ترقی اور جمہوریت کا بڑھاپا

ایک انگریز مصنف ہے جس کا میں نام بھولنے لگا ہوں۔ اس کی معافی چاہتا ہوں لیکن شاید گفتگو کے دوران نام یاد آجائے ، وہ مصنف کہتا ہے کہ تکبر ، رعونت اور گھمنڈ اور مطلق العنانیت جب قوموں اور حکومتوں میں پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک طرح کی ڈویلپمنٹ بلکہ بڑی گہری ڈویلپمنٹ ہوتی ہے اور اس کے بعد جب کوئی حکومت ، کوئی مملکت یا کوئی بھی طرزِ معاشرت یا زندگی وہ Democratic یا شعورائی انداز سے گزر کر یہاں تک پہنچا ہو تو پھر یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب جمہوریت بوڑھی ہوگئی، کمزور ، بیمار ہوگئی ہے اور اس کے آخری ایام ہیں۔ کسی بھی قوم میں تکبر یا گھمنڈ آجائے تو وہ اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ جمہوریت جس کو لے کر یہ کئی صدیوں سے چل رہے تھے، اب کمزور اور ماؤف ہوگئے ہیں۔ تکبر اور فرعونیت کے بڑے روپ ہیں ، اونچے بھی اور نیچے بھی اور ان کو سنبھالا دینا اور ان کے ساتھ اس شرافت کے ساتھ چلنا جس کا معاملہ نبیوں نے انسانوں کے ساتھ کیا ہے، بڑا ہی مشکل کام ہے۔ کسی قسم کی تعلیم ، کسی قسم کی دنیاوی تربیت ہمارا ساتھ نہیں دیتی اور تکبر سے انسان بس اوپر سے اوپر ہی نکل جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس حوالے سے بہت کوششیں ہوتی ہیں۔ 220 یا 240 قبل مسیح میں جب ہمارے خطے میں گندھارا حکمرانی تھی ، تب سوات کے قریب بدھوؤں کی ایک بستی تھی اور وہ بڑے بھلے لوگ تھے۔ جیسے بدھ لوگ ہوتے ہیں۔ ان پر ایک ہندو راج دھانی ( حکومت ) نے حملہ کر دیا۔ بدھوؤں نے فصیل کے دروازے بند کردیئے اور وہ بیچارے اندر چھپ کے بیٹھ گئے۔ ہندو فوج نے اپنے تیر ، ترکش اور اگن بم پھینکے تو فصیل کے اندر بے چینی پیدا ہوئی۔ کچھ بوڑھے ، بزرگ اور صلح پسند بدھ دروازہ کھول کے باہر نکلے اور انہوں نے کہا “ تم کیا چاہتے ہو ؟“ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تم سے لڑنا اور جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ بدھوؤں نے کہا کہ جناب ، حضور ہم تو لڑنا نہیں چاہتے۔ تب ہندو مہاراجہ نے کہا کہ ہم تمہارا “بیج ناس“ (نسل ختم ) کرنا چاہتے ہیں اور تم کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہتے اور اس چھوٹی سی ریاست پر جو تم نے سوات کے کنارے بسائی ہے، اس پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔ بدھوؤں نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔ آپ قبضہ کرلیں۔ چنانچہ انہوں نے ہندو مہاراجہ سے ایک گھنٹے کی مہلت مانگی ۔ وہ بدھ بزرگ پلٹے ، انہوں نے اپنی بستی کے لوگوں سے کہا کہ اپنا سامان اٹھاؤ جو بھی چھوٹا موٹا اٹھا سکتے ہو اور ایک گھنٹے کے اندر اندر بستی کو خالی کردو، پھر یوں ہوا کہ وہ جتنے بھی بدھ لوگ تھے ، وہ وہاں سے چل پڑے ، باہر فوج کھڑی تھی اور بدھ ان کو سلام کرتے ہوئے جارہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ جی ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے جارہے رہیں ، آپ قبضہ فرما لیجیے۔ جب وہ بستی بالکل خالی ہونے لگی تو ہندو فوج کے سپہ سالار یا “سینا پتی “ نے انہیں روک کے کہا “ اوہ بدھوؤ یہ تم کیا کررہے ہو ،تم بستی خالی کرکے جارہے ہو۔ ہم اس خالی خولی بستی پر قبضہ کرکے کیا کریں گے؟ انہوں نے کہا یہ خالی نہیں ، اس میں ہمارا سامان بھی رکھا ہوا ہے۔ سپہ سالار نے کہا ، خالی سامان نہیں چاہیے۔ ہماری گھمنڈ کی جو آگ ہے ، وہ خالی سامان سے نہیں بجھے گی۔ یہ اس وقت بجھے گی جب تک ہم تم کو زیرِ نگیں نہیں کریں گے۔ جب تک تم کو زیر کریں گے اور تم پر حکمرانی نہیں کریں گے یا تم کو اپنے ہاتھوں لڑ کے ختم نہیں کریں گے۔ بدھوؤں نے کہا کہ ہم تو خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہم آپ کے زیرِ نگیں ہیں اور ہم نے اب جنگل میں بسنے کا اہتمام بھی کر لیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوؤں نے جاتے ہوئے گھمنڈ اور تکبر میں بدھ بھکشوؤں پر حملہ کر دیا۔ کچھ کو مار ڈالا، کچھ کو زنجیریں ڈال کر غلام بنا لیا اور اپنے گھمنڈ کی آگ کو اس طرح ٹھنڈا کیا۔انسانی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں چلتی آئی ہیں اور آرہی ہیں۔ یہ مت سمجھئے گا کہ تعلیم کی وجہ سے یا بہت اعلٰی درجے کی تربیت کی وجہ سے یا قدم قدم یہ قافلہ چلنے کے باعث انسان کے اندر رعونت ، تکبر اور گھمنڈ کا جذبہ کم ہوجائے گا۔ آپ جب بھی تاریخ کے ورق پلٹیں کے ، بڑے بڑے حکمرانوں ، شہنشاہوں ، بادشاہوں اور سلطنتوں نے اپنے گھمنڈ اور تکبر کی خاطر چھوٹی چھوٹی مملکتوں اور راج دھانیوں اور بستیوں پر اور اپنے برابر والوں پر بھی بڑھ چڑھ کے حملے کیے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار کرنے کی نیت سے ایسا کیا ہے۔

خواتین و حضرات! ہماری زندگی میں اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں آپ کی کسی ایسے مقام پر بے عزتی ہو جاتی ہے کہ آپ کھڑے کھڑے موم بتی کی طرح پگھل کے خود اپنے قدموں میں گر جاتے ہیں۔ مجھے اُس وقت کا ایک واقعہ یاد ہے جب میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں رہتا تھا اور تب قدرت اللہ شہاب کورس کرنے کے لئے ہالینڈگئے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے وہاں سے خط لکھا کہ میں ایک ہفتے کے لئے تمھارے پاس آنا چاہتا ہوں اور میں روم کی سیر کروں گا اور وہاں پھروں گا،باوجود اس کے کہ سات دن بہت محدود اور کم عرصہ ہے لیکن کہتے ہیں کہ روم سات دنوں کے اندر کسی حد تک روم دیکھا جا سکتا ہے تو میں بھی کسی حد تک اسے دیکھنے کے لئے تمہارے پاس آرہا ہوں۔ میں نے کہا کہ ضرور آئیے ۔ جب وہ آئے تو تین دن ہم روم کے گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومتے رہے اور جتنے بھی وہاں عجائب گھر تھے ، انہیں دیکھا لیکن لوگ کہتے کہ روم کے میوزیم تو سال بلکہ سو سال میں بھی نہیں دیکھے جاسکتے۔ بہرحال ہم پھرتے اور گھومتے رہے۔ایک شام بیٹھے بیٹھے قدرت اللہ شہاب کے دل میں آیا اور کہنے لگے ، میں “پومپیائی“ (وہ شہر جو ایک بڑے پہاڑ کے لاوے کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا اور اب بھی وہ جلا ہوا اور برباد شہر ویسے کا ویسے کا پڑا ہے اور لاوے کے خوف سے ایک کتا لاوے کے آگے آگے چیختے ہوا بھاگا تھا لیکن ایک مقام پر آ کر لاوے نے اسے بھی پکڑ لیا اور وہ جل بھن گیا۔چنانچہ اس کا حنوط شدہ وجود اب بھی اسی طرح موجود ہے۔) جانا چاہتا ہوں۔پومپیائی کے بارے میں آپ کو مزید بتاؤں کہ لاوے کے باعث وہاں جس طرح لوگ مرے تھے،گرے تھے،انھیں بھی ویسے ہی چھوڑا ہوا ہے۔ حماموں اور غسلخانوں اور دکانوں میں جسں طرح سے لوگ تھے ویسے ہی پڑے ہیں۔وہ بڑی عبرت کی جگہ ہے۔قدرت اللہ کہنے لگے، میں اسں شہر کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا کیونکہ پھر مجھے ایسا موقح نہیں ملے گا۔ پومپیائی روم سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ وہاں جانے میں ٹرین پر غالباً دو پونے دو گھنٹے لگتے ہیں۔جب ہم وہاں جانے لگے تو کہا کہ میں ایک ایسا جوتا لینا چاہتا ہوں جو بڑا نازک اور لچکیلا ہو اور وہ پاؤں کو تکلیف نہ دے تاکہ میں آسانی سے چل پھر سکوں۔ میں نے کہا یہ تو جوتوں کا گھر ہے، یہاں تو اعلٰی درجے کے جوتے ملتے ہیں۔ چنانچہ ہم ایک اعلٰی درجے کی جوتوں کی دکان پر گئے۔ میں نے دکان والے سے کہا کہ ہمارے ملک کے بہت معزز رائٹر ہیں اور انہیں ایک اعلٰی قسم کا جوتا خریدنا ہے۔انہوں نے ہمیں ایک انتہائی خوبصورت ، نرم اور لچکدار جوتا دکھایا جسں کو ہاتھ میں پکڑنے پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ،،چرمی،، (کھال) جوتا نہیں ہے بلکہ کپڑے کا ہے اور لچک اس میں ایسی کہ یقین نہ آئے ، یقین کریں آپ کا ہاتھ سخت ہو گا لیکن وہ جوتا انتہائی نرم تھا۔قدرت اللہ نے اسے بہت پسند کیا اور خرید لیا۔جب چل کے دیکھا تو انہوں نے خوشی سے سیٹی بجائی کہ اس سے اچھا جوتا میں نے ساری زندگی میں نہیں پہنا۔ ہم وہاں سے پومپیائی کے لئے روانہ ہوئے۔ اب ظاہر ہے پومپیائی ایک پتھریلا علاقہ ہے ، اس کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ، جلی ہوئی کیونکہ جیسا کسی زمانے میں تھا ویسا ہی پڑا ہوا ہے۔ ہم چلتے رہے ، کوئی پندرہ بیسں منٹ کے بعد ایک پاؤں کا جوتا ٹوٹ گیا اور اسں کے ٹانکے اکھڑ گے۔ وہ انہوں نے ہاتھ میں پکڑ لیا اور ایسے چلتے رہے جیسے بگلا چلتا ہے۔ اب ہاتھ میں جوتا پکڑے اونچی نیچی گھاٹیوں اور پہاڑیوں پر چل رہے تھے کہ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے پاؤں کا جوتا بھی جواب دے گیا۔ چنانچہ دونوں کو تسموں سے لٹکا کر انہوں نے پکڑ لیا اور ننگے پاؤں وہ پومپیائی کی زیارت کرتے رہے۔ جیسے یاتری مقدس مقامات کی کرتے ہیں اور شام کو ننگے پاؤں واپس آئے اور کہنے لگے،یار یہ جوتے جو اتنے قیمتی تھے، انہوں نے یہ حال کیا۔ میں نے دیکھا کہ ان جوتوں کے تلے اور پتاوے تک الگ ہو چکے تھے بہت غصہ آیا اور اس میں میری بے عزتی بھی تھی کیونکہ میں تو ہر وقت روم کی تعریف کرتا رہتا تھا جسں طرح اب بھی کرتا رہتا ہوں۔ اگلی صبع میں دکان پر گیا، ساتھ شہاب صاحب بھی تھے۔ میں نے کہا ، دیکھئے آپ نے اتنے مہنگے جوتے ہمیں دیئے ہیں ، یہ تو دو گھنٹے سے زیادہ بھی نہیں چلے اور آپ کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ ایک آدمی اتنی دور سے آیا ہے اور تہمارے نامی گرامی اور تاریخی شہر کی زیارت کر رہا ہے لیکن تم نے ایسے جوتے دے دیئے۔ جو دکاندار تھا وہ بڑے نرم خو اور محبت والے انداز میں کہنے لگا “ صاحب ہم شرفاء اور معزز لوگوں کے لئے جوتے بناتے ہیں ، پیدل چلنے والوں کے لئے نہیں بناتے۔ “یہ ایک تکبر کی تلوار تھی جس نے ہم دونوں کو اس مقام پر بری طرح سے قتل کر دیا۔ انسان اکثر دوسروں کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے ایسے فقرے مجتمع کرکے رکھتا ہے کہ وہ اس فقرے کے ذریعے وار کرے اور حملہ آور ہوا اور پھر اس کی زندگی اور اس کا جینا اس کے لئے محال کر دے۔ اس طرح حملے بڑی سطح پر بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے لیول پر بھی ہوتے ہیں لیکن ہمارے مذہب میں یہ روایت بہت کم تھی۔ اگر تھی تو ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اس فرعونیت سے نکالتے رہتے تھے جس کا گناہ شداد ، فرعون ، نمرود اور ہامان نے کیا تھا۔ ان کا یہ بس ایک ہی گناہ تھا جو سب گناہوں سے بھاری تھا۔ ازل سے لے کر آج تک انسان کے ساتھ گناہ اور بدیاں چمٹی رہی، کچھ کم ہوتی ہیں اور کچھ زیادہ۔ کسی کے پاس ایک بدی بالکل نہیں ہوتی۔ کسی کے پاس کافی تعداد میں ہوتی ہیں۔ لیکن کہتے ہیں کہ کائنات میں کوئی آدمی ایسا نہیں گزرا جو تکبر کا مرتکب نہ رہا ہو۔ کسی نہ کسی روپ میں وہ ضرور اس گناہ کا شکار ہوا ہے یا اس میں مبتلا رہا ہے۔ ہمارے صوفی لوگ اس تلاش میں مارے مارے پھرے ہیں کہ کوئی ایسا راہ تلاش کی جائے جس سے تکبر کی شدت میں کمی واقع ہو۔ ایک درویش جنگل میں جارہے تھے۔ وہاں ایک بہت زہریلا کو برا سانپ پھن اٹھائے بیٹھا تھا۔ اب ان درویشوں ، سانپوں ، خوفناک جنگلی جانوروں اور جنگلیوں کا ازل سے ساتھ رہا ہے۔ وہ درویش سانپ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور وہ بیٹھا پھنکار رہا تھا۔ انہوں نے سانپ سے کہا کہ ناگ راجہ یار ایک بات تو بتا کہ جب کوئی تیرے سوراخ کے آگے جہاں تو رہتا ہے ، بین بجاتا ہے تو ، تُو باہر کیوں آجاتا ہے ۔ اس طرح تو تجھے سپیرے پکڑ لیتے ہیں۔ سانپ نے کہا، صوفی صاحب بات یہ ہے کہ اگر کوئی تیرے دروازے پر آکر تجھے پکارے تو یہ شرافت اور مروّت سے بعید ہے کہ تو باہر نہ نکلے اور اس کا حال نہ پوچھے۔ میں اس لئے باہر آتا ہوں کہ وہ مجھے بلاتا ہے تو یہ شریف آدمیوں کا شیوا نہیں کہ وہ اندر ہی گھس کے بیٹھے رہیں۔ ایک طرف تو مشرق میں اس قسم کی تعلیم اور تہذیب کا تذکرہ رہا ہے اور دوسرے طرف اسی مشرق کے لوگ اپنے قد کو اونچا کرنے کے لئے اور اپنی مونچھ کو اینٹھ کے رکھنے کے لئے مظلوموں اور محکوموں پر حملے کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی رعونیت اور تکبر کا نام بلند ہو۔ بعض اوقات بڑے اچھے اچھے افعال جو بظاہر بڑے معصوم نظر آتے ہیں ، وہ بھی تکبر کی ذیل میں آجاتے ہیں۔ میں نے آپ سے یہ بات شاید پہلے بھی کی ہو کہ جب میں اول اول میں بابا جی کے ڈیرے پر گیا تو میں نے لوگوں کو دیکھا کہ کچھ لوگ بابا جی سے اندر کوٹھڑی میں بیٹھے باتیں کر رہے ہوتے تھے تو کچھ لوگ ان کے بکھرے ہوئے “ الم بلغم“ اور “اگڑم بگڑم“ جوتے پڑے ہوتے تھے، انہیں اٹھا کر ترتیب سے دروازے کے آگے ایک قطار میں رکھتے چلے جاتے تھے تاکہ جانے والے لوگ جب جانے لگیں تو انہیں زحمت نہ ہو اور وہ آسانی کے ساتھ پاؤں ڈال کے چلے جائیں۔ میں یہ سب چار ، پانچ ، چھ روز تک دیکھتا رہا اور مجھے لوگوں کی یہ عادت اور انداز بہت بھلا لگا۔ چنانچہ ایک روز میں نے بھی ہمت کرکے (حالانکہ میرے لئے یہ بڑا مشکل کام تھا) میں نے بھی ان جوتوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ اس زمانے میں سوٹ پہنتا تھا اور مجھے یہ فکر رہتا تھا کہ میری ٹائی جیکٹ کے اندر ہی رہے لٹکے نہ پائے۔ اس لئے جھکے ہوئے بار بار اپنے لباس کو اور اپنے وجود کو اور خاص طور پر اپنے بدن کے خم کو نظر میں رکھتا تھا۔ ایک دفعہ دو دفعہ ایسا کیا۔ جب بابا جی کو پتہ لگا تو وہ بھاگے بھاگے باہر آئے ، کہنے لگے “ نہ نہ آپ نے ہرگز یہ کام نہیں کرنا ، میرے ہاتھ میں جوتوں کا ایک جوڑا تھا۔ انہوں نے فوراً واپس رکھوادیا اور کہا یہ آپ کے کرنے کا کام نہیں ہے، چھوڑ دیں۔ میں بڑا نالاں ہوا اور مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ لوگوں کے سامنے مجھے اس طرح سے روکا گیا اور مجھے یہ ایک اور طرح کی ذلت برداشت کرنا پڑی ۔ ایک روز جب تخلیہ تھا ، میں نے بابا جی سے پوچھا کہ “سر یہ آپ نے اس روز میرے ساتھ کیا کیا ، میں تو ایک اچھا اور نیکی کا کام کر رہا تھا۔ جو بات میں نے آپ ہی کے ہاں سے سیکھی تھی ، اس کا اعادہ کر رہا تھا۔ “ انہوں نے ہنس کے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہا کہ آپ پر یہ واجب نہیں تھا جو آپ کررہے تھی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ، آپ تکبر کی طرف جارہے تھے۔ اس لئے میں نے آُپ کو روک دیا۔ میں نے کہا، جناب یہ آپ کیسی بات کرتے ہیں! کہنے لگے ، اگر آپ وہاں جوڑے اسی طرح سے سیدھی قطاروں میں رکھتے رہتے ، جس طرح سے اور لوگ رکھتے تھے تو آپ کے اندر تکبر کی ایک اور رمق پیدا ہو جانی تھی کہ دیکھو “ میں اتنے بڑے ادارے کا اتنا بڑا ڈائریکٹر جنرل ہوں اور اتنے اعلٰی سرکاری عہدے پر ہوں اور میں یہ جوتے سیدھے کر رہا ہوں ، لوگوں نے بھی دیکھ کر کہنا تھا ، سبحان اللہ یہ کیسا اچھا نیکی کا کام کر رہا ہے۔ اس سے آپ کے اندر عاجزی کی بجائے تکبر اور گھمنڈ کو اُور ابھرنا تھا۔ اس لئے آپ مہربانی کرکے اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھیں اور یہ کام ہرگز نہ کریں ، پھر مجھے رکنا پڑا اور ساری عمر ہی رکنا پڑا۔ اس لئے کہ دل کی سلیٹ پر اندر جو ایک لکیر کھینچی ہوئی ہے ، انا کی اور تکبر کی وہ کسی صورت بھی مٹتی نہیں ہے۔ چاہے جس قدر بھی کوشش کی جائے اور اس کے انداز بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے۔ انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اس کو ہم بار بار سن رہے تھے۔ وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی۔ اس شعر و سخن کے بعد self کی باتیں ہونے لگیں یعنی “ انا “ کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام موجود حاضرین نے بار بار اقرار و اظہار اور تبادلہ خیال کیا۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں، کیونکہ صبح جب میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ، اللہ نے فیض صاحب کو بڑی sense of Humor دی تھی، کہنے لگے بی بی۔ یہ تکبر اور انا ہرگز نہیں ہے ، یہ غلط فہمی ہے (انہوں نے یہ بات بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بچاری قہقہہ لگا کے ہنسی ۔ زندگی کے اندر ایسی چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں لیکن قوموں کے لئے اور انسانی گروہوں کے لئے تکبر اور انا، رعونت، گھمنڈ اور مطلق العنانیت بڑی خوفناک چیز ہے، اس انگریز مصنف جس کا نام اب میرے ذہن میں آرہا ہے ، وہ انگریز مصنف جی۔ کے چیٹسن کہتا ہے کہ جب تکبر انسان کے ذہن میں آجائے اور وہ یہ سمجھے کہ میرے جیسا اور کوئی بھی نہیں اور میں جس کو چاہوں زیر کرسکتا ہوں اور جس کو چاہوں تباہ کر سکتا ہوں تو وہ حکومت ، وہ دور ، وہ جمہوریت یا وہ بادشاہت چاہے کتنی ہی کامیابی کے ساتھ جمہوری دور سے گزری ہو، اس بابت یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس جمہوریت کا جس کا نام لے کر وہ چلتے تھے ، اس کا آخری پہر آن پہنچا ہے اورہ جمہوریت ضعیف ہوگئی ہے اور اس میں ناتوانی کے آثار پیدا ہو گئے ہیں اور وہ وقت قریب ہے جب وہ جمہوریت فوت ہوجائے گی اور فوراً ہی گھمنڈ اور فرعونیت میں بدل جائے گی ۔ مشرق میں اس پر بطورِ خاص توجہ دی جارہی ہے اور بار بار مسلسل دہرا دہرا کر ایشیا کے جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں بار بار اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ اپنے آپ کو گھمنڈ ، فرعونیت اور شدادیت سے بچایا جائے کیونکہ یہ انسان اور نوعِ انسانی کو بالکل کھا جاتی ہے کیونکہ اس کا مطلب خدا کے مقابلے میں خود کو لانا ہے ۔ حافظ ضامن صاحب کے خلیفہ تھے۔ ان کا نام شمس اللہ خان یا اسداللہ خان تھا۔ چلئے اسد اللہ خان رکھ لیتے ہیں۔ وہ خلیفہ تھے لیکن طبیعت کے ذرا سخت تھے (پٹھان تھے، طبیعت کے سخت تو ہوں گے ہی) ان کے ہاں ایک مرتبہ چوری ہوگئی۔ اب وہ گاؤں کے “ مکھیا “ (چودھری) تھے۔ ان کے ہاں چوری ہو جانا بڑے دکھ کی بات تھی۔ انہوں نے لوگوں کو اکھٹا کیا اور اپنے طور پر تحقیق و تفتیش شروع کردی۔ ایک بڑا نیک نمازی جولاہا جو گفتگو میں بڑا کمزور تھا ، وہ بھی پیش ہوا۔ اب لوگوں نے اس کے حوالے سے کہا کہ چونکہ یہ بولتا نہیں ہے اور ڈرا ڈرا سا ہے اور اندازہ یہی ہے کہ اس نے چوری کی ہے۔ چنانچہ اسد اللہ خان نے پکار کر کہا کہ جولاہے سچ سچ بتا ورنہ میں تیری جان لے لوں گا ۔ وہ بچارہ سیدھا آدمی تھا ، وہ سہم گیا اور ہکلا گیا اور اس کی زبان میں لکنت آگئی۔ خان صاحب نے اس کی گھبراہٹ اور لکنت سے یہ اندازہ لگایا کہ یقیناً چوری اسی نے کی ہے۔ انہوں نے اسے زور کا ایک تھپڑ مارا ، وہ لڑکھڑا کے زمین پر گر گیا اور خوف سے کانپنے لگا اور سر اثبات میں ہلایا کہ جی ہاں ، چوری میں نے ہی کی ہے۔ وہ جولاہا سیدھا مولانا گنگوہی کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ انہیں سنایا اور کہا کہ میری زندگی عذاب میں ہے اور میں یہ گاؤں چھوڑ رہا ہوں۔ مولانا گنگوہی نے خان صاحب کو ایک رقعہ لکھا کہ تمہارے گاؤں میں یہ واقعہ گزرا ہے اور اس طرح تم نے اس جولاہے پر ہاتھ اٹھایا ہے تو آپ ایسے کریں کہ کیا آپ نے شرعی عذر کی وجہ سے اس پر ہاتھ اٹھایا ہے ؟ آپ کو کیا حق پہنچتا تھا ؟ اس بات کا جواب ابھی سے تیار کرکے رکھ دیجیے کیونکہ آگے چل کر آپ کی اللہ کے ہاں یہ پیشی ہوگی اور پہلا سوال آپ سے یہی پوچھا جائے گا۔ جب یہ رقعہ اسد اللہ خان کے پاس پہنچا تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور سٹپٹائے ، گھبرائے اور وہیں سے پیدل چل پڑے اور گنگوہا پہنچے۔ جب مولانا گنگوہی کے ہاں پہنچے تو وہ آرام فرما رہے تھے۔ ان کے خادم سے کہنے لگے، آپ مولانا سے کہہ دیجیے ایک ظالم اور خونخوار قسم کا آدمی آیا ہے۔ کہیں تو حاضر ہو جائے، نہیں تو وہ جا کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے اور کنویں میں ڈوب کر مر جائے اور میں تہیہ کرکے آیا ہوں۔ مولانا نے انہیں اندر بلوالیا۔ آپ لیٹے ہوئے تھے اور فرمانے لگے ، میاں کیوں شور مچایا ہوا ہے ؟ اور کیا ایسا ہوگیا کہ تم وہاں سے پیدل چل کے آگئے۔ غلطی ہو گئی ، گناہ ہوگیا ۔ معافی مانگ لو اور کیا ہوسکتا ہے۔ جاؤ چھوڑو ، اپنے ضمیر پر بوجھ نہ ڈالو۔ چنانچہ خان صاحب واپس آگئے اور آکر گاؤں میں اعلان کیا کہ اس جولاہے کو پھر بلایا جائے۔ (اسی میدان میں جہاں اسے سزا دی تھی) وہ جولاہا بے چارہ پھر کانپتا ڈرتا ہوا حاضر ہوگیا۔ کہنے لگا جتنا میں نے تجھے مارا تھا، اتنا تو مجھے مار ، اب لوگ کھڑے دیکھ رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا جناب! یہ بے چارہ کانپ رہا ہے ، یہ کیسے آپ پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے؟ خان صاحب کہنے لگے ، اس نے ہاتھ نہ اٹھایا تو میں مارا جاؤں گا۔ جولاہے نے بھی کہا، جناب میری یہ بساط نہیں ہے اور میرا ایسا کرنے کو دل بھی نہیں چاہتا ہے۔ اگر کوتاہی ہوئی ہے تو اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اللہ ہم دونوں کو معاف کرے۔ چنانچہ وہ گھر واپس آ گئے۔ اگلے دن جب وہ جولاہا کھڈی پر کپڑا بُن رہا تھا تو خان صاحب اس کی بیوی کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے ، گھر کے کام کاج کے لئے اب میں حاضر ہوں۔ جو چیز سودا سلف منگوانا ہو مجھے حکم کیا کیجیے ، بھائی صاحب کے ہاتھ نہ منگوایا کیجیے ( اب عورتوں کو اگر مفت کا نوکر مل جائے تو کہاں چھوڑتی ہیں ) پھر خان صاحب آخری دم تک ہر روز صبح اپنی بگھی دور کھڑی کرکے اس جولاہے کی بیوی کے پاس جاتے اور جو بازار سے چیزیں لانا ہوتیں لا کر دیتے رہے اور وہ گھر کا سودا اپنے کندھوں پہ اٹھا کے لا کے دیتے۔ بعض اوقات وہ دوپہر کو بلوا بھیجتی کہ فلاں کام رہ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ملازموں کو حکم دے رکھا تھا کہ اگر میں سویا بھی ہوں تو بھی مجھے بتایا جائے۔ جب تک وہ زندہ رہے ، اس جولاہے کی بیوی کا ہر حکم بجا لاتے رہے کہ شاید اس وجہ سے جان بخشی ہو جائے اور آگے چل کر وہ سوال نہ پوچھا جائے۔ کس شرعی ضرورت کے تحت آپ نے اس تھپڑ مارا تھا؟ امید ہے ان سے یہ سوال نہیں پوچھا گیا ہوگا۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔ اللہ حافظ۔
بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: محب علوی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود