محبت کا چھلاوہ

محبت چھلاوہ ھے۔ ۔ ۔ اس کی اصل حقیقت بڑی مشکل سے سمجھ آتی ھے کچھ لوگ جو آپ سے اظہار محبت کرتے ھیں اتصال جسم کے خواہاں ھیں ۔ کچھ آپ کی روح کے لیئے تڑپتے ھیں کسی کسی کے جذبات پر آپ خود حاوی ھو جانا چاھتے ھیں ۔ کچھ کو سمجھ سوچ ادراک کی سمتوں پر چھا جانے کا شوق ھوتا ھے ۔ ۔ ۔ محبت چھلاوہ ھے لاکھ روپ بدلتی ھے ۔ ۔ ۔ اسی لیئے لاکھ چاھو ایک آدمی آپ کی تمام ضرورتیں پوری کر دے یہ ممکن نہیں ۔ ۔ ۔  اور بالفرض کوئی آپ کی ھر سمت ھر جہت کے خلا کو پورا بھی کر دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ھے کہ آپ اس کی ھر ضرورت کو ھر جگہ ھر موسم اور ھر عہد میں پورا کرسکیں گے ۔  ۔ ۔ انسان جامد نہیں ھے بڑھنے والا ھے اوپر دائیں بائیں ۔ ۔ ۔  اس کی ضروریات کو تم پابند نہیں کر سکتے ۔۔۔

ًبانو قدسیہ کے ناول، راجہ گدھ سے اقتباس
بشکریہ: قیصر صدیق