نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ترقی کا ابلیسی ناچ

آج سے چند روز پہلے کی بات ہے، میں ایک الیکٹرونکس کی شاپ پر بیٹھا تھا تو وہاں ایک نوجوان لڑکی آئی۔ وہ کسی ٹیپ ریکارڈر کی تلاش میں تھی۔ دُکاندار نے اسے بہت اعلٰی درجے کے نئے نویلے ٹیپ ریکارڈر دکھائے لیکن وہ کہنے لگی مجھے وہ مخصوص قسم کا مخصوص Made کا مخصوص نمبر والا ٹیپ ریکارڈر چاہئے۔ دکاندار نے کہا، بی بی یہ تو اب تیسری Generation ہے، اس ٹیپ ریکارڈر کی اور جو اب نئے آئے ہیں، وہ اس کی نسبت کارکردگی میں زیادہ بہتر ہیں۔ لڑکی کہنے لگی کہ یہ نیا ضرور ہے لیکن میرا تجربہ کہتا ہے کہ یہ اس سے بہتر نہیں۔ میں بیٹھا غور سے اس لڑکی کی باتیں سننے لگا کیونکہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ تھیں اور وہ الیکٹرونکس کے استعمال کی ماہر معلوم ہوتی تھی۔ انجینئر تو نہیں تھی لیکن اس کا تجربہ اور مشاہدہ خاصا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ آپ مجھے مطلوبہ ٹیپ ریکارڈر تلاش کر دیں۔ میں آپ کی بڑی شکر گزار ہوں گی۔ میں نے اس لڑکی سے پوچھا۔ بی بی آپ اس کو ہی کیوں تلاش کر رہی ہیں؟ اس نے کہا کہ ایک تو اس کی مشین بہتر تھی اور اس کو میری خالہ مجھ سے مانگ کر دبئی لے گئی ہیں اور میں ان سے واپس لینا بھی نہیں چاہتی لیکن اب جتنے بھی نئے بننے والے ٹیپ ریکارڈرز ہیں، ان میں وہ خصوصیات اور خوبیاں نہیں ہیں جو میرے والے میں تھیں۔ اس واقعہ کے دوسرے تیسرے روز مجھے اپنے ایک امیر دوست کے ساتھ کاروں کے ایک بڑے شو روم میں جانے کا اتفاق ہوا۔ شو روم کے مالک نے ہمیں کار کا ایک ماڈل دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ ماڈل تو ابھی بعد میں آئے گا لیکن ہم نے اپنے مخصوص گاہکوں کے لئے اسے پہلے ہی منگوا لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ماڈل میں پہلے کی نسبت کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور یہ کمال کی گاڑی بنی ہے۔ میں نے استفسار کیا کہ کیا پچھلے سال کی گاڑی میں کچھ خرابیاں تھیں جو آپ نے اب دور کر دی ہیں؟ وہ خرابیوں کے ساتھ ہی چلتی رہی ہے، اس میں‌کیا اتنے ہی نقائص تھے جو آپ نے دور کر دیئے ؟ کہنے لگے نہیں اشفاق صاحب یہ بات نہیں۔ ہم کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اس میں جدت آتی رہے اور اچھی، باسہولت تبدیلی آتی رہے۔ تو یہ سن کر میرا دماغ پیچھے کی طرف چل پڑا اور مجھے یہ خیال آنے لگا کہ ہر نئی چیز، ہر پیچیدہ چیز، ہر مختلف شے یقیناً بہتر نہیں ہوتی۔ اس مرتبہ میری سالگرہ پر میری بیوی نے مجھے کافی پرکولیٹر دیا اور وہ اسے خریدنے کے بعد گھر اس قدر خوش آئیں کہ بتا نہیں سکتا۔ کہنے لگیں میں بڑے عرصے سے اس کی تلاش میں تھی۔ یہ بالکل آپ کی پسند کا ہے اور یہ آپ کو اٹلی کی یاد دلاتا رہے گا۔ آپ اس میں کافی بنایا کریں۔ میں نے دیکھا، وہ بالکل نیا تھا اور اس میں پلاسٹک کا استعمال زیادہ تھا لیکن اس کا پیندا کمزور تھا اور وزن زیادہ تھا۔ دوسرا اس کی بجلی کے پلگ تک جانے والی تار بھی چھوٹی تھی اور جب میں نے اسے لگا کر استعمال کیا تو اس میں پانی کھولانے کی استطاعت تو زیادہ تھی لیکن کافی بھاپیانے کی طاقت اس میں بالکل نہیں تھی۔ چنانچہ میں ان کا (بانو قدسیہ) دل تو خراب کرنا نہیں چاہتا تھا اور میں نے کہا، ہاں یہ اچھا ہے لیکن فی الحال میں اپنے پرانے پرکولیٹر سے ہی کافی بناتا رہوں گا۔ جب وہ چلی گئیں تو اس وقت میں نے کہا “ یا اللہ (میں نے اللہ سے دعا کی جو میری دعاؤں میں اب بھی شامل ہے) مجھے وہ صلاحیت اور استطاعت عطا فرما کہ اگر تو نئی چیز اور طرحِ نو کی کوئی اختراع وہ بہتر ثابت ہو بنی نوع انسان کے لئے اور تیری بھی پسند کی ہو تو وہ تو میں اختیار کروں، لیکن صرف اس وجہ سے کہ چونکہ یہ نئی ہے، کیونکہ لوگوں کا گھیرا اس کے گرد تنگ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ یہ توجہ طلب ہے تو اس لئے میں اس سے دور رہوں۔“ چنانچہ یہ بات میرے دل میں اتر گئی اور میں Progress کے بارے میں سوچتا رہا کہ ترقی جس کے پیچھے ہم سارے بھاگے پھرتے ہیں اور جس کے بارے میں جگہ بہ جگہ، گھروں میں، گھروں سے باہر، محلوں شہروں میں، حکومتوں اور اس کے باہر ترقی کی جانب ایک بڑی ظالم دوڑ جاری ہے۔ اس دوڑ سے مجھے ڈر لگتا ہے کہ حاصل تو اس سے کچھ بھی نہیں ہو گا کیونکہ ترقی میں اور فلاح میں بڑا فرق ہے۔ میں اور میرا معاشرہ، میرے اہل و عیال اور میرے بال بچے فلاح کی طرف جائیں تو میں ان کے ساتھ ہوں، خالی ترقی نہ کریں۔ خواتین و حضرات، یہ انتہائی غور طلب بات ہے کہ کیا ہم ترقی کے پیچھے بھاگیں یا فلاح کی جانب لپکیں اور اپنی جھولیاں فلاح کی طرف پھیلائیں۔ لاہور کے قریب گوجرانوالہ شہر ہے۔ اس میں Adult ایجوکیشن (تعلیم بالغاں) کے بڑے نامی گرامی سکول ہیں۔ مجھے ان Adult Education کے سکول میں ایک دفعہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں کسان، زمیندار، گاڑی بان تعلیم حاصل کر رہے تھے اور اس بات پر بڑے خوش تھے کہ چونکہ انہوں نے تعلیم حاصل کر لی ہے اور وہ فقروں اور ہندسوں سے شناسا ہو گئے ہیں۔ اس لئے اب انہوں نے ترقی کر لی ہے۔ چنانچہ وہاں ایک بہت مضبوط اور بڑا ہنس مکھ سا گاڑی بان تھا۔ میں نے کہا کیوں جناب گاڑی بان صاحب، آپ نے علم حاصل کر لیا؟ کہنے لگا، ہاں جی میں نے علم حاصل کر لیا ہے۔ میں نے کہا، اب آپ لکھ پڑھ سکتے ہیں، کہنے لگے لکھنے کی تو مجھے پریکٹس نہیں ہے البتہ میں پڑھ ضرور لیتا ہوں۔ میں نے کہا آپ کیا پڑھتے ہیں؟ کہنے لگا جب میں سٹرک پر سے گزرتا ہوں تو جو سنگِ میل ہوتا ہے میں اب اسے پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اس سنگِ میل پر کیا کچھ لکھا ہوتا ہے۔ کہنے لگا میں ہر سنگِ میل پر یہ تو پڑھ لیتا ہوں کہ اسی میل یا ستر میل لیکن کہاں کا اسی میل، کہاں کا ستر میل۔ یہ مجھے کبھی پتہ نہیں لگا کہ کس طرف ہے۔ یہ ستر میل کہاں کے ہیں۔ اس کے باوجود وہ کہہ رہا تھا کہ میں ترقی یافتہ ہو گیا ہوں اور میں نے اب ترقی کر لی ہے۔ یہ اس قسم کی ترقی ہے (مسکراتے ہوئے‌) یہ راہ میں نئی چیز ہونے کے باوصف بڑی حائل ہوتی ہے۔ میں اس پر کافی حد تک سوچتا اور غور کرتا رہتا ہوں کہ اے میرے اللہ کیا ہم ہر نئی شے کو ہر Modern چیز کو اپنا لیں۔ یہ تو وہ تھا جو گزشتہ دنوں میرے ساتھ پیش آیا اور میں نے اس کی دعا کی کہ یا اللہ میں تجھ سے اس بات کا آرزومند ہوں کہ کچھ پرانی چیزیں جو ہیں، میں ان کا ساتھ دیتا رہوں مثلاً میں پرانی زمین کا ساتھ دیتا رہوں، میں پرانے چاند ستاروں کا ساتھ دیتا رہوں۔ اے اللہ میں اپنے پرانے دین کے ساتھ وابستہ رہوں اور یا اللہ میری بیوی سے جو 38 سال پرانی شادی ہے، میری آرزو ہے کہ وہ بھی پرانی ہی رہے اور اسی طرح چلتی رہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے دوست اور میرے جاننے والے مجھ پر ضرور ہنسیں گے اور مجھے ایک دقیانوس انسان سمجھیں گے اور میرا مذاق، ٹھٹھہ اڑائیں گے اور مجھے بہت Fundamentalist سمجھیں گے، بنیاد پرست خیال کریں گے لیکن میں کوشش کر کے، جرأت کر کے بہت ساری چیزوں کے ساتھ وابستہ رہتا ہوں۔ انہیں چاہتا ہوں اور کچھ نئی چیزیں جو میری زندگی میں داخل ہو کر میرے پہلوؤں سے ہو کر گزر رہی ہیں، ان میں جو ٹھیک ہے، جو مناسب ہے، جو مجھے فلاح کر طرف لے جاتی ہوں، میں ان کی طرف مائل ہونا چاہتا ہوں اور مجھے یہ یقین ہے کہ خدا میری دعا یقیناً قبول کر لے گا۔ جہاں تک تبدیلی کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اگر آپ غور کریں تو ایسی کوئی تبدیلی آئی ہی نہیں ہے یا آتی نہیں جیسی کہ آنی چاہئے۔ اگر آپ تاریخ کے طالبعلم ہیں بھی تو یقیناً آپ تاریخ کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ آپ نے ضرور پڑھا ہو گا یا کسی داستان گو سے یہ کہانی سنی ہو گی کہ پرانے زمانے میں جب شکاری جنگل میں جاتے تھے اور شکار کرتے تھے، کسی ہرن، نیل گائے کا یا کسی خونخوار جانور کا تو وہ ڈھول تاشے بجاتے تھے اور اونچی اونچی گھنی فصلوں میں نیچے نیچے ہو کر چھپ کر اپنے ڈھول اور تاشے کا دائرہ تنگ کرتے جاتے تھے اور اس دائرے کے اندر شکار گھبرا کر، بے چین ہو کر، تنگ آ کر بھاگنے کی کوشش میں پکڑا جاتا تھا اور دبوچ لیا جاتا تھا۔ ان کا یہ شکار کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ ہاتھی سے لے کر خرگوش تک اسی طرح سے شکار کیا جاتا تھا۔ یہ طریقہ چلتا رہا اور وقت گزرتا رہا۔

خواتین و حضرات، بڑی عجیب و غریب باتیں میرے سامنے آ جاتی ہیں اور میں پریشان بھی ہوتا ہوں لیکن شکر ہے کہ میں انہیں آپ کے ساتھ Share بھی کر سکتا ہوں۔ میرے ساتھ ایک واقعہ یہ ہوا کہ میں نے سینما میں، ٹی وی پر اور باہر دیواروں پر کچھ اشتہار دیکھے، کچھ اشتہار متحرک تھے اور کچھ ساکن، کچھ بڑے بڑے اور کچھ چھوٹے چھوٹے تھے اور میں کھڑا ہو کر ان کو غور سے دیکھنے لگا کہ یہ پرانی شکار پکڑنے کی جو رسم ہے، وہ ابھی تک معدوم نہیں ہوئی ویسی کی ویسی ہی چل رہی ہے۔ پہلے ڈھول تاشے بجا کر، شور مچا کر "رولا “ ڈال کے شکاری اپنے شکار کو گھیرتے تھے اور پھر اس کو دبوچ لیتے تھے۔ اب جو اشتہار دینے والا ہے وہ ڈھول تاشے بجا کے اپنے سلوگن، نعرے، دعوے بیان کر کے شکار کو گھیرتا ہے، شکار بِـچارہ تو معصوم ہوتا ہے۔ اسے ضرورت نہیں ہے کہ میں یہ مخصوص صابن خریدوں یا پاؤڈر خریدوں۔ اسے تو اپنی ضرورت کی چیزیں چاہئیں ہوتی ہیں لیکن چونکہ وہ شکار ہے اور پرانے زمانے سے یہ رسم چلی آ رہی ہے کہ اس کا گھیراؤ کس طرح سے کرنا ہے تو وہ بظاہر تو تبدیل ہو گئی ہے لیکن یہ باطن اس کا رخ اور اس کی سوچ ویسی کی ویسی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا، آپ خود روز شکار بنتے ہیں۔ میں بنتا ہوں اور ہم اس نرغے اور دائرے سے نکل نہیں‌سکتے۔ پھر جب ہم شکار کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور چیختے چلاتے ہیں تو پھر اپنے ہی گھر والوں سے پنجرے کے اندر آ جانے کے بعد لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور اپنے ہی عزیز و اقارب سے جھگڑا کرتے ہیں کہ تمہاری وجہ سے خرچہ زیادہ ہو رہا ہے۔ دوسرا کہتا ہے نہیں تمہاری وجہ سے یہ مسئلہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ ہم تو شکاری کے شکار میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی ہو گی اور وہ شکار کا پرانا طریقہ گزر چکا ہے تو میں سمجھتا ہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ یہ کام ترقی کی طرف مائل نہیں ہوا ہے بلکہ ہم اسی نہج پر اور اسی ڈھب پر چلتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایسے عجیب و غریب واقعات میرے ساتھ وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں اور میں ان پر حیران بھی ہوتا رہتا ہوں اور کہیں اگر انہیں جب ڈسکس کرنے کا مناسب موقع نہیں ملتا تو میں آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔ پھر مجھے کئی خطوط ملتے ہیں اور لوگ، خط لکھنے والے مجھے راست اور درست قدم اٹھانے پر مائل کرتے ہیں۔ میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔

بادشاہت کے زمانے اور اس سے پہلے پتھر اور دھات کے زمانے سے لے کر آج تک جتنے بھی ادوار گزرے غلاموں کی تجارت کو بہت بڑا فعل سمجھا جاتا رہا ہے۔ لوگ غلام لے کر جہازوں میں پھرتے تھے۔ انہیں بالآخر فروخت کر کے اپنے پیسے کھرے کر کے چلے جاتے تھے اور اس سے بڑا اور کیا دکھ ہو گا کہ انسان بکتے تھے اور کہاں کہاں سے آ کر بکتے تھے اور وہ اپنے نئے مالکوں کے پاس کیسے رہ جاتے تھے۔ یہ ایک بڑی دردناک کہانی ہے، کہ مہاراجوں کی حکومت میں "داسیاں" بکتی تھیں جو مندروں میں ناچ اور پوجا پاٹ کرتی تھیں۔ یہ "داسیاں" دور دراز سے چل کر آتی تھیں، انہیں زیادہ تر مندروں میں رکھا جاتا تھا۔ کپل وستو کے راجہ شدوّدن کا بیٹا سدھاک جو اپنے باپ کو بہت ہی پیارا تھا اور وہ بعد میں مہاتما بدھ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کا دل لگانے کے لئے اس کے باپ نے ایک ہزار لونڈیاں خرید کے محل میں رکھی تھیں تاکہ صاحبزادے کو دکھ، غم، بیماری، بڑھاپے اور موت سے آشنائی نہ ہو۔ یہ لونڈیاں شہزادے کا دل بہلاتی تھیں اور یہ رسم پہلے سے ہی چلتی آ رہی تھی حتٰی کے ایک وقت ایسا بھی آیا اور اس بات کی تاریخ گواہ ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر اور ان کے والد بھی پیغمبر تھے، وہ دنیا کے حسین ترین شخص تھے۔ وہ بھی بک گئے۔ میں یہ حضرت یوسف علیہ السلام کی بات کر رہا ہوں۔ ان کی بھی باقاعدہ بولی لگی تھی۔ یہ درد ناک کہانیاں چلی آتی رہی ہیں اور ایسے واقعات مسلسل ہوتے رہے ہیں۔حضرت عیسٰیؑ، حضرت موسٰیؑ کے زمانے میں غلامی کا دور اور رسم بھی تھی۔ غلامی اور انسانی تجارت کے خلاف سب سے پہلی آواز جو اٹھی وہ نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہایت قبیح رسم ہے۔ چلتی تو زمانوں سے آ رہی ہے اور اسے پورا کا پورا روکنا بہت مشکل ہو جائے گا لیکن میں درخواست کرتا ہوں کہ جب بھی موقع ملے تو چلو اپنے سو غلاموں میں سے کسی ایک غلام کو رہا کر دیا کرو۔ اللہ تمہارے لئے زیادہ آسانیاں پیدا کرے گا۔ پھر جب کسی سے کوئی گناہ کبیرہ سرزد ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ “ سب گناہ معاف ہو جائیں گے اگر تم یہ غلام آزاد کر دو۔“ اگر وہ شخص کہتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تو غریب آدمی ہوں، میرے پاس کچھ نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلام کسی سے قسطوں پر لے لو ( کوئی پانچ روپے مہینہ، تین روپے مہینہ ادا کرتے رہنا) لیکن غلام آزاد کر دو۔ یہ غلامی کی ایسی قبیح رسم تھی جس سے انسان آہستہ آہستہ نکلنے کی کوشش کرتا رہا لیکن پھر امریکا میں تو اس نے باقاعدہ کھیل کی صورت اختیار کر لی، افریقہ سے غلاموں کے جہاز بھر بھر کر لائے جاتے تھے اور ان افریقی لوگوں کو امریکہ کے شہروں میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ آپ نے سات قسطوں میں چلنے والی فلم “ روٹس “ تو دیکھی ہی ہو گی۔ اس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ گورے کس کس طریقے سے کیسے ظلم و ستم کے ساتھ کالے (سیاہ فام) غلاموں کو لا کر منڈیوں میں فروخت کرتے تھے۔ چند دن پہلے کی بات ہے یہ دکھ جو ذہن کے ایک خانے میں موجود ہے، اسے لے کر میں چلتا رہتا تھا جیسا کے آپ بھی چلتے رہتے ہیں تو مجھے ایک انٹرویو کمیٹی میں بطور Subject Expert رکھا گیا۔ میں وہاں چلا گیا۔ اس کمیٹی میں کل آٹھ افراد تھے۔ وہ آٹھ افراد کا پینل تھا جس میں خواتین اور مرد بھی تھے اور وہاں ایک ایک کر کے Candidate آ رہے تھے اور ہم ان سے سوال کرتے تھے۔ براڈ کاسٹنگ اور لکھنے لکھانے کے حوالے سے سوال پوچھنا میرے ذمہ تھا۔ وہ بہت بڑا انٹرویو ہر ایک سے لیا جا رہا تھا۔ وہاں کسی صاحب نے باہر سے آ کر مجھے کہا کہ ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔ گھر سے انہیں پتہ چلا کہ آپ یہاں ہیں تو یہاں پہنچ گئے۔ میں اپنے دیگر کمیٹی کے ارکان سے اجازت لیکر اور معذرت کر کے باہر آ گیا کہ براہ کرم ذرا دیر کے لئے اس انٹرویوز کے سلسلے کو روک لیا جائے۔ میں ہال میں اس صاحب سے ملنے کے لئے گیا۔ وہ صاحب ملے، بات ہوئی اور وہ چلے گئے لیکن میں تھوڑی دیر کے لئے ہال میں ان امیدواروں کو دیکھنے لگا جو بڑی بے چینی کی حالت میں اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے اور جو باری بھگتا کے باہر نکلتا تھا۔ اس سے بار بار پوچھتے تھے کہ تم سے اندر کیا پوچھا گیا ہے اور کس کس قسم کے سوال ہوئے ہیں؟ اور ان باہر بیٹھے امیدواروں کے چہروں پر تردد اور بے چینی اور اضطراب عیاں تھا۔ میں کھڑا ہو کر ان لوگوں کو دیکھتا رہا اور حیران ہوتا رہا کہ اگلے زمانے میں تو لونڈی غلام بیچنے کے لئے منڈی میں تاجر باہر سے لایا کرتے تھے۔ آج جب ترقی یافتہ دور ہے اور چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں، یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خود اپنے آپ کو بیچنے اور غلام بنانے کے لئے یہاں تشریف لائے ہیں اور چیخیں مار مار کر اور تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو، اپنی ذات، وجود کو، جسم و ذہن اور روح کو فروخت کرنے آئے ہیں اور جب انٹرویو میں ہمارے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں، سر میں نے یہ کمال کا کام کیا ہے، میرے پاس یہ سرٹیفیکیٹ ہے، میرے پرانے مالک کا جس میں لکھا ہے کہ جناب اس سے اچھا غلام اور کوئی نہیں اور یہ لونڈی اتنے سال تک خدمت گزار رہی ہے اور ہم اس کو پورے نمبر دیتے ہیں اور اس کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور سر اب آپ خدا کے واسطے ہمیں رکھ لیں اور ہم خود کو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا وقت بدل گیا؟ کیا انسان ترقی کر گیا؟ کیا آپ اور میں اس کو ترقی کہیں گے کہ کسی معشیت کے بوجھ تلے، کسی اقتصادی وزن تلے ہم اپنے آپ کو خود بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں لے جا کر یہ کہتے ہیں کہ جناب اس کو رکھ لو۔ اس کو لے لو اور ہمارے ساتھ سودا کرو کہ اس کو غلامی اور اس کو لونڈی گیری کے کتنے پیسے ملتے رہیں گے۔ یہ ایک سوچ کی بات ہے اور ایک مختلف نوعیت کی سوچ کی بات ہے۔ آپ اس پر غور کیجیئے اور مجھے بالکل منع کیجیئے کہ خدا کے واسطے ایسی سوچ آئندہ میرے آپ کے ذہن میں نہ آیا کرے کیونکہ یہ کچھ خوشگوار سوچ نہیں ہے۔ کیا انسان اس کام کے لئے بنا ہے کہ وہ محنت و مشقت اور تردّد کرے اور پھر خود کو ایک پیکٹ میں لپیٹ کے اس پر خوبصورت پیکنگ کر کے گوٹا لگا کے پیش کرے کہ میں فروخت کے لئے تیار ہوں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو نظر کے آگے سے گزرتی رہتی ہیں اور پھر یہ خیال کرنا اور یہ سوچنا کہ انسان بہت برتر ہو گیا ہے، برتر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ارد گرد کے گرے پڑے لوگوں کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بِٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی قومیں مضبوط اور طاقتور ہوتی ہیں جو تفریق مٹا دیتی ہیں۔ دولت، عزت، اولاد یہ سب خدا کی طرف سے عطا کردہ چیزیں ہوتی ہیں لیکن عزتِ نفس لوٹانے میں، لوگوں کو برابری عطا کرنے میں یہ تو وہ عمل ہے جو ہمارے کرنے کا ہے اور اس سے ہم پیچھے ہٹے جاتے ہیں اور اپنی ہی ذات کو معتبر کرتے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ ہمارے بابا جی کے ڈیرے پر ایک نوجوان سا لڑکا آیا۔ وہ بیچارہ ٹانگوں سے معذور تھا اور اس نے ہاتھ میں پکڑنے اور وزن ڈالنے کے لئے لکڑی کے دو چوکھٹے سے بنوا رکھے تھے۔ وہ بابا جی کو ملنے، لنگر لینے اور سلام کرنے آیا کرتا تھا۔ میں وہاں بیٹھا تھا اور اسے دیکھ کر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور چونکہ بابا جی کے سامنے ہم آزادی سے ہر قسم کی بات کر لیا کرتے تھے۔ اس لئے میں نے کہا، بابا جی آپ کے خدا نے اس آدمی کے لئے کچھ نہ سوچا۔ یہ دیکھیئے نوجوان ہے، اچھا لیکن صحت مند ہے۔ بابا جی نے ہنس کر کہا، سوچا کیوں نہیں۔ سوچا بلکہ بہت زیادہ سوچا اور اس آدمی ہی کے لئے تو سوچا۔ میں نے کہا، جی کیا سوچا اس آدمی کے لئے، کہنے لگے، اس کے لئے تم کو پیدا کیا، کتنی بڑی سوچ ہے اللہ کی۔ اب یہ ذمہ داری تمہاری ہے۔ میں نے کہا جی (مسکراتے ہوئے) آئندہ سے ڈیرے پر نہیں آنا۔ یہ تو کندھوں پر ذمہ داریاں ڈال دیتے ہیں۔ دوسروں کے لئے سوچنا تو فلاح کی راہ ہے اور یہ ترقی جسے ہم ترقی سمجھتے ہیں یا وہ ترقی جو آپ کے، ہمارے ارد گرد ابلیسی ناچ کر رہی ہے یا وہ ترقی جو آپ کو خوفناک ہتھیاروں سے سجا رہی ہے۔ اسے ترقی تو نہیں کہا جا سکتا۔ آج سے کچھ عرصہ قبل آپ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں دو سُپر پاورز تھیں اور ان کا آپس میں بڑا مقابلہ رہتا تھا اور وہ کاغذی جنگ لڑتے ہوئے اور الیکٹرونک کی لڑائی لڑتے ہوئے آپس میں ہمیشہ ایک دوسرے کی تقابل کرتے تھے اور ایک دوسری کو یہ طعنہ دیتی کہ میں تم سے بڑی سُپر پاور ہوں اور دوسری پہلی کو اور وہ اپنی سُپر پاور اور ترقی کی پرکھ اور پیمانہ یہ بتاتی تھیں کہ جیسے ایک کہتی کہ تم دس سیکنڈ میں ایک ملین افراد کو ملیا میٹ کر سکتی ہو، ہم 5 سیکنڈ کے اندر ایک ملین انسان ہلاک کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہم بڑی سُپر پاور ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کبھی تقابلی مطالعہ میں یا معاملہ میں اور کسی بات پر فخر ہی نہیں کیا۔ تو کیا انسانیت اس راہ پر چلتی جائے گی اور جو علم ہمیں پیغمبروں نے عطا کیا ہے اور جو باتیں انہوں نے بتائی ہیں، وہ صرف اس وجہ سے پیچھے ہٹتی جائیں گی کہ ہم نئی چیزیں اور نئے لوگ حاصل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ بحرکیف یہ دکھ کی باتیں ہیں اور بہت سے لوگ میرے ساتھ اس دکھ میں شریک ہوں گے۔ اب آپ سے اجازت چاہوں گا۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔
بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15