نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Psycho Analysis

کبھی کبھی زندگی میں یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت زیادہ خوشیوں اور بڑی راحتوں کے ساتھ ان کے پیچھے چھپی ہوئی مشکلات بھی آ جاتی ہیں اور پھر ان مشکلات سے جان چھڑانی یوں مشکل ہوتی ہے۔ کہ انسان گھبرایا ہوا سا لگتا ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے ہاں بہت بارشیں ہوئیں۔ بارشیں جہاں خوشیوں کا پیغام لے کر آئیں، وہاں کچھ مشکلات میں بھی اضافہ ہوا۔ ہمارے گھر میں ایک راستہ، جو چھوٹے دروازے سے ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے اور پھر اس سے ہم اپنے گھر کے صحن میں داخل ہوتے ہیں، بارشوں کی وجہ سے وہ چھوٹا دروازہ کھول دیا گیا، تاکہ آنے جانے میں آسانی رہے۔ آسانی تو ہوئی، لیکن اس میں پیچیدگی پیدا ہو گئی۔ وہ یہ کہ باہر سے جو جوتے آتے تھے، وہ کیچڑ سے لتھڑے ہوئے ہوتے تھے اور باوجود کوشش کے اور انہیں صاف کرنے کے، کیچڑ تو اندر آ ہی جاتا تھا اور اس سے سارا قالین خراب ہو جاتا تھا۔

میں چونکہ اب تیزی سے بوڑھا ہو رہا ہوں اور بوڑھے آدمی میں کنٹرول کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ تو میں چیختا چلاتا تھا اور ہر اندر آنے والے سے کہتا کہ جوتا اتار کر آؤ اور اسے پہننے کے بجائے ہاتھ میں پکڑ کر آؤ۔ اس سے میرے پوتے اور پوتیاں بہت حیران ہوتے تھے کہ اس جوتے کا فائدہ کیا، جو گھر کے دروازے پر پہنچ کر اتارا جائے اور ہاتھ میں پکڑ کر گھر میں داخل ہوا جائے۔ وہ بے چارے کوئی جواز تو پیش نہیں کرتے تھے، لیکن جوتے اتارتے بھی نہیں تھے، جس سے میری طبیعت میں تلخی اور سختی بڑھتی گئی اور میں سوچتا تھا کہ یہ مسئلہ صرف اس طرح سے ہی حل ہو سکتا ہے، جس طرح میں سوچتا ہوں۔

میری بہو نے کوئی اعتراض تو مجھ پر نہیں کیا اور نہ ہی اس نے مجھے کوئی جواب دیا۔ وہ شام کو بازار گئی اور اس نے دو میٹ خریدے۔ ایک تاروں کا بنا ہوا اور دوسرا موٹا بالوں والا۔ اب جب تاروں کے میٹ سے پاؤں رگڑے جاتے تو وہ "رندے" کی طرح صاف کر دیتا اور پھر موٹے بالوں کا موٹا دبیز میٹ مزید صفائی کر دیتا تھا، یہ بعد میں رکھا گیا تھا۔ جب میں نے یہ عمل دیکھا اور اس پر غور کرتا رہا، تو مجھے کافی شرمندگی ہوئی کہ میں جو اپنی دانش کے زور پر اپنے علم اور عمر کے تجربے پر بات کہہ رہا تھا، وہ اتنی ٹھیک نہیں تھی اور اس لڑکی(بہو) نے اپنا آپ اپلائی کر کے اس مسئلے کا حل نکال دیا اور ہمارے درمیان کوئی جھگڑا بھی نہیں ہوا۔

مجھے خیال آیا کہ انسان اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنے کے لئے دوسروں پر تنقید زیادہ کرتا ہے اور خود میں تبدیلی نہیں کرتا۔ اس مسئلے سے آپ خود بھی گزرتے ہوں گے۔ ہم نے یہ وطیرہ بنا لیا ہے کہ چونکہ مجھے ماسی اس طرح سے کہتی ہے اور فلاں اس طرح سے کہتا ہے اس لئے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ ماما جی میں خرابی ہے یا چچا ٹھیک نہیں یا پھر محلے والے یا حکومت خراب ہے۔ ٹرانسپیر نسی نہیں ہے اور سسٹم ہی ٹھیک نہیں، اس لئے محلّہ گندہ ہے۔ اگر کہیں پانی کھڑا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ گورنمنٹ اس پر توجہ نہیں دیتی اور اپنی خرابی سے ہٹ کر ہمارے پاس بہت سارے جواز اور بہانے موجود ہوتے ہیں اور یہ ہماری زندگی میں پھیلتے رہتے ہیں۔

کچھ خوش قسمت ملک ہیں، جہاں لوگ اپنے مسائل اپنے طور پر یا خود ہی حل کر لیتے ہیں۔ جو ان کے کرنے کے ہوتے ہیں۔ میری ایک نواسی ہے، اس نے ڈرائیونگ لائسنس کے لئے اپلائی کیا۔ وہ ایک سکول سے دو تین ماہ ڈرائیونگ کی تعلیم بھی لیتی رہی۔ لائسنس کے لئے ٹریفک پولیس والوں نے اس کا ٹیسٹ لیا، لیکن وہ بے چاری فیل ہو گئی۔ وہ بڑی پریشان ہوئی اور مجھ سے آ کر لڑائی کی کہ نانا یہ کیسی گورنمنٹ ہے، لائسنس نہیں دیتی۔ وہ خود میں خرابی تسلیم نہیں کرتی تھی، بلکہ اسے سسٹم کی خرابی قرار دیتی تھی۔ ایک ماہ بعد اس نے دوبارہ لائسنس کے لئے اپلائی کیا اب مجھے جتنی آیات آتی تھیں، میں نے پڑھ کر اللہ سے دعا کی کہ اس کو پاس کر دے، وگرنہ میری شامت آ جائے گی۔ لیکن وہ ٹیسٹ میں پاس نہ ہوئی اور ٹریفک والوں نے کہا کہ بی بی آپ کو ابھی لائسنس نہیں مل سکتا، تو وہ رونے لگی، شدت سے، اور کہنے لگی تم بے ایمان آدمی ہو اور تمھارا ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی بیر چلا آ رہا ہے اور چونکہ تمھاری ہمارے خاندان کے ساتھ لگتی ہے، اس لئے ٹریفک والو تم مجھے لائسنس نہیں دیتے۔ وہ بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم تو آپ کے خاندان کو نہیں جانتے۔ وہ کہنے لگی، ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوا ہے اور میں اس ظلم پر احتجاج کروں گی۔ اخبار میں بھی لکھوں گی کہ آپ لوگوں نے مجھے لائسنس دینے سے انکار کیا، ایسا میری امی کے ساتھ اور ایسا ہی سلوک میری نانی کے ساتھ بھی کیا، جو پرانی گریجوایٹ تھیں اور اس طرح ہماری تین “پیڑھیوں“ (نسلوں) کے ساتھ ظلم ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جس سے آپ کا ہمارے ساتھ بیر واضح ہوتا ہے۔

وہ ابھی تک اپنے ذہن میں یہ بات لئے بیٹھی ہے کہ چونکہ ٹریفک پولیس والوں کی میرے خاندان کے ساتھ ناچاقی ہے اور وہ اس کو برا سمجھتے ہیں، اس لئے ہمیں لائسنس نہیں دیتے۔ اپنی کوتاہی دور کرنے کے بجائے آدمی ہمیشہ دوسرے میں خرابی دیکھتا ہے۔ بندے کی یہ خامی ہے۔ میں اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لئے تیار ہوں اور ہمیشہ دوسرے کی خامی بیان کروں گا، جیسا کہ میں قالین پر کیچڑ کے حوالے سے اپنے فیصلے کو آخری قرار دے دیا تھا کہ سوائے جوتے ہاتھ میں پکڑنے کے اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ اگر کوئی گروہ انسانی اپنے آپ کو Search کرنا چاہتا ہے اور راست روی پر قائم ہونا چاہتا ہے، تو پھر اسے اپنا تجزیہ اور Analysis کرنا پڑے گا۔ میں اپنا تجزیہ کرنے کے لئے بڑا زور لگاتا ہوں، لیکن کر نہیں پاتا۔ حالانکہ دوسرے کا تجزیہ فوراً کر لیتا ہوں۔ میں ایک سیکنڈ میں بتا دیتا ہوں کہ میرے محلے کا کون سا آدمی کرپٹ ہے۔ میرے دوست میں کیا خرابی ہے، لیکن مجھے اپنی خرابی نظر آتی ہی نہیں۔ میں نے بڑا زور لگایا ہے بڑے دم درود کروائے ہیں۔ Psycho Analysis کروایا، ہپناٹزم کروایا کہ میرا کچھ تو باہر آئے اور مجھے اپنی خامیوں کا پتہ چلے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں تو ایک بہت سمجھدار عاقل، فاضل ہوں۔ مجھ سے زیادہ بڑا دانشمند آدمی تو ہے ہی نہیں۔ اگر آپ کا مطالعہ کریں اور کھلی نظروں سے دیکھیں تو آپ پر یہ کیفیات عجیب و غریب طریقے سے وارد ہوں گی کہ بندہ اپنے آپ کو کیسا سمجھتا ہے اور اصل میں ہوتا کیا ہے۔

میرے ایک کزن ہیں۔ وہ قصور میں رہتے ہیں۔ جب ہم جوان تھے اور نئی نئی ہماری شادی ہوئی تھی، یہ ان دنوں کی بات ہے۔ اس کے ہاں بچہ ہونے والا تھا۔ وہ رات کے ایک بجے قصور سے لاہور چل پڑا۔بالکل عین وقت پر بجائے اس کے کہ وہ اس کا قبل از وقت بندوبست کرتا، اب ایک بجے وہ گاڑی میں چلے اور سارا راستہ طے کر کے پریشانی کے عالم میں لاہور پہنچے اور اللہ نے کرم کیا کہ وہ وقت پر لاہور پہنچ گئے۔ صبح میں نے اس سے کہا کہ اے جاہل آدمی، تجھے اتنی عقل ہونی چاہیئے تھی کہ پہلے اپنی بیوی کو لاہور لے آتا۔ اس نے کہا نہیں نہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میں خود اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اسے کب لے جانا ہے اور اللہ نے مجھے یہ فہم دی ہے۔ میں نے کہا فرض کرو رات کے ایک بجے گاڑی چلاتے ہوئے کوئی ایسی پیچیدگی یا مشکل پیدا ہو جاتی اور ریحانہ (بیوی) کی تکلیف بڑھ جاتی، تو پھر تم کیا کرتے؟ کہنے لگا کہ اگر تکلیف بڑھ جاتی تو میں اس کو ڈرائیونگ سیٹ سے اٹھا کر پچھلی سیٹ پر ڈال دیتا اور خود ڈرائیور کرنے لگ جاتا۔ پتہ یہ چلا کہ صاحبزادہ ڈرائیور بھی اسی سے کرواتا آیا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میری دانش اور میری سوچ یہ بالکل آخری مقام پر ہے اور اس سے آگے سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

ہمارے سیانے یہ کہا کرتے ہیں کہ دیواروں سے بھی مشورہ کر لینا چاہیئے۔ یہ ناظم اور کونسلرز کی کمیٹیاں تو اب بنی ہیں۔ پندرہ سال پہلے ہماری ریڈیو کی ایک یونین ہوا کرتی تھی۔ اس میں ہم کچھ نئی باتیں سوچتے تھے۔ اپنے آپ کو یا کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اور سننے والوں کو آسانیاں عطا کرنے کے لئے۔ اس دور میں ریڈیو کا خاصا کام ہوا کرتا تھا۔ ہماری یونین کے ایک صدر تھے۔ انہوں نے ایک روز میٹنگ میں یہ کہا کہ ظاہر ہے کہ اجلاس میں آپ خرابیاں ہی بیان کریں گے اور آپ لوگوں سے یہ درخواست کروں گا کہ آپ تیرہ اور پندرہ منٹ تک جنتی برائیاں بیان کر سکتے ہیں، کریں۔ لیکن پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں اور جو اصحاب اپنا موقف تقریر میں بیان نہیں کر سکتے، وہ یہ آسان کام کریں کہ تیرہ گالیاں دیں اور کھڑے ہو کر اچھی گندی بری گالیاں کھٹا کھٹ دے کر بیٹھ جائیں، کیونکہ کسی نے ہمیں کوئی تعمیری چیز تو بتانی نہیں، نقص ہی نکالنے ہیں اور بہتر یہی ہے کہ آپ ایسا کر لیں۔ ہم نے کہا کہ اگر انہوں نے اجازت دے دی ہے تو ایسا ہی کریں اور واقعی بیشتر لوگوں نے گالیوں پر ہی اکتفا کیا، کیونکہ آسان کام یہی تھا، آپ لوگوں نے اب بھی اخبارات میں دیکھا ہوگا کہ تعمیری کام کیسے کیا جائے کے بجائے ہم زیادہ تر تنقید ہی کرتے ہیں اور حل پر زور کم دیتے ہیں۔

یہ مشکلات بہت چھوٹی اور معمولی ہیں، لیکن انہیں کس طرح سے اپنی گرفت میں لیا جائے۔ یہ کام بظاہر تو آسان نظر آتا ہے، حقیقت میں بہت مشکل ہے۔ جب ہمارا ریڈیو سٹیشن نیا نیا بنا تھا تو بارش میں اس کی چھتوں پر ایک تو پانی کھڑا ہو جاتا تھا اور دوسرا کھڑکی کے اندر سے پانی کی اتنی دھاریں آ جاتیں کہ کاغذ اور ہم خود بھی بھیگ جاتے۔ ایک روز ایسی ہی بارش میں ہم سب بیٹھ کر اس کو تعمیر کرنے والے کو صلواتیں سنانے لگے کہ ایسا ہی ہونا تھا۔ بیچ سے پیسے جو کھا لئے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ساتھ ہمارے ایک ساتھی قدیر ملک وہ صوتی اثرات کے ماہر تھے۔ وہ سائیکل بڑی تیزی سے چلاتے تھے۔ دبلے پتلے آدمی تھے۔ وہ تیز بارش میں سائیکل لے کر غائب ہو گئے۔ ان کے گھر میں پرانا کنستر کا ایک ٹکڑا پڑا تھا۔ وہ اسے لے آئے اور چھت پر انہوں نے کنستر کے ٹکڑے کو ٹیڑھا کر کے ایک اینٹ نکال کر فکس کر دیا۔ اس طرح پرنالہ بن گیا اور چھت کا اور بارش کا پانی کمرے میں آئے بغیر شر ررر۔۔۔کرتا باہر گرنے لگا۔ ہم نے کہا کہ بھئی یہ کیا ہو گیا ابھی بوچھاڑ اندر کو آ رہی تھی، تو قدیر ملک کہنے لگا، پتہ نہیں کیا ہو گیا۔ لیکن اب تو ٹھیک ہو گیا ہے، بیٹھ کر کام کرو۔ بڑے برسوں کے بعد جب ریٹائرمنٹ کے بعد کبھی چائے وائے پیتے ان سے کسی شخص نے اس حوالے سے پوچھا، تو اس نے اصل بات بتائی۔

عرض کرنے کا مطلب یہ تھا کہ جب ہم روحانی دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو جب تک پہلے زندگی کے روزمرہ کے مسائل حل نہیں ہوں گے، تو آپ روحانی دنیا میں داخل ہو ہی نہیں سکیں گے، اس لئے کہ یہ مرحلہ گزرا کر پھر راستہ آگے چلے گا۔ رفو آپ جب ہی کر سکیں گے جب نانی اماں کی سوئی میں دھاگہ ڈال کر دیں گے، اس کو تو نظر نہیں آ رہا، پھر رفو ہو گا پھر وہ اماں وڈھی آپ کو رفو کر کے دے گی۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم روحانی دنیا میں کوئی ایسا فعل اختیار کر لیں۔ کوئی ایسا ورد وظیفہ کر لیں کہ فٹا فٹ دودھ کی بارش ہونے لگے اور ہم کو روشنیاں نظر آنے لگیں، ایسا ہوا نہیں کبھی۔ جانا اسی روزمرہ کی زندگی کے راستے سے پڑتا ہے۔ چھوٹے دروازے کے قالین کے اوپر سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے اور پکڑی جائے گی گردن اشفاق صاحب کی کہ تم نے کیا غلط راستہ نکالا تھا، قالین صاف رکھنے کا۔ اگر کسی مقام پر بھی لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، تو آپ روحانی دنیا میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ اللہ کریم کو اپنی مخلوق بڑی پیاری ہے۔ جب تک مخلوق کا احترام نہیں ہو گا، بات نہیں بنے گی۔

آپ اکثر دیکھتے ہیں آس پاس کہ احترامِ انسانیت اور احترامِ آدمیت کا فقدان ہے۔ اس میں پاکستان بےچارے کی کوئی خرابی نہیں ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ ہم ان لوگوں سے سیکھ کر آئے ہیں، جہاں چھوت چھات مذہب کی حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت میں 32 کروڑ کے قریب انسان ہیں، جو Untouchable کہلاتے ہیں، یعنی اچھوت۔ ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ وہ بھی عام بندے ہیں۔ عام لوگوں جیسے ان کے ہاتھ منہ ناک کان ہیں۔ بڑی محنت سے کام بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے لئے حکم ہے کہ انہیں ہاتھ نہیں لگانا اور جب ان کے قریب سے گزرنا ہے تو ناک پر رومال رکھنا ہے۔ ہم نے پاکستان تو بنا لیا ہے، لیکن ہم یہ تصور ساتھ لے کر آ گئے ہیں۔ احترامِ آدمیت کا جو اللہ نے پہلا حکم دیا تھا، اس پرکار بند نہیں رہ سکے۔ جب یہ ہی نہیں ہو گا، تو پھر آپ اگر روحانیت کی دنیا میں داخل ہونا چاہیں گے، کسی بابے کو ملنا چاہیں گے، کسی اعلٰی ارفع سطح پر ابھرنا چاہیں گے، تو ایسا نہیں ہو گا، کیونکہ درجات کو پانے کے لئے بڑے بڑے فضول، نالائق بندوں کی جوتیاں سیدھی کرنا پڑتی ہیں اور یہ اللہ کو بتانا پڑتا ہے کہ جیسا جیسا بھی انسان ہے، میں اس کا احترام کرنے کے لئے تیار ہوں، کیونکہ تو نے اسے شکل دی ہے۔

دیکھئے ناں! جو شکل و صورت ہوتی ہے، میں نے تو اسے نہیں بنایا، یا آپ نے اسے نہیں بنایا، بلکہ اسے اللہ تعالٰی نے بنایا ہے۔ میری بیٹیاں بہوئیں جب بھی کوئی رشتہ دیکھنے جاتی ہیں، تو میں ہمیشہ ایک بات سنتا ہوں کہ بابا جی! لڑکی بڑی اچھی ہے، لیکن اس کی “چھب“ پیاری نہیں ہے۔ پتہ نہیں یہ “چھب“ کیا بلا ہوتی ہے۔ وہ ان کو پسند نہیں آتی اور انسان سے کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتی ہیں۔ میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کرو۔ شکل و صورت سب کچھ اللہ تعالٰی نے بنائی ہے۔ یہ کسی جوتا کمپنی نے نہیں بنائی ہے۔ انسان کو تم ایسا مت کہا کرو، ورنہ تمھارے نمبر کٹ جائیں گے اور ساری نمازیں، روزے کٹ جائیں گے، کیونکہ اللہ کی مخلوق کو آپ نے چھوٹا کیا ہے، تو یہ مشکلات ہیں۔ گو یہ چھوٹی سی باتیں تھیں، لیکن چھوٹی باتوں میں سے بڑی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ جب تک میں اور آپ احترامِ آدمیت کا خیال نہیں رکھیں گے اور اپنے لوگوں کو پاکستانیوں کو عزّتِ نفس نہیں دیں گے، روٹی کپڑا کچھ نہ دیں، ان کی عزّت نفس انہیں لوٹا دیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے ڈرائیور کو سراج دین صاحب کہنا شروع کر دیں اور اپنے ملازم کے نام کے ساتھ “صاحب“ کا لفظ لگا دیں۔ جب تک یہ نہیں ہو گا، اس وقت تک ہماری روح کے کام تو بالکل رکے رہیں گےاور دنیا کے کام بھی پھنسے ہی رہیں گے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے، آمین!!‌ 
بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: محب علوی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15