نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

انسانوں کا قرض

میری زندگی میں عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور ان میں سے کچھ کچھ میں آپ کی خدمت میں بھی پیش کرتا رہتا ہوں۔ اکثر لوگ مجھے راستہ روک کر پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسے واقعات کیوں پیش نہیں آتے جس طرح کے آپ کے ساتھ پیش آتے ہیں تو میں ان سے عرض کرتا ہوں کہ میں تھوڑا وصول کنندہ یا (Receptive) ہوں اور جو Vibration آپ اپنے بدن یا وجود میں رکھتے ہیں وہ باہر کی وائبریشن (ارتعاش) سے مل جاتا ہے اور پھر وہی کچھ ہونے لگتا ہے جس کی آپ کے اندر کو توقع تھی یا جس کا انتظار تھا۔ میں ہر روز صبح سویرے اپنے بستر سے ہمیشہ ایک دستک پر بیدار ہوتا ہوں اور میں دروازہ کھولتا ہوں اور جب میں دروازہ کھولتا ہوں تو میرے گھر کے دروازے پر ایک سر ٹوپ لگائے ہوئے، چیک کا سوٹ پہنے ہوئے اور ہاتھ میں رولر پکڑے ہوئے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے۔ وہ میرے گھر کے دروازے کو زور سے بجاتا ہے اور جب میں باہر نکل کر اس سے ملتا ہوں تو وہ مجھے ہمیشہ ایک ہی بات کہتا ہے کہ “آپ کے ذمہ میرا قرض واجب ہے، وہ قرض لوٹایئے۔ “ اور میں بہت حیران ہو کر اس کی شکل دیکھتا ہوں اور اس سے کہتا ہوں کہ میں نے تو آپ سے کبھی کوئی قرض نہیں لیا لیکن وہ بہت سے کاغذات کے پلندے نکال کر میری طرف بڑھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ نے مجھ سے 35 بلین ڈالر قرض لیا ہے اور یہ دستخط ہیں آپ کے بڑوں کے، آپ کے آباؤاجداد کے جنہوں نے یہ قرض لے کر کہیں استعمال کیا ہے۔“ اور میں اس کی بات سن کر شرمندہ اور نہایت “کچا“ پڑ کے اس سے کہتا ہوں کہ اس قرض(کے) بابت مجھے توعلم نہیں کہ یہ کب لیا گیا تھا؟ کیوں لیا گیا؟ اور کس جگہ پر استعمال ہوا؟

لیکن وہ کہتا ہے کہ اس قرض کی ادائیگی کا جلد بندوبست کریں ورنہ یہ آپ کے لۓ اچھا نہیں ہو گا۔ خواتین و حضرات میرے ہر دن کی ابتدا کچھ اسی طرح سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد میں پھر گلیوں، بازاروں، پارکوں میں گھومتا رہتا ہوں اور اس بوجھ کو اپنے ساتھ اٹھائے پھرتا ہوں۔ بہت سے لوگ ایسے ہوں گے جن کی طبیعتوں اور کندھوں پر یہ بوجھ نہیں ہو گا لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے اس شخص کی شکل سے بھی خوف آتا ہے اور مجھے اس بات کا خوف بھی رہتا ہے کہ کل صبح پھر وہ میرے دروازے پر آکر اسی زور سے ڈنڈا بجاۓ گا اور مجھ سے اپنے قرض کا تقاضا کرے گا۔ میں پارکوں میں گھومتا رہتا ہوں اور وقت گزارتا رہتا ہوں لیکن مجھے معلوم نہیں ہے کہ وہ قرضہ جو میرے ساتھیوں، بڑوں یا پرکھوں نے لیا تھا وہ کہاں ختم ہوا؟ کیسے خرچ ہوا؟ کس مقام یا جگہ پر اس کا استعمال ہوا؟ یا اس قرض کی رقم سے کیا فائدہ اٹھایا گیا؟ اور اس دولت کا ذاتی، اجتماعی یا قومی طور پر کیا فائدہ حاصل ہوا؟ ایسی باتوں کا میری طبیعت پر بوجھ پڑتا رہتا ہے اس لۓ آپ سے عموماً کہتا رہتا ہوں اور اس بوجھ کی موجودگی میں میں شرمندگی کے عالم میں کچھ اپنے آپ سے شرمسار، کچھ اپنے عزیز واقارب اور کچھ اپنی آنے والی نسل اور خاص طور پر پوتوں سے شرمندہ سا وقت گزرتا ہوں۔ اﷲ نہ کرے کہ آپ پر ایسا وقت آۓ۔ مجھ پر ایک طرح سے تھوڑی سی تشفی اس طرح سے ہو جاتی ہے اور ذرا سا Respite یوں کم ہو جاتا ہے۔ کہ جو قرض خواہ ہے اس کو بھی بڑی الجھن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قرض خواہ بھی آسانی میں نہیں ہوتا۔ مقروض تو خیر بالکل ہی دبا ہوا ہوا ہوتا ہے لیکن قرض دینے والا بھی ایک عجیب طرح کے شکنجے میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ اور دونوں ایک دوسرے کی جان کے دشمن بنے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان انسانی رشتے وہ سارے کے سارے منقطع ہو جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارے قصبے میں ایک شوکت صاحب تھے وہ ابتدائی قسم کا ڈینٹسٹری کا امتحان پاس کر کے آئے تھے اور انہوں نے گاؤں میں کلینک کھولا تھا۔ وہ مصنوعی دانت تیار کرتے تھے اور ڈاکٹر شوکت نے گاؤں میں پہلی بار مصنوعی دانت متعارف کروائے۔ وہاں گاؤں میں ایک سردار تھے (سردار کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ کے ذہنوں میں تو فلمیں یا ٹی وی ڈرامے دیکھ کر سرداروں کا کچھ اور ہی امیج بنا ہوا ہو گا۔ وہ سارے ہی ویسے نہیں ہوتے۔ سارے ہی ٹی وی والے بابا سائیں نہیں ہوتے، کچھ چاچا سائیں بھی ہوتے ہیں اور خالی سائیں بھی ہوتے ہیں)۔ انہوں نے ڈاکٹر شوکت سے مصنوعی دانت لگواۓ اور تمام کے تمام دانت نئے لگواۓ اور وہ یہ مہنگا لیکن آرام دہ سودا کر کے مزے سے گھومتے پھرتے رہے لیکن رقم ادا نہ کی۔

ایک دن ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ سردار صاحب میرے پیسے ادا کریں لیکن اس دور میں ڈیڑھ سوکی رقم ادا کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اب ڈاکٹر صاحب قرض خواہ تھے اور گاؤں کے سردار یا بابا سائیں مقروض تھے۔ ڈاکٹر صاحب ان سے روز صبح سویرے رقم کا تقاضا کرتے تھے اور وہ آج کل کے وعدے پر ٹرخاتے رہتے تھے لیکن رقم دے نہیں پاتے تھے۔ ایک روز دوپہر کے وقت ڈاکٹر شوکت صاحب غصے کے عالم میں سردار جی کے پاس آۓ اور وہاں تو تو میں میں شروع ہو گئی اور وہ کہنے لگے کہ آپ میرے پیسے ادا کریں ورنہ میں نے آپ کو یہ جو "بیڑھ" (بتیسی) لگایا ہے وہ واپس کر دیں۔ وہ سردار صاحب بھی علاقے کے آخر مالک تھے، غصہ کھا گئے۔ چنانچہ تو تو میں میں کے بعد ان دونوں میں باقاعدہ ہاتھا پائی کی نوبت بھی آن پہنچی اور اس کے بعد ڈاکٹر شوکت بڑی مایوسی کے عالم میں واپس اپنے کلینک پر پہنچ گئے۔ میں ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں مشینیں، آلات اور یہ دیکھنے کہ مصنوعی دانت کیسے بنتے ہیں بڑے شوق سے چلا جاتا تھا۔ اس وقت میں فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا۔ میں وہاں بیٹھا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا بازو میرے آگے کر کے کہا “دیکھ رہے ہو بابا سائیں کے کر توت“ میں اس سے اپنا قرض مانگنے گیا اور اس ظالم نے مجھے “دندی“ کاٹ لی جیسے کتا کاٹتا ہے۔“

اس نے کہا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس نے “دندی“ بھی ان دانتوں سے کاٹی جو میں نے اسے بنا کر دیۓ تھے۔ اس طرح خواتین و حضرات قرض خواہ کا ایک اپنا دکھ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ اگر میں نے اس کو دانت نہ بنا کر دیۓ ہوتے تو وہ مجھے کاٹ نہیں سکتا تھا۔ جب میں اپنے آپ کو دیکھتا ہوں تو مجھے وہ واقعہ یاد آ جاتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ میں بھی کہیں نہ کہیں کاٹتا ضرور ہوں کیونکہ میں مقروض ہوں اور میرے سر پر 35 بلین ڈالر کا قرض ہے۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ یہ بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ میں اس کا کوئی مداوا نہیں کر سکتا، ہر وقت مجھے کسی نہ کسی ایسے الجھاؤ میں اس لۓ الجھنا پڑتا ہے کہ میں اس قرض کو بھولا رہوں لیکن ہمارا اپنے قرض خواہ کے ساتھ رشتہ استوار نہیں ہوتا اور قرض خواہ بھی بہانے نکال نکال کے اور ہماری غلطیاں پکڑ پکڑ کر ہمارے کندھوں پر بوجھ اور بڑھاتا رہتا ہے تاکہ ہمیں واجب الا دا قرض کا احساس رہے۔

اوکاڑہ میں ایک میلہ لگتا ہے ( اب پتہ نہیں لگتا ہے یا نہیں کیونکہ میری جوانی کے زمانے میں لگا کرتا تھا) اور مجھے ان میلوں ٹھیلوں سے بہت دلچسپی ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہاں پر ایک پنگھوڑا لگا ہے اور کا مالک آٹھ آٹھ آنے لے کر گول گھومنے والے پنگھوڑے سے جھولے دے رہا ہے۔ وہ پنگھوڑا آج کل کے پنگھوڑوں کی طرح بجلی یا مشین سے چلنے والا نہیں تھا بلکہ پنگھوڑے والا اسے ہاتھ کے زور سے گھماتا تھا۔ میں وہاں بغیر کسی مقصد کے کھڑا ہو کر اسے دیکھنے لگا تو ایک گاؤں کا آدمی وہاں آیا۔ اس کی پگڑی کھل کر گلے میں پڑی ہوئی تھی اور اس نے کھدر کی تہبند باندھی ہوئی تھی۔ وہ بھی اس پنگھوڑے کے لکڑی کے گھوڑے پر سوار “جھوٹے“ (جھولے) لے رہا تھا۔ جب ایک “پور“ (چکر) ختم ہوا اور سارے اتر گئے تو تب بھی وہ شخص وہیں بیٹھا رہا اور وہ اکڑوں حالت میں بڑی تکلیف اور پریشانی میں ویسے ہی گھومتا رہا جب وہ تیسرے چکر کے اختتام پر بھی نہ اترا تو میرا اس میں تجسّس بہت بڑھ گیا اور میں نے آگے بڑھ کر اسے کہا کہ آپ نے “جھوٹے“ لے لۓ ہیں اور آپ اترتے کیوں نہیں ہیں۔ اگر آپ کو یہ چکر پسند ہیں تو پھر آپ کے چہرے پر خوشی، مزے اور بشاشت کے آثار ہونے چاہیئں جو بالکل نہیں ہیں۔ اس نےکہا کہ جناب بات یہ ہے کہ یہ جو پنگھوڑے والا ہے اس سے میں‌ نےتیس روپے لینے ہیں اور میں ہفتہ بھر سے اس کے پیچھے گھوم رہا ہوں اور یہ میرا قرضہ نہیں دے رہا ہے اور اب میں‌نے اس کا یہی حل سوچا ہے کہ میں اپنے قرضے کے بدلے اس کے پنگھوڑے پر “جُھوٹے“ لوں۔ اب یہ میرا 29واں‌ پھیرا جا رہا ہے اور ہر مرتبہ میں‌ آٹھ آنے کم کرتا جا رہا ہوں اور اس طرح سے میں اپنا قرضہ واپس لے رہا ہوں۔ حاضرینِ محترم میرے دل میں‌ بھی ایسا خیال آتا ہے کہ کاش میرا بھی کوئی اس طرح سے سودا طے ہو جائے اور میں‌ نے اپنے قرض خواہ کو جو 35 بلین ڈالر دینے ہیں تو میں ‌اس کو بھی کسی گھوڑے پر بٹھا کر ایسے چکر دوں جو ذہنی، جسمانی، نفسیاتی انداز کے چکر ہوں اور وہ 20 ویں پھیرے پر ہی کہہ دے کہ میں تمھیں قرض معاف کرتا ہوں اور تم میری جان چھوڑو لیکن میرا قرض خواہ اس دیہاتی جیسا نہیں ہے۔ وہ دیہاتی تو بڑا سیدھا، بھلا سا اور نیک آدمی تھا۔ اس کا غصہ تو ایک چھوٹی سی پٹڑی پر چل رہا تھا جبکہ میرے قرض خواہ کا غصہ میری ساری کائنات پر محیط ہے۔ اس نے میری زندگانی کو اپنے شکنجے میں‌لے رکھا ہے اور وہ مجھے چھوڑتا ہی نہیں‌ ہے۔ آغا‌حشر کا جب طوطی بولتا تھا تو فلم والے ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے تھے کہ آپ فلم کے لۓ کچھ لکھیں لیکن وہ اپنی تھیٹر کی زندگی اور اس تصور میں‌ اتنے مگن تھے کہ وہ فلم والوں کو گھاس نہیں ڈالتے تھے۔ مختار بیگم بتاتی ہیں کہ انہیں کپڑے سلوانے اور پہننے کا بڑا شوق تھا۔ ممبئی کا ایک بڑا معروف درزی تھا۔ آغا حشر نے اپنا سوٹ سلنے کے لۓ اسے دیا اور کہا کہ آپ مجھے ایک تاریخ بتا دیں تاکہ میں اپنا سوٹ آکر لے جاؤں کیونکہ وقت کی کمی کے باعث میں باربار نہیں‌آپاؤں گا۔ انہیں تاریخ ‌بتا دی گئی اور جب مقررہ تاریخ ‌پر وہ اپنا سوٹ لینے آئے تو درزی نے کہا کہ جی میں ابھی تک سوٹ کی کٹنگ نہیں‌کر سکا۔ اس پر آغا صاحب بہت ناراض ہوۓ اور واپس آگۓ۔ اس درزی نے عرض کی کہ میں آئیندہ ہفتہ کو آپ کا سوٹ تیار کر کے رکھوں گا۔ آغا صاحب ہفتے کو گۓ تو بھی سوٹ تیار نہ تھا، درزی نے کہا کہ سر آپ اتوار کو آجائیے گا میں‌چھٹی کے دن بھی آپ کی خاطر دکان کھول لوں گا۔ جب وہ سنڈے کو گۓ تو تب بھی سوٹ تیار نہ تھا۔ اس طرح وہ آتے اور جاتے رہے۔ جب آغا حشر نے ٹیلر ماسٹر کی دکان پر جانا چھوڑ دیا تو وہ درزی سوٹ سی کر اور اسے پیک کر کے خدمت میں‌حاضر ہو گیا۔ آغا صاحب نے کہا کہ تمہارے پیسے تمہیں‌مل جائیں گے اور اس طرح سے مقروض اور قرض‌خواہ کا رشتہ شروع ہو گیا۔ ایک ہفتے کے بعد درزی بل مانگنے آگیا تو انہوں ‌نے کہا کہ آپ فکر مت کریں آپ کا بل آپ کو مل جائے گا۔ اب آغا صاحب کو درزی پر قیمتی وقت ضائع کرنے کا غصہ تھا اور وہ بدلہ لے رہے تھے۔ درزی نے کوئی چار پانچ چکر لگائے۔ مختار بیگم بتاتی ہیں‌کہ وہ درزی بے چارہ ایک دن رونے والا ہو گیا اور کہنے لگا کہ آغا صاحب آپ ایسا کریں کہ مجھے ایک آخری وقت یا تاریخ ‌بتا دیں میں‌آپ کو درمیان میں‌تنگ نہیں‌کروں گا۔ آغا صاحب نے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ ہر جمعرات کو صبح 10 بجے آجایا کریں۔ وہ بےچارہ روتا پیٹتا چلا گیا۔ یہ واقعہ بتانے کا میرا مقصد یہ ہے کہ خالی مقروض پر ہی بوجھ نہیں‌ہوتا قرض خواہ بھی جال میں ‌پھنسا ہوتا ہے۔

ایک آدمی بڑا پریشان تھا وہ راتوں‌کو جاگتا تھا اور چیخیں مارمار کر روتا تھا۔ وہ ایک ڈاکٹر کے پاس آیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ اپنے ڈپریشن کی اصل وجہ بیان کریں؟ آپ کیوں‌اس قدر پریشان ہیں۔ اس نے بتایا کہ میرے ذمہ ایک لاکھ روپے قرض واجب الادا ہے جو مجھے ادا کرنا ہے لیکن میں اس کی ادائیگی نہیں‌کر سکتا۔ راتوں کو اس فکر سے جاگتا ہوں اور دن کو اس قرض کو چکانے کی تدبیریں کرتا رہتا ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا دیکھئے آپ کے ذمے قرض ‌ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ہی لکھا ہوا ہے ناں! اس کو اہمیت نہ دیں، دفع کریں۔ جائیں‌اور اس کاغذ کے ٹکڑے کو پھاڑ دیں۔ اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب بڑی مہربانی اور وہ چلا گیا۔ وہاں ایک اور شخص بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب یہ جو شخص پریشان آیا تھا اور خوش خوش واپس گیا ہے آپ نے اسے کیا کہا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں نے اسے قرض‌کے معاہدے والا کاغذ پھاڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ سن کر وہ شخص رونے دھونے لگا اور کہنے لگا ڈاکٹر صاحب اس شخص نے مجھ سے ہی ایک لاکھ روپے کا قرض‌لے رکھا ہے۔ عید کے روز بھی میں ‌یہیں کہیں ایک غیر معروف کونے میں ‌بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بابا آگیا، وہ پرانی وضع کا نیم فقیر یا نیم صوفی قسم کا تھا۔ وہ میرے پاس مخصوص قسم کے شعری جملے جو ہم بچپن میں سنا کرتے تھے (سنانے لگا)

میرے پاس ایک پانچ روپے کا نوٹ تھا وہ میں‌نے اس کو دیا کیونکہ میرے بچے مجھے کہا کرتے ہیں کہ ابو اب آپ کسی فقیر کو پانچ روپے سے کم نہ دیجیئے گا کیونکہ وہ ناراض ہوتے ہیں۔ اس شخص نے خوش ہو کے وہ نوٹ لے لیا اور کہنے لگا کہ تو بڑا پریشان سا ہے اور یہاں‌ اکیلا بیٹھا ہوا ہے کیا بات ہے؟

میں‌نے کہا کہ مجھ پر بڑا قرض ہے اور میں کوشش کرتا ہوں کہ اس سے کسی طرح باہر نکل جاؤں۔ یہی میری پریشانی کا باعث ہے۔ اس نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور کہا “شکر کر اللہ کا اور خوش ہو کہ تیرے اوپر کاغذوں، روپوں اور ڈالروں کا قرض ہے، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو اور ہر وقت جھک کر رہا کر کہ تیرے اوپر انسانوں کا قرض نہیں ہے، تم نے کسی کو انسان نہیں لوٹانے۔“

میں نے کہا بابا میں تیری بات نہیں سمجھا۔ کہنے لگا کہ شکر کر تو نے کوئی قتل نہیں کیۓ، کسی انسان کی جان نہیں‌لی۔ اگر خدانخواستہ تیرے اوپر جانوں‌ کا بوجھ ہوتا تو تُو اسے کیسے لوٹاتا اور تیرے ملک والے بھی اللہ کا شکر ادا کریں کہ ان کے اوپر جانوں‌کا بوجھ نہیں‌ ہے کیونکہ اللہ قرآن میں‌فرماتا ہے کہ اگر تم نے ایک شخص کو ناحق قتل کیا تو گویا تم نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ میں نے اس سے کہا کہ الحمد للہ میرے اوپر ایسا کوئی بوجھ نہیں‌ہے۔ اس نے کہا کہ تم اپنے پڑوسیوں‌کو دیکھو 73 ہزار بے گناہ کشمیریوں کے قتل کا بوجھ (اب یہ تعداد 75 ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے) ان کی گردن پر ہے کہ وہ کیسے لوٹائیں گے۔ کتنی بھی کوشش کر لیں، جدھر بھی مرضی بھاگ لیں وہ 73 ہزار آدمی جن کے وہ مقروض ‌ہیں وہ کیسے آدمی لوٹائیں گے۔ تمھارا تو روپوں کا قرض ہے کسی نہ کسی صورت لوٹایا جا سکے گا۔ پھر ان کو دیکھو انہوں نے ایک لاکھ پندرہ ہزار سکھوں‌کو Blue Star کے Process میں‌قتل کیا۔ وہ ان کی ماؤں کو اور بہنوں کو ان کے بیٹے اور بھائی کیسے لوٹا سکیں‌گے؟ ان سے اگر وہ مانگنے والا(خدا تعالٰی) آگیا کہ میرے انسان واپس کرو تو وہ کہاں‌سے دیں‌گے۔ وہ کہنے لگا تمہیں پتہ ہے میں‌تو جانتا نہیں‌کہ “ایتھوں دور سمندر وچ کوئی پنڈ اے۔“ کہنے لگا وہاں پر دو جگہوں پر بم پھینک کر لاکھوں انسانوں کو ہلاک کر دیا۔ میں نے کہا کہ بابا ان شہروں ‌کو “ہیروشیما“ اور “ناگاساکی“ کہتے ہیں۔ اب وہ کس طرح‌لاکھوں بندے لوٹائیں گے۔ وہ بابا “ٹپوسی“ مار کر چلتا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا “میں‌نے سنا ہے کہ جب امریکہ آباد ہوا تو وہاں ‌پر ایک قوم آباد تھی جسے Red Indian کہتے تھے۔ وہ قوم اب ساری کی ساری ختم ہو گئی ہے اور اب اگر کوئی کھاتے والا اپنا رجسٹر لے کر آگیا اور اس نے موجودہ قوم کو بڑی طاقتور اور سیانی اور ماہر قوم ہے اس سے کہا کہ مجھے وہ آدمی واپس کرو تم نے انہیں ناحق مارا ہے اور کیوں‌مارا ہے؟جواب دو اور بندے واپس کرو تو وہ کیا کریں‌گے؟ مجھے کہنے لگا کہ تم کونے میں‌لگ کے پریشان بیٹھے ہو حالانکہ تمہیں‌خوش ہونا چاہیئے اور تمہاری قوم کے لوگوں‌کو خوش ہونا چاہیئے کہ چلو تم قتل کر دئے گۓ لیکن قاتلوں‌میں سے نہیں‌ہو۔ اس نے کہا کہ میں تو خوشی سے ناچتا ہوں کہ الحمدللہ مسلمان امّہ پر یہ بوجھ نہیں‌ہے۔ مسلمان بے وقوف اور مقتول ہیں، قاتل نہیں ہیں۔ یہ پتھر لے کر مدٍِّمقابل کو مارتے ہیں اور پتھروں سے ان کے (اسرائیل) ٹینکوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔ جان سے جاتے ہیں لیکن ان ظالموں میں سے نہیں ‌ہیں جو انسانوں‌کا ناحق خون کرتے ہیں اور پوری کائنات اور معاشرے کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس کی بات سن کر میں‌خوشی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس روز سے اب تک میں کافی خوش ہوں‌کہ الحمدللہ میری ذات کے اوپر اور میری قوم پر خون یا آدمی لوٹانے کا بوجھ نہیں ‌ہے اور انشاء اللہ وہ وقت بھی قریب ہے کہ ہم ڈھیر سارا قرضہ لوٹا سکیں‌گے اور شکر ہے کہ ہمیں‌ زندہ جیتے جاگتے انسان نہیں‌واپس کرنے ہیں۔ انسانوں‌کو لوٹانے کے قرض دار ایسے بھی ہیں‌جو لمبی اڑانیں‌بھر بھر کر سکاٹ لینڈ پر جو نہ پیسے والا ہے اور نہ ان کا کوئی قصور تھا ان پر بمباری کرتے رہے۔ ان سے تو ہمارا قرض‌اچھا ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں‌عطافرماۓ اور آسانیاں ‌تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ آمین۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: ماوراء
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15