نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مشرق کا مجذوب انسان

مشرق کو جاہل کہہ لیجیے، کم علم، ناعاقبت اندیش سمجھ لیجیے۔۔۔۔۔ دلدل میں دھنسا ہوا مشرقی انسان مکمل طور پر روایت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ اپنی لوک ریت، رسم و رواج سے محبت کرتا ہے۔۔۔ شاید وہ دکھ سہتے سہتے اپنی خرابیوں میں راسخ بھی ہو جاتا ہے، لیکن فلاح کی منزل دھندلاتی نہیں۔ سائنس سے دور، ہر لحظہ کی تبدیلی سے ناآشنا، اسکے صبح شام ایک سے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ مذہب سے وابستہ رہ کر، صبر کی ڈھال آگے رکھ کر چلتا رہتا ہے۔ ہم انسان کو مذہب کی اصلیت سے چاہے آگاہی نہ ہو وہ قبر پرستی، تعویذ گنڈہ، پیر حضوری میں دن گزارتے ہوئے ہولے ہولے غلاظت کے ڈھیروں میں گزرتے ہوئے مست اور مجذوب کے مرحلوں سے واقف، جسم پر رنگ برنگے منکوں کی مالائیں سجائے فقیر کو سامنے پا کر مشرقی انسان کو اپنی تمام تر بدنصیبی کے باوجود یہ یقین ہو جاتا ہے کہ یہ دنیا دارالمن ہے۔ یہاں انسان کا امتحان مقصود ہےاور حاصل حیات مابعد سے شروع ہوتی ہے۔ کوئی تبدیلی سفر آسان نہیں کر سکتی، کسی قسم کی ترقی انسان کو مکمل طور پر سکون، قناعت پسند، مسرت آشنا نہیں بنا سکتی۔ جب تک اوپر والے کا فضل نہ ہو، کچھ بھی مثبت نہیں ہوتا۔۔۔
 بانو قدسیہ کی تصنیف، "حاصل گھاٹ" سے اقتباس۔
بشکریہ: شاہد علی چوہدری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15