سمجھا۔۔۔ نہ فہم قیاس میں آئے نہ وہم گماں میں سمائے۔۔۔ جیسا تھا ویسا ہی ہے اور جیسا ہے ویسا ہی رہے گا۔۔۔ نہ گھٹے نہ بڑھے، نہ اترے نہ چڑھے۔۔۔ وہ ایک ہے، لیکن ایک بھی نہیں کہ اس کو موجودات سے اور موجودات کو اس سے الگ سمجھنا نادانی اور مورکھتا ہے۔ دنیا میں طرح طرح کے کاروبار اور رنگا رنگا پروفیشن موجود ہیں۔ ایسے ہی خداشناسی اور خدا جوئی بھی ایک دھندہ ہے۔

محمد حسین: جب اس کا کوئی سر پیر ہی نہیں حضور تو پھر ڈھونڈنے والا کیا ڈھونڈے اور کرنے والا کیا کرے؟

 ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، یا مولا! تیری بارگاہ میں میرا کون سا فعل پسندیدہ ہے تا کہ میں اسے ذیادہ کروں اور بار بار کروں۔ حکم ہوا یہ فعل ہم کو پسند آیا کہ جب بچپن میں تیری ماں تجھے مارا کرتی تھی تو مار کھا کر بھی اسی کی طرف دوڑا کرتا تھا اور اسی کی جھولی میں گھستا تھا۔ تو بھائی محمد حسین صاحب! ڈھونڈنے والے کو بھی یہی لازم ہے کہ گر کیسی بھی سختی ہو، کیسی بھی ذلت و خواری پیش آئے لیکن ہر حال میں خدا کی طرف رجوع کرے اور اسی کے فضل کو پکارتا رہے۔

ڈرامہ،"من چلے کا سودا" صفحہ 286 سے اقتباس
بشکریہ: فہمینہ حسین

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15