محاورے

ایسے مقام پر پہنچ کر اور ایک ایسی پر فضا جگہ پر آجانے کے بعد مجھے اپنے لڑکپن کا زمانہ یاد آتا ہے جب ہم سکول میں پڑھتے تھے۔ اس وقت ہمارے ماسٹر صدیق صاحب ہمیں اکثر اپنے ساتھ کلاس سے اٹھا کر ایسے باغوں اور گلستانوں میں لے جاتے تھے جہاں قدرت کےنظارے کتابی و نصابی علوم سے بڑھ کر ہوتے تھے اور جو ہماری زندگی کے قریب تر ہوا کرتے تھے اور ماسٹر صدیق صاحب بات کو سمجھانے اور بتانے کا بہتر فن جانتے تھے اور اس قدرت پر ملکہ رکھتے تھے۔ وہ ایک ایک پتے سے لے کر ایک تنا آور درخت تک اور ایک اڑتی ہوئی چڑیا سے لے کر ایک بیٹھی ہوئی گدھ تک ہر ایک بات اور مفہوم پر سیّر حاصل (گفتگو) کرتے تھے۔ ہمیں ان کی کچھ باتیں سمجھ میں آتی تھیں اور کچھ نہیں آتی تھیں لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا ان کی باتیں آہستہ آہستہ ہمارے اوپر کُھلتی گئیں پھر ایک وقت ایسا بھی آگیا جب ہم ساتویں جماعت پاس کر کے آٹھویں میں داخل ہو گئے تو انھوں نے خصوصی طور پر ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ انگریزی کے محاوروں کو اچھی طرح سے زبانی یاد کرو اور ان کو اپنے ذہن میں بٹھاؤ کیونکہ آگے چل کر جب آپ کو انگریزی لکھنے کا موقع ملے گا تو یہ یاد کۓ ہوئے محاورے آپ کی مدد کرتے رہیں گے۔ چناں چہ وہ بیشمار محاورے جن کو انھوں نے ترتیب دے رکھا ہوا تھا، ان کا بوجھ ہمارے اوپر لاد دیا۔ A bird in hand is worth two in the Bush (نو نقد نہ تیرہ ادھار)

Never put off till tomorrow, what you can do today (آج کا کام کل پر نہ چھوڑو)

Might is Right (جس کی لاٹھی اس کی بھینس)

اس طرح کے کئی اور محاورے انہوں نے ہمیں یاد کروائے اور ان محاوروں اور Idioms کے سہارے اور اس گراری پر چلتے ہوئے آگے آگے زندگی کے سفر میں چلتے ہی چلتے گئے لیکن جب ہم فرسٹ ایئر میں داخل ہوئے تو انہی انگریزی محاوروں میں سے جو ہماری زندگی کے اندر رچ بس چکے تھے اور جو ہمارے اندر اپنی کئی منزلیں طے کر چکے تھے، ہم نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ کچھ محاورے ایسے ہیں کہ جن کا مفھوم تو سمجھ میں آتا ہے لیکن وہ ہماری زندگی پر کچھ اور ہی طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ شاید اس سے پہلے آپ نے اس کا جائزہ نہیں لیا ہو گا لیکن آج میں آپ کی خدمت میں اپنی مشکلات کا ذکر کرتا ہوں۔

جب میں نے پہلی مرتبہ انگریزی کے دو الفاظ "Take Care" جو عام طور پر بہت استعمال ہوتے ہیں (سنے) تو دل میں خیال آیا کہ ہم ان کا کیا کریں یعنی اگر میں گاڑی پر جا رہا ہوں اور میری خالہ جو لندن سے تشریف لائی تھیں انھوں نے کہا Ashfaq Take Care۔

اب میں حیران ہوں کہ میں اپنی ہی ذات کا Care Taker ہوں کیونکہ ہمارے ہاں تو “اللہ حافظ“ ( اللہ تم کو اپنی حفظ و امان میں رکھے) کہنے کا رواج ہے لیکن انگریزی بولنے والے کہتے ہیں کہ اللہ حافظ نہیں، ہم اللہ کے اوپر یہ ذمہ داری نہیں تھوپتے اور نہ ہی ہم اپنے اوپر ذمہ داری لیتے ہیں بلکہ یہ تمھاری اپنی ذمہ داری ہے کہ تم خود ہی اپنی Take Care کرو اور تم احتیاط کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ بڑے زمانے کی بات ہے ہم ایک روز گاڑی پر جا رہے تھے اور آگے سڑک کھدی ہوئی تھی اور وہاں ایک بہت بڑا سائین بورڈ لگا ہوا تھا جس میں انتباہ کی گئی تھی کہ Travel at your own risk

میں نے بورڈ پڑھ کے ڈرائیور سے کہا کہ بھائی ذرا آہستہ اور احتیاط کے ساتھ چلو۔ ساتھ میری خالہ بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے کہا احتیاط سے کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ تو میں نے کہا کہ یہاں اتنا بڑا بورڈ لگا ہوا ہے کہ “ آپ اپنی ذمہ داری پر سفر کریں، سڑک ٹوٹی ہوئی ہے اور زیرِ تعمیر ہے۔“ اس پر میری خالہ ہنسی اور کہنے لگی پچھلا سفر ہم کس کی ذمہ داری پر طے کر کے آئے ہیں اور اگلا کس کی ذمہ داری پر طے کریں گے۔ یہ بورڈ یہاں کیوں لگایا ہوا ہے۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ Take Care کا بھی بڑا عجیب و غریب معاملہ ہے کہ مجھ ہی سے کہا جا رہا ہے کہ میں اپنا خیال رکھوں۔ میرا ہی پروفیسر مجھے گاڑی پر چھوڑتے وقت مجھے کہتا ہے کہ Ashfaq you are going to abroad, Take care۔

اس حوالے سے میری خالہ کی بات تو ٹھیک تھی کہ ہم زندگی کا جو بھی سفر طے کرتے ہیں اپنی ذمہ داری پر یا اللہ کے حوالے سے یا اس کی مہربانی سے طے کرتے ہیں۔ یہ لکھنا یا کہنا کہ دیکھو یہاں سڑک ٹوٹی ہوئی ہے اور تم اپنی ذمہ داری سے سفر کرو آگے گورنمنٹ تمھاری ذمہ دار ہے یا معاشرہ اس ذمہ داری کو پورا ادا کرے گا ایسا ہوتا نہیں ہے۔اس طرح جب ان معمول یا روزمرہ کے فقرات یا محاوروں پر نظر پڑنے لگی تو اس حوالے سے مشاہدہ بھی تیز ہونے لگا۔ جب ہم نے جیوگرافک میگزین پڑھنا شروع کیا اور دنیا کے ان منطقوں کے مطالعہ میں بہت گہرے اترے جہاں جانور کثیر تعداد میں بستے ہیں جسے افریقہ کہا جاتا ہے تو ہمیں پتہ چلا کہ جانوروں کا باقاعدہ ایک قانون ہوتا ہے اور کوئی جانور اس قانون سے تجاوز نہیں کرتا۔ یہ صرف انسان ہی ہے جو اپنے قانون اور طے شدہ باتوں میں آہستہ آہستہ تنسیخ کرتا رہتا ہے اور اس میں تبدیلیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔ شیر جب بھوکا ہوتا ہے تب شکار کرتا ہے اور جب وہ شکار کو مار چکتا ہے تو تین روز تک مزید کسی جانور کا شکار نہیں کرتا۔ شکار ہونے والے جانور بھی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں آپنے آپ کو قربانی کے لۓ تیار کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شیر اعلیٰ درجے کے ہوائی جہاز میں بم بھر کر اونچے آسمانوں میں اڑنا شروع کرے اور اوپر سے بم پھینک کر بغیر سوچے سمجھے انسانوں، جانوروں یا دوسرے بشروں کو قتل کرنا شروع کرے۔ یہ انسان کا ہی ایک خوفناک قانون ہے جو ایک ظالم کا قانون ہے۔ آپ ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ انسان نے بیچارے، معصوم، شریف جانوروں کے حوالے سے “ جنگل کا قانون“ کا لفظ بنا کر خود کو بریُ الذمہ کر لیا ہے۔ آپ زندگی میں چھوٹے چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے بڑے مسائلِ معاشرت تک نظر دوڑا کر دیکھیں تو آپ کو سب اندازہ ہو جائے گا۔ بڑے ملک غریب، کمزور اورچھوٹے ملکوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اورآپ دم نہیں مار سکتے اور یہ انسانی قانون ہی ہے جو اس قدر تکلیف دہ اور انسان کو آزار پہنچانے والا ہے۔ خواتین و حضرات ایک اور بھی محاورا ہے جس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ جب ہم بی اے میں پہنچے تو ایک نیا محاورا سامنے آیا جس کا سامنا کرنے کے لۓ ہم کسی بھی صورت میں تیار نہیں تھے۔ وہ تھا “It is too Good to be True" یعنی یہ بات اتنی سچی، اچھی اور پاکیزہ ہے کہ یہ سچی ہو ہی نہیں سکتی۔ اب آپ یہ بتائیں ہم کیا کریں یعنی اس محاورے کو ساتھ لے کر کہاں تک اور کدھر تک جائیں اور یہ ہماری زندگیوں پر ایسے اثرانداز ہوا کہ ہم نے لاشعوری طور پر یہ سوچنا شروع کر دیا کہ جو بات اچھی ہوتی ہے وہ بات پاکیزہ، صباح اور نیکی پر مبنی ہوتی ہے وہ سچی نہیں ہوتی اس لۓ سچی بات پر دارومدار کرنے کے لۓ اس کے پس منظر کی بات کو گھٹیا، ظالم، بے انصاف اور سنگدل ہونا چاہیۓ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میری خالہ زاد بہن جن کے خاوند ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتے ہیں، ان کی زندگی زیادہ ہنگامہ خیز کبھی نہیں رہی۔ کام پر جاتے ہیں اور واپس سیدھے گھر آ جاتے ہیں لیکن ہیں بڑے اچھے، وہ ایک دن اچانک دفترسے اٹھ کر گھر آ گئے اور آ کر میری بہن سے کہنے لگے کہ لو بھئی عذرا میں نے تو آج مچھلی پکڑ کے لانے کا پروگرام بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے زندگی میں پہلے کبھی مچھلی پکڑی تو ہے نہیں۔ وہ ان سے پھر گویا ہوئیں کہ آپ نے مچھلی پکڑنے والی کنڈی دیکھی ہے؟ کہنے لگے نہیں دیکھی۔ کبھی وہ پانی دیکھا ہے جس میں مچھلیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا اتنی مقدار میں تو نہیں دیکھا۔ گھڑے یا گلاس کا پانی ہی دیکھا ہے۔ وہ کہنے لگیں آپ کا پھر بھی مچھلی پکڑنے کا ارادہ ہے تو وہ کہنے لگے "بس میرا جی چاہا"۔ دفتر میں ایک فائل بڑی پیچیدہ قسم کی تھی۔ میں نے سوچا اس کو کل نمٹا لیں گے اور مجھے انگریزوں نے کہا ( دفتر میں کام کرنے والے ساتھی انگریز) تم آج مچھلی پکڑنے جاؤ اور اب میں نے مچھلی پکڑنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ اگر تمھاری بھی خواہش ہے تو میرے ساتھ چلو، بلو کی کے مقام پر دریا بڑی ٹھاٹھیں مارتا ہوا گزرتا ہے اور سنا ہے وہاں مچھلی بہت ہوتی ہے۔ میں ڈوری، کانٹا اور مچھلی پکڑنے کے دیگر لوازمات ساتھ لایا ہوں۔ اس نے (عذرا) نے کہا میں تو ساتھ جا نہیں سکتی کیونکہ آپ نے اچانک پروگرام بنا لیا ہے تو وہ کہنے لگے کوئی بات نہیں میں اکیلا چلا جاؤں گا۔ تب میری خالہ زاد بہن پریشان ہوئیں اور کہا ہائے ہائے آپ نے زندگی میں پہلی بار از خود پکنک کا ایسا پروگرام بنایا ہے اور میں پھر گھر میں کیوں بیٹھی رہوں۔ یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا لیکن وہ بڑی بے چین کبھی گھر کے اندر جائے اور کبھی گھر کے باہر آئے۔ اس پر ان کے میاں کہنے لگے کہ تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟

وہ کہنے لگی کہ میں نے آج تین مرتبان اچار ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا اور آپا صغریٰ سے درخواست کی تھی کہ وہ آ کر مجھے اچار ڈال دیں۔ خواتین و حضرات ہمارے اکثر گھروں میں کئی آپا صغریٰ آئیں ہوتی ہیں جو گو poor relations ہوتی ہیں اور ہم ان کے ساتھ کچھ زیادہ محبت نہیں رکھتے لیکن مشکل اوقات میں وہ ہمارا بڑا ساتھ دیتی ہیں مثلاً شادیاں ہوں، مہندی کی رات ہو تو آپا صغریٰ آجاتی ہیں۔ وہ ساری بنی ٹھنی بچیوں کے پرس سنبھال کے گود میں بیٹھی رہتی ہیں اور پھر جانے کے وقت ان کو دے دیتی ہیں، اچار ڈالنا ہو، چٹنیاں بنانی ہوں، رضائی سینی ہو تو وہ بڑے کام آتی ہیں۔ عذرا کہنے لگی کہ میں نے اتنے سارے آم لے کے رکھے ہوئے ہیں اور آپا صغریٰ نے بھی آنا ہے۔ سارے مصالحے بھی تیار ہیں لہٰذا میں نہیں جا سکتی۔ پھر جب وہ چلنے لگے تو کہنے لگی نہیں نہیں میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں اور تیار ہو گئیں اور اس نے آپا صغریٰ کے نام ایک پرچی لکھ کر لیٹر بکس میں ڈال دی (عذرا اور آپا صغریٰ کے درمیان یہ بات طے تھی کہ اگر کبھی وہ گھر پر نہ ہوں تو گھر کی چابی اور ہدایات لیٹر بکس میں پڑی ہوں گی) چناں چہ وہ دونوں میاں بیوی چلے گئے۔ جب وہاں پہنچ گئے تو ان سے مچھلی وچھلی تو کیا پکڑی جانی تھی لیکن انہوں نے بہت زیادہ Enjoy کیا، دن بھر وہ دونوں وہاں رہے۔ جب وہ لوٹ کر شام کو گھر آئے تو میری ہمشیرہ (عذرا) کہتی ہیں تو میرا اوپر کا دم اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا اور میری چیخ نکل گئی کیونکہ جس گھر میں ہم داخل ہو رہے تھے وہ کچھ اور ہی عجیب و غریب نقشہ پیش کر رہا تھا اور جب میں اندر گئی تو حیران ہوئی کہ تین مرتبانوں میں اچار ڈال کے رکھا ہوا تھا اور ان کے اوپر ڈھکنا پڑا ہوا تھا لیکن میری چیخ اس وجہ سے نکلی کہ میرے گھر کی جو سیڑھیاں تھیں وہ عرصہ دس سال سے خراب تھیں وہ تمام کی تمام چمکدار اور بہت اعلیٰ درجے کی پالش کی ہوئی لگتی تھیں۔ میز کے اوپر ایک کاغذ پڑا تھا اور اس پر لکھا تھا کہ محترمہ آپا جی السلام علیکم میرا نام کرم داد ہے۔ میں یہاں سے گزرا آپ کے گھر کی گھنٹی بجائی تو آپ نے دروازہ نہیں کھولا۔ پھر میں ہمت کر کے پھاٹک کھول کے اندر داخل ہو گیا۔ اندر داخل ہوا تو آپ کا دروازہ بند تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ کوئی بھی گھر پر نہیں ہے، اِدھر اُدھر دیکھا تو مجھے لیٹر بکس نظر آیا۔ اس میں مجھے گھر کی چابی نظر آئی اور اس کے ساتھ ہی ایک خط پڑا تھا جو آپ نے آپا صغریٰ کے نام لکھا تھا۔ وہ میں نے پڑھا اور سوچا کہ آپا صغریٰ تو آئی نہیں میں ہی یہ کام کر دوں۔ میں نے آپ کا اچار ڈال دیا ہے۔ میری ماں اچار میں کلونجی زیادہ ڈالا کرتی تھی میں نے بھی اسی لحاظ سے ڈالی ہے اور نمک مرچیں میں نے کم رکھی ہیں۔ اگر آپ اسے بڑھانا چاہیں تو بڑھا دیں۔ باقی آپا آپ کا اتنا خوبصورت گھر ہے اور اس کی ریلنگ کا ستیاناس ہوا پڑا تھا اس پر کسی نے توجہ ہی نہیں دی، میں نے کوشش کر کے یہں پڑے برش پالش سے سب ٹھیک کر دیا ہے۔ اس رقعہ میں مزید لکھا تھا کہ ساتھ والوں کا ملازم کُکر مانگنے آیا تھا تو میں نے آپا انکار کر دیا کیونکہ معاف کرنا آپا یہ لوگ چیزیں مانگ کر لے جاتے ہیں تو واپس نہیں کرتے یا خراب کر دیتے ہیں لہٰذا میں نے اس سے کہا کہ ہمارے کُکر کا ربڑ خراب ہے تو وہ چلا گیا۔ باقی کمروں میں گھوما اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور آپ مجھے بہت نیک خاتون معلوم ہوتی ہیں آپ کی ہیرے کی دو انگوٹھیاں تکیے کے نیچے پڑی ہوئی تھیں وہ کافی خراب ہو چکی تھیں اس لۓ میں نے انہیں کھٹا لگا کر صاف کر دیا ہے اور میں نے انھیں دھو کر ٹشو پیپر میں لپیٹ کے مجبوراً ویسے ہی تکیے کے نیچے ہی رکھ دیا ہے۔ خدا کے واسطے خیال کریں تیس تیس پینتیس پینتیس ہزار کی ایک ایک انگوٹھی کو آپ نے کتنی لا پرواہی سے رکھا ہوا ہے۔ اس نے مزید لکھا کہ میں نے غسل خانے میں دیکھا کہ صاحب کی شیونگ کٹ میں تمام کے تمام بلیڈ پرانے ہیں اور وہ صاحب ان سے گھسا گھسا کے شیو کر لیتے ہوں گے۔ یہ تو بہت بری بات ہے۔ آپ مہربانی فرما کر آج ہی انہیں نئے بلیڈوں کا ایک پیکٹ لے کر دیں اور جو چیزیں آپ نے پکنک پر لے جانے کے لۓ تیار کی تھیں وہ چیزیں میں نے اٹھا لی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں یہ میرا حق ہے۔ میں حیدر آباد نوکری کی غرض سے جا رہا ہوں۔ وہاں مربے اور چٹنیاں بنانے والی فیکٹری میں میرا ایک “ گرائیں“ ( علاقے کا آدمی ) ہے اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مجھے وہاں نوکری دلوا دے گا کیونکہ میں سال ڈیڑھ سال سے بے روزگار ہوں۔ آپ میرے حق میں دعا کرنا اور میں آپ کا آپا صغریٰ کے لۓ کھانے کا رکھا ہوا سامان ساتھ لے جا رہا ہوں تاکہ راستے میں کھا سکوں۔ میں آپ کو اس کھانے کے لۓ دعا دوں گا۔ اس رقعے کے نیچے اس نے درج کیا تھا۔ “ کرم داد“ ریٹائرڈ بیٹ مین برگیڈیئر فلاں فلاں۔

جب میری بہن نے مجھے یہ خط دکھایا تو یہ خط لے کر میں اخبار کے ایک بڑے دفتر میں گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم خوفزدہ کرنے والی خبریں تو چھاپتے ہو۔ ایک یہ خبر بھی چھاپو کہ ایسا ایک واقعہ ہوا ہے۔ تو وہ صاحب کہنے لگے ۔Sir, It is too good to be true ایسے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک انجان آدمی بھرے پڑے گھر میں داخل ہوا اور صفائی وغیرہ اور کام کر کے چلا جائے اور باقی سب کچھ چھوڑ جائے اور ہمیں تو خبریں ہی ایسی چھاپنی پڑتی ہیں جو خوفزدہ کرنے والی ہوں، جب تک ایسی خبریں نہیں چھاپی جائیں گی تو لوگ اخبار ہی نہیں خریدیں گے۔ اس نے مجھے کہا کہ دیکھیں جب کوئی بنک لوٹنے آتا ہے تو وہ خوفزدہ کر کے اور پستول دکھا کے پیسے چھینتے ہیں اور ہمارے پاس بھی اسی طرح کے خوفناک خبروں کے پستول ہوتے ہیں اور ہم ان سے اپنی سیل میں اضافہ کرتے ہیں اور یہ کہہ کر اس خبر چھاپنے کا ارادہ انہوں نے ترک کر دیا۔

اس کے بعد ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آیا۔ میں نے یہ بات شاید آپ کو پہلے بھی سنائی ہو گی کہ ایک بڑی خوبصورت دھان پان کی پتلی سی لڑکی ایک ٹوٹے سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انار کلی بازار میں آئی۔ وہاں میں اپنے دوست ریاض صاحب کے کپڑے کی دکان میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس لڑکی نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی اعلیٰ درجے کا عروسی جوڑا ہو گا تو میرے دوست نے کہا جی بالکل ہے۔ یہ دس ہزار کا، یہ پندرہ ہزار کا ہے، یہ بیس ہزار کا ہے، پسند کر لیجیئے۔ بہت اچھے ہیں۔ یہ پچیس ہزار کا بھی ہے۔ وہ کہنے لگی بس بس یہاں تک کا ہی ٹھیک ہے۔ کیا مجھے اسے پہن کر دیکھنے کی اجازت ہے۔ میرے دوست کہنے لگے ہاں ہاں ضرور۔ یہ ساتھ ہمارا ٹرائی روم ہے آپ ٹرائی کریں۔ وہ لڑکی اندر گئی۔ اس کے ساتھ ایک سہما اور ڈرا ہوا نوجوان بھی تھا ( جیسے آج کل کے سارے خوفزدہ سے نوجوان ہیں کہ زندگی کیسے کاٹیں گے اور مستقبل کا فکر انہیں لاحق ہوتا ہے)۔ وہ عروسی جوڑا پہن کر باہر نکلی اور دکاندار نے اسے دیکھ کر کہا“سبحان اللہ بی بی یہ تو آپ پر بہت ہی سجتا ہے ایسی دلہن تو ہمارے پورے لاہور میں کبھی ہوئی نہ ہو گی“ (جس طرح دکاندار کہتے ہیں)۔ کہنے لگی جی بڑی مہربانی ٹھیک ہے اسے دوبارہ پیک کر لیں۔ وہ مزید کہنے لگی کہ میں تو صرف ٹرائی کرنے کے لۓ آئی تھی میں اپنے اس خاوند کو جو میرے ساتھ آیا ہے یہ بتانے کے لۓ لائی تھی کی اگر ہم امیر ہوتے اور ہمارے پاس عروسی جوڑا ہوتا اور اگر میں اسے پہن سکتی تو ایسی دکھائی دیتی۔ آج ہماری شادی کو سات دن گزر چکے ہیں۔ ہم اللہ کے فضل سے بہت خوش ہیں لیکن میں اپنے خاوند کو جو بڑا ہی Depressed رہتا ہے اسے خوش کرنے آئی تھی۔ میرے دوست نے کہا کیا آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس نے کہا نہیں ہمارے پاس پیسے تو تھے لیکن میری ایک چھوٹی بہن جو ایم بی بی ایس کر رہی ہے اس کو پیسوں کی ضرورت تھی اور میرے والدین نے کہا کہ اگر میں یہ قربانی دوں تو اس کی ضرورت پوری ہو جائے۔ تب میں نے کہا کہ بسم اللہ یہ زیادہ ضروری ہے۔ چناچہ میں نے سادہ کپڑوں میں شادی کر لی۔ جب میں یہ بات اپنے دوستوں کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے کہا کہ It is too good to be true۔ خواتین و حضرات اب وقت کم ہے لیکن میں ایک آخری اور خوفناک و خطرناک محاورہ ابھی آپ کی خدمت میں پیش کر ہی دوں وہ ہے : Live and Let to Live۔

پاکستان کا ہر شخص آج کل اس وقت بڑی شدت کے ساتھ اس محاورے پر عمل کر رہا ہے۔ میں اپنے بہت امیر دوستوں سے ملتا ہوں تو وہ کہتے ہیں اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم جس طرح سے زندگی بسر کر رہے ہیں اس پر خوش ہیں اور ہم لوگوں کی زندگیوں میں دخل نہیں دیتے۔ ہمارے ارد گرد جھگی والے رہتے ہیں، دوسرے لوگ رہتے ہیں ہم نے کبھی جا کر ان سے نہیں پوچھا کہ تم کیسے ہو۔ ہمارا اصول Live and Let to Live ہے۔ ہمارے اب یہ اصول ہی چل رہا ہے کہ کوئی زندہ رہے، مرے کھپے، جیئے ہم اس میں دخل نہیں دیں گے۔ پچھلے سے پچھلے سال مجھے امریکہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ریاست کیلے فورنیا میں ایک صاحب نے ہماری دعوت کی۔ میرے ساتھ بانو قدسیہ بھی تھیں۔ وہ دعوت بڑی ہی پر تکلف تھی۔ وہ ہمارے دوست ایئر فورس کے بھاگے ہوئے افسر تھے۔ وہ ماشاءاللہ پاکستان سے بڑی دولت لوٹ کر ساتھ لے گۓ تھے۔ وہ آج کل امریکہ میں انگور سُکھا کر دنیا بھر میں سپلائی کےنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا آپ تو یہاں ہمارا سارا پیسہ لے کر آ گۓ ہیں۔ وہ کہنے لگے اشفاق صاحب ہم تو Live and Let to Live پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم یہاں Live کر رہے ہیں اور آپ کو ہم نے Let Live کے لۓ چوڑ دیا ہے کہ جیسے مرضی زندگی بسر کرو۔ میں نے کہا کہ میں ایک دن صبح جاگا تو جیسے سود خور پٹھان ڈنڈا پکڑ کر دروازے پر آیا کرتا ہے اس طرح آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ایک بندہ ہم سے وصولی کے لۓ آ جاتا ہے اور پٹھان کی طرح کہتا ہے کہ “ دیکھو ہمارا پیسہ نکالو۔“اور میں اس سے کہتا ہوں کہ میں نے تو تم سے ساری زندگی کوئی پیسہ نہیں لیا تو وہ کہتا ہے کہ تم نے لیا ہے اور تمہیں 32 بلین ڈالر دینا پڑیں گے۔

میں نے کہا کب لیا؟ کس نے لیا؟ تو اس نے کہا تمھارے بڑوں نے قرضہ لیا۔

اس پر میرے دوست نے کہا کہ ہم نے پیسہ لیا اور اسے اچھی طرح کے ساتھ استعمال کیا اور اگر اب بھی ہمیں موقع ملا تو ہم انشاءاللہ اسی طرح سے استعمال کریں گے۔ خواتین و حضرات دنیا کا یہ معروف ترین محاورہ پاکستان میں بڑے اطمینان، اعتماد اور یقین کے ساتھ بولا جاتا ہے لیکن کسی نے کسی موٹر کا شیشہ نیچا کر کے یہ نہیں دیکھا کہ پیچھے آنے والا زندہ ہے کہ مر گیا ہے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری 
ٹائپنگ: فریب
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود