احترام آدمیت

احترامِ آدمیت کا جو اللہ نے پہلا حکم دیا تھا، اس پرکار بند نہیں رہ سکے۔ جب یہ ہی نہیں ہو گا، تو پھر آپ اگر روحانیت کی دنیا میں داخل ہونا چاہیں گے، کسی بابے کو ملنا چاہیں گے، کسی اعلٰی ارفع سطح پر ابھرنا چاہیں گے، تو ایسا نہیں ہو گا، کیونکہ درجات کو پانے کے لئے بڑے بڑے فضول، نالائق بندوں کی جوتیاں سیدھی کرنا پڑتی ہیں اور یہ اللہ کو بتانا پڑتا ہے کہ جیسا جیسا بھی انسان ہے، میں اس کا احترام کرنے کے لئے تیار ہوں، کیونکہ تو نے اسے شکل دی ہے۔
دیکھئے ناں! جو شکل و صورت ہوتی ہے، میں نے تو اسے نہیں بنایا، یا آپ نے اسے نہیں بنایا، بلکہ اسے اللہ تعالٰی نے بنایا ہے۔ میری بیٹیاں بہوئیں جب بھی کوئی رشتہ دیکھنے جاتی ہیں، تو میں ہمیشہ ایک بات سنتا ہوں کہ بابا جی! لڑکی بڑی اچھی ہے، لیکن اس کی “چھب“ پیاری نہیں ہے۔ پتہ نہیں یہ “چھب“ کیا بلا ہوتی ہے۔ وہ ان کو پسند نہیں آتی اور انسان سے کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتی ہیں۔ میں انہیں کہا کرتا ہوں کہ اللہ کا خوف کرو۔ شکل و صورت سب کچھ اللہ تعالٰی نے بنائی ہے۔ یہ کسی جوتا کمپنی نے نہیں بنائی ہے۔ انسان کو تم ایسا مت کہا کرو، ورنہ تمھارے نمبر کٹ جائیں گے اور ساری نمازیں، روزے کٹ جائیں گے، کیونکہ اللہ کی مخلوق کو آپ نے چھوٹا کیا ہے، تو یہ مشکلات ہیں۔ گو یہ چھوٹی سی باتیں تھیں، لیکن چھوٹی باتوں میں سے بڑی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں کہ جب تک میں اور آپ احترامِ آدمیت کا خیال نہیں رکھیں گے اور اپنے لوگوں کو پاکستانیوں کو عزّتِ نفس نہیں دیں گے، روٹی کپڑا کچھ نہ دیں، ان کی عزّت نفس انہیں لوٹا دیں۔ مثال کے طور پر آپ اپنے ڈرائیور کو سراج دین صاحب کہنا شروع کر دیں اور اپنے ملازم کے نام کے ساتھ “صاحب“ کا لفظ لگا دیں۔ جب تک یہ نہیں ہو گا، اس وقت تک ہماری روح کے کام تو بالکل رکے رہیں گےاور دنیا کے کام بھی پھنسے ہی رہیں گے
زاویہ دوم، باب تیرہ سے اقتباس
From, Zavia 2, Chapter 13
بشکریہ: قیصر صدیق