ایم اے پاس بلی

آج صبح کی نماز بھی ویسے ہی گزر گئی اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے- میرے ساتھ اکثر وبیشتر ایسے ہو جاتا ہے کہ آنکھ تو کھل جاتی ہے لیکن اُٹھنے میں تاخیر ہو جاتی ہے اور پھر وہ وقت بڑا بوجھل بن کر وجود پر گزرتا ہے- میں لیٹا ہوا تھا- میں نے کہا اور کوئی کام نہیں چلو کل کا اخبار ہی دیکھ لیں- میں نے ہیڈ لیمپ آن کیا، بتّی جلائی اور اخبار دیکھنے لگ پڑا اور آپ جانتے ہیں اخبار میں کتنی خوفناک خبریں ہوتی ہیں، وہ برداشت نہیں ہوتیں- مثلاً یہ کہ سرحد کے پار سے تیس گاڑیاں مزید چوری ہوگئی ہیں-دو بیٹوں نے کاغذات پر انگوٹھے لگوا کر باپ کو قتل کر کے اُس کی لاش گندے نالے میں پھینک دی- تاوان کے لئے بچّہ اغوا کرنے والے نے بچّے کو کسی ایسی جگہ پر رکھا کہ وہ والدین کی یاد میں تین دن تک روتا ہوا انتقال کر گیا وغیرہ-

ایسی خبریں پڑھتے ہوئے دل پر بوجھ پڑتا ہے- ظاہر ہے سب کے دل پر پڑتا ہو گا- میں یہ سب کچھ پڑھ کر بہت زیادہ پریشان ہو گیا اور میں سوچنے لگا کہ ٹھیک ہے خود کشی حرام ہے، لیکن ایسے موقعے پر اس کی اجازت ہونی چاہئے یا مجھ سے پہلے جو لوگ اس دنیا سے چلے گئے ہیں، وہ کتنے اچھے تھے- خوش قسمت تھے کہ اُنہوں نے یہ ساری چیزیں نہیں دیکھی تھیں- میں یہ دردناک باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک دو اڑھائی کلو کا ایک گولہ میرے پیٹ پر آن گرا اور میں ہڑبڑا گیا- اخبار میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا- میں نے غور سے دیکھا تو میری پیاری بلّی "کنبر" وہ فرش سے اُچھلی اور اُچھل کر میرے پیٹ پر آن گری تھی اور جب میں نے گھبراہٹ میں اُس کی طرف دیکھا، تو وہ چلتی چلتی سینے پر پہنچ گئی- اُس نے پیار سے میرے منہ کے قریب اپنا منہ لاکر میاؤں کی، چیخ ماری اور کہا کہ”بیوقوف آدمی! لیٹے ہوئے ہو، یہ تو میرے دودھ کا ٹائم ہے اور تم مجھے اس وقت دودھ دیا کرتے ہو-“

میں تھوڑی دیر کے لئے اُسے پیار کرتا رہا اور وہ ویسے ہی میرے سینے کے اوپر آنکھیں بند کر کے مراقبے میں چلی گئی- جب”کنبر“ مراقبے میں گئی تو میں سوچنے لگا کہ جس طرح اس کنبر کو اعتماد ہے مجھ پر، میرے وجود پر اور میری ذات پر، کیا مجھ کو میرےاللہ پر نہیں ہو سکتا؟ یعنی یہ مجھ سے کتنی "Superior" ہے، برتر ہے اور کتنی ارفع واعلٰی ہے کہ اس کو پتہ ہے کہ مجھے گھر بھی ملے گا، حفاظت بھی ملے گی، Care بھی ملے گی، Protection بھی ملے گی اور میں آرام سے زندگی بسر کروں گی، لیکن میرے اندر یہ چیز اس طرح سے موجزن نہیں ہے، جیسے میری بلّی کے اندر موجود ہے- میرا یقین کیوں ڈگماگاتا ہے-

خیر! میں اُٹھا اور باورچی خانے میں گیا- وہاں میری بیٹی نے اُس کو ایک تھالی میں دودھ دیا- اور وہ تھالی سے دودھ لپرنے لگی- میں دیر تک سوچتا رہا- بہت سارے خوف ابھی تک میرے ساتھ چمٹے ہوئے تھے- خوف انسان کو آخری دم تک نہیں چھوڑتا اور یہ بڑی ظالم چیز ہے- میں نے اس کا اپنے طور پر ایک طریق نکالا ہوا ہے- میں سوچتا رہتا ہوں اور جو میرے دل کا خوف ہوتا ہے،اسے میں ایک بڑے اچھے، خوبصورت کاغذ پر لکھتا ہوں- ایک نئے مارکر کے ساتھ کہ”اے اللہ! میرے دل کے اندر جو خوف ہے کہ مجھ سے اُس مقام تک نہیں پہنچا جائے گا، جس مقام تک پہنچنے کے لئے تو نے ہمیں رائے دی ہے، پھر میں یہ لائن بڑی دفعہ لکھتا ہوں- کوئی ذاتی خوف، بچّے کے پاس نہ ہونے کا خوف یا بچّی کی شادی نہ ہونے کا، میں اسے پہلے ایک کلر میں لکھتا ہوں، پھر کئی اور کلرز میں لکھتا ہوں اور جب میں اسے بار بار پڑھتا ہوں اور بالکل اس کا وظیفہ کرتا ہوں تو عجیب بات ہے کہ آہستہ آہستہ میرے ذہن سے وہ خوف کم ہونے لگتا ہے اور جب وہ کم ہونے لگتا ہے، تو پھر میں اُس کاغذ کو پھاڑ کر ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہوں، ہر روز میرے خوف اور میرے ڈر، جو ہیں وہ نئی نئی Shape اختیار کر کے آگے ہی آگے چلتے رہتے ہیں-

میری ایک تمنّا،آرزو اور بہت بڑی Desire یہ ہے کہ میں اللہ پر پورے کا پورا اعتماد کروں، ویسا نہیں جیسا ہم عام طور پر کیا کرتے ہیں”اچھا جی! اللہ جو بھی کرائے ٹھیک ہے- اللہ نے جیسا چاہا جی انشاءاللہ ویسے ہی ہوگا- اللہ کو جو منظور ہوا وہی ہوگا-“ یہ تو اللہ کے ساتھ تعلق کی بات نہیں ہے- اللہ کے ساتھ تعلق تو ایسے ہونا چاہئے کہ آدمی اپنے کمرے کے اندر پلنگ کے بازو پر بیٹھا ہوا اُس کے ساتھ باتیں کر رہا ہو اور اپنی مشکلات بیان کر رہا ہو، اپنی زبان میں، اپنے انداز میں کہ اے خدا! مجھے یہ مشکل درپیش ہے- اللہ کے ساتھ تعلق تو اُس وقت ہوتا ہے جب آپ ایک بہت بڑے کُھلے میدان میں، جہاں بچّے کرکٹ کھیل رہے ہوں، اُس کے کارنر یا کونے میں بنچ پر بیٹھے ہوئے اُن کو دیکھ رہے ہیں اور اللہ کے ساتھ آپ کا تعلق چل رہا ہے، اتنا ہی وسیع جتنا بڑا میدان آپ کے سامنے ہےاور اتنی ہی قربت کے ساتھ جتنا بچّوں کا واسطہ اپنے کھیل سے ہے- اللہ کے ساتھ تعلق تو ایسے ہوتا ہے-

جب آپ حضرات یا خواتین بازار جاتے ہیں سودا لینے اور اُس کے بعد آپ بس کے انتظار میں بس سٹینڈ پر بیٹھ جاتے ہیں، تو اُس وقت آپ اللہ سےکہیں کہ اے اللہ! شازیہ نے بی اے کر لیا ہے، اب اُس کے رشتے کی تلاش ہے، اب یہ بوجھ تیرا ہی ہے، تو جانے- یہ تعلق جو ہے یہ مختلف مدارج میں ہوتا ہوا چلتے رہنا چاہئے- یہ جو ہم خدا سے تعلق کے محاورے بول جاتے ہیں کہ اچھا جی جو اللہ چاہے کرے گا- اللہ کی مرضی!! کبھی کبھی وقت نکال کر اللہ کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق ضرور پیدا کرنا چاہئے، جیسے پالتو بلّی کو گھر کے افراد ساتھ ہوتا ہے کہ میری ساری ذمّے داریاں انہوں نے اُٹھائی ہوئی ہیں اور میں مزے سے زندگی بسر کر رہی ہوں- کبھی نہ کبھی تو ہمارا بھی دل چاہتا ہے مزے سے زندگی بسر کرنے کا، ہم بھی تو اس بات کے آرزو مند ہوں گے کہ ہم بھی مزے سے زندگی بسر کریں اور اپنے اللہ کے اوپر سارا بوجھ ڈال دیں-

ہم نے تو بہت سارا بوجھ خود اپنے کندھے پر اُٹھا رکھا ہے- ہم اتنے سیانے ہوجاتے ہیں جیسے میں کئی دفعہ اپنے دل میں کہتا ہوں کہ نہیں یہ تو میرے کرنے کا کام ہے، اسے میں اللہ کے حوالے نہیں کر سکتا، کیونکہ میں ہی اس کی باریکیوں کو سمجھتا ہوں اور میں نے ہی ابھی Statistics کا مضمون پاس کیا ہے اور یہ نیا علم ہے- اسے میں ہی جانتا ہوں- لیکن یہ قسمت والوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا سارا بوجھ اُس (اللہ) کے حوالے کر دیتے ہیں اور اُس کے ساتھ چلتے رہتے ہیں- ایک دفعہ ہمارے ہاں ایک نُمائش ہوئی تھی، بڑی دیر کی بات ہے، میرا بچّہ اُس وقت بہت چھوٹا تھا- اُس نمائش میں بہت ساری چیزیں تھیں- خاص طور پر کھلونوں کے سٹال تھے اور چائنہ جو نیا نیا ابھر رہا تھا، اُس کے بنے ہوئے بڑے کھلونے اُدھر موجود تھے- میرے سارے بچّے اسی کھلونوں کے سٹال پر ہی جا کر جمع ہو گئے- ظاہر ہے میں اور اُن کی ماں بھی وہاں اُن کے ساتھ تھے- وہاں پر چائنہ کا بنایا ہوا ایک پھول، بہت اچھا اور خوبصورت پھول، جو کپڑے اور مصالحے کا بنا ہوا تھا اور سٹال والے کا دعویٰ تھا کہ یہ پھول رات کے وقت روشنی دیتا ہے، یعنی اندھیرے میں رکھو تو روشن ہو جاتا ہے- میرے چھوٹے بیٹے نے کہا کہ ابو یہ پھول لے لیتے ہیں- وہ اُس پھول کے بارے میں بڑا متجسس تھا- میں نے کہا ٹھیک ہے، لے لیتے ہیں- وہ اتنا قیمتی بھی نہیں تھا- ہم نے پھول لے لیا- اب وہ (میرا بیٹا) بیچارا سارا دن اسی آرزو اور انتظار میں رہا کہ کب رات آتی ہے اور کب میں اس کو روشن دیکھوں گا-

رات کو وہ اپنے کمرے میں وہ پھول لے گیا اور بیچارا آدھی رات تک بیٹھا رہا، لیکن اُس میں سے کوئی روشنی نہیں آئی تھی- صبح جب میں اُٹھا تو وہ میرے بستر کے پاس کھڑا”پُھس پُھس“ رو رہا تھا اور پھول اُس کے ہاتھ میں تھا اور کہ رہا تھا کہ ابو اس میں کوئی روشنی نہیں تھی، یہ تو ویسا ہی کالے کا کالا ہے- یہ تو ہمارے ساتھ دھوکہ ہو گیا- میں نے کہا، نہیں ! تم ابھی تھوڑا انتظار کرو اور صبر کی کیفیت پیدا کرو- اگر اُس سٹال والے نے دعویٰ کیا ہے تو اس میں سے کچھ ہو گا- میں نے اُس سے وہ پھول لے لیا اور اُسے اپنے کوٹھے (گھر کی چھت) پر لے جا کر (وہاں کڑی دھوپ تھی) دھوپ میں رکھ دیا- مجھے پتہ تھا کہ اس مین جونسا چمکنے والا مصالحہ انہوں نے لگایا تھا، وہ جب تک سورج کی کرنیں جذب نہیں کرے گا، اُس وقت تک اُس میں روشنی نہیں آئے گی- بالکل ویسے ہی جیسے گھڑیاں ہوتی تھیں کہ وہ دن کو روشنی میں رہتی تھیں، تو رات کو پھر جگمگاتی تھیں- جب شام پڑی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اب تم اس پھول کو لے جاؤ- جب رات گہری اندھیری ہو گئی تو جیسا میں نے اُسے بتایا تھا کہ اس کے اوپر کالا کپڑا رکھنا اور فلاں فلاں وقت میں اسے دیکھنا ( میں نے اُسے اس انداز میں سمجھایا جیسے جادوگر کرتے ہیں)- اُس نے ایسے ہی کیا اور خوشی کا نعرہ اور چیخ ماری- اُس کا سارا کمرہ جگمگ روشن جو ہو گیا تھا- اُس نے اپنی ماں کو اور چھوٹے بھائیوں کو بلایا اور وہ جگمگاتا ہوا پھول دکھانے لگا- ہمارے گھر میں ایک جشن کا سا سماں ہو گیا-

جب اُس کی ماں اور اُس کے بھائی اُس کے کمرے میں بیٹھے ہوئے اُس کے ساتھ باتیں کر رہے تھے، تو میں اپنے بستر پر لیٹا ہوا سوچ رہا تھا کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم بھی وہ روشنی، جو اللہ خداوند تعالٰی ہمیں عطا کرتا ہے اور جسے وہ بطور خاص نور کہتا ہے اللہ نُورُالسّمٰوٰتِ وَالاَرض کہتا ہے کیا ہم اس کو اپنی ذات میں نہیں سمو سکتے؟ کیا ایسے نہیں ہو سکتا کہ میں اپنی بلّی کی طرح اپنی ساری چیزیں اُس کی روشنی میں رکھ دوں، جیسے میں نے وہ پھول چھت پر رکھا تھا تاکہ وہ روشنی جذب کر کے چمک سکے- میری شادی، میری مُلازمت، میری زندگی، میری صحت، میرے بچّے، میرے عزیزواقارب، میرے رشتہ دار حتٰی کہ میں اپنا مُلک بھی، جسے بڑی محبّت، محنت کے ساتھ اور بڑی قربانیاں دے کر ہم نے آزادی دلوائی ہے، اس کو اُٹھا کر اس روشنی کے اندر رکھ دوں اور پھر یہ سارا دن رات اسی طرح جگمگاتے رہیں، جیسے میرے بچّے کا وہ پھول رات کے اندھیرے میں جگمگا رہا تھا- لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہم کو ظلمات سے اتنا پیار ہوگیا ہے، کس وجہ سے ہوا ہے- میں یہ الزام آپ پر بھی نہیں لیتا، آپ کو خیر کیسے دے سکتا ہوں کہ اندھیرے سے اتنا پیار کیوں ہے؟

ہم اندھیرے کی طرف کیوں مائل ہیں اور جب اللہ بار بار کہتا ہے، واضح کرتا ہے کہ میں تم کو ظلمات سے نور کی طرف لانا چاہتا ہوں، تم ظلمات سے نور کی جانب آؤ اور جن کے اَذہان اور روئیں بند ہیں، وہ روشنی کی طرف نہیں آتے اور ایسے ہو نہیں پاتا، جیسے ربِ تعالٰی چاہتا ہے اور آرزو یہ رہتی ہے کہ انسان اپنے کام، اپنی ہمّت اور اپنی محنت سے کرے- انسان اپنے کام اپنی ہمّت اور اپنی محنت سے صرف اسی حد تک کرے، جس کا وہ مکّلف ہے، یعنی جس کی وہ تکلیف اُٹھا سکتا ہے- لیکن اللہ کو بھی کچھ نہ کچھ ذمہ داری عطا کرنی چاہئے- اگر آپ تفریحاً ( میری ایسی ہی باتیں ہیں، جو ایک ڈرائنگ ماسٹرسمجھتے ہیں، وہ کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی تعلق پیدا کرنا چاہئے) کچھ وقت نکال کر، آپ اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں اور میرے کہنے پر ہی تھوڑے وقت کے کے لئے کہ آپ کسی بھی زبان میں، اپنے اللہ کے ساتھ کچھ گفتگو شروع کر دیں ( جس طرح آج کل آپ اپنے سیلولر فون پر کرتے ہیں) تو چند دنوں کے بعد آپ کو ایک Message آنے لگ جاتا ہے، جو واضح تو نہیں ہوتا- ایسے تو نہیں ہوتا جیسے آپ ٹیلیفون پر سُنتے ہیں، لیکن آپ کا دل، آپ کی ذات اور آپ کا ضمیر اس کے ساتھی وابستہ ہو جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ زیادہ وقت صرف کرنے سے کہ میں کچھ وقت نکال کر، اپنا ہل چھوڑ کے”واہی“ (کھیتی) چھوڑ کر یا قلم چھوڑ کر لکھتے ہوئے یا دفتر میں اپنے اوقات کے دوران میں اگر آپ کا کمرہ الگ ہے، تو اپنی ٹیبل چھوڑ کر، سامنے والے صوفے جو مہمانوں کے لئے رکھا ہوتا ہے، وہاں جا کر بیٹھیں اور اپنے جوتے اُتار دیں، پاؤں آرام سے قالین پر رکھیں- پھر آپ کہیں کہ میں خاص نیّت کے ساتھ آپ سے ( خُدا سے ) وابستہ ہونے کے لئے یہاں آ کر بیٹھا ہوں- مجھے یہ پتہ نہیں ہے کہ وابستگی کس طرح سے ہوتی ہے، مجھے یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ آپ کو کس طرح سے پُکارا جاتا ہے- میں صرف یہ بوجھ آپ پر ڈالنے کے لئے یہاں آیا ہوں کہ جس طرح جانور کو اپنے مالک پر اعتماد ہوتا ہے- اسی طرح میں عین اُس جانور کی حیثیت سے اپنا بوجھ آپ پر ڈالنے آیا ہوں-

مجھے سارے طریقے نہیں اآتے ہیں، جو طریقے بزرگوں کو معلوم ہیں- اس طرح آپ کے اندر اور اس ماحول کے اندر سے اور اُس مقام کے اندر سے اور جو کام کرنے والی جگہ چھوڑ کر آپ اور جگہ پر آ کر بیٹھے ہیں، اُس جگہ کے حوالے سے اور اُس جگہ کی تقدیس سے یقیناً آپ Inline ہوں گے- جس طرح آپ نے شاید کبھی انجن گاڑی کے ساتھ جوڑتے ہوئے دیکھا ہو گا کہ کس طرح جب انجن کو گاڑی کے پاس لایا جاتا ہے، تو وہ”کرک“ کر کے گاڑی کے ساتھ جُڑ جاتا ہے اور گاڑی کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ ساتھ جُڑ گیا ہے- یہ مشاہدہ آپ ضرور کریں کہ کس طرح سے آدمی اللہ کے ساتھ جُڑ جاتا ہے اور پھر وہ اپنا سارا بوجھ اللہ پر ڈال کر اور ساری ذمّے داری اُس کے حوالے کر کے چلتا رہتا ہے-

ایک روز میں جمعہ پڑھنے جا رہا تھا- راستے میں ایک چھوٹا سا کُتّا تھا، وہ پلا ریہڑے کی زد میں آ گیا اور اُسے بہت زیادہ چوٹ آگئی- وہ جب گھبرا کر گھوما تو دوسری طرف سے آنے والی جیپ اس کو لگی، وہ بالکل مرنے کے قریب پہنچ گیا- سکول کے دو بچّے یونیفارم میں آ رہے تھے- وہ اُس کے پاس بیٹھ گئے- میں بھی اُن کے قریب کھڑا ہو گیا- حالانکہ جمعے کا وقت ہو گیا تھا- اُن بچوں نے اُس زخمی پلے کو اُٹھا کر گھاس پر رکھا اور اُس کی طرف دیکھنے لگے- ایک بچّے نے جب اُس کو تھپتھپایا تو اُس پلے نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں- وہاں ایک فقیر تھا- اُس نے کہا کہ واہ، واہ واہ! وہ سارے منظر کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا، جبکہ ہم کچھ آبدیدہ اور نم دیدہ تھے- اُس فقیر نے کہا کہ یہ اب اس سرحد کو چھوڑ کر دوسری سرحد کی طرف چلا گیا- وہ کہنے لگا کہ یہ موت نہیں تھی کہ اس کتّے نے آنکھیں بند کر لیں اور یہ مر گیا- اس کی موت اُس وقت واقع ہوئی تھی جب یہ زخمی ہوا تھا اور لوگ اس کے قریب آ کر سڑک کراس کر رہے تھے اور کوئی رُکا نہیں تھا- پھر اُس نے سندھی کا ایک دوہڑا پڑھا- اس کا مجھے بھی نہیں پتہ کہ کیا مطلب تھا اور وہ آگے چلا گیا- وہ کوئی پیسے مانگنے والا نہیں تھا- پتہ نہیں کون تھا اور وہاں کیوں آیا تھا؟

وہ سپردگی جو اُس سکول کے بچّے نے بڑی دل کی گہرائی سے اُس پلے کو عطا کی، ویسی ہی سپردگی ہم جیسے پلوں کو خدا کی طرف سے بڑی محبّت اور بڑی شفقت سے اور بڑے رحم اور بڑے کرم کے ساتھ عطا ہوتی ہے- لیکن یہ ہے کہ اسے Receive کیسے کیا جائے؟ کچھ جاندار تو اتنی ہمّت والے ہوتے ہیں وہ رحمت اور اس شفقت کو اور اس Touch کو حاصل کرنے کے لئے جان تک دے دیتے ہیں- آپ نے بزرگانِ دین کے ایسے بیشمار قصّے پڑھے ہوں گے-

میں یہ عرض کر تھا کہ میرا چھوٹا منہ اور بڑی بات ہے، لیکن ان تجربات میں سے گزرتے ہوئے میں نے یہ ضرور محسوس کیا ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے اور اپنا سارا سامان، جتنا بھی ہے، اُس کی روشنی میں رکھ دیا جائے اور جب اُس کی پوری کی پوری روشنی سے وہ پورے کا پورا لتھڑ جائے، تو پھر کوئی خطرہ کوئی خوف باقی نہیں رہتا-

کتابی علم جو میرے پاس بھی ہے، وہ تو مل جائے گا، لیکن وہ روح جو سفر کرتی ہے، وہ داخل نہیں ہوگی- میری بلّی کنبر نے آج صبح سے مجھے بہت متاثر کیا ہے اور میں بار بار قدم قدم پر یہ سوچتا ہوں کہ کیا میں اس جیسا نہیں بن سکتا؟ اب مجھے اپنی بلّی پر غصّہ بھی آتا ہے اور پیار بھی آتا ہے اور میں اس سے چڑ گیا ہوں کہ یہ تو اتنے بڑے گریڈ حاصل کر گئی اور فرسٹ ڈویژن میں ایم اے کر گئی ہے اور میں جو اس کا مالک ہوں، میں بالکل پیچھے ہوں- یہ ساری بات غور کرنے کی ہے- آپ میری نسبت باطن کے سفر کے معمول میں بہتر ہیں اور جو جذبہ اور جو محبّت اور لگن آپ کی روحوں کو عطا ہوتی ہے، وہ مجھے عطا نہیں ہوئی- لیکن میں آپ کے ساتھ ساتھ بھاگنے والوں میں شریک رہنا چاہتا ہوں کہ کچھ کرنیں جب بٹ جائیں، آپ کے سامان سے تو وہ مجھے مل جائیں-

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ!!