نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

میں کون ہوں؟

بہت دیر کا وعدہ تھا جو جلد پورا ہونا چاہئے تھا ، لیکن تاخیر اس لئے ہو گئی کہ شاید مجھ پر بھی کچھ اثر میرے پڑوسی ملک کا ہے کہ اس نے کشمیریوں کے ساتھ بڑی دیر سے وعدہ کر رکھا تھا کہ ہم وہاں رائے شماری کرائیں گے۔ لیکن آج تک وہ اسے پورا نہ کر سکے۔ حالانکہ وہ وعدہ یو این او کے فورم میں کیا گیا تھا، لیکن میری نیت ان کی طرح خراب نہیں تھی۔ میں اس دیر کے وعدے کے بارے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انسانی وجود کی پرکھ، جانچ اور اس کی آنکھ دیگر تمام جانداروں سے مختلف بھی ہے اور مشکل بھی۔ جتنے دوسرے جاندار ہیں ان کو بڑی آسانی کے ساتھ جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے لیکن انسان واحد مخلوق ہے جس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ تو باہر کا کوئی شخص کر سکتا ہے اور نہ خود اس کی اپنی ذات کر سکتی ہے۔ انسانی جسم کو ماپنے، تولنے کے لئے جیسے فوجیوں کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ آپ کا قد ماپیں گے، وزن کریں گے، جسم کی سختی کو ملاحظہ کریں گے، بینائی دیکھیں گے یعنی باہر کا جو سارا انسان ہے، اس کو جانچیں اور پرکھیں گے اور پھر انہوں نے جو بھی اصول اور ضابطے قائم کئے ہیں، اس کے مطابق چلتے رہیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اندر کی مشینری کو جانچنے کے لئے بھی انہوں نے پیمانے بنائے ہیں۔ اگر آپ خدانخوستہ کسی عارضے میں مبتلا ہیں تو اس کو کیسے جانچیں گے؟

ڈاکٹر اپنا اسٹیتھو سکوپ سینے پر رکھ کر دل کی دھڑکنیں اور گڑ گڑاہٹیں سنتا ہے، تھرما میٹر استعمال کرتا ہے، ایکسرے، الٹرا ساؤنڈ اور سی ٹی سکین، یہ سب چیزیں انسان کے اندر کی بیماریوں کا پتا دیتی ہیں۔ پھر اس کے بعد تیسری چیز انسان کی دماغی اور نفسیاتی صورتحال کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ نفسیات دان اس کو جانچتے ہیں۔ انہوں نے کچھ تصویری خاکے اور معمے بنائے ہوتے ہیں۔ ایک مشین بنا رکھی ہے، جو آدمی کے سچ یا جھوٹ بولنے کی کیفیت بتاتی ہے۔ کچھ ایسی مشینیں بھی ہیں، جو شعاعیں ڈال کر پُتلی کے سکڑنے اور پھیلنے سے اندازہ لگاتی ہیں کہ اس شخص کا اندازِ تکلم اور اندازِ زیست کیسا ہے؟

نفسیات کے ایک معروف ٹیسٹ میں ایک بڑے سے سفید کاغذ پر سیاہی گرا دی جاتی ہے اور اس کاغذ‌کی تہہ لگا دیتے ہیں۔ جب اس کو کھولا جاتا ہے تو اس پر کوئی تصویر سی چڑیا، طوطا یا تتلی بنی ہوئی ہوتی ہے اور پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو یہ کیا چیز نظر آتی ہے؟ اور پھر دیکھنے والا اس کو جیسا محسوس کرتا ہے، بتلاتا ہے، کوئی اسے خوبصورت چڑیا سے تعبیر کر کے کہتا ہے اسے ایک چڑیا نظر آ رہی ہے، جو گاتی ہوئی اڑی جا رہی ہے۔

ایک اور مزاج کا بندہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں ایک بڑھیا ہے، جو ڈنڈا پکڑے بیٹھی ہے اور اس کی شکل میرے جیسی ہے۔ اس طرح سے دیکھنے والے کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جانوروں کو بھی اسی معیار پر پرکھا جا سکتا ہے۔ قصائی جس طرح بکرے کو دیکھ کر بیمار یا تندرست کا پتا چلا لیتا ہے۔ بھینس کو دیکھ کر بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ یہ اچھی بھینس ہے یا نہیں۔ گھوڑوں کو بھی چیک کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کا چیک کرنا اس لئے بھی آسان ہے کہ اگر ہم جانور کے ساتھ کسی خاص قسم کا برتاؤ کریں گے، تو وہ بھی جواب میں ویسا ہی برتاؤ کرے گا۔ لیکن انسان کے بارے میں یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ آپ ایک آدمی کو زور کا تھپڑ ماریں اور وہ پستول نکال کر آپ کو گولی مار دے۔ ممکن ہے کسی کو ایک تھپڑ ماریں اور وہ جھک کر آپ کو سلام کرے یا ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو جائے۔ اس لئے انسان کے حوالے سے کچھ طے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو جانچنا ہمارے صوفیائے کرام اور “ بابے “ جن کا میں اکثر ذکر کرتا ہوں، ان کے لئے ہمیشہ ایک مسئلہ رہا ہے کہ انسان اندر سے کیا ہے؟ اور جب تک وہ اپنے آپ کو نہ جان سکے، اس وقت تک وہ دوسروں کے بارے میں کیا فیصلہ کر سکتا ہے۔

آپ کے جتنے بھی ایم این اے اور ایم پی اے ہیں، یہ ہمارے بارے میں بیٹھ کر فیصلے کرتے ہیں، لیکن وہ خود یہ نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں؟ یہ ایسے تیراک ہیں جو ہم کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن ان کو خود تیرنا نہیں آتا۔ سیکھا ہی نہیں انہوں نے۔ جو گہری نظر رکھنے والے لوگ ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں۔ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ کبھی اگر آپ نے غور کیا ہو یا نہ کیا ہو، لیکن آپ کے شعور سے یہ آواز آتی ہی رہتی ہے کہ “میں کون ہوں“ اور "میں کہاں ہوں“ اور اس سارے معاملے اور کائنات میں کہاں فٹ ہوں، اس کے لئے ہمارے بابوں نے غور کرنے اور سوچنے کے بعد اور بڑے لمبے وقت اور وقفے سے گزرنے کے بعد اپنی طرز کا طریق سوچا ہے، جس کے کئے رخ ہیں۔ آسان لفظوں میں وہ اس نئے طریق کو “ فکر“ یا “ مراقبے“ کا نام دیتے ہیں۔

اب یہ مراقبہ کیوں کیا جاتا ہے، اس کی کیا ضرورت ہے، کس لئے وہ بیٹھ کر مراقبہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی آخر حاصل کیا ہوتا ہے؟ مراقبے کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ کوئی ایسی مشین یا آلہ ایجاد نہیں ہوا، جو کسی بندے کو لگا کر یہ بتایا جا سکے کہ ? What am I? who am I کہ میں کیا ہوں؟ اس کے لئے انسان کو خود ہی مشین بننا پڑتا ہے، خود ہی سبجیکٹ بننا پڑتا ہے اور خود ہی جانچنے والا۔ اس میں آپ ہی ڈاکٹر ہے، آپ ہی مریض ہے۔ یعنی میں‌ اپنا سراغ رساں خود ہوں اور اس سراغ رسانی کے طریقے مجھے خود ہی سوچنے پڑتے ہیں کہ مجھے اپنے بارے میں کیسے پتا کرنا ہے۔ بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں، بڑے ہی پیارے، لیکن ان سے کچھ ایسی باتیں سرزد ہوتی رہی ہیں کہ وہ حیران ہوتے ہیں کہ میں عبادت گزار بھی ہوں، میں بھلا، اچھا آدمی بھی ہوں، لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ میں ہوں کون؟ اور پتا اسے یوں نہیں چل پاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوند تعالٰی نے انسان کے اندر اپنی پھونک ماری ہوئی ہے اور وہ چلی آ رہی ہے۔ اس کو آپ Erase نہیں کر سکتے۔ اس کو آپ پردہ کھول کر دیکھ نہیں سکتے، آپ ایک لفظ یاد رکھیئے گا Self یعنی “ذات“ کا۔ اقبال جسے خودی کہتا ہے۔ خودی کیا ہے؟ اس لفظ خودی کے لئے کئی الفاظ ہیں، لیکن “ ذات “ زیادہ آسان اور معنی خیز ہے۔

حضرت علامہ اقبال نے اس لفظ کو بہت استعمال کیا اور اس پر انہوں جے بہت غور بھی کیا۔ اب اس ذات کو جاننے کے لئے جس ذات کے ساتھ بہت سارے خیالات چمٹ جاتے ہیں، جیسے گڑ کی ڈلی کے اوپر مکھیاں آ چمٹتی ہیں یا پرانے زخموں پر بھنبھناتی ہوئی مکھیاں آ کر چمٹ جاتی ہیں۔ خیال آپ کو کنٹرول کرتا ہے اور وہ ذات وہ خوبصورت پارس جو آپ کے میرے اندر ہم سب کے اندر موجود ہے، وہ کستوری جو ہے وہ چھپی رہتی ہے۔ اس کو تلاش کرنے کے لئے اس اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ meditate (مراقبہ) کرتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی خوش قسمت کے پاس ایسا گُر آ جاتا ہے کہ وہ چند سیکنڈ کے لئے اس خیال کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کو دور کر دیتا ہے اور اس کو وہ نظر آتا ہے۔ لیکن خیال اتنا ظالم ہے کہ وہ اس خوبصورت قابل رشک زریں چیز کو ہماری نگاہوں کے سامنے آنے نہیں دیتا۔

جب آپ دو، تین چار مہینے کے تھے تو اس وقت آپ اپنی ذات کو بہت اچھی طرح سے جانتے تھے۔ جو معصومیت دے کر اللہ نے آپ کو پیدا کیا تھا، اس کا اور آپ کی ذات کا رشتہ ایک ہی تھا۔ آپ وہ تھے، وہ آپ تھا۔ ایک چیز تھا دو پونے دو سال یا کوئی سی بھی مدت مقرر کر لیں۔ جب خیال آ کر آپ کو پکڑنے لگا تو وہ پھر یہ ہوا کہ آپ گھر میں بیٹھے تھے۔ ماں کی گود میں۔ کسی کی بہن آئی انہوں نے آ کر کہا کہ اوہ ہو، نسرین یہ جو تمہارا بیٹا ہے یہ تو بالکل بھائی جان جیسا ہے۔ اس بیٹا صاحب نے جب یہ بات سن لی تو اس نے سوچا میں تو ابا جی ہوں۔ ایک خیال آ گیا نا ذہن میں، حالانکہ وہ ہے نہیں ابا جی۔ پھر ایک دوسری پھوپھی آ گئیں۔ انہوں نے آ کر کہا کہ اس کی تو آنکھیں بڑی خوبصورت ہیں، تو اس بچے نے سوچا میں تو خوبصورت آنکھوں والا ہیرو ہوں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ انسان نے اپنی ذات کے آگے سائن بورڈ لٹکانے شروع کر دیئے: ہیرو، رائٹر، لیڈر، پرائم منسٹر، خوبصورت اور طاقتور وغیرہ۔ اس طرح کے کتنے سارے سائن بورڈز لٹکا کر ہم آپ سارے جتنے بھی ہیں، نے اپنے اپنے سائن بورڈ لگا رکھے ہیں اور جب ملنے کے لئے آتے ہیں، تو ہم اپنا ایک سائن بورڈ آگے کر دیتے ہیں۔ کہ میں تو یہ ہوں اور اصل بندہ اندر سے نہیں نکلتا اور اصل کی تلاش میں ہم مارے مارے پھر رہے ہیں۔

خدا تعالٰی نے اپنی روح ہمارے اندر پھونک رکھی ہے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھائیں اس کی خوشبو ایک بار لیں، اس کے لئے لوگ تڑپتے ہیں اور لوگ جان مارتے ہیں۔ وہ ذات جو اللہ کی خوشبو سے معطّر ہے اس کے اوپر وہ خیال جس کا میں ذکر کر رہا ہوں اس کا بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے۔ وہ خیال کسی بھی صورت میں چھوڑتا نہیں ہے۔ اس خیال کو اس کستوری سے ہٹانے کے لئے مراقبے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ آدمی ذرا ٹھیک ہو۔ اس کو پتا چلے کہ وہ کیا ہے۔ اس سے پھر اسے نماز میں بھی مزا آتا ہے۔ عبادت، گفتگو، ملنے ملانے میں، ایک دوسرے کو سلام کرنے میں بھی مزا آتا ہے۔ ایک خاص تعلق پیدا ہوتا ہے، اس کے لئے جس کا بتانے کا میں نے وعدہ کیا تھا۔

آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ دو اوقات صبح اور شام صبح فجر پڑھنے کے بعد اور شام کو مغرب کے بعد (یہ اوقات ہی اس کے لئے زیادہ اچھے ہیں) آپ بیس منٹ نکال کر گھر کا ایک ایسا کونہ تلاش کریں، جہاں دیوار ہو، جو عمودی ہو، وہاں آپ چار زانو ہو کر “ چوکڑی “ مار کر بیٹھ جائیں۔ اپنی پشت کو بالکل دیوار کے ساتھ لگا لیں، کوئی جھکاؤ “ کُب“ نہ پیدا ہو۔ یہ بہت ضروری ہے، کیونکہ جو کرنٹ چلنا ہے، نیچے سے اوپر تک وہ سیدھے راستے سے چلے۔

اب ماڈرن زندگی ہے، بہت سے لوگ چوکڑی مار کر نہیں بیٹھتے۔ انہیں اجازت ہے کہ وہ کرسی پر بیٹھ جائیں، لیکن اس صورت میں پاؤں زمیں کے ساتھ لگے رہنے چاہیں۔ اور آپ کو Earth ہو کر رہنا چاہیئے۔ جب تک آپ ارتھ نہیں ہوں گے، اس وقت تک آپ کو مشکل ہو گی۔ پاؤں کے نیچے دری قالین بھی ہو تو کوئی بات نہیں، لیکن زمین ہو تو بہت ہی اچھا ہے۔ چونکہ فقیر لوگ جنگلوں میں ایسا کرتے تھے، وہ ڈائریکٹ ہی زمین کے ساتھ وابستہ ہو جاتے تھے۔ ہماری زندگی ذرا اور طرح کی ہے۔ جب آپ وہاں بیٹھ جائیں گے تو پھر آپ کو ایک سہارے کی ضرورت ہے۔ جس کو آپ پکڑ کر اس سیڑھی پر چڑھ سکیں، جو لگا لی ہے۔ صرف یہ جھانکھنے کے لئے کہ “ ذات“ کیا چیز ہے؟ اس کے لئے ہر کسی کے پاس ایک “ڈیوائس“ ایک آلہ ہے، جو سانس ہے، جو ساتھ ہے، بیٹھنے کے بعد آپ اپنے سانس کے اوپر ساری توجہ مرکوز کر دیں اور یہ دیکھیں کہ ہر چیز سے دور ہٹ کر جس طرح ایک بلی اپنا شکار پکڑنے کے لئے دیوار پر بیٹھی ہوتی ہے۔ اپنے شکار یعنی سانس کی طرف دیکھیں کہ یہ جا رہا ہے اور آ رہا ہے۔

اس کام میں کوتاہی یا غلطی یہ ہوتی ہے کہ آدمی سانس کو ضرورت سے زیادہ توجہ کے ساتھ لینے لگ جاتا ہے، یہ نہیں کرنا۔ آپ نے اس کو چھوڑ دینا ہے، بالکل ڈھیلا صرف یہ محسوس کرنا ہے کہ یہ کس طرح سے آتا ہے اور جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ پہلے دن تقریباً ایک سیکنڈ یا ڈیڑھ سیکنڈ تک سانس کے ساتھ چل سکیں گے۔ اس کے بعد خیال آپ کو بھگا لے جائے گا۔ وہ کہے گا کہ یہ بندہ تو اللہ کے ساتھ واصل ہونے لگا ہے۔ میں نے تو بڑی محنت سے اس کو خیالوں کی دنیا میں رکھا ہے (وہ خیال چلتا رہتا ہے، موت تک۔ لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ جی نماز پڑھنے لگتے ہیں تو بڑے خیال آتے ہیں)۔ وہ خیال آپ کو کہیں کا کہیں کافی دور تک لے جائے گا۔ جب آپ کو یہ خیال آئے کہ میں تو پھر خیال کے نرغے، گھیرے یا چُنگل میں آ گیا، چاہے اسے بیس منٹ بھی گزر چکے ہوں، آپ پھر لوٹیں اور پھر اپنے سانس کے اوپر توجہ مرکوز کر دیں اور جتنی دیر ہو سکے، سانس کو دیکھیں محسوس کریں۔

لیکن زیادہ کوشش نہیں کرنی اس میں جنگ و جدل اور جدوجہد نہیں ہے کہ آپ نے کوئی کُشتی لڑنی ہے۔ یہ ڈھیلے پن کا ایک کھیل ہے اور اسی معصومیت کو واپس لے کر آنا ہے جب آپ ایک سال کے تھے اور جو آپ کے اندر تھی یا چلنے لگے تھے، تو تھی۔ اس میں بچہ معصومیت کو لینے کے لئے زور تو نہیں لگاتا ہے ناں، جب یہ پروسِـس آپ کرنے لگیں گے تو آپ کا عمل ایسا ہونا چاہئے تھا، یا ہو جیسا کہ ٹینس کے کھلاڑی کا ہوتا ہے۔ ٹینس کھیلنے والا یا کھیلنے والی کی زندگی ٹینس کے ساتھ وابستہ ہے (یہ بات میں نے مشاہدے سے محسوس کی ہے)۔ آپ یہ کبھی گمان نہیں کر سکتے کہ ٹینس کا کھلاڑی آپ کو ہر حال میں ٹینس کورٹ میں اپنی گیم Improve کرتا ہی ملے گا۔ اگر غور سے دیکھیں تو ٹینس کا کھلاڑی ہم سے آپ سے بہت مختلف ہوتا ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ ٹینس ہی کھاتا ہے، ٹینس ہی پہنتا ہے، یہی پیتا ہے، ٹینس ہی پہنتا ہے اور ٹینس ہی چلتا ہے۔ یہ اس قدر اس پر حاوی اور طاری ہو جاتی ہے، اس معاملے میں بھی آپ چاہے مراقبے کے اندر ہوں یا باہر نکل آئے ہوں، آپ نے دفتر جانا، منڈی جانا ہے، کام پر جانا ہے، دکان پر جانا ہے، لیکن ٹینس کے کھلاڑی کی طرح آپ کے اندر یہ ایک طلب ہونی چاہئیے تھا، دل لگی ہونی چاہئیے تھا کہ میں نے ذات کے ساتھ ضرور واصل ہونا ہے۔

یہ سراغ رسانی کا ایک کھیل ہے۔ مثلاً میں اب آپ کے سامنے ہوں، فوت ہو جاؤں گا، بکری کی طرح۔ بکری آئی اس نے بچے دیئے، دودھ پیا، ذبح کیا۔ زندگی میں کوئی کام ہی نہیں تو یہ جاندار جو دوسرے جاندار ہیں، ان میں جان ضرور ہے، سب میں لیکن روح نہیں ہے۔ دیکھیئے اتنا سا فرق ہوتا ہے کئی لوگ کہہ دیتے ہیں ہمارے غیر مسلم دوست کہ جانوروں پر ظلم کرتے ہیں آپ ان کو کھا جاتے ہیں۔ کھاتے ہم اس لئے ہیں کہ ظلم تو جب ہوتا کہ اس کے اندر روح ہوتی اور اس میں ایک Sensibility ہوتی، وہ تو ہے ہی نہیں۔ جب وہیل مچھلی اپنا منہ کھولتی ہے تو تقریباً ساڑھے تین ہزار مچھلیاں ایک لقمے کے اندر اس کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا فلموں میں چھلانگ مار کر خود ہی جا رہی ہوتی ہے، تو یہ اس کی کیفیت ہے۔ اب آپ جاندار تو ہیں، لیکن آپ کے ساتھ روح ہے۔ اس روح کی تلاش کے لئے، اس کی الٹرا ساؤنڈ بننے کے لئے آپ کو خود مشکل میں جانا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔

یہ ایک بڑا پرلطف تجربہ یوں ہے۔ اچھا اس سے آپ کو کچھ ملے گا نہیں کہ جب آپ مراقبہ کریں گے، تو آپ کو انعامی بانڈ کا نمبر مل جائے گا، نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ لیکن آپ آسودہ ہونے لگیں گے۔ اتنے ہی آسودہ جتنے آپ بچپن میں تھے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ یہاں آپ اپنے بچوں کو، پوتوں کو، بھتیجوں کو دیکھیں گے۔ آج کے بعد دیکھیں گے کہ یہ کتنی آسودگی کے ساتھ بھاگا پھرتا ہے۔ اس کو کچھ پتہ نہیں اور اللہ بھی یہ فرماتا ہے۔ ہمارے بابے کہتے ہیں ان کا ایک اندازہ ہے کہ جب آپ جنت میں داخل ہوں گے یا جنت میں جانے لگیں گے تو اللہ گیٹ کے باہر کھڑا ہو گا اور جیسے گیٹ کیپر گیٹ پاس نہیں مانگا کرتا، آپ باہر جا کر کھڑے ہیں تو اللہ کہے گا کہ وہ معصومیت جو دے کر میں نے تمہیں پیدا کیا تھا، وہ واپس کر دو اور اندر چلو اور ہم سارے کہیں گے کہ سر! ہم نے تو بی اے بڑی مشکل سے کیا ہے اور بڑی چالاکی سے ایم اے کیا تھا۔ ہم تو معصومیت بیچتے رہے ہیں۔ وہ تو اب ہمارے پاس نہیں۔ اس معصومیت کی تلاش میں، اس روح کی تلاش کی ضرورت ہے۔ اس میں اگر کوئی اور کوتاہیاں وغیرہ ہو گئی ہیں، اس میں تو آئیں گی ضرور، کیونکہ سب سے تنگ کرنے والی چیز وہ خیال ہے، وہ مائنڈ ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جو وجود ہے ذات کا اور جو ذات ہے اللہ کی، وہ قلب ہے۔ یعنی ہمارا یہ ہارٹ جس کا بائی پاس ہوتا ہے۔ یہ نہیں قلب، اس کے قریب ہی اس کے ڈاؤن پر ایک ڈیڑھ انچ کے فاصلے پر قلب کا ایک مقام ہے، چونکہ یہ بھی نظر نہیں آتا ہم کو، روح کا معاملہ اور اللہ نے فرما بھی دیا ہے کہ ہم نے تم کو علم دیا ہے “ اِلّا قَلِیلاً “ تھوڑا ہے نہیں جان سکو گے روح کے بارے میں ؛ تو وہ اندازہ یہ لگاتے ہیں ‘ مائنڈ جو ہے وہ اس کے اوپر حملے کرتا رہتا ہے اور وہ دیکھتا رہتا ہے کہ میں نے کس طرح سے آدمی کو پکڑ کے پھر پنجرے میں قید کرنا ہے۔ یہ وعدہ تھا بڑی دیر کا وہ آخر کار پورا ہوا۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15