سلطان سنگھاڑے والا

انسانی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے، جب اُس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ وہ اب بڑے پُرسکون انداز میں زندگی بسر کرے اور وہ ایسے جھمیلوں میں نہ رہے، جس طرح کے جھمیلوں میں اُس نے اپنی گزشتہ زندگی بسر کی ہوئی ہوتی ہے اور یہ آرزو بڑی شدت سے ہوتی ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ دوستی لگا لیتے ہیں، وہ بڑے مزے میں رہتے ہیں اور وہ بڑے چالاک لوگ ہوتے ہیں۔ ہم کو اُنہوں نے بتایا ہوتا ہے کہ ہم ادھر اپنے دوستوں کے ساتھ دوستی رکھیں اور وہ خود بیچ میں سے نکل کر اللہ کو دوست بنا لیتے ہیں۔ اُن کے اوپر کوئی تکلیف، کوئی بوجھ اور کوئی پہاڑ نہیں گرتا۔ سارے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے اور آپ کے ہیں، لیکن ان لوگوں کو ایک ایسا سہارا ہوتا ہے، ایک ایسی مدد حاصل ہوتی ہے کہ اُنہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی۔

میں نے یہ بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمارے گھر میں دھوپ سینکتے ہوئے میں ایک چڑیا کو دیکھا کرتا ہوں، جو بڑی دیر سے ہمارے گھر میں رہتی ہے اور غالباً یہ اُس چڑیا کی یا تو بیٹی ہے، یا نواسی ہے جو بہت ہی دیر سے ہمارے مکان کی چھت کے ایک کونے میں رہتی ہے۔ ہمارا مکان ویسے تو بڑا اچھا ہے، اس کی "آروی" کی چھتیں ہیں، لیکن کوئی نہ کوئی کھدرا ایسا رہ ہی جاتا ہے، جو ایسے مکینوں کو بھی جگہ فراہم کر دیتا ہے۔ یہ چڑیا بڑے شوق، بڑے سبھاؤ اور بڑے ہی مانوس انداز میں گھومتی پھرتی رہتی ہے۔ ہمارے کمرے کے اندر بھی اور فرش پر بھی چلی آتی ہے۔ کل ایک فاختہ آئی جو ٹیلیفون کی تار پر بیٹھی تھی اور یہ چڑیا اُڑ کر اُس کے پاس گئی، اُس وقت میں دھوپ سینک (تاپ) رہا تھا۔ اُس چڑیا نے فاختہ سے پوچھا کہ " آپا یہ جو لوگ ہوتے ہیں انسان، جن کے ساتھ میں رہتی ہوں، یہ اتنے بے چین کیوں ہوتے ہیں؟یہ بھاگے کیوں پھرتے ہیں؟ دروازے کیوں بند کرتے اور کھولتے ہیں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟" فاختہ نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ جس طرح ہم جانوروں کا ایک اللہ ہوتا ہے، ان کا کوئی اللہ نہیں ہے اور ہمیں یہ چاہئے کہ ہم مل کر کوئی دعا کریں کہ ان کو بھی ایک اللہ مل جائے۔ اس طرح انہیں آسانی ہو جائے گی، کیونکہ اگر ان کو اللہ نہ مل سکا، تو مشکل میں زندگی بسر کریں گے۔"

اب معلوم نہیں میری چڑیا نے اُس کی بات مانی یا نہیں، لیکن وہ بڑی دیر تک گفت وشنید کرتی رہیں اور میں بیٹھا اپنے تصور کے زور پر یہ دیکھتا رہا کہ ان کے درمیان گفتگو کا شاید کچھ ایسا ہی سلسلہ جاری ہے۔ تو ہم کس وجھ سے، ہمارا اتنا بڑا قصور بھی نہیں ہے، ہم کمزور لوگ ہیں جو ہماری دوستی اللہ کے ساتھ ہو نہیں سکتی۔ جب میں کوئی ایسی بات محسوس کرتا ہوں یا سُنتا ہوں تو پھر اپنے "بابوں" کے پاس بھاگتا ہوں_ میں نے اپنے بابا جی سے کہا کہ جی ! میں اللہ کا دوست بننا چاہتا ہوں۔ اس کا کوئی ذریعہ چاہتا ہوں۔ اُس تک پہنچنا چاہتا ہوں۔ یعنی میں اللہ والے لوگوں کی بات نہیں کرتا۔ ایک ایسی دوستی چاہتا ہوں، جیسے میری آپ کی اپنے اپنے دوستوں کے ساتھ ہے،تو اُنہوں نے کہا "اپنی شکل دیکھ اور اپنی حیثیت پہچان، تو کس طرح سے اُس کے پاس جا سکتا ہے، اُس کے دربار تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور اُس کے گھر میں داخل ہو سکتا ہے، یہ نا ممکن ہے۔" میں نے کہا، جی! میں پھر کیا کروں؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہونا چاہئے کہ میں اُس کے پاس جا سکوں؟ بابا جی نے کہا، اس کا آسان طریقہ یہی ہے کہ خود نہیں جاتے اللہ کو آواز دیتے ہیں کہ "اے اللہ! تو آجا میرے گھر میں" کیونکہ اللہ تو کہیں بھی جاسکتا ہے، بندے کا جانا مشکل ہے۔ بابا جی نے کہا کہ جب تم اُس کو بُلاؤ گے تو وہ ضرور آئے گا۔ اتنے سال زندگی گزر جانے کے بعد میں نے سوچا کہ واقعی میں نے کبھی اُسے بلایا ہی نہیں، کبھی اس بات کی زحمت ہی نہیں کی۔ میری زندگی ایسے ہی رہی ہے، جیسے بڑی دیر کے بعد کالج کے زمانے کا ایک کلاس فیلو مل جائےبازار میں تو پھر ہم کہتے ہیں کہ بڑا اچھا ہوا آپ مل گئے۔ کبھی آنا۔ اب وہ کہاں آئے، کیسےآئے اس بےچارے کو تو پتا ہی نہیں۔

ہمارے ایک دوست تھے۔ وہ تب ملتے تھے، جب ہم راولپنڈی جاتے تو کہتے کہ جی آنا، کوئی ملنے کا پروگرام بنانا، یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن ایڈریس نہیں بتاتے تھے۔ جیسے ہم اللہ کو اپنا ایڈریس نہیں بتاتے کسی بھی صورت میں میں کہ کہیں سچ مچ ہی نہ پہنچ جائے۔ ایک دھڑکا لگا رہتا ہے۔ وہ مجھے کہا کرتے تھے کہ بس مہینے کے آخری ویک کی کسی ڈیٹ کو ملاقات کا پروگرام بنا لیں گے۔ Sunset کے قریب، نہ ڈیٹ بتاتے تھے نہ ٹائم بتاتے تھے، Determine نہیں کرتے تھے، تو ایسا ہی اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے، بلکہ کسی حد تک ڈر جاتے ہیں کہ خدا نخواستہ اگر ہم نے اللہ سے دوستی لگا لی اور وہ آگیا تو ہمیں بڑے کام کرنے پڑیں گے۔ دوپٹہ چننا ہوتا ہے، بوٹ پالش کرنا ہوتے ہیں، مہندی پر جانا ہوتا ہے۔ اُس وقت اللہ میاں آگئے اور اُنہوں نے کہا کہ "کیا ہو رہا ہے؟" تو مشکل ہوگی۔ ہم نے آخر زندگی کے کام بھی نمٹانے ہیں۔ باقی جو بات میں سوچتا ہوں اور میں نے اپنے بابا کو یہ جواب دیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرنا بہت اچھی بات ہے اور ہے بھی اچھی بات۔ اُنہوں نے کہا کہ عبادت کرنا ایک اور چیز ہے، تم نے تومجھ سے کہا کہ میں خداوند کریم کو بِلا واسطہ طور پو ملنا چاہتا ہوں۔ عبادت کرنا تو ایک گرائمر ہے جو آپ کر رہے ہیں اور اگر آپ عبادت کرتے بھی ہیں، تو پھر آپ اپنی عبادت کو Celebrate کریں، جشن منائیں، جیسے مہندی پر لڑکیاں تھال لےکر ناچتی ہیں نا، موم بتیاں جلا کر اس طرح سے، ورنہ تو آپ کی عبادت کسی کام کی نہیں ہوگی۔

جب تک عبادت میں Celebration نہیں ہوگی، جشن کا سماں نہیں ہوگا، جیسے وہ بابا کہتا ہے "تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا" چاہے سچ مچ نہ ناچیں لیکن اندر سے اس کا وجود اور روح "تھیا تھیا" کر رہی ہے، لیکن جب تک Celebration نہیں کرے گا، بات نہیں بنے گی۔ اس طرح سے نہیں کہ نماز کو لپیٹ کر "چار سنتاں، فیر چار فرض فیر دو سنتاں فیر دو نفل،تِن وِتر" سلام پھیرا، چلو جی رات گزری فکر اُترا۔ نہیں جی! یہ تو عبادت نہیں۔ ہم تو ایسی ہی عبادت کرتے رہے ہیں، اس لیے تال میل نہیں ہوتا۔ جشن ضرور منانا چاہئے عبادت کا، دل لگی، محبّت اور عقیدت کے ساتھ عبادت۔ ہمارے یہاں جہاں میں رہتا ہوں، وہاں دو بڑی ہاکی اور کرکٹ گراونڈز ہیں، وہاں سنڈے کے سنڈے بہت سویرے، جب ہم سیر سے لوٹ رہے ہوتے ہیں، منہ اندھیرے گڈی اُڑانے والے آتے ہیں۔ وہ اس کا بڑا اہتمام کئے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے بڑے بڑے تھیلے ہوتے ہیں اور بہت کاریں ہوتی ہیں، جن میں وہ اپنے بڑے تھیلے رکھ کر پتنگ اُڑانے کے لئے کھلے میدان میں آتے ہیں۔ اب وہ خالی پتنگ نہیں اُڑاتے، بلکہ اہتمام کے ساتھ اس کا جشن بھی مناتے ہیں۔ جب تک اس کے ساتھ جشن نہ ہو، وہ پتنگ نہیں اڑتی اور نہ ہی پتنگ اُڑانے والا سماں بندھتا ہے، کھانے پینے کی بے شمار چیزیں باجا بجانے کے "بھومپو" اور بہت کچھ لے کر آتے ہیں، وہاں جشن زیادہ ہوتا ہے، کائٹ فلائنگ کم ہوتا ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں عبادت زیادہ ہوتی ہے، Celebration، اللہ کو ماننا کم ہوتا ہے۔

میں نے سوچا یہ گڈی اُرانے والے بہت اچھے رہتے ہیں، ہمارے پاس بابا جی کے ہاں ایک گڈی اُڑانے والا آیا کرتا تھا موچی دروازے کے اندر علاقے سے، بڑی خوبصورت دھوتی (تہبند) باندھتا تھا، جیسے انجمن فلموں میں باندھا کرتی تھی، لمبے لڑ چھوڑ کرباندھا کرتی تھی، وہ جب آتا تو ہمارے بابا جی اُسے کہتے، گڈی اُڑاؤ ( اس طرح باباجی ہمیں Celebrate کرنے کا حوصلہ دیتےتھے، جو بات اب سمجھ میں آئی ہے) وہ اتنی اونچی پتنگ اُڑاتا تھا کہ نظروں سے اوجھل ہو جاتی تھی میرے جیسا آدمی تو اس لمبی ڈور کو سنبھال بھی نہیں سکتا۔ میں نے اُس سے پوچھا کہ بھا صدیق! تم یہ گڈی کیوں اُڑاتے ہو؟ کہنے لگا، جی ! یہ گڈی اُڑانا بھی اللہ کے پاس پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ کہنے لگا، نظر نہیں آتی، لیکن اس کی کھینچ بتاتی رہتی ہے کہ میں ہوں، اللہ نظر نہیں آتا لیکن آپ کے دلوں کی دھڑکن یہ بتاتی ہے کہ "میں ہوں"۔ یہ نہیں کہ وہ آپ کے رُوبرو آ کر موجود ہو۔

جب میں ریڈیو میں کام کرتا تھا تو ہمیں ایک Assignment ملی تھی۔ وہ یہ کہ پتا کریں چھوٹے دکانداروں سے کہ وہ کس طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ چھوٹے دکانداروں سے مراد چھابڑی فروش۔ یہ کچھ دیر کی بات ہے، میں نے بہت سے چھابڑی فروشوں کا انٹرویو کیا۔ اُن سے حال معلوم کئے۔ پیسے کا ہی سارا اونچ نیچ ہے اور ہم جب بھی تحقیق کرتے ہیں یا تحلیل کرتے ہیں یا Analysis کرتے ہیں تو Economics کی Base پر ہی کرتے ہیں کہ کتنے امیر ہیں، کتنے غریب ہیں، کیاتناسب ہے کہ وہ کس Ratio کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں؟ اُن کے کیا مسائل ہیں؟ دِلّی (دہلی) دروازے کے باہر اگر آپ لوگوں میں سے کسی نے دہلی دروازہ دیکھا ہو، اُس کے باہر ایک آدمی کھڑا تھا نوجوان، وہ کوئی تیس بتیس برس کا ہو گا۔ وہ سنگھاڑے بیچ رہا تھا۔ میں اُس کے پاس گیا۔ میں نے پوچھا، آپ کا نام کیا ہے؟ کہنے لگا، میرا نام سلطان ہے! میں نے کہا کب تک تم یہ سنگھاڑے بیچتے ہو؟ کہنے لگا، شام تک کھڑا رہتا ہوں۔ میں نے پوچھا اس سے تمہیں کتنے روپے مل جاتے ہیں؟ اُس نے بتایا، ستر بہتر روپے ہوجاتے ہیں۔ میں نے اُس سے پوچھا، انہیں کالے کیسے کرتے ہیں؟ ( میری بیوی پوچھتی رہتی تھی مجھ سے،کیونکہ وہ دیگچے میں ڈال کر اُبالتی ہے تو وہ ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں) اُس نے کہا کہ جی پنساریوں کی دکان سے ایک چیز ملتی ہے، چمچہ بھر اس میں ڈال دیں تو کالے ہو جائیں گے اُبل کر اور آپ جا کر کسی پنساری سے پوچھ لیں کہ سنگھاڑے کالے کرنے والی چیز دے دیں، وہ دیدے گا۔جب اُس نے یہ بات کی تو میں نے کہا، یہ اندر کے بھید بتانے والا آدمی ہے اور کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھتا۔ کھلی نیّت کا آدمی ہے۔ یقیناً یہ ہم سے بہتر انسان ہوگا۔

میں نے کہا، جب آپ ستر بہتر روپے روز بنا لیتے ہیں تو پھر ان روپوں کا کیا کرتےہیں؟ کہنے لگا، میں جا کر "رضیہ" کو دے دیتا ہوں۔ میں نے کہا، رضیہ کون ہے؟ کہنے لگا، میری بیوی ہے۔میں نے کہا کہ شرم کرو اتنی محنت سے پیسے کماتے ہو اور سارے کے سارے اُسے دے دیتے ہو۔ کہنے لگا، جی اسی کے لئے کماتے ہیں۔ ( اللہ کہتا ہے نا قرآنِ پاک میں کہ اَلرّجَالُ قُوامُون عَلیٰ النِسّاء یہ جو مرد ہیں، یہ عورت کے Provider ہیں )۔ میں نے اُس سے کہا، اچھا تو بیچ میں سے کچھ نہیں رکھتے؟ کہنے لگا، نہیں جی! مجھے کبھی ضرورت نہیں پڑی۔ میں نے کہا، اس وقت رضیہ کہاں ہے؟ ( وہ inside خوبصورت آدمی تھا اس لیے مجھے اُس میں دلچسپی پیدا ہوئی) کہنے لگا، رضیہ کہیں بازار وغیرہ گئی ہو گی۔ اس کی دو سہیلیاں ہیں اور وہ تینوں صبح سویرے نکل جاتی ہیں بازار۔ اُس نے بتایا کہ وہ کبھی کبھی گلوکوز لگواتی ہیں، اُن کو شوق ہے ( اس طرح مجھے تو بعد میں پتا چلا کہ اندرونِ شہر کی عورتیں گلوکوز لگوانا پسند کرتی ہیں، گلوکوز لگوانا انہیں اچھی سی چیز لگتی ہے کہ اس کے لگوانے سے جسم کو تقویت ملے گی)۔ میں نے کہا، اچھا تم خوش ہو اُس کے ساتھ؟ کہنے لگا، ہاں جی! ہم اپنے اللہ کے ساتھ بڑے راضی ہیں۔ میری تو اللہ کے ساتھ ہی آشنائی ہے۔ میں تو کسی اور آدمی کو جانتا نہیں۔ اس پر میں چونکا اور ٹھٹکا۔ اُس کی باتوں سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ایک بڑا آدمی ہے لاہور کا۔ میں نے اگر کوئی حاکم دیکھا ہے تو وہ "سلطان سنگھاڑا فروش" ہے۔ اُس کو کسی چیز کی پروا نہیں تھی۔ کوئی واردات، واقعہ اُس کے اوپر اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔

میں اُس سے جب بھی ملتا رہا کوئی شکایت اُس کی زبان پر نہیں ہوتی تھی۔ اب تو تین سال سے جانے وہ کہاں غائب ہے۔ مجھے نظر نہیں آیا، لیکن میں اُس کے حضور میں حاضری دیتا ہی رہا۔ اُس کا درجہ چونکہ اس اعتبار سے بلند تھا کہ اُس کی دوستی ایک بزرگ ترین ہستی سے تھی۔ میں ذرا اپنی گفتار اور باتوں میں تھوڑا سا با ادب ہو گیا۔ میں نے اُس سے کہا، یار سلطان! کیا تم اللہ کے ساتھ گفتگو بھی کرتے ہو؟ کہنے لگا، ہم تو شام کو جاتے، صبح کو آتےہوئے، منڈی سے سودا خریدتے ہوئے اُس کے ساتھ ہی رہتے ہیں اور اُسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ میں نے کہا، کون سی زبان میں؟ وہ کہنے لگا، "اوہ پنجابی وی جاندا اے، اردو جاندا اے، سندھی جو وی بولی بولیں او سب جاندا اے!" میں نے کہا تو نے مجھے بتایا تھا ایک دن کہ گیارہ برس ہوگئے تمہاری شادی کو اور تمہارا کوئی بچّہ نہیں ہے؟ کہنے لگا، بچّہ کوئی نہیں میں اور رضیہ اکیلے ہیں۔ میں نے کہا، اللہ سے کہو کہ اللہ تجھے ایک بچّہ دے۔ کہنے لگا، ، نہیں جی! یہ تو ایک بڑی شرم کی بات ہے۔ بزرگوں سے ایسی بات کیا کرنی، بُرا سا لگتا ہے۔ وہ خداوند تعالٰی کو ایک بزرگ ترین چیز سمجھ کر کہ رہا تھاکہ جی! بڑوں کے ساتھ ایسی بات نہیں کرنی۔ میں یہ کہتا فضول سا لگوں گا کہ اللہ مجھے بچّہ دے۔

میں نے کہا کہ کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہماری بھی اُس کے ساتھ دوستی ہو جائے؟ کہنے لگا، اگر آپ چاہیں تو ہو سکتا ہے۔ اگر آپ نہ چاہیں تو نہیں ہو سکتا۔ میں نے جیسا کہ میں پہلے عرض کر رہا تھا، اپنے سارے برسوں کا میں نے جائزہ لیا، سارے دنوں کا، میں نے کبھی یہ نہیں چاہا۔ میرا یہی خیال تھا کہ میں عبادت کروں گا اور عبادت ہی اس کا راز ہے اور عبادت کو ہی لپیٹ کر رکھ دوں گا اپنے مصلّے کے اوپر اور دن رات اسی طرح عبادت کرتا رہوں گا۔ لیکن وہ جو میرا منتہائے مقصود ہے، وہ جو میرا محبوب ہے، اُس کی طرف جانے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ میں یہی سمجھتا رہا اور آج تک یہی سمجھتا رہا ہوں کہ عبادت ہی یہ سارا راز اور سارا بھید ہے، حلانکہ عبادت سے ماورا (میں یہ جو بات عرض کر رہا ہوں، آپ کو سمجھانے کے لئے کر رہا ہوں) عبادت سے پرے ہٹ کر ایک آرزو کی بھی تلاش ہے کہ میں اپنے اللہ کے ساتھ جس کی کوئی ایک ہستی ہے نہ نظر میں آنے والی، اس کے ساتھی کوئی رابطہ قائم کروں، جیسا سلطان نے کیا تھا۔ جیسے اُس کے علاوہ چار پانچ بندے اور بھی ہیں میری نظر میں۔ میں نے اس بات سے اندازاہ لگایا کہ اتنا خوش آدمی میں نے زندگی میں کوئی نہیں دیکھا۔ جتنے بھی اللہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ تھے، وہ انتہائی خوش تھے۔

1965ء کی جنگ میں اس (سلطان) کے پاس گیا، لوگ گھبرائے بھی ہوئے تھے، جذباتی بھی تھے۔ وہ ٹھیک تھا، ویسے ہی، بالکل اسی انداز میں جیسے پہلے ملا کرتا تھا۔ میں نے اُس سے کہا تم مجھے کوئی ایسی بات بتاؤ جس سے میرے دل میں چلو کم از کم یہ خواہش ہی پیدا ہوجائے، خدا سے دوستی کی اور میں کم از کم اس پلیٹ فارم سے اُتر کر دو نمبر کے پلیٹ فارم پر آ جاؤں۔ پھر میں وہاں سے سیڑھیاں چڑھ کر کہیں اور چلا جاؤں۔ میری نگاہ اوپر ہوجائے، تو کہنے لگا ( حالانکہ اَن پڑھ آدمی تھا، اب لوگ مجھ سے بابوں کا ایڈریس پوچھتے ہیں، میں انہیں کیسے بتاؤں کہ ایک سلطان سنگھاڑے والا دِلّی دروزے کے باہر جہاں تانگے کھڑے ہوتے ہیں، ان کے پیچھے کھڑا ہے، جو بہت عظیم "بابا" ہے اور نظر آنے والوں کوشاید نظر آتا ہوگا، مجھے پورے کا پورا تو نظر نہیں آتا ) بھا جی! بات یہ ہے کہ جب ہم منہ اوپر اُٹھاتے ہیں تو ہم کو آسمان اور ستارے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے جلوے دکھائی دیتے ہیں۔ کہنے لگا، آپ کبھی مری گئے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں میں کئی بار مری گیا ہوں۔ کہنے لگا، جب آدمی مری جاتا ہے نا پہاڑی پر تو پھر حال کا نظارہ لینے کے لئے وہ نیچے بھی دیکھتا ہے اور اوپر بھی۔ پھر اُس کا سفر Complete ہوتا ہے۔ خالی ایک طرف منہ کرنے سے نہیں ہوتا۔ جب آپ نیچے کو اور اوپر کو ملاتے ہیں، تو پھر ساری وسعت اس میں آتی ہے۔

اُس نے کہا کہ یہ ایک راز ہے جب آدمی یہ سمجھنے لگ جائے کہ میں وسعت کے اندر داخل ہو رہا ہوں ( وہ پنجابی میں بات کرتا تھا، اُس کے الفاظ تو اور طرح کے ہوتے تھے) پھر اُس کو قربت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن حوصلہ کر کے وہی کہنا پڑتا ہے، جیسا کہ بابا جی کہتے تھے کہ "اے اللہ! تو میرے پاس آجا مجھ میں تو اتنی ہمّت نہیں کہ میں آ سکوں" اور وہ یقیناً آتا ہے۔ بقول سلطان سنگھاڑے والے کے کہ اس کے لئے کہیں جانا نہیں پڑتا، اس لئے کہ وہ تو پہلے سے ہی آپ کے پاس موجود ہے اور آپ کی شہ رگ کے پاس کرسی ڈال کر بیٹھا ہوا ہے۔ آپ اُسے دعوت ہی نہیں دیتے۔ میں نے اُس سے کہا کہ اس کا مجھے کوئی راز بتا، مجھے کچھ ایسی بات بتا کہ جس سے میرے دل کے اندر کچھ محسوس ہو۔ کہنے لگا، جی! آپ کے دل کے اندر کیا میں تو سارے پاکستان کے، لاہور کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جب وہ باہر نکلا کریں پورا لباس پہن کر نکلا کریں۔ میں نے کہا، سارے ہی پورا لباس پہنتے ہیں۔ کہنے لگا، یہ دیکھ تانگے میں چار بندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ پورا لباس نہیں پہنا ہوا۔ میں نے کہا، یہ بابو گزرا ہے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا ہے اس نے ٹائی بھی لگائی ہوئی ہے۔ کہنے لگا، نہیں جی آدمی جب کم از کم باہر نکلے تو جس طرح لڑکیاں میک اپ کرتی ہیں، خاص طور پر باہر نکلنے کے لئے، تو اس طرح آدمی کو بھی اپنے لباس کے اوپر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

میں یہی سمجھتا رہا کہ وہ کوئی اخلاقی بات کرنا چاہتا ہے لباس کے بارے میں، جیسے ہم آپ لوگ کرتے ہیں۔ کہنے لگا، لوگ سارے کپڑے پہن تو لیتے ہیں، لیکن اپنے چہرے پر مسکراہٹ نہیں رکھتے اور ایسے ہی آجاتے ہیں لڑائی کرتے ہوئے اور لڑائی کرتے ہوئے ہی چلے جاتے ہیں۔ تو جب تک آپ چہرے پر مسکراہٹ نہیں سجائیں گے، لباس مکمل نہیں ہوگا۔ یہ جو تانگے پر بیٹھے ہوئے ہیں چار آدمی، کہنے لگا یہ تو برہنہ جا رہے ہیں۔ مسکراہٹ اللہ کی شکر گزاری ہے اور جب آدمی اللہ کی شکر گزاری سے نکل جاتا ہے، تو پھر وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ میں کہا، یار! ہم تو بہت عبادت گزار لوگ ہیں۔ باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں۔ اس پر وہ کہنے لگا،جی! میں لال قدسی میں رہتا ہوں، وہاں بابا وریام ہیں۔ وہ رات کو بات (لمبی کہانی) سنایا کرتے ہیں۔

انہوں نے ہمیں ایک کہانی سنائی کہ پیرانِ پیر کے شہر بغداد میں ایک بندہ تھا جو کسی پر عاشق تھا۔ اُس کے لئے تڑپتا تھا، روتا تھا، چیخیں مارتا تھا اور زمین پر سر پٹختا تھا۔ لیکن اُس کا محبوب اُسے نہیں ملتا تھا۔ اُس شخص نے ایک بار خدا سے دعا کی کہ اے اللہ! ایک بار مجھے میرے محبوب کے درشن تو کرا دے۔اللہ تعالٰی کو اُس پر رحم آگیا اور اُس کا محبوب ایک مقررہ مقام پر، جہاں بھی کہا گیا تھا، پہنچ گیا۔ دونوں جب ملے تو عاشق چٹھیوں کا ایک بڑا بنڈل لے آیا۔ یہ وہ خط تھے، جو وہ اپنے محبوب کے ہجر میں لکھتا رہا تھا۔ اُس نے وہ کھول کر اپنے محبوب کو سنانے شروع کر دئیے۔ پہلا خط سنایا اور اہنے ہجر کے دکھڑے بیان کئے۔ اس طرح دوسرا خط پھر تیسرا خط اور جب وہ گیارہویں خط پر پہنچا تو اُس کے محبوب نے اُسے ایک تھپڑ رسید کیا اور کہا "گدھے کے بچّے! میں تیرے سامنے موجود ہوں، اپنے پورے وجود کے ساتھ اور تو مجھے چٹھیاں سنا رہا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی" سلطان کہنے لگا، بھا جی! عبادت ایسی ہوتی ہے۔آدمی چٹھیاں سناتا رہتا ہے، محبوب اُس کے گھر میں ہوتا ہے، اُس سے بات نہیں کرتا۔ جب تک اُس سے بات نہیں کرے گا، چٹھیاں سنانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ایسے لوگ بڑے مزے میں رہتے ہیں۔ میں بڑا سخت حاسد ہوں ان کا، میں چاہتا ہوں کہ کچھ کئے بغیر، کوشش، Struggle کئے بغیر مجھے بھی ایسا مقام مل جائے، مثلاً جی چاہتا ہے کہ میرا بھی پرائز بانڈ نکل آئے ساڑھے تین کروڑ والا۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ چاہے وہ پرائز بانڈ نکلے نہ نکلے ( ایمانداری کی بات کرتا ہوں) مجھے وہ عیاشی میسر آجائے، جو میں نے پانچ آدمیوں کے چہرے پر اُن کی روحوں پر دیکھی تھی، کیونکہ اُن کی دوستی ایک بہت اونچے مقام پر تھی۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ!!