نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

وقت ایک تحفہ

وقت - ایک تحفہ
میں وقت کے بارے میں بہت گنجلک رہتا ہوں۔ میں کیا اور میری حیثیت کیا۔ میں کس باغ کی مولی ہوں۔ وقت کےبارے میں بڑے بڑے سائنسدان، بڑے فلسفی، بڑے نکتہ دان، وہ سارے ہی اس کی پیچیدگی کا شکار ہیں کہ وقت اصل میں ہے کیا؟ اوریہ ہماری زندگیوں پر کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے؟ حضرت علامہ اقبال رح اور ان کےبہت ہی محبوب فرانسیسی فلسفی برگساں بھی وقت کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ مولانا روم اپنی چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں وقت کا ہی ذکر کرتے ہیں۔آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ آئن سٹائن نے بھی اپنی Theory of Reality میں سارا زور وقت پر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ “شے“ کوئی چیز نہیں ہے “وقت“ شے کی ماہئیت کو تبدیل کرتا ہے۔ اس نے ہم لوگوں کی آسانی کے لئے ایک مثال دی ہے کہ اگر آپ ایک بہت گرم توے پر غلطی سے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ بھی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے تک اور آپ پریشانی کی حالت میں یا تکلیف میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تو آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ پوری صدی آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہے۔
اگر آپ اپنے محبوب کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اس نے کہا ہے کہ میں دس بج کر پندرہ منٹ تک پہنچ جاؤں گا، یا پہنچ جاؤں گی، فلاں جگہ تو اس میں اگر ایک منٹ کی بھی دیری ہو جاتی ہے، تو آپ کو یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار برس گزر گیا ہے اور وہ ایک منٹ آپ کی زندگی سے جاتا ہی نہیں۔ یہ سارا وقت کا ہی شاخسانہ ہے کہ آنے جانے، ملنے ملانے اور گرم ٹھنڈے کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ ساری بات وقت کی ہے، پھر جو آئن سٹائن سے اختلاف رکھتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ Sub-atomic Particle Level پر جب ہم اس کو دیکھتے ہیں تو کبھی وہ ہم کو Wave نظر آتا ہے، تو کبھی وہ ہمیں Particleدکھائی دیتا ہے اور اگر اس میں سے وقت کو نکال دیا جائے، تو پھر شاید اصل بات پتا چل سکے کہ Sub-atomic Levelکے اوپر یہ کیا چیز ہے۔ بہر کیف یہ ایسی پیچیدگیاں ہیں، جن کے بارےمیں بات ہوتی رہتی ہے۔ میرے جو سمجھدار نوجوان اس نسل کے ہیں، یہ بھی وقت کے بارے میں بہت لمبی اور سوچ بچار کی بات کریں گے۔
وقت کا ایک پیچدہ سا خاکہ ہر انسان کے ساتھ گھومتا رہتا ہے۔ چاہے وہ اس پر غور کرے یا نہ کرے۔ میں جب اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو رہا تھا، تو ریٹائرمنٹ کا بڑا خوف ہوتا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ یعنی آدمی نے ایک نوکری کی ہوتی ہے اور اس میں پھنسا چلتا رہتا ہے، لیکن آخر میں کچھ لوگ تو Re-employmentکی تیار کر لیتے ہیں۔ ایک پھانسی سے نکلوں گا، دوسری پھانسی انشاءاللہ تیارہوگی۔ اس میں اپنا سر دے دوں گا اور پھر آخرت کا سفر کر جاؤں گا۔
جب میں ریٹائر ہونے کے قریب تھا، تو مجھ پر بھی یہ خوف سوار ہوا۔ میں نے قدرت اللہ شہاب سے، جو بڑے ہی نیک اور عبادت گزار تھے، ان سے پوچھا کہ “سر! میں ریٹائر ہونے والا ہوں، تو میں کیا کروں؟“انہوں نے کہا کہ ریٹائر ہونے کا جو خوف ہوتا ہے، اس کا سب سے بڑا دباؤ آپ پر یہ پـڑتا ہے کہ پھر لوگ آپ پر توجہ نہیں دیتے یعنی اپنا وقت آپ کو نہیں دیتے۔ آپ ان کے وقت کی آغوش سے نکل جاتے ہیں، پھر آپ کلب کی ممبر شپ اختیار کرتے ہیں۔ گالف کھیلنے لگتے ہیں، زور لگاتے ہیں کہ نئے دوست بنیں۔ اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ ہم متوسط درجے کے لوگوں کا، کہ آپ مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگ جائیں۔
میں نے کہا کہ اس کا کیا تعلق؟ یعنی ریٹائرمنٹ کا اور مسجد کا آپس میں کیا تعلق؟ میں نے کہا کہ خیر نماز پڑھ لوں گا۔ کہنے لگے، نہیں مسجد میں جاکر، جب میں ریٹائر ہوا تو میں نے سوچا کہ انہوں نے کہا ہے اور یہ بات مانی جانی چاہئے کہ مسجد میں جا کر نماز پڑھوں۔ اب میں مسجد میں جا کر نماز پڑھنے لگا، لیکن عصر اور مغرب کی۔ اس طرح کوئی دو مہینے گزر گئے۔ مجھے تو اس میں کوئی عجیب بات نظر نہیں آئی۔ لیکن چونکہ انہوں نے کہا تھااس لئے میں ان کی بات مانتا تھا۔ایک دن میری بیوی یہ بیان کرتی ہے کہ کچھ عجیب و غریب جسم کے چار پانچ آدمی، جن کی شکلیں میں نے پہلے نہیںدیکھی تھیں، ہاتھ میں چھڑیاں لے کر اور دوسرے ہاتھ میں تسبیحات لٹکا کر میرے گھر کے دروازے پر آئے اور انہوں نے گھنٹی بجائی اور جب میں باہر نکلی تو کہنے لگے:“اشفاق صاحب خیریت سے ہیں!“ میں(بانو قدسیہ) نے کہا، ہاں ٹھیک ہیں۔ وہ کہنے لگے، ان سے ملاقات نہیں ہوسکتی کیا؟ میں نے کہا کہ وہ پچھلے چھ دن سے اسلام آباد گئے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے “الحمدللہ، الحمدللہ! ہمارے تسلی ہو گئی، اچھا بہن السلام علیکم!“ میری بیوی پوچھنے لگی وہ کون لوگ تھے؟ میں نے کہا کہ، وہ میرے دوست تھے، جو مسجد جانے کی وجہ سے میرے حلقۂ احباب میںشامل ہوئے ہیں۔ میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں کلب میں ممبر ہو کر نئی دوستیاں استوار کر سکوں۔ وہ مجھے وقت عطا کرتے ہیں اور اس وقت کی تلاش میں کہ میں اس میں شامل نہیں ہوں، پوچھنے آئے تھے کہ میں کہاں ہوں؟ انسان دوسرے انسان کو جو سب سے بڑا تحفہ عطا کر سکتا ہے، وہ وقت ہے۔ اس سے قیمتی تحفہ انسان انسان کو نہیں دے سکتا۔ آپ کسی کو کتنا بھی قیمتی تحفہ دے دیں، اس کا تعلق گھوم پھر کر وقت کے ساتھ چلا جائے گا۔ مثلاً آپ مجھے یا میں آپ کو نہایت خوبصورت قیمتی پانچ ہزار روپے کا “اوڈی کلون“ دوں یا آپ مجھے قالین کا ایک خوبصورت ٹکڑا دیں، یا میرے آرٹسٹ بچے مجھے ایک بہت قیمتی پینٹنگ بطور تحفہ دیں، یا سونے کا کنگن ایک خاتون کو دیا جائےیا ہیرے کا ایک طوطا یا کوئی اور قیمتی چیز، تو آپ دیکھیں گے کہ یہ سارے تحفے جو بظاہر اور حقیقت میں قیمتی ہیں، ان کے پیچھے وقت ہی کار فرما ہے۔
پہلے میں نے وقت لیا، پھر میں نے کمائی کی۔ میں نے دس دیہاڑیاں لگائیں، جو مجھے ایک ہزار فی دیہاڑی ملتے تھے، پھر دس ہزار کا میں نے قالین خریدا اور تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ ٹائم پہلے لینا پڑتا ہے، پھر اس کو بیچنا پڑتا ہے، پھر اس کو تحفے کی شکل میںConvertکرنا پڑتا ہے، پھر وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس تحفہ دینے اور لینے کے لئے سب سے قیمتی چیز بس وقت ہی ہے۔ اکثر یہ ہو جاتا ہے جیسے آج مجھ سے ہوگا اور میں مجبور ہوں ایسا کرنے پر کہ میں اپنا وقت اس شخص کو دینے کی بجائے جو میری آس میں ہسپتال کے ایک وارڈ میں موجود ہے، میں اسے پھولوں کا ایک گلدستہ بھیجوں گا، لیکن وہ شخص اس گلدستے کی آس میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ میرے وجود، میرے لمس اور میرے ٹچ کے لئے بے چین ہوگا کہ میں اس کے پاس آؤں اور اس کے ساتھ کچھ باتیں کروں۔ ڈاکٹر اس کی بہت نگہداشت کر رہے ہیں۔ نرسیں اس پر پوری توجہ دے رہی ہیں اور اس کے گھر کے لوگ بھی ظاہر ہے اس کے ساتھ بہت اچھا برتاؤ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ بیمار ہے۔ لیکن ایک خاص کرسی پر اسے میرا انتظار ہے، لیکن میں اس کے پاس اپنے وقت کا تحفہ لے کر نہیں جا سکتا۔
خواتین وحضرات! وقت ایک ایسی انوسٹمنٹ ہے، ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو باہمی اشتراک رکھتی ہے۔ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ جب میں آپ کو اپنا وقت دیتا ہوں تو سننے والا اور آپ سے ملاقات کرنے والا اور آپ کے قریب رہنے والا آپ کو اپنا وقت دیتا ہے اور باہمی التفات اور محبت کا یہ رشتہ اس طرح سے چلتا رہتا ہے۔ میرے بھتیجے فاروق کی بیوی کشور جب ساہیوال سے اپنے میکے اسلام آباد گئی، تو کشور نے جاتے ہوئے(اس کا خاوند فاروق انکم ٹیکس آفیسر ہے اور اس نے سی ایس ایس کیا ہوا ہے، کشور بھی بڑی پڑھی لکھی ذہین لڑکی ہے) ایک کاغذ پر لکھا، یہ تمھارے لئے ایک Instruction Paper ہے کہ دھوبی کو تین سو روپے دے دینا، دودھ والا ہر روز ایک کلو دودھ لاتا ہے، اس کو کم کرکے پونا سیر کر دینا اور بلی کے لئے جو قیمہ ہے ، یہ میں نے ڈیپ فریزر میں رکھ کر اس کی “پڑیاں“ بنا دی ہیں اور ان کے اوپر Datesبھی لکھی ہوئی ہیں، روز ایک پڑیا نکال کر اس کو صبح کے وقت دینی ہے(اس کی سیامی بلی ہے، وہ قیمہ ہی کھاتی ہے)۔ اس نے اور دو تین Instructionsلکھی تھیں کہ مالی جب آئے تو اسے کہنا ہے کہ فلاں پودے کاٹ دے، فلاں کو “وینگا“(ٹیڑھا) کر دے اور فلاں کی جان مار دے، جوجو بھی اس نے لکھنا تھا، ایک کاغذ پر لکھ دیا۔
اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ ساری چیزیں ایمانداری کے ساتھ ٹٍک کرتے رہنا کہ یہ کام ہو گیا ہے۔ جب وہ ایک مہینے کے بعد لوٹ کر آئی اور اس نے وہ کاغذ دیکھا، تو اس کے Dutiful خاوند نے ساری چیزوں کو ٹٍک کیا ہوا تھا۔ اس نے آخر میں کاغذ پر یہ بھی لکھا تھا کہ “مجھ سے محبت کرنا نہیں بھولنا“ جب اس نے ساری چیزیں ٹٍک کی ہوئی دیکھیں اور آخری ٹٍک نہیں ہوئی تو اس نے رونا، پیٹنا شروع کر دیا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے باقی کام تو نہایت ذمہ داری سے کئے ہیں، یہ ٹٍک کیوں نہیں کی؟ تب اس(فاروق) نے کہا کہ پیاری بیوی جان یہ تو میں ٹٍک کر نہیں سکتا، کیونکہ یہ تو Continuous Process ہے۔محبت کا عمل تو جاری رہتا ہے۔ یہ کہیں رُکتا نہیں ہے۔ محبت گوالے کا دودھ نہیں ہے، یا اخبار کا بل نہیں ہے، اس کو میں کیسے ٹٍک کر سکتا تھا؟ یہ تو چلتی رہے گی۔ یہ کاغذ ایسا ہی رہے گا۔ تم سو بار مجھے لکھ کر دے جاؤ، ہزار بار میں ہر آئٹم کو ٹٍک کروں گا، لیکن یہ معاملہ تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔ تو یہ ایک انوسٹمنٹ ہے، وقت کی۔ پلیز! خدا کے واسطے اس بات کو یاد رکھیئے۔ بظاہر یہ بڑی سیدھی سی اور خشک سے نظر آتی ہے، لیکن آپ کو اپنا وقت دینا ہوگا، چاہے تھوڑا ہی، بے حد تھوڑا ہو اور چاہے زندگی بڑی مصروف ہو گئی ہو۔
واقعی زندگی مصروف ہو گئی ہے، واقعی اس کے تقاضے بڑے ہو گئے ہیں، لیکن جب انسان انسان کے ساتھ رشتے میں داخل ہوتا ہے، تو سب سے بڑا تحفہ اس کا وقت ہی ہوتا ہے۔ وقت کے بارے میں ایک بات اور یاد رکھئے کہ جب آپ اپنا وقت کسی کو دیتے ہیں تو اس وقت ایک عجیب اعلان کرتےہیں اور بہت اونچی آواز میں اعلان کرتے ہیں، جو پوری کائنات میں سنا جاتا ہے۔ آپ اس وقت یہ کہتے ہیں کہ “اس وقت میں اپنا وقت اس اپنے دوست کو دے رہی ہوں، یا دے رہا ہوں۔ اے پیاری دنیا! اے کائنات!! اس بات کو غور سے سنو کہ اب میں تم ساری کائنات پر توجہ نہیں دے سکتا، یا دے سکتی، کیونکہ اس وقت میری ساری توجہ یہاں مرکوز ہے۔“آپ اعلان کریں یا نہ کریں، کہیں یا نہ کہیں جس وقت آپ ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ایمانداری کے ساتھ وقت کسی کو دے رہے ہوتے ہیں، تو پھر یہ اعلان بار بار آپ کے وجود سے، آپ کی زبان سے،آپ کے مسام سے آپ کی حرکت سے نکلتا چلا جائے گا۔ توجہ ہی سب سے بڑا راز ہے۔
ایک دن ہمارا ڈرائیور نہیں تھا۔ میری بہو درس میں جاتی ہے، تو میں نے اس سے کہا کہ تم کیوں پریشان ہوتی ہو؟ میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں۔ دن کے وقت میں گاڑی چلا لیتا ہوں۔ میں نے کہا۔ اس پر اس نے کہا، ٹھیک ہے۔ ماموں آپ مجھے چھوڑ آئیں بڑی مہربانی۔ جب میں اسے اس جگہ لے گیا، جس مقام پر بیٹھ کر خواتین درس دیتی ہیں، تو ظاہر ہے میں تو آگے نہیں جا سکتا تھا، میں نے اسے اتارا۔اسی اثناء میں، میں نے درس دینے والی خاتون کا عجیب اعلان سنا۔ جو میں سمجھتا ہوں کہ مردوں کی قسمت میں تو نہیں۔ میں نے مردوں کے بڑے بڑے جلسے دیکھے ہیں۔ ان میں، میں نے اتنی خوبصورت بات نہیں سنی۔ وہ بی بی اندر کہ رہی تھیں کہ “اے پیاری بچیو اور بہنو! اگر تم اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہو، یا اپنے خاوند سے مخاطب ہو، یا اپنی ماں کی بات سن رہی ہو اور ٹیلیفون کی گھنٹی بجے تو ٹیلیفون پر توجہ مت دو، کیونکہ وہ زیادہ اہم ہے، جس کو آپ اپنا وقت دے رہی ہو۔ چاہے کتنی ہی دیر وہ گھنٹی کیوں نہ بجتی رہے، کوئی آئے گا سن لے گا۔“ یہ بات میرے لئے نئی تھی اور میں نے اپنے حلقۂ احباب میں لوگوں یا دوستوں سے کبھی ایسی بات نہیں سنی تھی۔
میں اس خاتون کی وہ بات سن کر بہت خوش ہوا اور اب تک خوش ہوں اور اگر یہ بات ان بیبیوں نے سمجھی ہے تو یہ بے حد قیمتی بات ہے اور غالباً انہوں نے اس سے قیمتی بات اس روز کے درس میں اور نہیں دی ہوگی۔ اب آپ بڑے ہو گئے ہیں، آپ کو وقت کی پیچیدگی کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ ایک آپ کو چھپے چھپائے مسائل ملتے ہیں اور ایک وہ ہیں، جن کو آپ جیسے بچے اپنے کالج کے برآمدوں میں ستونوں کے ساتھ ٹیک لگا کر سوچتے ہیں۔ آپ ان مسائل کو سوچیں، جو آپ کی زندگیوں کے ساتھ ٹچ کرتے ہیں۔ گزرتے، لمس کرتے اور جیسے پنجابی میں کہتے ہیں “کھیہ“ کے جاتے ہیں، پھر آپ کی سوچ شروع ہوگی، ورنہ پٹے ہوئے سوال جو چلے آ رہے ہیں، انگریز کے وقتوں سے انہی کو آپ اگر Repeat کرتے رہیں گے، تو پھر آپ آنے والے زمانے کو وہ کچھ عطا نہیں کر سکیں گے، جو آپ کو عطا کرنا ہے۔ اس وقت کا تعلق حال سے ہے۔ جب آپ کسی کو وقت دیتے ہیں، یا کوئی آپ کو وقت دیتا ہے، اپنا لمحہ عطا کرتا ہے تو آپ حال میں ہوتے ہیں، اس کا تعلق ماضی یا مستقبل سے نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی کبھی (یہ بات میں تفریح کے طور پر کرتا ہوں، تاکہ اپنے استاد کو بہت داد دے سکوں اور ان کا مان بڑھانے کے لئے میں ان کے سامنے عاجزی سے کھڑے ہونے کے لئے کہتا ہوں) جس زمانے میں ہمارے استاد پطرس بخاری ہمیں گورنمنٹ کالج چھوڑ کر “یو این او“ میں چلے گئے تھے اور وہ نیویارک میںرہتے تھے، جس علاقے یا فلیٹ میں وہ رہتے تھے، وہاں پر استادٍ مکرم بتاتے ہیں کہ رات کے دو بجے مجھے فون آیا اور بڑے غصے کی آواز میں ایک خاتون بول رہی تھیں۔ وہ کہ رہی تھیں کہ آپ کا کتا مسلسل آدھ گھنٹے سے بھونک رہا ہے، اس نے ہماری زندگی عذاب میں ڈال دی ہے۔ میرے بچے اور میرا شوہر بے چین ہو کر چارپائی پر بیٹھ گئے ہیں اور اس کی آواز بند نہیں ہوتی۔اس پر بخاری صاحب نے کہا کہ میں بہت شرمندہ ہوں اور آپ سے معافی چاہتا ہوں کہ میرا کتا اس طرح سے Behaveکر رہا ہے۔لیکن میں کیا کروں، میں مجبور ہوں۔ اس پر اس خاتون نے غصے میں آکر اپنا فون بند کر دیا۔ اگلے ہی روز بخاری صاحب نے رات ہی کے دو بجے ٹیلیفون کر کے اس خاتون کو جگایا اور کہا کہ محترمہ! میرے پاس کوئی کتا نہیں ہے، مجھے کتوں سے شدید نفرت ہے۔ کل رات جو کتا بھونکا تھا، وہ میرا نہیں تھا۔اب دیکھئے کہ انہوں نے کس خوبصورتی سے حال کو مستقبل سے جوڑا، یا میں یہ کہوں گا کہ ماضی کو مستقبل کے ساتھ جوڑا۔ یہ بخاری صاحب کا ہی خاصہ تھا۔
میں اب آپ سے بڑی عجیب و غریب بات عرض کرنے لگا ہوں۔ مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آگیا، جلدی میں وہ بات بھی بتا دوں۔ جب میں اٹلی میں رہتا تھا۔ روم میں ایک فوارہ ہے، جس میں لوگ پیسے پھینکتے ہیں۔ میں وہاں راستے میں کھڑا ہو گیا۔ وہاں بہت سارے امریکن ٹورسٹ آئے تھے۔ ایک بڈھا امریکی بھی اس میں پیسے پھینک رہا تھا۔اس کی بیوی ہنس کر اس سے کہنے لگی کہ “جارج! میرا نہیں خیال تھا کہ تم اس طرح کے دقیانوسی اور اتنے پرانی باتوں کو ماننے والے ہوگے۔ اور کیا تم تسلیم کرتے ہو کہ اس طرح سے باتیں پوری ہوتی ہیں؟“ اس نے کہا کہ دیکھئے یہ جو میری بات یا منت تھی، یہ تو کب کی پوری ہو چکی ہے۔ اب تو میں اس کی قسطیں ادا کر رہا ہوں۔“یہ ساری محبت اور Attachmentکی باتیں ہیں، جن کا ہمارے ہاں رواج کم ہی ہے۔
جس طرح سے میں وقت کی بات آپ کی خدمت میں عرض کر رہا تھا اور اسے تحفے کے طور پر ادا کرنے کے لئے آپ کو رائے دے رہا تھا، اسی طرح وقت ہی سب سے بڑا دشمن بھی ہے، کیونکہ جب آپ کسی کو قتل کر دیتے ہیں تو اس سے کچھ نہیں لیتے، سوائے اس کے وقت کے۔ اس نے ابھی سوات دیکھنا تھا، ابھی ڈھاکہ جانا تھا۔ لیکن آپ نے اس سے اس کا وقت چھین لیا۔ جب آپ کسی انسان پر بہت ظلم کرتےہیں، بڑی شدت کا تو آپ اس سے اس کا وقت چھین لیتے ہیں۔ ابھی اس نے نیویارک دیکھنا تھا، ابھی اس نے کئی پینٹنگز بنانی تھیں، ابھی اس نے گانے گانے تھے، ابھی اس نے ناچنا تھا اور وہ سب آپ نے چھین لیا۔ وقت کا بھید پکڑا نہیں جا سکتا۔ اس کی پیچیدگی کو آسانی نے سلجھایا نہیں جا سکتا، لیکن یہ بات یاد رکھئے یہ آپ کے، میرے اور ہم سب کے اختیار میں ہے کہ ہم وقت دیتے ہیں تو ہمارا مدٍ مقابل زندہ ہے۔ اگر اس سے وقت لے لیتے ہیں، تو روح اور قالب ہونے کے باوصف وہ مر جاتاہے۔میں تو کسی کو بھی وقت نہیں دے سکا اور نہ ہی آج شام ایسا کر سکوں گا۔ اپنے دوست کو پھولوں کا گلدستہ ہی بھیج دوں گا، جو میری بدقسمتی اور کوتاہی ہے۔ آپ دوسروں کو وقت دینے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ نگہبان!!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…