نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تنقید اور تائی کا فلسفہ

(نوٹ- یہ پروگرام اشفاق احمد کے انتقال سے چند روز قبل نشر ہوا)
ان دنوں میرا پوتا، جو اب بڑا ہو گیا ہے،عجیب عجیب طرح کے سوال کرنے لگاہے- ظاہر ہے کہ بچّوں کو بڑا حق پہنچتا ہے سوال کرنے کا- اُس کی ماں نے کہا کہ تمہاری اردو بہت کمزور ہے، تم اپنے دادا سے اردو پڑھا کرو- وہ انگریزی سکول کے بچّے ہیں، اس لیے زیادہ اردو نہیں جانتے- خیر! وہ مجھ سے پڑھنے لگا- اردو سیکھنے کے دوران وہ مجھ سے کچھ اور طرح کے سوالات بھی کرتا ہے- پرسوں مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ دادا! یہ آمد و رفت جو ہے،اس میں عام طور پر کتنا فاصلہ ہوتا ہے؟ (اُس نے یہ لفظ نیا نیا پڑھا تھا) اب اُس نے ایسی کمال کی بات کی تھی کہ میں اس کا کوئی جواب نہیں دے سکتا تھا- پھر اُس نےمجھ سے کہا کہ دادا! کیا نفسیات کی کوئی ایسی کتاب ہے، جس میں آدمی کو پرکھنے کے اچھے سے اور آسان سے طریقے ہوں؟ تو میں نے کہا کہ بھئی! تہمیں آدمی کو پرکھنے کی کیا ضرورت پیش آرہی ہے؟ اُس نے کہا کہ پتہ تو چلے کہ آخر مدِّ مُقابل کیسا ہے؟ کس طرز کا ہے؟ جس سے میں دوستی کرنے جا رہا ہوں، یا جس سے میری مُلاقات ہو رہی ہے- میں اُس کو کس کسوٹی پر لٹمس پیپر کے ساتھہ چیک کروں- میں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اُس کو چیک کرنے کی ضرورت نہیں،لیکن اگر تم ایسا چاہتے ہی ہو تو ظاہر ہے علمِ نفسیات میں بہت ساری ایسی کتابیں ہیں کہ، 
HOW TO UNDERSTAND PEOPLE? HOW TO CHECK HUMAN BEINGS?
ایسی بیشمار کتابیں ہیں، لیکن وہ ساری کی ساری اتنی ٹھیک نہیں جتنی ہمارے ہاں عام طور پر سمجھی جاتی ہیں- ہماری اُستاد تو ہماری تائی تھی- میں نے پہلے بھی اس کے بارے میں آپ لوگوں کو بتایا ہے، لیکن آپ میں سے شاید بہت سے لوگ نئے ہیں اور اُن کوُ "تائی“ کے بارے میں پتہ نہ ہو، جسے سارا گاؤں ہی”تائی“ کہتا تھا- بڑے کیا، چھوٹے کیا، سبھی- وہ ہمارے گاؤں میں ایک بزرگ تیلی جو میری پیدائش سے پہلے فوت ہوگئے تھے، اُن کی بیوہ تھیں- ہماری تائی تیلن تھی، تیل نکالتی تھی اور کچی گھانی کا خالص سرسوں کا تیل بیچتی تھی- سارے گاؤں والے اُس سے تیل لیتے تھے- خود ہی بیل چلاتی تھی، بڑی لٹھ جو بہت مشکل ہوتی ہے، بیلوں سے وہ اکیلے نکال لیتی تھی-
میں جب اُس سے ملا تو اُس کی عمر 80 برس کی تھی- میں اُس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا، لیکن مجھے اُس تائی کی شخصیت نے متاثر بہت کیا- وہ اتنی خوش مزاج، اتنی خوشی عطا کرنے والی اور خوش بختی کا سامان مہیا کرنے والی تھی کہ جس کا کوئی حساب نہیں- شام کے وقت گاؤں کے لوگ، بزرگ، ہندو، سکھ سب اُس کے پاس جمع ہو جاتے تھے کہ ہمیں کوئی دانش کی بات اُس کے ہاں سے ملے گی- ایک طرح سے یوں سمجھئے کہ اُس کا گھر”کافی ہاؤس“ تھا جس میں زمیندار لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے- ایک بار میں نے تائی سے پوچھا کہ یہ تیری زندگی جو گزری ہے،اس کا میں تو شاہد نہیں ہوں، وہ کس قسم کی تھی؟ اُس نے بتایا کہ میں چھبّیس برس کی عمر میں بیوہ ہو گئی اور پھر اُس کے بعد میری عمر دیکھ لو، تمہارے سامنے ہے- اَسّی برس ہے- میں ایسے ہی رہی، لیکن میں کڑوی بہت تھی اور تلخ طبیعت کی ہو گئی- جب میں بیوہ ہو گئی- میں خُدا پر بھی تنقید کرتی تھی، حالات پر بھی، وقت پر بھی، لوگوں پر بھی اور میری کڑواہٹ میں مزید اضافہ ہوتا رہتا تھا -
میری شخصیت کو وہ سکون نہیں ملتا تھا، جس کی میں آرزو مند تھی، لیکن میں ہر بندے کو اچھی طرح سے”کھڑکا“ دیتی تھی اور وہ شرمندہ ہو کر اور گھبرا کر میرے ہاں سے رُخصت ہوتا تھا- تو میں نے ایک اور یہ فیصلہ کیا کہ ( اس عورت میں اللہ نے فیصلے کی بڑی صلاحیت رکھی ہوئی ہے ) اگر مجھے آدمیوں کو، لوگوں کو سمجھنا ہی ہے، اگر مجھے ان کی روحوں کے اندر گہرا اُترنا ہے، تو میرا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ مجھے ان پر Criticism کرنا، تنقید کرنا، نکتہ چینی کرنا چھوڑنا ہوگا- جب آپ کسی شخص پر نکتہ چینی کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اُس پر تنقید کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اُس میں نقص نکالنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ آدمی سارے کا سارا آپ کی سمجھ میں آنے لگتا ہے اور ایکسرے کی طرح اُس کا اندر اور باہر کا وجود آپ کی نظروں کے سامنے آ جاتا ہے-
اب یہ اُس کا بھی فلسفہ تھا اور کچھ بڑوں سے بھی اُس نے حاصل کیا تھا، وہ بھی تھا- جب بھی مجھے کوئی ایسا مشکل مسئلہ ہوتا، تو میں ضرور اُس سے ڈسکس کرتا کہ اس کو کیسے کرنا ہے، اکیلا میں ہی نہیں، سارے ہی اُس سے ڈسکس کرتے تھے، کیونکہ اُس کا فلسفہ یہ تھا کہ کسی کی خرابیاں تلاش کرنے کے بجائے اُس کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہئے اور ظاہر ہے کہ آدمی کسی کی خوبیوں پر نظر نہیں رکھ سکتا، کیونکہ اُس کو بڑی تکلیف ہوتی ہے، لیکن ڈھونڈنی چاہئیں- وہ تائی واحد ایسی فرد تھی جو کہ بُرے سے بُرے وجود میں سے بھی خوبی تلاش کر لیتی تھی- میرا بھائی جو مجھ سے دو جماعتیں آگے تھا، وہ بھی تائی کے اس روّیے سے بڑا تنگ تھا- وہ ذہین آدمی تھا- ایک دن اُس نے ایک ترکیب سوچی- اُس نے کہا کہ یار! میں ابھی تائی کو پھانستا ہوں، کیونکہ وہ بالکل ان پڑھ ہونے کے باوصف ہم سے بہت آگے چلی جا رہی ہے- میں نے آج ایک معمہ بنایا ہے، اسے لے کر تائی کے پاس چلتے ہیں- لیکن تم بہت سنجیدہ اور معصوم سے”میسنے“بن کر کھڑے ہوجانا- یہ تائی ہر چیز کی تعریف کرتی ہے،کبھی آج تک اس کو کسی میں نقص نظر نہیں آیا، پھر زندگی کا مزہ کیا ہےکہ آدمی نقص کے بغیر ہی زندگی بسر کرتا چلا جائے اور ارد گرد پڑوس میں عورتیں آباد ہوں اور آدمی اُن میں نقص ہی نہ نکالے- بیبیاں تو فوراً کھڑکی کھول کر دیکھتی ہیں کہ اُس کے گھر میں کون آیا ہے؟ کون گیا؟ فٹا فٹ نقص نکالنے اور خرابی کی وضاحت پیش کرنے کے لیے اُن کو موقعہ چاہئے ہوتا ہے- خیر! ہم گئے- میرے بھائی نے بہت ادب کے ساتھ اُس سے کہا ( اور وہ خوش تھا کہ اب تائی پھنس جائے گی) تائی! یہ شیطان کیسا ہے؟ تائی کہنے لگی پُت! ابلیس؟ وہ کہنے لگا ، ہاں- تائی کہنے لگی،ہائے ہائے صدقے جاواں وہ بڑا ہی محنتی ہے، جس کم دا تہیہ کر لے اُس کو چھوڑتا ہی نہیں، پورا کر کے دم لیتا ہے- کیا کہنے اُس کے، وہ ہماری طرح سے نہیں ہے کہ کسی کام میں آدھا دل اِدھر اور آدھا دل اُدھر،اُس نے جس کام کی ٹھان لی، پورا کر کے ہی چھوڑتا ہے- میں نے بھائی سے کہا کہ آجاؤ یہاں ہماری دال نہیں گلے گی، یہ اور طرح کی یونیورسٹی ہے اور اس یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے جو لوگ ہیں، ہم اُن کے ساتھ نہیں کھڑے ہو سکتے- میں اپنے پوتے سے یہ کہہ رہا تھا ( ظاہر ہے عرصہ بیت گیا، اب تائی اس جہاں میں موجود نہیں ہے، لیکن میں اُس سے اپنے حوالے سے اور حیثیت سے بات کر رہا تھا ) کہ آدمی کو اپنے آپ کو جاننے کے لئے دوسرے آدمی کے آئینے میں اپنی شکل دیکھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے- جب تک آپ دوسرے کو آئینہ نہیں بنائیں گے، آپ کو اپنی ذات کی شکل نظر نہیں آئے گی- اگر آپ اس کے اوپر کالک ملتے رہیں گے، تو پھر بڑی مشکل ہو جائےگی-
اتّفاق سے اب ہمارے ہاں Criticism کچھ زیادہ ہی ہونے لگا ہے اور کچھ ہمیں پڑھایا بھی جاتا ہے- کچھ ہماری تعلیم بھی ایسی ہے- کچھ ہم ایسے West oriented Educated لوگ ہو گئے ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ ہر بات کا احتساب کرو، اس پر تنقید کرو اور ہر چیز کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایسے ہی آگے چلتے ہوئے زندگی بسر نہ کرو-
جب میں لکھنے لکھانے لگا اور میں چھوٹا سا ادیب بن رہا تھا، یہ پاکستان بننے سے پہلے کی بات ہے، اُس وقت لاہور میں ایک”کافی ہاؤس“ ہوتا تھا، وہاں بڑے سینئر ادیب رات گئے تک نشست کرتے تھے، تو ہم بھی اُن کے پاس بیٹھ کر اُن سے باتیں سیکھتے تھے- اُن سے بات کرنے کا شعور حاصل کرتے تھے اور اپنے مسائل بھی اُن سے بیان کرتے تھے- اُس زمانے میں راجندر سنگھہ بیدی یہاں ڈاکخانے میں کام کرتے تھے- پریم چند بھی”کافی ہاؤس“ میں آ جاتے تھے اور اس طرح بہت بڑے لوگ وہاں آجاتے تھے- میں رات دیر سے گھر آتا تھا، میری ماں ہمیشہ میرے آنے پر ہی اُٹھ کر چولہا جلا کر روٹی پکاتی تھی ( اُس زمانے میں گیس ویس تو ہوتی نہیں تھی ) اور میں ماں سے ہمیشہ کہتا تھا کہ آپ روٹی رکھ کر سو جایا کریں، تو وہ کہتیں تو رات کو دیر سے آتا ہے- میں چاہتی ہوں کہ تجھے تازہ پکا کر روٹی دوں- جیسا کہ ماؤں کی عادت ہوتی ہے- میں اُن سے اس بات پر بہت تنگ تھا اور میں نے اُن سے یہاں تک کہ دیا کہ اگر آپ اسی طرح رات دیر سے اُٹھ کر روٹی پکاتی رہیں، تو پھر میں کھانا ہی نہیں کھاؤں گا- ایک دن یونہی رات دیر سے میرے آنے کے بعد”پُھلکا“ (تازہ روٹی) پکاتے ہوئے اُنہوں نےمجھ سے پوچھا”کہاں جاتا ہے“ میں نے کہا، اماں! میں ادیب بن رہا ہوں- کہنے لگیں، وہ کیا ہوتا ہے؟ میں نے کہا، اماں! لکھنے والا، لکھاری- وہ پھر گویا ہوئیں، تو پھر کیا کرے گا؟ میں نے کہا، میں کتابیں لکھا کروں گا- وہ کہنے لگیں، اینیاں اگے پیاں جیہڑیاں کتاباں اونہاں دا کی بنے گا؟ میں نے کہا، نہیں! نہیں، وہ تو جھوٹ ہیں، کچھ نہیں- میں اور طرح کا رائٹر بنوں گا اور میں سچ اور حق کے لئے لڑوں گا اور میں ایک سچی بات کرنے والا بنوں گا-
میری ماں کچھ ڈر گئی- بیچاری اَن پڑھ عورت تھی گاؤں کی- میں نے کہا، میں سچ بولا کروں گا اور جس سے ملوں گا، سچ کا پرچار کروں گا اور پہلے والے لکھاری بڑے جھوٹے رائٹر ہیں- مجھے اچھی طرح یاد ہے اُس وقت ماں کے ہاتھ میں پکڑے چمٹے میں روٹی اور پتیلی (دیگچی) تھی- اُس نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگی، اگر تو نے یہی بننا ہے، جو تو کہتا ہے اور تو نے سچ ہی بولنا ہے، تو اپنے بارے میں سچ بولنا- لوگوں کے بارے میں سچ بولنا نہ شروع کر دینا- یہ میں آپ کو بالکل اَن پڑھ عورت کی بات بتا رہا ہوں- سچ وہ ہوتا ہے جو اپنے بارے میں بولا جائے، جو دوسروں کے بارے میں بولتے ہیں، وہ سچ نہیں ہوتا- ہماری یہ عادت بن چکی ہے اور ہمیں ایسے ہی بتایا، سکھایا گیا ہے کہ ہم سچ کا پرچار کریں-
جب ہم باباجی کے پاس گئے اور کبھی کبھی اُن کے سامنے میرے منہ سے یہ بات نکل جاتی تھی کہ میں سچی اور حق کی بات کروں گا، تو وہ کہا کرتے تھے، سچ بولا نہیں جاتا، سچ پہنا جاتا ہے، سچ اوڑھا جاتا ہے، سچ واپرتا (اوڑھنے) کی چیز ہے، بولنے کی چیز نہیں ہے- اگر اسی طرح اور یوں ہی سچ بولو گے تو جھوٹ ہو جائے گا- جب تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی، لیکن اب جوں جوں وقت گزرتا ہے اور یہ حسرت اور آرزو ہی رہی ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ مرنے سے پہلے میں کم از کم ایک دن سچ اوڑھ کرباہر نکلوں اور ساری دنیا کا درشن کر کے پھر واپس لوٹوں، اوڑھا ہوا سچ معلوم نہیں کتنا خوبصورت ہوتا ہو گا، بولا ہوا تو آپ کے سامنے ہی ہے- وہ اچھا نہیں ہوتا- جب آدمی کسی کو Criticize کرتا ہے اور کسی کے اوپر تنقید کرتا ہے، تو حُکم تو یہ ہے کہ پہلے آپ دیکھ لیں اور اُس کی عینی شہادت لیں کہ آیا اس میں ایسی کوئی خرابی ہے بھی کہ نہیں- اگر وہ نظر بھی آجائے اور خرابی ہو بھی، تو پھر بھی اُس کا اعلان نہ کریں- آپ کو کیا ضرورت ہے کسی کی خرابی کا اعلان کرنے کی، اللہ ستارالعیوب ہے- اگر اللہ خُداوند تعالٰی ہماری چیزوں کو اُجاگر کرنےلگےتو، توبہ توبہ ہم تو ایک سیکنڈ بھی زندہ نہ رہیں، لیکن وہ ہمارے بھید”لکو“ کر رکھتا ہے- تو ہمیں اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ ہم لوگوں کی خرابیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے پھریں- اگر آپ کو کسی میں خرابی نظر آئے تو یہ یکھیں کہ اگر میں اس کی جگہ پر ہوتا، میں انہی Circumstances میں ہوتا اور میں ایسے حالات میں سے گزرا ہوا ہوتا، بچپن میں یتیم ہو گیا ہوتا، یا کسی کے گھر پلا ہوتا، تو میری شخصیت کیسی ہوتی؟ یہ ایک بات بھی غور طلب ہے-
ممکن ہے آپ کی آنکھ میں ٹیڑھ ہو اور اُس بندے میں ٹیڑھ نہ ہو- ایک واقعہ اس حوالے سے مجھے نہیں بھولتا، جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے- یہ لاہور میں ایک جگہ ہے- وہ اُن دنوں نیا نیا آباد ہو رہا تھا- اچھا پوش علاقہ تھا- وہاں ایک بی بی بہت خوبصورت، ماڈرن قسم کی بیوہ عورت نو عمر وہاں آ کر رہنے لگی- اُس کے دو بچے بھی تھے- ہم، جو سمن آباد کے”نیک“ آدمی تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب کردار آ کر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے اور اُس کا اندازِ زیست ہم سے ملتا جُلتا نہیں ہے- ایک تو وہ انتہائی اعلٰی درجے کے خوبصورت کپڑے پہنتی تھی، پھر اُس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بڑی خوبصورت تھی- تیسری اُس میں خرابی یہ تھی کہ اُس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتی تھیں- اُس کے جو دو بچّے تھے، وہ گھر سے باہر بھاگے پھرتے تھے اور کھانا گھر پر نہیں کھاتے تھے- لوگوں کے گھروں میں چلے جاتے تھے اور جن گھروں میں جاتے، وہیں سے کھا پی لیتے تھے، یعنی گھر کی زندگی سے اُن بچوں کی زندگی کچھ کٹ آف تھی-
اُس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے- گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں، لیکن اُس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتی تھیں- ظاہر ہے اس صورتِ حال میں ہم جیسے بھلے آدمی اس سے کوئی اچھا نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے- اُس کے بارے میں ہماراایسا ہی روّیہ تھا، جیسا آپ کو جب میں یہ کہانی سُنا رہا ہوں، تو آپ کے دل میں لا محالہ اس جیسے ہی خیالات آتے ہوں گے۔ ہمارے گھروں میں آپس میں چہ میگوئیاں ہوتی تھیں کہ یہ کون آ کر ہمارے علاقے میں آکر آباد ہو گئی ہے- میں کھڑکی سے اسے جب بھی دیکھتا، وہ جاسوسی ناول پڑھتی رہتی تھی- کوئی کام نہیں کرتی تھی- اُسے کسی چولہے چوکے کا کوئی خیال نہ تھا- بچّوں کو بھی کئی بار باہر نکل جانے کو کہتی تھی-
ایک روز وہ سبزی کی دُکان پر گر گئی، لوگوں نے اُس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے وینٹے مارے تو اُسے ہوش آیا اور وہ گھر گئی- تین دن کے بعد وہ فوت ہوگئی، حالانکہ اچھی صحت مند دکھائی پڑتی تھی- جو بندے اُس کے ہاں آتے تھے، اُنہوں نے ہی اُس کا کفن دفن کا سامان کیا- بعد میں پتہ چلا کہ اُن کے ہاں آنے والا ایک بندہ اُن کا فیملی ڈاکٹر تھا- اُس عورت کو ایک ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں تھا- اُس کو کینسر کی ایسی خوفناک صورت لاحق تھی Skin وغیرہ کی کہ اُس کے بدن سے بدبو بھی آتی رہتی تھی- جس پر زخم ایسے تھے اور اُسے خوشبو کے لیے سپرے کرنا پڑتا تھا، تاکہ کسی قریب کھڑے کو تکلیف نہ ہو- اُس کا لباس اس لیے ہلکا ہوتا تھا اور غالباً ایسا تھا جوبدن کو نہ چُبھے- دوسرا اُس کے گھر آنے والا اُس کا وکیل تھا، جو اُس کے حقوق کی نگہبانی کرتا تھا- تیسرا اُس کے خاوند کا چھوٹا بھائی تھا، جو اپنی بھابی کو ملنے آتا تھا- ہم نے ایسے ہی اُس کے بارے طرح طرح کے اندازے لگا لئے اور نتائج اخذ کر لئے اور اُس نیک پاکدامن عورت کو جب دورہ پڑتا تھا، تو بچّوں کو دھکے مار باہر نکال دیتی تھی اور تڑپنے کے لئے وہ اپنے دروازے بند کر لیتی تھی-
میرا یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم تنقید اور نقص نکالنے کا کام اللہ پر چھوڑیں وہ جانے اور اُس کا کام جانے-ہم اللہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اُٹھائیں، کیونکہ اُس کا بوجھ اُٹھانے سے آدمی سارے کا سارا”چِبہ“ ہو جاتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے، مر جاتا ہے-
اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں عطا کرنے کا شرف عطا فرمائے- اللہ حافظ !!
۔۔۔
ٹائپنگ: محب علوی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15