نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Mao Zedong - ماؤزے تنگ

جب فوٹو کھنچ چکا تو ماؤ ہمارے سامنے کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگا۔ اب ہم لوگ باری باری اس سے ہاتھ ملانے لگے، جب میری باری آئی تو میں نے اس کے کلچے سے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا اور آہستہ آہستہ ہلانے لگا،
پھر میں نے قریبی انٹرپریٹر سے کہا،”ان سے کہو کہ مجھے کوئی نصیحت کریں!۔“
”نصیحت!“ ماؤ نے حیران ہو کر پوچھا ”کیسی نصیحت؟“ اس کے چہرے پر ناخوشی کے تاثرات تھے۔میں نے کہا کہ ”نصیحت جو ایک بڑ ا بزرگ، ایک تجربہ کار صاحب فراست اپنے چھوٹوں کو کیا کرتا ہے۔“
چیئرمین ماؤ ذرا سا مسکرایا پھر اپنی آدھی بند آنکھوں کو اور بند کر لیا۔ ذرا توقف کیا جیسے آٹو گراف دینے والے لمحہ بھر کے لئے سوچا کرتے ہیں۔پھر بڑی صاف اور کھنک دار آواز میں بولا۔
”اس کو کہو کہ اپنی بقا اور سالمیت کے لئے اپنے ملک کی سرحدیں غیرملکی اور سامراجی ثقافت پر سربمہر کر دیں۔ یہی میری نصیحت ہے۔“
مجھے اتنے بڑے عظیم اور عالمی رہنما کی یہ چھوٹی سی بات پسند نہ آئی۔ اتنے بڑے ماؤ نے اتنی ہلکی سی بات کہی تھی کہ مجھے حوصلہ ہو گیا۔میں نے کہا،”سر ثقافتیں تو ہمیشہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ ان کو تازہ پانیوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے اور پھر یہ دوسری ثقافتوں کے میل جول اور تال میل سے ہی توانا ہوتی ہیں۔“
ماؤ نے ہنس کر کہا”جہاں اندر کے پشتے مضبوط ہوتے ہیں وہاں تازہ پانیوں کی آدھ دھار آجانے کی صورت میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا لیکن جہاں پشتے کمزور ہوتے ہیں وہاں تازہ پانی طغیانی کی صورت میں آتے ہیں اور جگہ جگہ سے پشتہ بندیاں توڑ کر سارے علاقے کو دلدل بنا دیتے ہیں۔“

اشفاق احمد کی ماؤزے تنگ سے مکالماتی یاد

بشکریہ: کُول گاے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15