مشرق کا مجذوب انسان

مشرق کو جاہل کہہ لیجیے، کم علم، ناعاقبت اندیش سمجھ لیجیے۔۔۔۔۔ دلدل میں دھنسا ہوا مشرقی انسان مکمل طور پر روایت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ اپنی لوک ریت، رسم و رواج سے محبت کرتا ہے۔۔۔ شاید وہ دکھ سہتے سہتے اپنی خرابیوں میں راسخ بھی ہو جاتا ہے، لیکن فلاح کی منزل دھندلاتی نہیں۔ سائنس سے دور، ہر لحظہ کی تبدیلی سے ناآشنا، اسکے صبح شام ایک سے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ مذہب سے وابستہ رہ کر، صبر کی ڈھال آگے رکھ کر چلتا رہتا ہے۔ ہم انسان کو مذہب کی اصلیت سے چاہے آگاہی نہ ہو وہ قبر پرستی، تعویذ گنڈہ، پیر حضوری میں دن گزارتے ہوئے ہولے ہولے غلاظت کے ڈھیروں میں گزرتے ہوئے مست اور مجذوب کے مرحلوں سے واقف، جسم پر رنگ برنگے منکوں کی مالائیں سجائے فقیر کو سامنے پا کر مشرقی انسان کو اپنی تمام تر بدنصیبی کے باوجود یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالمن ہے۔ یہاں انسان کا امتحان مقصود ہےاور حاصل حیات مابعد سے شروع ہوتی ہے۔ کوئی تبدیلی سفر آسان نہیں کر سکتی، کسی قسم کی ترقی انسان کو مکمل طور پر سکون، قناعت پسند، مسرت آشنا نہیں بنا سکتی۔ جب تک اوپر والے کا فضل نہ ہو، کچھ بھی مثبت نہیں ہوتا۔۔۔
 بانو قدسیہ کی تصنیف، "حاصل گھاٹ" سے اقتباس۔
بشکریہ: شاہد علی چوہدری