نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دروازہ کھلا رکھنا

آج سے چند ہفتے پہلے یا چند ماہ پہلے میں نے ذکر کیا تھا کہ جب بھی آپ دروازہ کھول کے اندر کمرے میں داخل ہوں تو اسے ضرور بند کر دیا کریں اور میں نے یہ بات بیشتر مرتبہ ولایت میں قیام کے دوران سُنی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ Shut Behind The Door میں سوچتا تھا کہ وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ اندر داخل ہوں تو دروازہ پیچھے سے بند کر دو، شاید وہاں برف باری کے باعث ٹھنڈی ہوا بہت ہوتی ہے اس وجہ سے وہ یہ جملہ کہتے ہیں۔ لیکن میرے پوچھنے پر میری لینڈ لیڈی نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ”آپ اندر داخل ہوگئے ہیں اور اب ماضی سے آپ کا کوئی تعلق نہیں رہا، آپ صاحبِ حال ہیں،اسلئےماضی کو بند کر دو اور مستقبل کا دروازہ آگے جانے کے کیے کھول دو۔“

ہمارے بابے کہتے ہیں صاحبِ ایمان اور صاحبِ حال وہ ہوتا ہے،جو ماضی کی یاد میں مبتلا نہ ہو اور مستقبل سے خوفزدہ نہ ہو۔ اب میں اس کے ذرا سا اُلٹ آپ سے بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ پیچھے کی یادیں اور ماضی کی باتیں لوٹ لوٹ کے میرے پاس آتی رہتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اس میں سے کچھ حصّہ بٹائیں۔

ابنِ انشاء نے کہا تھا کہ”دروازہ کُھلا رکھنا۔“ آپ دوسروں کےلئےضرور دروازہ کھول کے رکھیں، اسے بند نہ رہنے دیں۔ آپ نے اکثرو بیشتر دیکھا ہو گا کہ ہمارے ہاں بینکوں کے دروازے شیشے والے ہوتے ہیں وہاں دروازوں پر موٹا اور بڑا Thick قسم کا شیشہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ اگر اسے کھول دیا جائے تو بلا شبہ اندر آنے والے کےلئے بڑی آسانی ہوگی اور اگر آپ کسی کےلئےدروازہ کھولتے ہیں اور کسی دوسرے کو اس سے آسانی پیدا ہوتی ہے، تو اس کا آپ کو بڑا انعام ملے گا، جس کا آپ کو اندازہ نہیں ہے۔ کسی کےلئےدروازہ کھولنا بڑے اجر کا کام ہے۔ ہمارے گھروں میں بیبیوں کا زیادہ اس کا علم نہیں ہے، وہ بیٹھی ہی کہ دیتی ہے”اچھا ماسی سلام، فیر ملاں گے“ اور اپنی جگہ پر بیٹھی کہ دیتی ہیں، یہ نہیں کہ اُٹھ کے دروازہ کھول کےکہا بسم اللہ اورجانے کےلئےخود دروازہ کھولیں اور خدا حافظ کہیں۔اس میں بہت ساری برکات ہیں اور بہت سارے فوائد سے آپ مستفید ہو سکتے ہیں اور ایسا نہ کر کے آپ ان سے محروم رہ جاتے ہیں۔

میں جب اٹلی میں رہتا تھا، تو جب ہمیں مہینے کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی، تو میں ایک بہت اچھے ریستوران میں، جہاں اُمراء آتے تھے، خاص طور پر اداکار اور اداکارائیں بھی آتی تھیں، چلا جایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ جب میں بیٹھا کافی پی رہا تھا تو ایک شخص بڑے وجود اور بڑے بڑے ہاتھوں والا آکر میرے پاس بیٹھ گیا۔ اُس نے کہا کہ میں نے گزشتہ ماہ آپ کو کسی آدمی سے باتیں کرتے سُنا تھا، تو آپ بڑی رواں اٹالین زبان بول رہے تھے۔ لیکن آپ conditional Verb اور Subjective Verb میں تھوڑی سی غلطی کر جاتے ہیں جیسے I wish I cold have been doing do ۔ اس طرح تو مشکل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے ناں؟ میں نے کہا، جی! آپ کی بڑی مہربانی۔ میں نے اُس سے کہا کہ میں بھی آپ کو جانتا ہوں ( اب اُن کا جو حوالہ تھا، وہ تو میں نے اُن سے نہیں کہا) آپ اس دنیا کے بہت بڑے امیر آدمی ہیں یہ مجھے معلوم ہے ( اُس کا پہلا حوالہ یہ تھا کہ وہ ایک بہت بڑے مافیا کا چیف تھا) اُس شخص نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ایک بڑی عجیب و غریب بات بتاتا ہوں، جو میری امارت کا باعث بنی اور میں اس قدر امیر ہو گیا۔ وہ یہ کہ مجھے ہارس ریسنگ کا شوق تھا اور میں گھوڑوں پر جُوا لگاتا تھا۔ میری مالی حالت کبھی اونچی ہو جاتی تھی اور کبھی نیچی،جیسے ریس کھیلنے والے لوگوں کی ہوتی ہے۔

ایک بار میں نے اپنا سارا مال ومتاع ایک ریس پر لگادیا اور کہا کہ اب اس کے بعد میں ریس نہیں کھیلوں گا۔ خدا کا کرنا یہ ہوا کہ میں وہ ریس ہار گیا، میری جیبیں بالکل خالی تھیں اور میں بالکل مفلس ہو گیا تھا۔ جب میں وہاں سے پیدل گھر لوٹ رہا تھا، تو مجھے شدّت سے واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی، لیکن وہاں جانے کےلئےمیرے پاس مقامی کرنسی کا سکّہ نہیں تھا، جو واش روم کا دروازہ کھولنے کےلئےاُس کے لاک میں ڈالا جاتا ہے، وگرنہ دروازہ کُھلتا نہیں ہے۔ میں بہت پریشان تھا اور مجھے جسمانی ضرورت کے تحت تکلیف بھی محسوس ہو رہی تھی۔ میں وہاں قریبی پارک میں گیا۔ وہاں بنچ پر ایک شخص بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا۔ میں نے بڑی لجاجت سے اُس سے کہا کہ” کیا آپ مجھے ایک سکّہ عنایت فرمائیں گے؟ اُس شخص نے میری شکل وصورت کو دیکھا اور کہا کیوں نہیں اور سکّہ دے دیا۔ لیکن اس سے قبل میری جسمانی صحت پر غور ضرور کیا۔ اُسے کیا خبر تھی میں بالکل پھانگ (مفلس) ہو چکا ہوں۔ جب میں وہ سکّہ لے کر چلا اور واش روم کے دروازے تک پہنچا، جہاں لاک میں سکّہ ڈالنا تھا، تو اچانک وہ دروازہ کُھل گیا جبکہ وہ سکّہ ابھی میرے ہاتھ میں تھا۔ جو اندر آدمی پہلے موجود تھا وہ باہر نکلا اور اُس نے مسکرا کر بڑی محبّت، شرافت اور نہایت استقبالیہ انداز میں دروازہ پکڑے رکھا اور مجھ سے کہا، یہ ایک روپے کا سکّہ کیوں ضائع کرتے ہو؟ میں نے اُس کا شکریہ ادا کیا اور میں اندر چلا گیا۔ اب جب میں باہر نکلا تو میرے پاس وہ ایک روپے کی قدر کا سکّہ بچ گیا تھا ۔ تو میں قریب کسینو میں چلا گیا، وہاں پر ایک جوا ہو رہا تھا کہ ایک روپیہ لگاؤ ہزار روپے پاؤ۔ میں نے وہ روپے کا سکّہ اُس جوئے میں لگا دیا اور سکّہ بکس میں ڈال دیا۔ وہ سکّہ کھڑ کھڑایا اور ہزار کا نوٹ کڑک کر کے باہر آ گیا۔ ( جواری آدمی کی بھی ایک اپنی زندگی ہوتی ہے)۔ میں نے آگے لکھا دیکھا کہ ایک ہزار ڈالو تو ایک لاکھ پاؤ۔ میں نے ہزار کا نوٹ وہاں لگا دیا۔ رولر گھوما، دونوں گیندیں اُس کے اوپر چلیں اور ٹک کر کے ایک نمبر پر آکر وہ گریں اور میں ایک لاکھ جیت گیا (آپ غور کریں کہ وہ ابھی وہیں کھڑا ہے، جہاں سے اُس نے ایک سکّہ مانگا تھا) اب میں ایک لاکھ روپیہ لے کر ایک امیر آدمی کی حیثیت سے چل پڑا اور گھر آ گیا۔

اگلے دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ یہاں پر اگر کوئی Sick Industry میں انویسٹ کرنا چاہے، تو حکومت انہیں مالی مدد بھی دے گی اور ہر طرح کی انہیں رعایت دے گی۔ میں نے ایک دو کارخانوں کا انتخاب کیا، حکومت نے ایک لاکھ روپیہ فیس داخل کرنے کا کہا اور کہا کہ ہم آپ کو ایک کارخانہ دے دیں گے ( شاید وہ جُرابیں بنانے یا انڈر گارمنٹس کا کارخانہ تھا) وہ کارخانہ چلا تو اس سے دوسرا، تیسرا اور میں لکھ پتی سے کروڑ پتی اور ارب پتی ہو گیا۔ (آپ اب غور کریں کہ یہ سب کچھ ایک دروازہ کُھلا رکھنے کی وجہ سے ممکن ہوا) اُس نے کہا کہ میری اتنی عمر گزر چکی ہے اور میں تلاش کرتا پھر رہا ہوں اُس آدمی کو، جس نے مجھ پر یہ احسان کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اُس آدمی کو، جس نے آپ کو ایک روپیہ دیا تھا؟ اُس نے کہا، نہیں! اُس آدمی کو، جس نے دروازہ کُھلا رکھا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ اُس کا شکریہ ادا کرنے کےلئےاُس سے ملنا چاہتے ہیں؟ تو اُس نے جواب دیا، نہیں! یہ دیکھنے کےلئےاُس سے ملنا چاہتا ہوں کہ وہ شخص کن کیفیات سے گزر رہا ہے اور کس اونچے مقام پر ہے اور مجھے یقین ہے کہ دروازہ کھولنے والے کا مقام روحانی، اخلاقی اور انسانی طور پر ضرور بُلند ہو گا اور وہ ہر حال میں مجھ سے بہتر اور بُلند تر ہوگا لیکن وہ آدمی مجھے مل نہیں رہا ہے۔

میں اُس کی یہ بات سُن کر بڑا حیران ہوا، اور اب مجھے انشاء جی کی دروازہ کُھلا رکھنا کی بات پڑھ کر وہ شخص یاد آیا۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ بُڑھاپے میں گزشتہ چالیس، پینسٹھ، باسٹھ برس کی باتیں اپنی پوری جزویات اور تفصیلات کے ساتھ یاد آجاتی ہیں اور کل کیا ہوا تھا، یہ یاد نہیں آتا ۔ بُڑھاپے میں بڑی کمال کمال کی چیزیں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ آدمی چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ میں بڑا pleasant آدمی ہوں۔ بڑا شریف آدمی ہوں۔ میں تو چڑچڑا نہیں ہوں۔ پرسوں ہی مجھے گیس کا چولہا جلانے کےلئےماچس چاہئے تھی، میں اتنا چیخا، اوہ ! آخر کدھر گئی ماچس! میرا پوتا اور پوتی کہنے لگے کہ الحمدللہ دادا بوڑھا ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کیوں؟ تو کہنے لگے، آپ چڑنے لگے ہیں اور ایسی تو آپ کی Language کبھی نہ تھی۔ میں نے کہا، بھئی آخر بُڑھاپے میں تو داخل ہونا ہی ہے،کیا کیا جائے؟ لیکن پھر بھی تم سے بہت طاقتور ہوں۔ کہنے لگے، آپ کیسے طاقتور ہیں؟ میں نے کہا، جب تمہاری کوئی چیز زمین پر گرتی ہے تو تم اُسے اُٹھا لیتے ہو، لیکن اللہ نے مجھے یہ قوّت دی ہے، ایک بوڑھے آدمی میں کہ جب اُس کی ایک چیز گرتی ہے تو وہ نہیں اُٹھاتا اور جب دوسری گرتی ہے، تو میں کہتا ہوں اکٹھی دو اُٹھالیں گے، اسی لئےہمیشہ انتظار کرتا ہے کہ دو ہوجائیں تو اچھا ہے۔

خواتین وحضرات! دروازہ کُھلا رکھنے کے حوالے سے مجھے یہ بھی یاد آیا ہے اور اپنے آپ کو جب میں دیکھتا ہوں کہ ایک زمانہ تھا (جس طرح سے ماشاءاللہ آپ لوگ جوان ہیں) 1947ء میں جب ہم نعرے مار رہے تھے، تو ہمارا ایک ہی نعرہ ہوتا تھا، لے کے رہیں گے آزادی، لے کے رہیں گے پاکستان، ہم اُس وقت نعرے لگاتے ہوئے گلیوں، بازاروں میں گُھوما کرتے تھے اور اپنے مخالفین اور دُشمنوں کے درمیان بالکل اس طرح چلتے تھےجیسے شیر اپنی کچھار میں چلتا ہے اور اب جب کچھ وقت گزرا ہے اور ہم ہی پر یہ وقت آیا ہے اور ہم جو کہتے تھے کہ” لے کے رہیں گے پاکستان، لے کے رہیں گے آزادی“ اب ہر بات پر کہتے ہیں کہ لے کے رہیں گے سکیورٹی“ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں سکیورٹی نہیں ہے۔

کسی آدمی کی تبدیلی لاہور سے مُلتان کر دی جائے تو وہ کہتا ہے کہ جی بس سکیورٹی نہیں ہے (ایسے ہی کہتے ہیں ناں ) تو سکیورٹی کےلئےاتنے بے چین ہو گئے ہیں ہم، اتنے ڈر گئے ہیں اور آخر کیوں ڈر گئے؟ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا؟ ہم تو وہی ہیں۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ہم نے اپنی بات پر اتنے دروازے بند کرلئے ہیں اور ہم دروازے بند کر کے اندر رہنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ ذہنی طور پر، روحانی طور پر اور جسمانی طور پر۔ ہم نے ہر لحاظ سے خود کو ایسا بند کر دیا ہے کہ اب وہ آواز سُنائی نہیں دیتی کہ”لے کے رہیں گے پاکستان" جب چاروں طرف سے دروازے بند ہوں گے تو یہی کیفیت ہوگی۔ پھر آپ اس حصار سے یا کمرے سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ اور نہ کسی کو دعوت دے سکیں گے، نہ تازہ ہواؤں کو اپنی طرف بُلا سکیں گے۔ ایسی چیزوں پر جب نظر پڑتی ہے اور میری عمر کا آدمی سوچتا ہے، تو پھر حیران ہوتا ہے کہ یہ وقت جو آتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے آتے ہیں، یا پھر قومیں ایسے فیصلے کر لیتی ہیں، یا مختلف گروۂ انسانی اس طرح سے سوچنے لگتے ہیں۔ اس کا کوئی حتمی یا یقینی فیصلہ کیا نہیں جا سکتا ۔

میں ایک دن ناشتے کی میز پر اخبار پڑھ رہا تھا اور میری بہو کچھ کام کاج کر رہی تھی باورچی خانے میں۔ وہ کہنے لگی، ابو! میں آپ کو کافی کی ایک پیالی بنا دوں؟ میں نے کہا، بنا تو دو، لیکن چوری بنانا، اپنی ساس کو نہ پتہ لگنے دینا، وہ آکر لڑے گی کہ ابھی تو تم نے ناشتہ کیا ہے اور ابھی کافی پی رہے ہو۔ اُس نے کافی بنا کر مجھے دے دی۔ ہمارے باورچی خانے کا ایک اایسا دروازہ ہے، جس کو کھولنے کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی، میری بہو کو وہ دروازہ کھولنے کی ضرورت پڑی اور وہ کھولنے لگی اور جب وہ میرےلئےکافی بنا رہی تھی تو کہنے لگی، ابو آپ یہ مانیں گے کہ عورت بے بدل ہوتی ہے، اس کا کوئی بدل نہیں ہوتا، میں نے کہا، ہاں بھئی! میں تومانتا ہوں، وہ دروازہ کھولنے لگی اور کوشش کرنے لگی، کیونکہ وہ کم کھلنے کے باعث کچھ پھنسا ہوا تھا اور بڑا سخت تھا، وہ کافی دیر زور لگاتی رہی، لیکن وہ نہ کھلا تو مجھے کہنے لگی، ابو اس دروازے کو ذرا دیکھئے گا، کھل ہی نہیں رہا۔ میں گیا اور جا کر ایک بھرپور جھٹکا دیا تو وہ کھل گیا، جب وہ کھل گیا تو پھر میں نے بھی کہا کہ دیکھا ( انسان خاص طور پر مرد بڑا کمینہ ہوتا ہے، اپنے انداز میں ) تم تو کہتی تھیں کہ میں بے بدل ہوں اور عورت کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔ کہنے لگی، ہاں ابو! یہی تو میں اب بھی کہتی ہوں کہ عورت بے بدل ہوتی ہے۔ دیکھیں میں نے ایک منٹ میں دروازہ کھلوالیا (قہقہہ) میں نے کہا، ہاں یہ بڑی پیاری بات ہے۔

میں یہ عرض کررہا تھا کہ دوسروں کےلئےدروازہ کھولنا، ایک جادو، چالاکی، ایک تعویذ اور ایک وظیفے کی بات ہے، اگر آپ میں، مجھ میں یہ خصوصیت پیدا ہوجائے تو یہ عجیب سی بات لگے گی کہ ہم دروازہ کھولنے لگیں، لوگوں کےلئےتو یہ ایک رہبری عطا کرنے کا کام ہوگا۔ آپ لوگوں کو رہبری عطا کریں گے اپنے اس عمل سے، جس نے دروازہ کھول کے اندر جانا ہے، آخر اُسے جانا تو ہے ہی، لیکن آپ اپنے عمل سے اُس شخص کے رہنما بن جاتے ہیں اور جب آدمی رہنمائی کرتا ہے، تو اس کا انعام اُسے ضرور ملتا ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ رواج ذرا کم ہے۔ ہم تو دروازہ وغیرہ اس اہتمام سے نہیں کھولتے کہ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کسی کا دروازہ کھولنے کی، جب وہ چلا جائے گا، دفع ہو جائے گا تو کھول کر اندر چلے جائیں گے۔ اگر ہم میں دروازہ کھولنے کی عادت پیدا ہو جائے۔ اگر ہم اپنے دفتر، بینک یا درس گاہ میں دروازہ خود کھولیں، چاہے ایک اُستاد ہی اپنے شاگردوں کےلئےکلاس روم کا دروازہ کیوں نہ کھولے، یہ کام برکت اور آگے بڑھنے کا ایک بڑا اچھا تعویذ ثابت ہو گا۔

یہ بات واقعی توجہ طلب ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھایا جانا چاہئے اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا تعلق ذاتی فائدے سے بھی ضرور ہوتا ہے۔اس میں چاہے روحانی فائدہ ہویا جسمانی یا پھر اخلاقی ہو، ہوتا ضرور ہے اور انسان سارے کا سارا محض چیزوں اور اشیاء سے ہی نہیں پہچانا جاتا۔ ہمارے ایک اُستاد تھے، میرے کولیگ،بڑے بزرگ قسم کے، وہ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ Rich آدمی وہ ہوتا ہے، جس کی ساری کی ساری Richness اس کی امارت، اس کی دولت، سب کی سب ضائع ہو جائے اور وہ اگلے دن کیسا ہو؟ اگر وہ اگلے دن گر گیا تو اس کا سہارا اور امارت جو تھی وہ جھوٹی تھی۔ میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ میں بھی اس پروگرام کے بعد دروازے کھولنے والوں میں ہوں گا، چاہے میں ڈگمگاتا ہوا ہی اسے کھولوں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ !!

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15