نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دوئی محبت

عورت شادی سے پہلے  یا بعد میں محبوب رکھنا چاہے تو چپ چاپ اس کی مورتی کی پوجا کر سکتی ہے۔ مرد ایک وقت میں دو محبوب رکھنا چاہے تو طوفان آ جاتا ہے۔ دوئی سے نکلے بغیر اس محبت نہیں مل سکتی۔ عورت اللہ میں ڈوبنا چاہے تو سارے پیاروں سمیت اس میں غرق ہو سکتی ہے، لیکن مرد کے لیے حکم دوسرا ہے۔ اللہ کے لیے مکان خالی کرنے کی شرط ہے، سارے رشتے، بت، نکال کر پھینکنا پڑتے ہیں حتٰی کہ مرشد کی شبیہ بھی خارج از خیال کر کے یکتائی سے رجوع کرنا ہوتا ہے۔ مرد کا سفر تنہائی کا سفر ہے، عورت کا سفر میلے میں گھومنے پھرنے، سیر کا علم ہے۔ دونوں اپنی اپنی ظرف بھر قیمت ادا کرتے ملے جاتے ہیں۔
بانو قدسیہ کے ناول، حاصل گھاٹ سے اقتباس
بشکریہ: ساگی ساگو

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس