نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ڈپریشن کا نشہ

ہم بڑی دیر سے ایک عجیب طرح‌کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ ہمیں‌بار بار اس بات کا سندیسہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں نشے کی عادت بہت بڑھ گئی ہے اور ڈاکٹر و والدین دونوں ہی بڑے فکر مند ہیں اور والدین دانشور لوگوں سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس کے قلع قمع کے لۓ کچھ کام کیا جاۓ۔ میں نے بھی ایک سوسائٹی کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا مطالعہ کیا۔ میں نے اس سوسائٹی سے کہا کہ نشہ بری چیز ہے لیکن اتنا سا تو قوموں‌کی زندگی میں‌ آ ہی جاتا ہےاور یہ بیہودہ چیز ہے جو کب سے چلی آرہی ہے اور معلوم نہیں کب تک چلتی رہے گی۔ اس تحقیق کے دوران جو میں نے ایک عجیب چیز نوٹ کی وہ یہ کہ ایک اور قسم کا نشہ بھی ہے اور آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں کہ میں اسے نشہ کہوں کیونکہ وہ ہماری زندگیوں پر بہت شدت کے ساتھ اثر انداز ہے۔ وہ نشہ Stress، فشار، پریشانی اور دکھ کو قبول کرنے کا ہے۔ اس نشے کو ہم نے وطیرہ بنا لیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک ہم Stressful نہیں ہوں گے اس وقت تک نارمل زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ آپ محسوس کریں گے کہ اس نشے کو ترک کرنے کی اس نشے سے بھی زیادہ ضرورت ہے۔ میں ایک بار کچہری گیا، ایک چھوٹا سا کام تھا اور مجھے باقاعدگی سے دوتین بار وہاں جانا پڑا۔ کئی سیڑھیاں چڑھ کر اور اتر کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ بہت سے میری عمر سے بھی زیادہ عمر کے بابے کچہری میں بنچوں کے اوپر بیٹھے ہوۓ ہیں اور مقدمے لڑ رہے ہیں۔ میں‌ نے اپنی عادت کے مطابق ان سے پوچھا کہ آپ کیسے آۓ ہیں۔ کہنے لگے جی ہمارا مقدمہ چل رہا ہے۔

میں‌نے کہا کہ کب سے چل رہا ہے۔ ایک بابے نے کہا کہ پاکستان بننے سے دوسال پہلے سے چل رہا ہے اور ابھی تک چلا جا رہا ہے۔ وہ سسٹم کے اوپر لعن طعن بھی کر رہا تھا۔ میں نے کہا کہ مقدمہ کس چیز کا ہے۔ اس نے بتایا کہ ہماری نو کنال زمین تھی اس پر کسی نے قبضہ کر لیا ہے۔ میں‌نے کہا کہ 53 میں 2 سال ملا کر 55 سال بنتے ہیں۔ آپ دفع کریں، چھوڑیں اس قصے کو۔ وہ کہنے لگا کہ جی اللہ کے فضل سے بچوں‌کا کام بڑا اچھا ہے اور میں اس کو دفع بھی کر دوں لیکن اگر مقدمہ ختم ہو جاۓ تو میں پھر کیا کروں گا؟ مجھے بھی تو ایک نشہ چاہیے۔ صبح‌اٹھتا ہوں کاغذ لے کر وکیل صاحب کے پاس آتا ہوں اور پھر بات آگے چلتی رہتی ہے اورشام کو گھر چلا جاتا ہوں۔ اس بابے کی بات سے میں نے اندازہ لگا یا کہ ہمارے ہاں‌تو اس نشے نے خوفناک صورتِ حال اختیار کر لی ہوئی ہے۔ سکولوں میں ‌ماسٹروں، گھروں میں‌ عورتوں اور دفتروں میں صاحبوں کو یہ نشہ لگا ہوا ہے۔ جسے دیکھیں وہ پریشانی کے عالم میں‌ ہے اور کسی نے اس نشے کو چھوڑنے کی بھی کبھی زحمت گوارا نہیں کی۔ اگر کسی یوٹیلیٹی بل کی آخری تاریخ 17 ہے تو اسے صرف چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی دو دن پہلے بھی ادا کر سکتے ہیں لیکن ہم نے اپنے آپ کو صرف فشار کے حوالے کر رکھا ہے۔ اس دکھ سے ہمیں نکلنا پڑے گا۔ تیسری دنیا اور بطورِ خاص ہم پاکستانی اس قدر دکھ کی طرف تیزی سے بڑھتے ہیں کہ جیسے ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں رہا۔ ایک زمانے میں سمن آباد میں رہتا تھا۔ ان دنوں ہمارے پاس پیسے بھی کم ہوتے تھے لیکن جو بوجھ ہم نے اب اپنے اوپر طاری کر لیا ہے ایسا نہیں تھا لیکن اب ہم اس بوجھ اور دکھ کے نشے سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ میرے ایک دوست ہیں انہیں‌ آدھے سر کے درد کی شکایت ہے اور وہ ایسا طے شدہ درد ہے کہ ہفتے میں ایک بار بدھ کے دن شام کو تین بجے کے بعد ضرور ہوتا ہے اور اس درد کا حملہ بڑا شدید ہوتا ہے لہٰذا وہ صاحب دو بجے ایک چھوٹے سے سٹول پر اپنی دوائیاں اور ایک بڑے سے سٹول پر اپنے رسالے اور کتابیں لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور کتابوں کو پڑھتے ہوۓ اس درد کے حملے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اس وقت ان کی بیوی آرام کرتی ہے اور اسے پتہ ہے کہ اب اسے اٹیک ہوگا اور یہ جانیں اور اس کا کام۔ لیکن وہ صاحب اس “بھاؤ“ کے انتظار میں‌ بیٹھے ہوۓ ہیں کہ وہ کب آتا ہے۔ جس طرح ‌پہلے زمانے میں ہم کہانیاں سنا کرتے تھے کہ ایک بستی کے اندر بلا پڑتی ہے تو وہ ایک بندہ یا لڑکی دیتے تھے کہ اس کو قتل کر کے کھا جا اور چلی جا۔ اب وہ “بھاؤ“ سب کو پڑنے لگا ہے اور ہر بندہ اس انتظار میں بیٹھا ہوا ہے کہ یا اللہ میرا “بھاؤ“ کب آۓ گا تاکہ میں اس کو اپنے اوپر طاری کروں حالانکہ انسان اس نشے سے نکل بھی سکتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے فضل سے بڑا طاقتور ہے۔ اللہ نے اس کو بڑی صلاحیتیں عطا کی ہیں۔ وہ صاحب بیٹھے ہوۓ ہیں اور ساڑھے تین بجے ٹھاہ کر کے انہیں اٹیک ہوتا ہے۔ جب وہ اٹیک ہوتا (ہے) تو وہ سخت تکلیف میں‌کانپتے ہیں۔ پھر وہ ایک دوائی کھاتے پھر دوسری اور شام کے چھ بجے تک نڈھال ہو کے بستر پر لیٹ جاتے اور پھر صبح جا کے وہ بالکل ٹھیک ہوتے۔ ایک روز جب میں‌اور ممتاز مفتی ان سے ملنے گۓ تو وہ اپنی دوائیاں رکھ کر بیٹھے ہوۓ تھے۔ میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے۔ کہنے لگے یہ میری دوائیاں‌ ہیں اور اب میرے اوپر اٹیک ہونے والا ہے اور میں‌ان دوائیوں سے اس کا سدٍباب کروں‌گا۔

ان دنوں ممتاز مفتی کو ہومیوپیتھی کا شوق تھا۔ انہوں‌نے بتایا کہ ہمارے ہومیو پیتھک طریقۂ علاج میں ایک ایسی دوائی ہوتی ہے جو اس مرض کے لۓ ہوتی ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ نہیں میرے پاس یہ دوائیاں پڑی ہیں لیکن ممتاز مفتی اپنے سکوٹر پر گۓ اور جا کے دوائی لے آۓ۔ اور انہوں‌نے گول گول میٹھی سی گولیاں‌ان کے منہ میں ڈال دیں۔

اب اللہ کی مہربانی اور اتفاق دیکھیۓ کہ پہلے ساڑھے تین بجے، پھر چار بج گۓ اور پانج بجے ان صاحب نے زور سے چیخ ماری اور پریشان ہو کر کہنے لگے کہ میری بیماری کہاں‌گئی۔ (اب وہ صاحب تو اس بیماری کے عادی ہو چکے تھے۔)

وہ کہنے لگے کہ میرے ساتھ یہ دھوکا ہوا ہے۔ یہ کیوں ایسا ہوا ہے۔اس کی بیوی کہنے لگی کہ یہ تو اچھی بات ہے لیکن ان صاحب نے رات بڑی بے چینی میں‌گزار دی۔ اگلے دن وہ سی ایم ایچ گۓ اور اس دوائی کو دکھایا۔ ہسپتال والوں نے اس دوائی کا ٹیسٹ کیا اور کہا کہ یہ کوئی دوائی نہیں‌ ہے یہ تو میٹھا ہے۔ انہوں نے آکر ممتاز مفتی صاحب سے پوچھا کہ آپ بتائیں کہ وہ کیا تھا۔

مفتی صاحب نے کہا کہ یہ ہماری ایک مشہور دوائی ہے اور خاص طور پر آدھے سر کے درد کی شکایت کے لۓ ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ مجھے یہ دوائی بالکل نہیں چاہیۓ۔

خواتین وحضرات! وہ بیماری ہی ان کی محبوبہ ہو گئی تھی۔ اتنی پیاری کہ نہ انہیں بیوی اچھی لگتی تھی نہ انہیں‌بچے اچھے لگتے تھے۔ بس انہیں بدھ والے دن آنے والی اس بیماری سے عشق تھا۔

آپ اگر اپنے گھروں میں غور کریں تو آپ کو احساس ہوگا کہ ہر بندہ اپنی اپنی بیماری سے چمٹا ہوا ہے اور مثبت زندگی گزارنے کی طرف کسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں ‌یہ بات بھی جانتا ہوں اور محسوس بھی کرتا ہوں کہ ہمارے سب کے مالی حالات اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے ہونے چاہئیں لیکن اس کے باوصف گزارا چلتا تو ہے نا!

میں عمر کے بالکل آخری حصے میں‌ہوں لیکن میں‌آپ کو بتاؤں کہ 1964 میں ہمارا یہ ٹی وی اسٹیشن چلا تھا، اس وقت میں‌جو کماتا تھا یا جو میری تنخواہ تھی اور اب جو کچھ میں کماتا ہوں اس میں‌بڑا فرق ہے۔ اٍس وقت میری کمائی کا ستر فیصد حصہ ان چیزوں پر لگ رہا ہے جو 1964 میں موجود ہی نہیں تھیں اور میں‌ حلفیہ کہتا ہوں کہ میں سن چونسٹھ میں‌ بھی زندہ تھا۔ اس زمانے میں فوٹو اسٹیٹ مشین نہیں تھی۔ شیمپو نہیں ہوتے تھے جبکہ آج ٹی وی کے اشتہاروں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شیمپو کا ہے کہ کون سا شیمپو استعمال کیا جاۓ اور ہمارے بچے شیمپو کے انتخاب کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اگر سب عذاب اکٹھے کۓ جائیں تو زیادہ عذاب ایسے ہیں جو 1964 میں موجود نہیں تھے لیکن ہم بڑے مزے کی زندگی گزارتے تھے۔

کیا ہم اس عذاب سے باہر نہیں نکل سکتے؟ کیا ہم اپنی بیماری کو اس طرح ‌کلیجے سے لگا کر بیٹھے رہیں گے؟ کیا ہماری زندگی میں‌ خوشی کا کوئی دن بھی نہیں آۓ گا؟

یہ خوشی ایسی چیز ہے جو صرف اندر سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ یہ باہر سے نہیں لی جاسکتی۔ آج کل کے بچے کہتے ہیں‌کہ اگر ہمارے پاس زیادہ چیزیں ‌اکٹھی ہوں گی تو ہمارے پاس زیادہ خوشیاں ہوں گی۔ میری بہو کہتی ہے کہ اگر اس کے پاس پنے (زمرد) کا ہار ہو تو وہ بڑی خوش ہو۔ وہ مجھے کہتی ہے کہ ماموں اگر دو ہار بن جائیں تو پھر بڑی بات ہے۔ میں‌ نے کہا کہ اچھا میں‌تمھیں‌لا دیتا ہوں۔

وہ مجھے کہنے لگی 35 ہزار کا ہے۔ میں‌نے کہا کہ کوئی بات نہیں لیکن یہ بتاؤ کہ وہ لے کر تم کتنے دن خوش رہو گی؟ کہنے لگی میں کافی دن خوش رہوں گی۔

میں نے کہا کہ تم اپنی سہیلیوں کے سامنے شیخی بگھارو گی کہ میرے پاس یہ سیٹ بھی آگیا ہے۔ پھر کیا کرو گی؟

وہ مجھے کہنے لگی کہ Possession کا اپنا ایک نشہ ہوتا ہے اور یہ خمار ہوتا ہے کہ فلاں‌چیز میرے قبضے میں‌ہے۔

میں‌نے کہا پیارے بچے! میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ اتنی ساری قیمتی چیزیں اکٹھی کر کے جب تم سوتی ہو یا سونے لگتی ہو تو ان ساری چیزوں سے تمھارا تصرف تو ٹوٹ جاتا ہے اور میں‌تمہیں جب کبھی صبح جگاتا ہوں تو تم کہتی ہو کہ ماموں بس دو منٹ اور سو لینے دیں۔ یعنی جو خوشی آپ کے اندر سے پیدا ہو رہی ہے وہ زیادہ عزیز ہے اور وہ جو Possession آپ نے اکٹھے کۓ ہوۓ ہیں وہ اس وقت آپ بھلاۓ ہوۓ ہوتی ہیں لیکن اس بات پر ہم نے کبھی غور ہی نہیں‌کیا۔

میری بہو جس کی سمجھ میں‌میری باتیں تھوڑی تھوڑی آنے لگی ہیں وہ کہتی ہے کہ ماموں ان باتوں پر عمل کر کے کہیں مارے ہی نہ جائیں۔

میں‌کہتا ہوں‌کہ مارے جانے والی کوئی بات نہیں ہے۔بلکہ آپ خوش ہوں گے۔ میں اس سے کہتا ہوں‌کہ میں‌جب تمھاری عمر کا تھا اور اٹلی میں تھا تو وہاں مجھے جب گھبراہٹ کے آثار پیدا ہونے لگے تو میری لینڈ لیڈی جس کے گھر میں ٹھہرا ہوا تھا یا رہتا تھا اس کا نام تانی تھا وہ کہنے لگی کہ پروفیسر تمھیں کیا مسئلہ ہے؟ میں‌نے اس سے کہا کہ میں ‌پریشان ہو گیا ہوں، مجھ پر بڑا دباؤ ہے۔ وہ کہنے لگی کہ تم ایک دن چھٹی کر لو۔ میں‌ نے کہا کہ میں‌چھٹی کر کے کیا کروں گا۔ میں ‌پردیس میں‌ ہوں اور دفتر میں‌جا کے ہی میرا دل لگتا ہے۔

اس نے کہا کہ روم اتنا بڑا شہر ہے تم گھومنے جاؤ اور بے مقصد جاؤ۔ میں نے کہا کہ بے مقصد کیسے گھوما جا سکتا ہے؟ کہنے لگی گھوما جا سکتا ہے۔

میں نے مسلسل 23 دن کام کیا تھا اور کوئی چھٹی نہیں‌کی تھی۔ میں‌نے اپنے دفتر والوں‌ سے کہا کہ میں آج نہیں آؤں گا تو انہوں‌نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ خواتین و حضرات اس دن میں نے جو پہلا کام کیا تھا وہ یہ تھا کہ نۓ کپڑے پہن کر میں دفتر میں ‌پہنچا لیکن کام کرنے کے مقصد سے نہیں بلکہ یہ دیکھنے کے لۓ کہ میرے کولیگ کیا کر رہے ہیں۔ میں‌نے سونورینا کو دیکھا۔ وہ بیٹھی ٹائپ کر رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی“مزے کر رہے ہو نا آج چھٹی جو ہے۔“ میں‌نے کہا کہ ہاں ‌اور میں اپنی کام کرنے والی کرسی پر بغیر کوئی کام کۓ بیٹھا رہا۔ پھر دوسرے دفتری دوستوں‌سے گپ شپ کرتا رہا۔ دفتر میں وقت گزارنے کے بعد میں سیڑھیاں‌اترا تو وہاں قریب ہی “سانتا ماریا“ میں ایک گرجے کے نیچے انڈر گراؤنڈ بازار ہے اس میں چلا گیا۔ وہاں عورتیں چیزیں بیچ رہی تھیں اور وہاں آواز دے دے کر چیزیں ‌بیچنے کا رواج ہے۔ ایک خاتون نے مجھے بلا کر کہا کہ تم یہ جالی کے دستانے لے لو۔ وہ بڑے اچھے بنے ہوۓ دستانے تھے۔ وہ کہنے لگی کہ یہ تمہاری محبوبہ کے لۓ ہیں یا منگیتر کے لۓ ہیں۔

میں‌نے کہا کہ میری تو کوئی منگیتر نہیں ہے۔ کہنے لگی بے وقوف کبھی تو ہوگی۔ میں‌نے کہا نہیں ‌مجھے ان کی ضرورت نہیں لیکن وہ اصرار کر نے لگی کہ میں‌تمھیں‌ زبردستی دوں گی اور اس نے وہ لفافے میں‌ڈال کے دے دیۓ۔ اب مجھے نہیں‌معلوم تھا کہ مجھے یہ کس کو دینے ہیں۔ اس وقت نہ کوئی میری منگیتر تھی اور بانو قدسیہ کا بھی تب کوئی نام ونشان نہیں‌تھا۔ بہر حال میں ‌نے وہ دستانے لے لیۓ۔

میں وہ دستانے لے کر بازارسے باہر آگیا تو دیکھا کہ ریلوے سٹیشن کے پاس ایک سیاہ فام خاتون ایک چھابے میں زرد گلاب کے پھول رکھ کر اپنا پیر کھجا رہی تھی اور اسے جمائیاں سی آرہی تھیں۔ اس نے مجھے کہا کہ یہ پھول بڑا اچھا ہے اور اس نے بھی کہا کہ یہ پھول تیرے بیوی کے لۓ بڑا اچھا رہے گا۔ میں نے وہ بھی “بڑا خوبصورت ہے“ کہہ کر خرید لیا۔ پھر میں‌نے اسٹیشن پر ٹرام پکڑنے سے پہلے اپنا ایک شام کا محبوب پرچہ (اخبار) خریدا اور میں 77 نمبر کی بس میں‌ آکر بیٹھ گیا۔ اس میں ایک بوڑھا سا آدمی جو بظاہر پروفیسر لگتا تھا گلے میں‌عینک لٹکاۓ بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ میں‌دھڑام سے سیٹ پر بیٹھا تو اس نے آنکھیں کھولیں۔ میں‌ نے کہا کہ آپ کیسے ہیں؟ اس نے کہا کہ ٹھیک ہوں۔ میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، اچانک میرے ہاتھ سے گر گئی ہے اور میں‌نے اسے اٹھانے کی کوشش گوارہ نہیں ‌کی اور سوچا کہ کوئی بندہ آۓ گا تو مجھے اٹھا دے گا۔ میں نے وہ کتاب اٹھا کر اسے دے دی۔

وہ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر تھا۔ ہم باتیں‌کرنے لگے۔ اس نے کہا آج موسم کتنا اچھا ہے۔ میں‌نے کہا ہاں ‌جی موسم واقعی بہت اچھا ہے۔

جب میں گھر کے پاس پہنچا تو شام ہو چلی تھی۔ میں نے آسمان پر ایک ستارہ دیکھا جو میں ‌نے دوسال سے نہیں دیکھا تھا۔ یہ ستارہ ایک گائیڈ کی طرح ‌سے نشاندہی کر رہا تھا کہ میرا گھر اس طرف ہے۔ مجھے وہ بڑا اچھا لگا اور میں‌کافی دیر تک اس کو دیکھتا رہا۔ میں‌نے گھر آکر اخبار، سفید دستانے اور لمبی ڈنڈی والا پھول جب میز پر رکھا تو آپ یقین کریں، میں آپ کو سچ سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے ویسے خوشی عطا کرنے والا دن پھر کبھی نصیب نہیں‌ ہوا حالانکہ میرے پاس کوئی Possession نہیں تھا۔ اب بھی میں کسی دن ویسے ہی چوبرجی کی طرف نکل جاؤں گا اور جب چلتے چلتے شام ہو جاۓ گی تو میں‌کہوں‌گا کہ میں یہ نشہ نہیں کرنا چاہتا جو نشہ ہمارے اوپر عائد کر دیا گیا ہے۔ میری آپ سے بھی پر زور درخواست (ہے) کہ ہم دوسرے نشوں پر توجہ دینے کی بجاۓ Stress کے نشے سے نکلنے کی کوشش کریں۔ میں‌ پھر کہوں‌گا کہ بڑی تکالیف اور تنگیاں‌ ہیں لیکن جس طرح سے بارش کے دنوں ‌میں جب آپ کچی گلیوں سے گزرتے ہیں اور وہاں ‌رکھی پکی اینٹوں ‌پر آپ پاؤں رکھتے ہوۓ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ویسے ہی ان مشکلات کو جانچتے ہوۓ، پاؤں ‌رکھتے ہوۓ خوشی کی طرف نکل جائیں۔ یہ میرے اس دوست کی طرح‌ ہمیں ‌یہ خوف لگا ہوا ہے کہ ہم اپنی بیماری کو چھوڑنا بھی ایک بیماری ہی تصور کرتے ہیں اور اپنے اوپر مسلط کردہ بیماریوں سے جان نہیں چھڑانا چاہتے۔ میں پھر یہ تسلیم کرتا ہوں‌کہ ہمیں‌ بڑی پریشانیاں ‌ہیں اور بچوں کے حوالے سے بڑی مشکلات ہیں۔ ہمیں‌انہیں اس طرح ‌سے زندگی کے سفر میں کامیاب طریقے سے گامزن ہونے کے لۓ کوئی راستہ نہیں ‌مل رہا جیسے انہیں ‌ہونا چاہیۓ۔ لیکن میری اس آرزو میں آپ بھی شریک ہوں‌گے کہ ہم ڈپریشن کی ایسی بیماری کی طرف بڑھ رہے ہیں جو بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے اور ڈاکٹروں ‌کا خیال ہے کہ پانچ سے سات سال کی مدت میں ‌یہ بیماری لوگوں ‌میں ایسے پھیل جاۓ گی جیسے کینسر یا ایڈز کی بیماری ہے۔

اس ذہنی بیماری کا سدٍ باب کرنے کے لۓ میں اَور لوگوں کے لۓ بھی دعا گو ہوں لیکن اپنے ملک اور اس کے باشندوں کے لۓ یہ ضرور تمنا کرتا ہوں کہ اللہ نہ کرے ہم ڈپریشن کی بیماری میں شدت سے مبتلا ہو جائیں جس کی نشاندہی دنیا بھر کے ڈاکٹر چیخ ‌چیخ کر کر رہے ہیں۔ ہمیں ایک ہی ذات اور نبی اکرم (ص )کی رہنمائی کا سہارا ہے جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے اور یہ سہارا ہمارے پاس ہے؛ اس وقت تک نہیں جاۓ گا جب تک ہم اللہ پر اتنا بھروسہ نہیں‌کرنے لگیں گے جتنا کہ فرمانے والوں نے فرما دیا ہے کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔

میرے بڑے بڑی ہی آسان زندگی گزار گۓ۔ وہ کہتے تھے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ خاص سکیم کے تحت ہو رہا ہے جبکہ میں ‌بدنصیب یہ کہتا ہوں کہ ہوتا ہے تو ہوتا رہے لیکن میں اس میں‌اپنی عقل اور دانش ضرور استعمال کروں گا اور اس عذاب میں ضرور مبتلا ہوں گا جس کا وسط تو پورے طور پر ہو چکا ہے اور ہم اس کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ ہمیں روحانیت کی رسی تھام کر مادیت کی زمین کے اوپر چلنے کی بڑی اشد ضرورت ہے لیکن رسی وہی تھامنا پڑے گی، اسی میں‌نجات ہے۔

اللہ آپ کو آسانیاں‌ عطا فرماۓ اور آسانیاں‌تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: قیصرانی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…