نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

شک

میں ایک بہت ضروری اور اہم بات لے کر گھر سے چلا تھا لیکن سٹوڈیو پہنچنے سے پہلے ایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا جس سے میرا سارا ذہن اور آپ سے بات کرنے کا سوچا ہوا انداز ہی تبدیل ہوکر رہ گیا اور جو بات میرے ذہن میں تھی، وہ بھی پھسل کر ایک اور جگہ مقیَّد ہو گئی ہے۔ میں جب گھر گیا تو میں نے دیکھا کہ میرے بیوی نے ہمارا ایک نیا ملازم جو گاؤں سے آیا ہے، اس کم سن کے ہاتھ کے ساتھ ایک چھوٹی سی رسی باندھ کر اسے چارپائی کے پائے کے ساتھ باندھ کے بندر کی طرح‌بٹھایا ہوا ہے۔ میں نے کہا، یہ کیا معاملہ ہے؟ وہ کہنے لگی اس نے میرے پرس میں سے ایک پانچ سو کا، دو سو سو اور تین نوٹ دس دس روپے کے چرا لئے ہیں اور اس نے یہ سات سو تیس روپے کی چوری کی ہے۔ یہ ابھی نیا نیا آیا ہے اور اس کی آنکھوں میں‌دیکھو صاف بے ایمانی جھلکتی ہے۔ میں نے کہا، مجھے تو ایسی کوئی چیز نظرنہیں آتی۔ کہنے لگی، نہیں آپ کو اندازہ نہیں ہے، جب یہ آیا تھا تب اس کے کان ایسے نہیں تھے اور اب جب اس نے چوری کر لی ہے تو اس کے کانوں‌میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا، دیکھئے یہ آپ شک وشبہ کی بات کرتی ہیں۔ اس حوالے سے آپ یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں۔ خدا کے واسطے اسے چھوڑ دو۔ تو کہنے لگی کہ میں اسے کچھ کہوں گی تو نہیں اور نہ ہی اسے کوئی سزا دوں گی لیکن میں نے اسے باندھ کے اس لئے بٹھایا ہے کہ اسے اندازہ ہو کہ ایک اچھے گھر انے میں جہاں اس کے ساتھ اچھا برتاؤ ہو رہا ہے، اس نے کس قسم کی غلط حرکت کی ہے۔ ابھی ہم اس گفتگو میں مشغول ہی تھے کہ میرا چھوٹا بیٹا گھر آیا اور اس نے آتے ہی پکار کر کہا کہ امی آپ تھیں‌نہیں اور مجھے باہر جانا تھا تو میں نے آپا کے پرس سے سات سو بیس روپے کے قریب رقم لی تھی۔ یہ آپ واپس لے لیں۔ اب اس کی ماں‌نے پیسے تو پکڑ لئے اور لوٹ کے اس بندر (لڑکے) کی طرف نہیں‌دیکھا جو ہاتھ پر رسی بندھوا کر چارپائی کے پاس بیٹھا تھا اور میں‌ شرمندہ کھڑا تھالیکن مجھ میں تھوڑی سی ایسی تمکنت ضرور تھی کہ جیسے ایک چھوٹے لیول کے بادشاہوں میں ہوا کرتی ہے۔ میں نے کہا بتائیے! وہ کہنے لگی، دیکھیں مجھے تو تقریباً اس لڑکے کی حرکت ہی لگی تھی۔ میں نے کہا کہ شک و شبہ اور ظن میں ایسے ہی ہواکرتا ہے اور اس میں آدمی بغیر کسی منطق کے، بغیر کسی دلیل کے اور بغیر کسی الجھن کے الجھ جاتا ہے اور یہ اکیلا فرد ہی نہیں، قومیں اور ملک بھی اس میں الجھ جاتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ملک کو دوسرے ملک پہ شک پڑ گیا کہ اس نے میرے خلاف کاروائی کی اور تاریخ کے واقعات اس کے شاہد ہیں کہ ایسا بھی ہوا کہ اس ملک نے دوسرے پر حملہ کر دیا اور بغیر سوچے سمجھے، ثبوت حاصل کئے ہزاروں لاکھوں جانیں ختم کر دیں۔ میں جب سٹوڈیو آ رہا تھا تو بات آپ سے کچھ اور کہنی تھی لیکن مجھے اپنی آپا صالح یاد آ گئیں۔ وہ عمر میں ہم سے ذرا سی بڑی تھیں اور ہم جب بی۔اے اور ایم۔اے میں تھے تو اس وقت ان کی شادی ہو چکی تھی اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ ولایت چلی گئیں اور وہاں ایک عرصہ تک رہیں۔ جب دبئی معرضٍ وجود میں‌آ یا تو پھر وہ لوگ دبئی آ گئے۔ یہاں‌انہوں نے کچھ سرکاری اور کچھ نیم سرکاری کام کئے۔ لوٹ کر وہ پھر ولایت چلی گئیں اور وہاں جا کر انہوں نے اپنا وہی پرانا کام سنبھال لیا جو وہ اپنی کمپنی میں کرتے تھے۔ایک روز کسی انگریز خاتون نے صالح‌آپا کو بتایا کہ اگر پلاٹینیم کے زیورات کو موٹے باجرے کے آٹے میں‌رکھا جائے تو ان کی دَکھ(چمک) میں بڑا اضافہ ہوتا ہے اور یہ بہت صاف ستھرے ہو جاتے ہیں اور بس یہ ایسا علاج اور نسخہ ہےکہ اس سے بہتر پلاٹینیم کے زیورات کے لئے وجود میں نہیں آیا۔ اب ظاہر ہے کہ خواتین کی کاسمیٹک اور زیورات سے گہری دلچسپی ہوتی ہے اور وہ ان کی بابت زیادہ گفتگو کرتی ہیں۔ آپا صالح کو بھی اس خاتون کی بات بڑی دل کو لگی۔ چنانچہ انہوں نے باجرے کا آٹا حاصل کیا اور اس میں اپنے کان کے دو بالے دبا دئے۔ صبح‌اٹھ کر انہوں نے آٹے کی پڑیا کھولی تو حیران رہ گئیں کہ آٹے میں صرف ایک ہی بالا تھا اور دوسرا بالا موجود نہیں تھا۔ اب وہ پریشان ہو گئیں کیونکہ پلاٹینیم کا بالا کچھ کم قیمت کا تو ہوتا نہیں۔ اس کمرے میں‌سوائے ان کے اور ارشد بھائی (ان کے خاوند) کے کوئی تھا بھی نہیں۔ اب جب ارشد بھائی غسل خانے سے شیو بنانے کے بعد باہر نکلے تو آپا صالح‌کہتی ہیں‌کہ مجھے پہلی مرتبہ باوجود اس کے کہ وہ میرے خاوند ہیں اور ہماری شادی کو 21 برس ہو گئے ہیں لیکن وہ مجھے چہرے سے چور نظر آئے اور ایسے محسوس ہوا کہ انہوں نے راتوں ‌رات وہ بالا چرا لیا ہے اور وہاں پہنچانے کی کوشش کی ہے جہاں‌میری منگنی سے پہلے ان کی کسی دوسری رشتہ دار لڑکی کے ساتھ منگنی طے ہو رہی تھی اور وہ لڑکی (ظاہر ہے اب تو وہ عورت ہو چکی ہوگی) لندن آئی ہوئی تھی اور اس کا ٹیلی فون ارشد صاحب کو آیا تھا جس میں اس نے ارشد کو بتایا تھا کہ میں اور میرا خاوند لندن آئے ہوئے ہیں اور ہم ملنا چاہتے ہیں۔ بتائیے ہم کب آ سکتے ہیں۔ اب آپا صالح‌کو پکا یقین ہو گیا کہ یہ بالا سوائے ارشد بھائی کے اور کسی نے نہیں چرایا، کیونکہ کمرے میں اور کوئی تھا ہی نہیں۔چنانچہ تین چار روز انہوں نے بڑے کرب کی کیفیت میں گزارے اور جب وہ خاتون جن سے شاید ارشد بھائی کی شادی ہو جاتی کیونکہ دونوں گھرانوں کے درمیان ہاں‌بھی ہو گئی تھی لیکن کسی وجہ سے وہ ہاں ناں ‌میں‌ تبدیل ہو گئی۔ وہ اپنے خاوند کے ساتھ ارشد بھائی سے آ کر ملی تو آپا سارا وقت ٹکٹکی باندھ کر ارشد بھائی کے چہرے کی طرف دیکھتی رہیں اور انہیں ارشد صاحب کے چہرے پر سے بھی ایسے آثار واضح نظر آرہے تھے کہ انہوں نے بالا چرایا ہے اور اس خاتون کو دے د یا ہے یا اس کو بعد میں‌پہنچا دیں گے۔ اب ارشد بھائی اور صالح آپا کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج حائل ہو گئی اور وہ شک و شبہ میں زندگی بسر کرنے لگے۔ باوجود اس کے کہ ارشد بھائی بار بار پوچھتے تھے کہ تمہاری طبعیت پر مجھے کچھ بوجھ سا لگتا ہے لیکن صالح‌آپا نفی میں سر ہلا دیتیں اور کہتیں کہ خیر جو ہونا تھا، ہو چکا لیکن انہیں اپنے قیمتی بالے کے گم ہونے کا افسوس ہے۔ ارشد بھائی کو بھی اس بات کا بہت افسوس تھا کہ وہ بالا اگر گم ہو گیا ہے تو اسے تلاش کیا جانا چاہئے لیکن چونکہ آپ کی نظر میں‌خود چور تھے، اس لئے وہ تلاش کرنے میں ارشد بھائی کی کوئی مدد نہیں کرتی تھیں۔ پانچویں ‌روزاس کمرے میں تھوڑی سی بدبو کے آثار پیدا ہوئے۔ شام تک وہ بدبو کافی بڑھ گئی۔ پھر یہ ڈھونڈیا پڑی کہ وہ بدبو کہاں‌سے آ رہی ہے۔ چنانچہ سارے کونے کھدرے تلاش کئے گئے اور ایک بڑا سا قالین جو کہ اخباروں کے اوپر پڑا ہوا تھا اور پرانے اخباروں کی ٹوکری اس پر اوندھی لیٹی ہوئی تھی جب وہ اٹھا کر دیکھا گیا تو اس کے نیچے ایک چوہا مرا ہوا پڑا تھا اور اس چوہے کے گلے میں‌وہ پلاٹینیم کا بالا پھنسا ہوا تھا۔ رات کو وہ باجرے کا آٹا کھانے آیا اور شوق میں اپنا منہ دھنساتا ہوا اتنی دور لے گیا کہ بالا اس کے حلق کا پھندا بن گیا اور پھر وہ اسے پنجوں‌کی کوشش کے باوجود نکال یا اتار نہ سکا اور اس کا دم گھٹ گیا، بڑی مشکل کے ساتھ اس سڑی ہوئی لاش سے وہ بالا چھڑایا گیا اور صالح‌آپا کو اطمینان نصیب ہوا جو اللہ کے فضل سے اب تک ہے۔ شک و شبہ کی دنیا بڑی عجیب و غریب ہوتی ہے اور اس پر کسی کا بس نہیں چلتا۔ جب یہ ایک بار ذہن میں‌جاگ اٹھتی ہے تو اس کا ذہن سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نفسیات دان یہ کہتے ہیں کہ شک کے نکلنے کے لئے ہمارے پاس کوئی فارمولا نہیں ‌ہے جو Apply کر کے انسان کو شک و شبہ کی اذیت سے نجات دلا دے۔ البتہ اللہ ضرور اس بات کا حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں‌کی ٹوہ میں‌نہ رہا کرو۔ یہ مت دیکھو کہ اس کے گھر میں کیا آیا ہے، اس کو کون ملنےآیا۔ اس کو چھوڑو، وہ اللہ کا بندہ ہے اور اسے اللہ ہی پوچھے گا اور تم زیادہ تجسس میں‌نہ پڑو، یہ اللہ کا حکم ہے۔ اسی طرح جب آپ شک میں پڑتے ہیں تو آپ اس حکم کو یقیناً چھوڑ دیتے ہیں جو بڑے واضح انداز میں Categorically اللہ نے ہم، آپ اور سب کو کہہ دیا ہے کہ ایسے “سُوں“ (جاسوسی) لینے کے لئے اور ایسی سی آئی ڈی کرنے کے لئے مت جایا کرو۔ اپنی زندگی کے اندر کوئی سی آئی اے (CIA)، کوئی کے جی بی (KGB) نہ بنائیں، کوئی موساد، کوئی راء‌ نہ بنائیں ورنہ آپ کی زندگی عذاب میں ‌پڑ جائے گی۔ جن ملکوں‌نے ایسے ادارے بنائے ہیں بظاہر تو وہ بہت خوش ہیں اور ان پر فخر کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ اس قسم کے ادارے ان کو ایسی الجھنوں میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ پھر ان سے نکل ہی نہیں سکتے۔ شک کے حوالے سے مجھے بڑی گزری باتیں یاد آ رہی ہیں۔ جوانی میں‌ مجھے درختوں اور پودوں سے بڑا شغف تھا۔ اس وقت میرے پاس ایک چھوٹی آری ہوا کرتی تھی جس سے میں‌درختوں کی شاخیں‌کاٹتا تھا اور ان کی اپنی مرضی سے تراش خراش کیا کرتا تھا اور ہمارے ہمسائیوں کا ایک بچہ جو پانچویں، چھٹی میں ‌پڑھتا ہوگا۔ وہ اس ولایتی آری میں ‌بہت دلچسپی لیتا تھا۔ ایک دو مرتبہ مجھ سے دیکھ بھی چکا تھا اور اسے ہاتھ سے چھو کر بھی دیکھ چکا تھا۔ ایک روز میں نے اپنی وہ آری بہت تلاش کی لیکن مجھے نہ ملی۔ میں نے اپنے کمرے اور ہر جگہ اسے تلاش کیا لیکن بے سود۔ اب جب میں گھر سے باہر نکلا تو میں نے پڑوس کے اس لڑکے کو دیکھا۔ اس کی شکل، صورت، چلنے بات کرنے کا انداز، سب بدل گیا تھا۔ جیسے جو ملک دوسرے پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں‌کہ یہ Culprit ہے یا اس نے کوئی ایسی کوتاہی کی ہے جو ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوئی اور ان کو یہ لگنے لگتا ہے کہ اس میں‌یہ یہ خرابی ہے اور مجھے بھی پڑوس کے اس لڑکے پر سارے شک وارد ہونے لگے۔ اب مجھے ایسا لگتا کہ جس طرح وہ پہلے مسکراتا تھا، اب ویسے نہیں مسکراتا۔ مجھے ایسے لگتا جیسے وہ مجھے اپنے دانتوں کے ساتھ چڑا رہا ہو۔ اس کے کان جو پہلے چپٹے تھے، وہ اب مجھے کھڑے دکھائی دیتے اور اس کی آنکھوں ‌میں‌ایسی چیز دکھائی دیتی جو ایک آری چور کی آنکھوں میں نظر آ سکتی ہے لیکن مجھے اس بات سے بڑی تکلیف ہوئی جیسے صالح‌آپا کو بھی ہوتی تھی۔ جب میں نے اس آری کو گھر میں موجود پایا کیونکہ میں‌خود ہی اس آری کو اٹھا کر گھر کے اندر سے آیا تھا اور ایک دن ایسے ہی اخباروں کی الٹ پلٹ میں مجھے وہ آری مل گئی، جب مجھے وہ آری مل گئی اور میں شرمندگی کے عالم میں باہر نکلا تو یقین کیجئے وہی لڑکا مجھے اپنی ساری خوبصورتیوں اور بھولے پن کے ساتھ اور ویسی ہی معصومیت کے ساتھ مجھے نظر آرہا تھا۔ میں‌کہاں تک آپ کو یہ باتیں سناتا چلا جاؤں؟ آپ خود سمجھدار ہیں اور جانتے ہیں شک کی کیفیت میں‌ پوری بات ہاتھ میں نہیں آتی۔‌ اس موقع پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آرہا ہے

مشامٍ تیز سے صحرا میں‌ملتا ہے سراغ اس کا ظن و تخمیں سے ہاتھ آتا نہیں آہوئے تاتاری

جو قومیں شک وشبہ سے یہ اندازہ لگا لیتی ہیں کہ میرے نگاہوں میں‌جو Culprit ہے، بس وہی مجرم ہے، غلط اور شک پر مبنی اندازوں سے اصل بات یا آہوئے تاتاری گرفت میں نہیں آتا ہے۔ آپا صالح کا ذکر کرتے ہوئے مجھے اپنے ایک دوست سعید اللہ صاحب یاد آ گئے، وہ سائیکالوجی کے پروفیسر تھے اور وہ لندن پی ایچ ڈی کرنے گئے تھے۔ جب وہ پی ایچ ڈی کر رہے تھے اور وہاں انہیں تین چار سال ہو گئے تھے (اس زمانے میں پی ایچ ڈی ذرا مشکل کام تھا) تو ان کی بیوی کے ساتھ ایک عجیب و غریب حادثہ گزرا۔ وہ جب تہہ خانے میں نہانے کے لئے جاتی اور پانی گرم کرنے والا الیکٹرک راڈ پانی میں ڈال کر کپڑے اتار کر نہانے لگتی تو عین اسی وقت ان کے ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھتی تھی اور وہ دوبارہ سے کپڑے پہن کر سیڑھیاں چڑھ کے ٹیلی فون کا ریسیور اٹھا کر جب ہیلو کہتی تو انہیں کوئی جواب نہیں ملتا تھا اور ان کے ساتھ یہ واقعہ تقریباً ہر روز پیش آتا۔ اس پر پروفیسر سعید اللہ صاحب نے وہاں کی پولیس کو اطلاع کر دی اور پولیس نے تفتیش اور تحقیق شروع کر دی۔ جب ہماری آپا (پروفیسر دوست کی اہلیہ) نہانے کے لئے نیچے گئیں اور انہوں نے کپڑے اتارے تو گھنٹی بجی۔ پولیس والوں نے فون اٹھایا لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ پولیس اس حوالے سے تحقیق جاری رکھنے کا کہہ کر چلی گئی۔ اب پروفیسر کو اندازہ ہوا کہ ہمارے سامنے جو مکار اور موٹا سا آدمی جس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی، رہتا ہے یہی فون کرتا ہوگا اور وہ تھا بھی کچھ بدتمیز قسم کا۔ چنانچہ پولیس نے بھی اس کے نمبر پر پہرہ بٹھا دیا۔ حالانکہ وہ شخص فون نہیں کرتا تھا۔ پولیس نے ایکسچینج سے بھی پتہ کیا لیکن وہاں سے پروفیسر صاحب کے نمبر پر کوئی فون کال آنے کی بابت تصدیق نہ ہوئی۔ لندن کا یہ واقعہ اتنا مشہور ہوا اور یہ ذرائع ابلاغ کی زینت بن گیا۔ ہر چھوٹے بڑے صبح، دوپہر کے اخبارات میں اس بات کا ذکر ضرور آتا تھا۔ ابھی تک وہ ملزم گرفتار نہیں ہوا اور اس چور کا پتہ نہیں چل سکا۔ چنانچہ سب تھک ہار کر بیٹھ گئے۔ پروفیسر سعید اللہ صاحب کی بیوی نے کہا کہ اب اسے اس ملک میں نہیں رہنا اور انہیں یہاں سے چلے جانا چاہئے کیونکہ یہاں‌کے لوگ بدتمیز اور بدمعاش ہیں اور ان کا اندازٍ زیست شریفوں والا نہیں ہے۔ پروفیسر صاحب نے کہا کہ میرا تھوڑا ساکام باقی رہ گیا ہے، وہ ختم کر لیں تو چلتے ہیں۔ ان کی بیوی نے کہا کہ دفع کرو، کیا پی ایچ ڈی کے بغیر زندگی بسر نہیں ہوتی؟جب پروفیسر صاحب پر اہلیہ کا شدید دباؤ پڑا تو انہیں پی ایچ ڈی بالکل غرق ہوتی نظر آئی تو انہوں نے کہا کہ میں اس کی تحقیق کرتا ہوں۔ پروفیسر صاحب بتایا کرتے ہیں کہ وہ کسی زمانے میں ریڈیو کے ٹرانسسٹر بنایا کرتے تھے۔ ان ٹرانسسٹرز کو کرسٹل سیٹ کہا جاتا تھا جس میں ایک لمبے سے ایریل کو نیچے گملے وغیرہ میں ارتھ دے کر گھمایا جاتا تھا اور کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی اسٹیشن پکڑا ہی جاتا تھا۔ یہ سن سینتیس اڑتیس (1937۔38 ع) کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا الیکٹرانکس کا علم جتنا بھی ہے، اسے استعمال کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اس فون کے بجنے کی آواز پر اپنے کان رکھے اور جونہی نیچے ان کی بیوی نہانے کے لئے گئیں، انہوں نے آواز دے کر کہا، بیگم راڈ لگایا، جب آواز آئی ہاں تو پروفیسر صاحب نے کہا، دیکھو ابھی گھنٹی بجی! اور عین اسی وقت گھنٹی بج اٹھی۔ اس پر پروفیسر صاحب نے تحقیق شروع کر دی اور 6 دن کے اندر اندر انہوں نے چور پکڑ لیا، جو ساری لندن پولیس اور کانسٹیبلری سے پکڑا نہ جا سکا تھا۔ وہ چور پروفیسر صاحب نے پکڑ لیا۔ چور یہ تھا کہ جب وہ بجلی کا راڈ آن ہوتا تھا اور پانی ابالنے کے لئے اس میں ڈالا جاتا تھا تو اس بجلی کی تار کے قریب سے فون کی تار نیچے زمین سے گزرتی تھی۔ جونہی وہ بجلی کی تار Energize ہوتی، وہ فون کی تار کو بھی Heat Up کر دیتی تھی اور اس وجہ سے فون کی تار کرنٹ محسوس کر کے گھنٹی بجانا شروع کر دیتی تھی اور اس میں کوئی آدمی ملوث نہیں تھا۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ جس کرب کی حالت میں انہوں نے وہ پورا سال گزارا تھا، وہ یا میں جانتا ہوں یا میری بیوی جانتی ہے۔ اس طرح‌کے واقعات حیاتِ انسانی میں گزرتے رہتے ہیں اور اب بھی گزررہے ہیں تو اس عذاب سے نکلنے کے لئے روحانی طور پر اللہ سے مدد مانگی جا سکتی ہے کیونکہ اس نے شک سے منع فرمایا ہے۔ ہم خدا سے مدد مانگ کر اس قسم کے کربناک مرض سے باہر نکل سکتے ہیں۔ اگر کبھی آپ کو ایسی مشکل درپیش ہو کہ ہم شک و شبہ یا ظنّ میں مبتلا ہو جائیں‌تو پھر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر اور اپنا آپ سارے کا سارا ڈھیلا چھوڑ کر خود کو اس کے حوالے کر کے اس کا حل تلاش کریں تو اس کا حل تلاش کرنا ممکن ہے۔

میں‌آپ کو آخر میں یہ تسلی دے دوں کہ اس بچے کو جس کو میری بیوی نے شک میں باندھ دیا تھا، اس سے ہم دونوں میاں بیوی نے معافی مانگ لی ہے اور میرا بیٹا اس کو اپنے ساتھ لے جا کر کچھ مٹھائی شٹھائی بھی کھلا چکا ہے۔ ایسے واقعات رونما ہو تے رہتے ہیں لیکن ان کو بڑی بصیرت، خوش دلی، سبھاؤ اور برداشت کے ساتھ نمٹانا چاہئے۔ اگر جلد بازی اور خوش دلی سے کام نہ لیا گیا تو وہی صورتِ حال ہو گی جو میری آری چور کے بارے میں ہو گئی تھی یا دیگر واقعات کی مانند۔ اب اجازت چاہوں گا۔ 
 اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں‌تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ فی امان اللہ۔
بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: قیصرانی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15