نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Live and Let to Live

پاکستان کا ہر  شخص آجکل اس وقت بڑی شدت کے ساتھ اس محاورے پر عمل کر رہا ہے۔ میں اپنے بہت امیر دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ کہتے ہیں اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جس طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں اس پر خوش ہیں اور ہم لوگوں کی زندگیوں میں دخل نہیں دیتے۔ ہمارے اردگرد جھگی والے رہتے ہیں، دوسرے لوگ رہتے ہیں ہم نے کبھی جا کر ان سے نہیں پوچھا کہ تم کیسے ہو۔ ہمار اصول Live and Let to Live  هے. ہمارے اب یہ اصول ہی چل رہا ہے کہ کوئی زندہ رہے، مرے کھپے، جئیے، ہم اس میں دخل نہیں کریں گے۔ پچھلے سے پچھلے سال مجھے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ریاست کیلیفورنیا میں ایک صاحب نے ہماری دعوت کی۔ میرے ساتھ بانو قدسیہ بھی تھیں۔ وہ دعوت بڑی ہی پر تکلف تھی۔ وہ ہمارے دوست ائیر فورس کے بھاگے ہوئے افسر تھے۔ وہ ماشاءاللہ پاکستان سے بڑی دولت لوٹ کر ساتھ لے گئے تھے۔ وہ آجکل امریکہ میں انگور سکھا کر دنیا بھر میں سپلائی کرنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا، آپ تو یہاں ہمارا سارا پیسہ لے کر آئے ہیں۔ وہ کہنے لگے اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live  پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم یہاں Live کر رہے ہیں اور آپ کو ہم نے  Let Live کے لیے چھوڑ دیا ہے کہ جیسے مرضی زندگی بسر کرو۔ میں نے کہا کہ میں ایک دن صبح جاگا تو جیسے سود خور پٹھان ڈنڈا پکڑ کر دورازے پر آیا کرتا ہے اس طرح آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ایک بندہ  ہم سے وصولی کے لیے آ جاتا ہے اور پٹھان کی طرح کہتا ہے کہ، "دیکھو ہمارا پیسہ نکالو۔" اور میں اس سے کہتا ہوں کہ میں نے تو تم سے ساری زندگی کوئی پیسہ نہیں لیا تو وہ کہتا ہے کہ تم نے لیا ہے اور تمہیں 32 بلین ڈالر دینا پڑیں گے۔
میں نے کہا، کب لیا؟ کس نے لیا؟ تو اس نے کہا تمھارے بڑوں نے قرضہ لیا۔
اس پر میرے دوست نے کہا کہ ہم نے پیسہ لیا اور اسے اچھی طرح کے ساتھ استعمال کیا اور اگر اب بھی ہمیں موقع ملا تو ہم انشاء اللہ اسی طرح سے استعمال کریں گے۔ خواتین و حضرات، دنیا کا یہ معروف ترین محاورہ پاکستان میں بڑے اطمینان، اعتماد اور یقین  کے ساتھ بولا جاتا ہے لیکن کسی نے کسی موٹر کا شیشہ نیچا کر کے یہ نہیں دیکھا کہ پیچھے آنے والا زندہ ہے کہ مر گیا ہے۔
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ
زاویہ دوم سے اقتباس
بشکریہ: عمران خلیل

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…