نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

April, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ستے ہی خیراں۔۔۔

سن بابو لوکا! تو اس کو ڈھونڈنے اور کا کھوج پانے کے لیے کہاں چلا گیا، کدھر کو نکل گیا؟ اس کو ڈھونڈنے اور اسے پانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔ راستے تو دور جانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ سفر تو کرنے اور منزلیں طے کرنے لیے ہوتے ہیں۔ یہاں سے تو کہیں جانا ہی نہیں۔۔۔ کہیں پہنچنا ہی نہیں، پھر راستہ کیسا؟ اسے پانے اور اسے کھوجنے کے لیے تو ہمیں اپنے اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے وجود میں ڈھونڈنا ہے۔ بابو لوکا! اپنی شہ رگ کے ساتھ تلاش کرنا ہے۔۔۔ اور جب اپنی شہ رگ کے پاس پہنچ گئے تو پھر وہاں موجاں ہی موجاں۔۔۔ میلے ہی میلے۔ بڑی دور چلا گیا ہے بابو لوکا! پر میری بات سن لے کہ اصل میں کوئی راستہ وہاں نہیں جاتا۔۔۔ اس تک نہیں لے جاتا۔ وجہ یہ ہے بابو لوکا کہ وہ وہاں نہیں (گلے کے نیچے ہاتھ لگا کر)، یہاں ہے!۔ اور یہاں کے لیے کوئی راستہ نہیں۔۔۔ کوئی پگڈنڈی نہیں۔ بس اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے اندر۔ اندر دیکھنا ہے۔۔۔ اندر جھات ڈالنی ہے کہ کوئی گند بلا تو نہیں۔۔۔ کوڑا کرکٹ تو نہیں؟ شہ رگ کے تخت طاؤس کے نیڑے نیڑے۔۔۔۔ شرک، منافقت تو نہیں اندر۔۔۔ بس پھر ستے ای خیراں۔
 من چلے کا سودا سے اقتباس

رہبانیت سے انسانوں کی بستی تک

ہم سب کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ہمیں دوسروں کے مقابلے میں ہدایات، احکامات، اشارات اور Instructions ذرا مختلف قسم کی دی گئی ہیں۔ دوسرے مذاہب، اُمتوں اور قوموں کے لۓ ذرا مختلف پروگرام ہے اور ہمارے لۓ ان سے کچھ علٰیحدہ حکم ہے۔ مثال کے طور پر ہندوؤں میں چار طریقوں سے زندگی کے مختلف حصوں کو الگ الگ کر کے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پہلے حصے کو “بال آشرم“ کہتے ہیں۔ یہ وہ عرصہ ہے جب آدمی چھوٹا یا بال (بچہ) ہوتا ہے۔ تب وہ کھیلتا ہے، کھاتا اور پڑھتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ اس کے بعد اس کا “گرہست آشرم“ آتا ہے۔ گرہست میں وہ شادی کرتا ہے اور تب وہ پچیس برس کا ہو جاتا ہے۔ اس وقت وہ دنیا کے میدان میں پوری توانائی کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر آدمی کا “وان پرست آشرم“ شروع ہوتا ہے۔ اس آشرم میں ایک شخص دنیا داری کا کام کرتے ہوۓ بھی اس سے اجتناب برتتا ہے۔ دنیا کا کاروبار، دکان چھوڑ کر وہ گھر آ جاتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیاداری سے مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہوتا بلکہ تھوڑا سا تعلق رکھتا ہے۔ اپنے بچے کو دکان یا کاروبار پر بھیج دیتا ہے اور وہ بچہ اس کے نائب کے طور پر کام کرتا ہے اور اس …

زات کی تیل بدلی

پرسوں میرے ساتھ پھر وہی ہوا جو ایک برس اور تین ماہ پہلے ہوا تھا۔ یعنی میں اپنی گاڑی کا فلنگ اسٹیشن پر تیل بدلی کروانے گیا تو وہاں لڑکوں نے چیخ مار کر کہا کہ سر آپ وقت پر تیل نہیں بدلواتے۔ گاڑی تو اسی طرح چلتی رہتی ہے لیکن اس کا نقصان بہت ہوتا ہے لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ میں نے کہا بھئی اس میں اکیلے میرا ہی قصور نہیں ہے۔ میرے ملک میں تیل کی بدلی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ ہم پٹرول ڈالتے ہیں، گاڑی چلتی رہتی ہے اور ہم ایسے ہی اس سے کام لیتے رہتے ہیں۔ پھر اچانک خیال آتا ہے تو تیل بدلی کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کا سارا تیل اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اسے باہر نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔
میں نے کہا کہ یار چلتی تو رہی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ تو سر پڑھے لکھے آدمی ہیں اور گاڑی کا وقت پر تیل بدلوانا بہت ضروری ہے۔ پچھلے سال بھی انہوں نے مجھ سے یہی بات کہی تھی اور مجھ سے بدستور یہ کوتاہی سرزد ہوتی رہی۔ جب وہ لڑکے تیل تبدیل کر رہے تھے تو میں سوچنے لگا کہ میں باقی سارے کام وقت پر کرتا ہوں۔ بینک بیلنس چیک کرتا ہوں، یوٹیلیٹی بلز وقت پر ادا کرتا ہوں اور یہ ساری چیزیں میری زندگی اور وجود…

Ashfaq Ahmed Talks about Bano Qudsia

ویڈیو کے مندرجات 

ان کی آپا آئی تھیں، کنیہر سے۔ تو انھوں نے بی اے جو کیا تھا، میتھیمیٹکس میں کیا تھا، اے بی میں۔ تو پتہ ہے، اردو ان کو بالکل نہیں آتی تھی، تو ان کے دل میں پتہ نہیں کیا جلن پیدا ہوئی کہ میں نے اردو میں ایم اے کرنا ہے۔ بخاری صاحب، اس زمانے میں ہمارے پرنسپل تھے۔۔۔ اے ایس بخاری۔ تو صوفی صاحب نے، انھوں نے مل کے اور ایک خواجہ صاحب آ گئے تھے۔۔۔ خواجہ منظور حسین صاحب۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ادھر ایک کلاس چلانی ہے اردو کی تو میں یہ کر چکا تھا، بہت لائق فائق آدمی، گھومتا تھا۔ ایک میری کتاب بھی چھپ رہی تھی ان دنوں۔ تو انھوں نے کہا کہ کلاس کھولتے ہیں تو یہ بھی (بانو قدسیہ کی جانب اشارہ) آ گئیں۔ تین اور خواتین تھیں اور تین ہم لڑکے تھے۔ تو اس کو خوف تھا کہ میں اردو میں کیسے کروں گی؟ لیکن ان کی والدہ نے کہا کہ آپ کریں کہ صوفی صاحب نے کہا تھا کہ یہ ذہین لڑکی ہے اس کو کروا لیں، ہمارے پہلے پہلے ایم اے جو ہیں اس میں آ جائے گی۔ تو میں نے یہ دیکھا کہ ایک لڑکی جس کو ، جو ہمدری کو ہمددری لکھتی ہے (قہقہہ) اور خواہشمند کی "م"، "ہ" سے پہلے آ جاتی ہے تو یہ کس طرح سے پ…

چیلسی کے باعزت ماجھے گامے

میں ایک بات پر بہت زور دیتا رہا ہوں اور اب بھی مجھے اسی بات پر زور دینے کی تمنا ہے لیکن الحمدللہ کچھ اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ میں جس شدت سے اس صیغے پر قائم تھا وہ اتنا اہم نہیں تھا۔ میرا اس پر کامل یقین ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں کو ایک سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ (روٹی، کپڑا اور مکان کی کہانی تو عام چلتی رہی ہے اور اس بارے بڑا پرچار ہوتا رہا ہے) لوگوں کو ان کی عزتِ نفس سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی توقیر ذات کے لۓ آپ سے، اپنے ملک سے تقاضا کرے، میری عزتِ نفس اور Self Respect مجھے دی جائے۔ دولت، شہرت، روپیہ پیسہ اور علم کی ہر شخص ڈیمانڈ نہیں کرتا بلکہ عزت کا تقاضا سب سے پہلے کرتا ہے۔ دنیا کے جتنے بھی مہذب ملک ہیں انہوں نے اپنے لوگوں کو جو ایک بڑا انعام عطا کیا ہے وہ سارے کے سارے لوگ عزتِ نفس میں ایک سطح پر ہیں۔ یہ ان ملکوں کی جمہوریت کا خاصا کہہ لیں یا ان کی سوچ و فکر کی خوبی کہہ لیں یا پھر کوئی اور نام دے لیں۔ میں غیر ملکوں کی مثال دیا تو نہیں کرتا لیکن مجبوری کے تحت دے رہا ہوں کہ آپ ولایت چلے جائیں یا پھر لندن چلے جائیں وہاں آکسفورڈ سٹریٹ یا بون…

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے

خطوط کی دنیا بھی ایک نرالی دنیا ہے اس کا انسانی زندگی پر اور انسانی تاریخ پر بڑا گہرا اثر ہے۔ خط کب سے لکھے جانے شروع ہوۓ اور کب آ کر ختم ہوۓ۔ میں اس کے بارے میں یہ تو عرض کر سکتا ہوں کہ کب آ کر ختم ہوۓ لیکن ان کے لکھے جانے کی تاریخ اس کے بارے میں یقین اور وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لکھے جانے تو اب ختم ہوۓ ہیں جب کوئی ای - میل کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جب Chatting کا نیا لفظ ایجاد ہوا۔ جب کمپیوٹر کے ذریعے طرح طرح کے طریقے انسان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے ہیں لیکن خطوں کا جو حسن تھا اور خطوں میں جو بات ہوتی تھی اور ان کے اندر جس طرح سے اپنا آپ، اپنی روح، زندگی اور نفسیات نکال کر پیش کر دی جاتی تھی وہ اب نہیں رہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید ہم اس یونیورسٹی کے آخری طالبِ علم تھے جو چوری چوری خط لکھا کرتے تھے اور بڑے اچھے خط لکھا کرتے تھے۔ اب میں اپنے سٹوڈنٹس، بیٹوں، پوتوں اور نواسیوں کو دیکھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں Stop it Dada because this way of Communication is very silly and we can not write.
ہمیں تو اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ خط لکھتے پھریں۔ خواتین و حضرات وقت خدا جانے کدھر چلا گیا ہے کہ آدمی آدم…

Evil Eye - نظر بد

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں محبت بھرا سلام پہنچے۔
میں ایک تھوڑے سے دکھی دل کے ساتھ، طبیعت پر بوجھ لے کر آپ سے بات کر رہا ہوں ور امید ہے کہ آپ بھی میرے اس دکھ میں شرکت فرمائیں گے۔ ایک زمانے میں جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری بڑی آپا جو نظرِ بد پر بڑا اعتقار رکھتی تھیں، میں اس وقت باوصف کہ بہت چھوٹا تھا اور میں بھی نظر وظر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن چونکہ میرے بڑے بھائی مجھے سیر کے لۓ اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں نیلی نیکر پہن کر اپنے سنہرے بالوں کے ساتھ “ باوا “ سا بنا ہوا ساتھ چلتا تھا تو میری بڑی آپا کہتی تھیں کہ ٹھہرو میں اس کے ماتھے پر تھوڑی کالک لگا دوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ لیکن میں ان کے اس عمل سے بڑا گھبراتا تھا۔ کئی گھرانوں میں نظر کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ میں کالک لگانے سے گھبراتا کہ میرے ماتھے پر کالک کیوں لگائی جاتی ہے؟ میری چھوٹی آپا اس پر کوئی یقین نہیں رکھتی تھیں اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ ماتھے پر کالک نہیں لگاتے بلکہ اس طریقے سے نظر اتاری جاتی ہے۔ میری ماں سرخ مرچیں لے کر انہیں جلتے ہوئے کوئلوں پہ رکھ کر کہا کرتیں کہ اگ…

زندگی سے پیار کی اجازت درکار ہے

پچھلے دنوں کچھ ایسے بوجھ طبیعت پہ رہے، ان کچھ اور چند دنوں کو میں اگر پھیلاؤں تو وہ بہت سارے سالوں پر محیط ہو جاتے ہیں لیکن اللہ کا فضل ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں دو ماہ ایسے آۓ کہ بوجھ میں کچھ کمی کا احساس پیدا ہوا اور یوں جی چاہا کہ ہم بھی زندوں میں شامل ہو جائیں اور جس مصنوعی سنجیدگی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اس سنجیدگی میں کچھ کمی پیدا کریں۔ ہم سے بڑوں نے بھی خود کو خوش کرنے کے لۓ خوش بختی کا سامان بہم کیا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ سارے یہی سمجھتے رہے کہ اگر ہمارے پاس ڈھیر ساری دولت ہو گی تو ہم خوش ہوں گے۔ ان بڑوں نے یہی ورثہ اپنے بچوں میں منتقل کیا۔ ہمارے طالبعلموں کو بھی یہی بتایا گیا کہ بہت سارے پیسے اور اقتصادی طور پر مضبوط مستقبل ہی خوشی ہے۔ ان مادی خوشیوں کو سمیٹتے سمیٹتے اب حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صورتِ حال نہایت تکلیف دہ ہو گئی ہے۔ آپ آۓ روز اخباروں میں نیب کے نتائج پڑھتے ہوں گے کہ فلاں شخص سے 5 یا 8 کروڑ واپس لے لیا گیا۔ یہ ہمارے وہ پیسے تھے جو لوگ لے کر بھاگ گۓ تھے۔ یہ بڑی دردناک کہانی ہے۔ میری تمنا اور آرزو ہے کہ ہم کاش ایسا بھی سوچنے لگیں کہ بہت زیادہ سنجیدگی ک…

ڈپریشن کا نشہ

ہم بڑی دیر سے ایک عجیب طرح‌کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ ہمیں‌بار بار اس بات کا سندیسہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں نشے کی عادت بہت بڑھ گئی ہے اور ڈاکٹر و والدین دونوں ہی بڑے فکر مند ہیں اور والدین دانشور لوگوں سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس کے قلع قمع کے لۓ کچھ کام کیا جاۓ۔ میں نے بھی ایک سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا مطالعہ کیا۔ میں نے اس سوسائٹی سے کہا کہ نشہ بری چیز ہے لیکن اتنا سا تو قوموں‌کی زندگی میں‌ آ ہی جاتا ہےاور یہ بیہودہ چیز ہے جو کب سے چلی آرہی ہے اور معلوم نہیں کب تک چلتی رہے گی۔ اس تحقیق کے دوران جو میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی وہ یہ کہ ایک اور قسم کا نشہ بھی ہے اور آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں کہ میں اسے نشہ کہوں کیونکہ وہ ہماری زندگیوں پر بہت شدت کے ساتھ اثر انداز ہے۔ وہ نشہ Stress، فشار، پریشانی اور دکھ کو قبول کرنے کا ہے۔ اس نشے کو ہم نے وطیرہ بنا لیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم Stressful نہیں ہوں گے اس وقت تک نارمل زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس نشے کو ترک کرنے کی اس نشے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔ میں ایک بار کچہری گیا، ایک چھوٹا سا کام تھا اور مجھے باقاع…