نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

March, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خوشی کی لہر

یہ میرا ایک ذاتی خیال ہے، جس کے ساتھ میں وابستہ رہتا ہوں- مایوسی کی بڑی گھٹائیں ہیں، بڑی بے چینیاں ہیں، بڑی پریشانیاں ہیں-اکنامکس کا آپ کے یوٹیلیٹی بلز کا ہی مسئلہ اتنا ہو گیا ہے کہ انسان اس سے باہرہی نہیں نکلتا- آدمی روتا رہتا ہے، لیکن ہما...رے اس لاہور میں، ہمارے اس مُلک میں اور ہمارے اس مُلک سے ماورا دوسری اسلامی دنیا میں کچھ نہ کچھ تو لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو اکنامکس کی تنگی کے باوصف یہ کہتے ہوں گے جو میں نہیں کہہ سکتا- میں کسی نہ کسی طرح سے خوش ہو سکتا ہوں، کیونکہ خوشی کا مال ودولت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں- ہمارے بابے کہا کرتے ہیں کہ اگر مال ودولت کے ساتھ جائیداد کے ساتھ خوشی کاتعلق ہوتا تو آپ اتنی ساری چیزیں چھوڑ کرکبھی سوتے ناں! ان ساری چیزوں کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے چھوڑ کر سو جاتے ہیں اور سونا اتنی بڑی نعمت ہے جو آپ کو راحت عطا کرتی ہےاور اگر آپ کو کوئی جگائے تو آپ کہتے ہیں کہ مجھے تنگ نہ کرو- اگر اس سے کہیں کہ تیری وہ کار، جائیداد اور بینک بیلنس پڑا ہے تو اس سونے والے کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی- اس سے طے یہ پایا کہ یہ دولت یہ مال ومتاع یہ سب کچھ آپ کو خوشی عطا نہیں کرتے، خ…

معافی اور درگزر

معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگرہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا اور تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے۔" تو اس صورت میں ہمیں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے، اس لیے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں اور ہمارے بابا جی ہمیں اکثر و بیشتر یہ کہا…

شک

میں ایک بہت ضروری اور اہم بات لے کر گھر سے چلا تھا لیکن سٹوڈیو پہنچنے سے پہلے ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا جس سے میرا سارا ذہن اور آپ سے بات کرنے کا سوچا ہوا انداز ہی تبدیل ہوکر رہ گیا اور جو بات میرے ذہن میں تھی، وہ بھی پھسل کر ایک اور جگہ مقیَّد ہو گئی ہے۔ میں جب گھر گیا تو میں نے دیکھا کہ میرے بیوی نے ہمارا ایک نیا ملازم جو گاؤں سے آیا ہے، اس کم سن کے ہاتھ کے ساتھ ایک چھوٹی سی رسی باندھ کر اسے چارپائی کے پائے کے ساتھ باندھ کے بندر کی طرح‌بٹھایا ہوا ہے۔ میں نے کہا، یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی اس نے میرے پرس میں سے ایک پانچ سو کا، دو سو سو اور تین نوٹ دس دس روپے کے چرا لئے ہیں اور اس نے یہ سات سو تیس روپے کی چوری کی ہے۔ یہ ابھی نیا نیا آیا ہے اور اس کی آنکھوں میں‌دیکھو صاف بے ایمانی جھلکتی ہے۔ میں نے کہا، مجھے تو ایسی کوئی چیز نظرنہیں آتی۔ کہنے لگی، نہیں آپ کو اندازہ نہیں ہے، جب یہ آیا تھا تب اس کے کان ایسے نہیں تھے اور اب جب اس نے چوری کر لی ہے تو اس کے کانوں‌میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا، دیکھئے یہ آپ شک وشبہ کی بات کرتی ہیں۔ اس حوالے سے آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ خدا…

تقدیر اور تدبیر

انسان دو پاؤں کا جانور ہے۔ اس کا ایک پاؤں تدبیر سے اٹھتا ہے اور دوسرے قدم کو اس کی قسمت اٹھاتی ہے۔ تمہارے ڈی این اے نے یہ بات طے کر دی تھی کہ تمہاری آنکھوں کا اور بالوں کا رنگ کیا ہو گا۔۔۔ یہ بات بھی طے ہے کہ تمہارا قد اتنا ہی ہو گا۔۔۔ یہ تمہاری قسمت ہے۔ اور ان بالوں کو، اس رنگ کو اور قد کو جو چار چاند میک اپ اور ہیل والی جوتیاں لگاتی ہیں، وہ تدبیر ہے۔ قسمت گندھی ہوئی مٹی ہے، کوئی اس سے اینٹیں بناتا ہے۔۔ کوئی کوزہ تیار کرتا ہے۔۔ کوئی اس مٹی میں پھول اگاتا ہے، ٹیوب روز کے۔۔۔  من چلے کا سودا صفحہ بائیس سے اقتباس
بشکریہ: فہمینہ حسین

سیدھا راستہ

کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی سے پوچھا کہ"آپا یہ سمندر کہاں ہوتا ہے؟“ اُس نے کہا جہاں تم کھڑی ہوئی ہو یہ سمندر ہے- اُس نے کہا، آپ نے بھی وہی جاہلوں والی بات کی۔ یہ تو پانی ہے، میں تو سمندر کی تلاش میں ہوں اور میں سمجھتی تھی کہ آپ بڑی عمر کی ہیں، آپ نے بڑا وقت گزارا ہے، آپ مجھے سمندر کا بتائیں گی- وہ اُس کو آوازیں دیتی رہی کہ چھوٹی مچھلی ٹھہرو،ٹھہرو میری بات سُن کے جاؤ اور سمجھو کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں لیکن اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اور چلی گئی- بڑی مچھلی نے کہا کہ کوشش کرنے کی، جدّوجہد کرنے کی، بھاگنے دوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، دیکھنے کی اور Straight آنکھوں کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے- مسئلے کے اندر اُترنے کی ضرورت ہے- جب تک تم مسئلے کے اندر اُتر کر نہیں دیکھو گے، تم اسی طرح بے چین و بےقرار رہو گےاور تمہیں سمندر نہیں ملے گا- میرے "بابا“ نے کہا یہ بڑی غور طلب بات ہے- جو شخص بھی گول چکروں میں گھومتا ہے اور اپنے ایک ہی خیال کے اندر”وسِ گھولتا“ہے اور جو گول گول چکر لگاتا رہتا ہے، وہ کُفر کرتا ہے، شِرک کرتا ہے کیونکہ وہ اِھدِناالصّراطَ المُستَقیم (دکھا ہم کو سیدھا راس…

خدا کا گیت

میں چونکہ بہت ہی پڑھا لکھا آدمی تھا اور ولایت سے آیا تھا، میں کہتا۔۔ کہاں ہوتا ہے خدا؟ اس نے کہا، خدا ہوتا نہیں ہے، نہ ہو سکتا ہے، نہ جانا جاتا ہے، نہ جانا جا سکتا ہے اور خدا کے بارے میں تمہارا ہر خیال وہ حقیقت نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی۔۔۔ اس کو جانا جانا چاہیے۔ میں کہتا کیوں جانا جانا چاہیے اور آپ اس کا کیوں بار بار ذکر کرتے ہیں؟ آپ ہر بار اس کا ذکر کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نہ جانا جاتا ہے اور نہ جانا جا سکتا ہے۔ کہنے لگے کہ پرندہ کیوں گاتا ہے اور کیوں چہچہاتا ہے، اس لیے نہیں کہ پرندے کے پاس کوئی خبر ہوتی ہے، کوئی اعلان ہوتا ہےم یا پرندے نے کوئی ضمیمہ چھاپا ہوا ہوتا ہے کہ "آ گئی آج کی تازہ خبر"۔ پرندہ کبھی بھی ضمیمے کی آواز نہیں لگاتا، پرندہ اس لیے گاتا ہے کہ اس کے پاس ایک گیت ہوتا ہے اور ہم خدا کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ پرندے کی طرح ہمارے پاس بھی اس کے نام کا گیت ہے۔ جب تک آپ اس میں اتنے گہرے، اتنے Deep اور اتنے عمیق نہیں جائیں گے اس وقت تک تمہارا یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
زاویہ دوم، باب دوم سے اقتباس
بشکریہ: قیصر صدیق

ہماری خواہشات

ہمارے اور خواہش کے درمیان ایک عجیب طرح کا رشتہ ہے جسے بابا بدھا یہ کہتا ہے کہ جب تک خواہش اندر سے نہیں نکلے گی (چاہے اچھی کیوں نہ ہو) اس وقت تک دل بے چین رہے گا۔ جب انسان اس خواہش کو ڈھیلا چھوڑ دے گا او رکہے گا کہ جو بھی راستہ ہے، جو بھی طے کیا گیا ہے میں اس کی طرف چلا جاؤں گا، چاہے ایسی خواہش ہی کیوں نہ ہو کہ میں ایک اچھا رائٹر یا پینٹر بن جاؤں یا میں ایک اچھا "اچھا" بن جاؤں۔ جب انسان خواہش کی شدت کو ڈھیلا چھوڑ کر بغیر کوئی اعلان کیے بغیر خط کشیدہ کیے یا لائن کھینچے چلتا جائے تو پھر آسانی ملے گی۔
 زاویہ دوم، باب دوم سے اقتباس

کلہاڑی اور رسی

سراج: میں تو کہتا ہوں کہ اس دنیا میں کوئی اصلی آدمی، کوئی اصلی رہبر، اصلی ہادی ہے ہی نہیں۔
ارشاد: آپ اپنی طلب درست کرلیجئے، اصل آدمی مل جائے گا۔ خود بخود آجائے گا آپ کے پاس۔۔۔ کرایہ خرچ کرکے، ٹکٹ خرید کے!
سراج: چلئے پھر ٹھیک ہے ارشاد صاحب میں دنیا سے منہ موڑتا ہوں آج سے، اسی لمحے سے ۔۔۔ دکان چھوڑتا ہوں، گھر میں نے چھوڑا ہے۔ آپ مجھے اپنا غلام بنا لیں، اپنا خلیفہ بنا لیں، یہاں ڈیرا چلائیں۔
ارشاد: مبتدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ رزق حلال کمائے اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی کفالت کرے۔ آگے چل کر وہ کام تو اسی طرح سے کرتا رہے گا لیکن آہستہ آہستہ اس سے علائق دنیا جدا ہوتے جائیں گے ۔۔۔ فکر اہل و عیال، اندیشہ مال و زر، حب جاہ و تمکنت سے چھٹکارا ہونے لگے گا۔ جب تعلق اور جگہ ہوجائے گا تو یہ کام فروعی رہ جائیں گے اور فروعی کاموں کا عمر بھر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔
سراج: اصل میں بات یہ ہے ارشاد صاحب کہ میں کرامت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا تھا اور عامر صاحب نے مجھے یہی امپریشن دیا تھا۔ لیکن افسوس مجھے آپ سے وہ حاصل نہیں ہوا جو میری آرزو تھی۔ آپ تو مجھے پھر میری دلدل میں واپس بھیج رہے ہیں، گہری اور گوڈے گوڈے کھ…

علم کی ہیکڑی

اس دنیا میں سب سے بڑی ہیکڑی علم کی ہیکڑی ہے۔ صاحبِ علم فرد اور صاحبِ علم گروہ بے علم لوگوں کو صرف حیوان ہی نہیں سمجھتا، بلکہ ہر وقت انہیں اپنے علم کے ”بھؤو “ سے ڈراتا بھی رہتا ہے۔ وہ اپنے علم کے تکبّر کا باز اپنی مضبوط کلائی پربٹھا کے دن بھر بھرے بازار میں گھومتا ہے اور ہر ایک کو دھڑکا کے اور ڈرا کے رکھتا ہے۔ اس ظالم سفّاک اور بے درد کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اگر کوئی اس کے پھل دار علمی احاطے سے ایک بیر بھی توڑنا چاہے تو یہ اس پر اپنی نخوت کے کتّے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اپنے بردوں کو اچھّا غلام بننے کا علم تو عطا کرسکتا ہے۔ لیکن انہیں باعزّت زندگی گزارنے کے رموز سے آگاہ نہیں ہونے دیتا۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے اور اپنے اپنے دور کا ہر ذی علم برہمن، اپنے دور کے شودر کے کان پگھلتے ہوئے سیسے سے بھرتا چلا جارہا ہے۔ ========================= علم کی ہیکڑی بڑی ظالم ہیکڑی ہے۔ یہ علم کے پردے میں بے علم اور معصوم روحوں پر بڑےخوفناک حملے کرتی ہے۔ علم اور جان کاری کا حصول اپنے قریبی لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ان کے شبے میں اضافہ کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک جان کار ایک ان جان سے صرف اس لیے ارفع، اعلا اور …

ترقی اور جمہوریت کا بڑھاپا

ایک انگریز مصنف ہے جس کا میں نام بھولنے لگا ہوں۔ اس کی معافی چاہتا ہوں لیکن شاید گفتگو کے دوران نام یاد آجائے ، وہ مصنف کہتا ہے کہ تکبر ، رعونت اور گھمنڈ اور مطلق العنانیت جب قوموں اور حکومتوں میں پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک طرح کی ڈویلپمنٹ بلکہ بڑی گہری ڈویلپمنٹ ہوتی ہے اور اس کے بعد جب کوئی حکومت ، کوئی مملکت یا کوئی بھی طرزِ معاشرت یا زندگی وہ Democratic یا شعورائی انداز سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہو تو پھر یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب جمہوریت بوڑھی ہوگئی، کمزور ، بیمار ہوگئی ہے اور اس کے آخری ایام ہیں۔ کسی بھی قوم میں تکبر یا گھمنڈ آجائے تو وہ اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ جمہوریت جس کو لے کر یہ کئی صدیوں سے چل رہے تھے، اب کمزور اور ماؤف ہوگئے ہیں۔ تکبر اور فرعونیت کے بڑے روپ ہیں ، اونچے بھی اور نیچے بھی اور ان کو سنبھالا دینا اور ان کے ساتھ اس شرافت کے ساتھ چلنا جس کا معاملہ نبیوں نے انسانوں کے ساتھ کیا ہے، بڑا ہی مشکل کام ہے۔ کسی قسم کی تعلیم ، کسی قسم کی دنیاوی تربیت ہمارا ساتھ نہیں دیتی اور تکبر سے انسان بس اوپر سے اوپر ہی نکل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے بہت کوششیں ہوتی ہیں۔ 2…

Hotline - ہاٹ لائن

ایک مرتبہ پروگرام "زاویہ" میں گفتگو کے دوران "دعا" کے بارے میں بات ہوئی تھی اور پھر بہت سے لوگ "دعا" کے حوالے سے بحث و تمحیث اور غور و خوض کرتے رہے اور اس بابت مجھ سے بھی بار بار پوچھا گیا۔ میں اس کا کوئی ایسا ماہر تو نہیں ہوں لیکن میں نے ایک تجویز پیش کی تھی جسے بہت سے لوگوں نے پسند کیا اور وہ یہ تھی "دعا" کو بجائے کہنے یا بولنے کے ایک عرضی کی صورت میں لکھ لیا جائے۔ عرض کرنے اور میرے اس طرح سوچنے کی وجہ یہ تھی کہ پوری نماز میں یا عبادت میں جب ہم دعا کے مقام پر پہنچتے ہیں تو ہم بہت تیزی میں ہوتے ہیں اور بہت (اتاولی) کے ساتھ دعا مانگتے ہیں۔ ایک پاؤں میں جوتا ہوتا ہے، دوسرا پہن چکے ہوتے ہیں، اُٹھتے اٹھتے،کھڑے کھڑے جلدی سے دعا مانگتے چلے جاتے ہیں یعنی وہ رشتہ اور وہ تعلق جو انسان کا خدا کی ذات سے ہے، وہ اس طرح جلد بازی کی کیفیت میں پورا نہیں ہو پاتا۔ ہمارے بابا نے ایک ترکیب یہ سوچی تھی کہ دعا مانگتے وقت انسان پورے خضوع کے ساتھ اور پوری توجّہ کے ساتھ Full Attention رکھتے ہوئے دعا کی طرف توجّہ دے اور جو اس کا نفسِ مضمون ہو، اُس کو ذہن میں اُتار کر، ت…

ترقی کا ابلیسی ناچ

آج سے چند روز پہلے کی بات ہے، میں ایک الیکٹرونکس کی شاپ پر بیٹھا تھا تو وہاں ایک نوجوان لڑکی آئی۔ وہ کسی ٹیپ ریکارڈر کی تلاش میں تھی۔ دُکاندار نے اسے بہت اعلٰی درجے کے نئے نویلے ٹیپ ریکارڈر دکھائے لیکن وہ کہنے لگی مجھے وہ مخصوص قسم کا مخصوص Made کا مخصوص نمبر والا ٹیپ ریکارڈر چاہئے۔ دکاندار نے کہا، بی بی یہ تو اب تیسری Generation ہے، اس ٹیپ ریکارڈر کی اور جو اب نئے آئے ہیں، وہ اس کی نسبت کارکردگی میں زیادہ بہتر ہیں۔ لڑکی کہنے لگی کہ یہ نیا ضرور ہے لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ اس سے بہتر نہیں۔ میں بیٹھا غور سے اس لڑکی کی باتیں سننے لگا کیونکہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ تھیں اور وہ الیکٹرونکس کے استعمال کی ماہر معلوم ہوتی تھی۔ انجینئر تو نہیں تھی لیکن اس کا تجربہ اور مشاہدہ خاصا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ آپ مجھے مطلوبہ ٹیپ ریکارڈر تلاش کر دیں۔ میں آپ کی بڑی شکر گزار ہوں گی۔ میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔ بی بی آپ اس کو ہی کیوں تلاش کر رہی ہیں؟ اس نے کہا کہ ایک تو اس کی مشین بہتر تھی اور اس کو میری خالہ مجھ سے مانگ کر دبئی لے گئی ہیں اور میں ان سے واپس لینا بھی نہیں چاہتی لیکن اب جتنے بھی نئے بننے والے …

Psycho Analysis

کبھی کبھی زندگی میں یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت زیادہ خوشیوں اور بڑی راحتوں کے ساتھ ان کے پیچھے چھپی ہوئی مشکلات بھی آ جاتی ہیں اور پھر ان مشکلات سے جان چھڑانی یوں مشکل ہوتی ہے۔ کہ انسان گھبرایا ہوا سا لگتا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں بہت بارشیں ہوئیں۔ بارشیں جہاں خوشیوں کا پیغام لے کر آئیں، وہاں کچھ مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔ ہمارے گھر میں ایک راستہ، جو چھوٹے دروازے سے ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے اور پھر اس سے ہم اپنے گھر کے صحن میں داخل ہوتے ہیں، بارشوں کی وجہ سے وہ چھوٹا دروازہ کھول دیا گیا، تاکہ آنے جانے میں آسانی رہے۔ آسانی تو ہوئی، لیکن اس میں پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ کہ باہر سے جو جوتے آتے تھے، وہ کیچڑ سے لتھڑے ہوئے ہوتے تھے اور باوجود کوشش کے اور انہیں صاف کرنے کے، کیچڑ تو اندر آ ہی جاتا تھا اور اس سے سارا قالین خراب ہو جاتا تھا۔
میں چونکہ اب تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہوں اور بوڑھے آدمی میں کنٹرول کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ تو میں چیختا چلاتا تھا اور ہر اندر آنے والے سے کہتا کہ جوتا اتار کر آؤ اور اسے پہننے کے بجائے ہاتھ میں پکڑ کر آؤ۔ اس سے میرے پوتے اور پوتیاں بہت حیران ہوتے تھے کہ اس جوتے ک…

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینری…