نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے

خطوط کی دنیا بھی ایک نرالی دنیا ہے اس کا انسانی زندگی پر اور انسانی تاریخ پر بڑا گہرا اثر ہے۔ خط کب سے لکھے جانے شروع ہوۓ اور کب آ کر ختم ہوۓ۔ میں اس کے بارے میں یہ تو عرض کر سکتا ہوں کہ کب آ کر ختم ہوۓ لیکن ان کے لکھے جانے کی تاریخ اس کے بارے میں یقین اور وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لکھے جانے تو اب ختم ہوۓ ہیں جب کوئی ای - میل کا سلسلہ شروع ہوا ۔ جب Chatting کا نیا لفظ ایجاد ہوا۔ جب کمپیوٹر کے ذریعے طرح طرح کے طریقے انسان کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے ہیں لیکن خطوں کا جو حسن تھا اور خطوں میں جو بات ہوتی تھی اور ان کے اندر جس طرح سے اپنا آپ، اپنی روح، زندگی اور نفسیات نکال کر پیش کر دی جاتی تھی وہ اب نہیں رہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاید ہم اس یونیورسٹی کے آخری طالبِ علم تھے جو چوری چوری خط لکھا کرتے تھے اور بڑے اچھے خط لکھا کرتے تھے۔ اب میں اپنے سٹوڈنٹس، بیٹوں، پوتوں اور نواسیوں کو دیکھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں Stop it Dada because this way of Communication is very silly and we can not write.

ہمیں تو اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ خط لکھتے پھریں۔ خواتین و حضرات وقت خدا جانے کدھر چلا گیا ہے کہ آدمی آدمی سے خط و کتابت کے ذریعے رابطہ قائم نہیں کر سکتا۔ آپ یہ تو ضرور جانتے ہوں گے کہ خط کس کس طرح کے لکھے گۓ، کیسی کیسی خطوط پر مبنی کتابیں چھپیں۔ آپ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ رومی فلاسفر جو فورم میں کھڑے ہو کے باتیں کرتے تھے اور ان کی باتیں آگے پہنچائی جاتی تھیں۔ سقراط آیا، اس کے بعد افلاطون اور ارسطو آیا۔ ارسطو کے فلسفے کو آگے پہنچانے کے لۓلوگوں نے چھوٹے چھوٹے رقعوں میں اس کے فلسفے کو بیان کیا اور اسے آگے اپنے دوستوں تک ارسال کیا۔ اس طرح ہمارے صوفیاۓ کرام نے خطوں کے ذریعے دور بسنے والے اپنے مریدین کے لۓ اپنے پیغامات پہنچاۓ۔ بادشاہوں نے بھی خطوط کا یہی سہارا لیا۔ مجھے اورنگزیب عالمگیر کی مشہور تصنیف رقعاتِ عالمگیری یاد آ رہی ہے جو خطوط پر مبنی ہے۔ اس میں وہ خط ہیں جو وہ اپنے بیٹوں کو لکھتا رہا تھا جس میں وہ شہزادوں کو مخاطب کرتا ہے۔ ایک خط فارسی میں لکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ “ شکار بے کاروں کا کام ہے۔“ (شہزادہ شکار پر گیا ہو گا تو بادشاہ نے اسے یہ خط لکھا ہو گا۔ محبت کے خزانے بھی خطوط کے ذریعے ہی بھرے گۓ۔)

ادب نواز لیلٰی کے خطوط کو جانتے ہیں اس کے بعد مجنوں کی ڈائری چھپنی شروع ہوئی پھر سجاد، زبیر اور رضیہ کے خطوط چھپے۔ اس طرح خط زندگی پر چھاۓ رہے اور بہت قریب اور غالب آ کر چھاۓ رہے۔ مرزا غالب کے خط تو آپ سب نے ضرور پڑھے ہوں گے۔ غالب بڑی محبت اور روانی و شستگی سے بات کرتا تھا۔ اور اس کی باتیں ایسی ہوتی تھیں جیسے کوئی ڈائیلاگ رائٹر لکھ سکتا ہے۔ جتنے بھی بچے جو ڈرامہ نگار میرے پاس کچھ پوچھنے یا سیکھنے کے لۓ آتے میں انہیں یہی مشورہ دیتا کہ آپ غالب کے خط جب تک نہیں پڑھیں گے آپ کے اندر ڈرامے اور مکالمے کی سینس پیدا نہیں ہو گی کیونکہ غالب کے بات کرنے کا ڈھنگ ہی نرالا ہے۔ آٹھویں یا نویں جماعت کی اردو کی کتاب میں سے مجھے غالب کے خط کے چند فقرے یاد آ رہے ہیں :

“میر مہدی مجروح تم مشقِ سخن کر رہے ہو میں مشقِ فنا میں مستغرق ہوں۔ ارے میاں، ارے میاں اس دنیا میں اگر کوئی پہلوان ہوا تو کیا؟ کوئی نامی گرامی جیا تو کیا؟ کوئی گمنام مرا تو کیا؟ یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تھوڑی سی پونجی ہے، تھوڑی سی صحتِ جسمانی، باقی سب وہم ہے پیارے جانی۔“

جب کبھی غالب تھک جاتا ہے تو کہتا ہے

“ میں کیا کروں، اگرچہ اس وقت اللہ کے ساتھ شکوہ نہیں کیا جا سکتا لیکن آرزو کرنا آئینِ عبودیت کے خلاف نہیں ہے۔ میری آرزو ہے کہ اب میں زندہ نہ رہوں اور اگر رہوں تو کم از کم اس ملک میں نہ رہوں کہیں اور خراسان، ایران نکل جاؤں۔ یہاں کے لوگ بڑے ظالم ہیں۔“

ایک اور جگہ کہتا ہے :

“رکاب پر پاؤں ہے اور راس پر ہاتھ ہے۔ دور دراز کا سفر درپیش ہے۔ سقر مکر ہے اور حاویہ زاویہ ہے اور کیا کسی کا ایک اچھا شعر ہے (ذوق کا ہے)

اب تو گھبرا کے کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

ایک زمانے میں محبوب کبوتر کے گلے میں پرچی ڈال کر بھیج دیا کرتے تھے کیونکہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا مشکل ہوتا تھا۔ ان کبوتروں کی خدمات سے بعد میں جنگوں میں بھی فائدہ اٹھایا گیا اور دوسری جنگِ عظیم میں باقاعدہ کبوتر کو ٹریننگ دی گئی اور ان کے پنجوں کے ساتھ ایلوموینم کی ایک باریک سے پنسل جیسی نلکی میں خط لپیٹ کر رکھ دیا جاتا تھا اور کبوتروں نے جاسوسی کا کام خوب کیا اور خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ میں یہ ساری باتیں اس لۓ کر رہا ہوں کہ میرے پاس بھی ایک خط ہے اور میں اسے لۓ پھرتا ہوں۔ میں اسے ضرور سناؤں گا۔ یہ خط سنانے سے پہلے مجھے خطوں کی اور باتیں بھی یاد آ رہی‌ ہیں۔

اکبر الہ آبادی کے بیٹے جو لندن میں تھے وہ خط نہیں لکھتے تھے جس پر اکبر الہ آبادی ان سے بہت شاکی رہتے تھے۔ اس زمانے میں خط سمندر سے یا بحری جہازوں کے ذریعے آتے تھے۔ ایک بار انہوں نے اپنے بیٹے کو خط میں لکھا تو ان کے بیٹے نے جواب میں لکھا کہ ابا جان جب واقعات گزرتے ہیں تو میں مصروف ہوتا ہوں جس کے باعث خط نہیں لکھ سکتا اور جب واقعات نہیں ہوتے تو کوئی چیز لکھنے والی نہیں ہوتی اور میں اس وجہ سے خط نہیں لکھتا۔

(محفل میں سے ایک صاحب اس خط کے بابت ایک شعر بھی یاد کرواتے ہیں، جس کا ایک مصرعہ اس طرح سے ہے “ کھا کے لندن کی ہوا عہدِ وفا بھول گیا۔)

جب بچے بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لۓ چلے جاتے ہیں تو میری طرح کے تھوڑے پڑھے لکھے والدین خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ ایک بار دو بابے بیٹھے ہوۓ تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے کہا کہ یار میرا بیٹا جو خط لکھتا ہے تو مجھے بڑی پریشانی ہوتی ہے اور مجھے اس کے خط کو لے کر لائبریری جانا پڑتا ہے اور مجھے وہاں جا کر موٹی ڈکشنری کھول کے مشکل الفاظ کے معانی دیکھنے پڑتے ہیں۔ کیونکہ میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں۔

دوسرا کہنے لگا یار کیا کمال کی بات ہے میرے بیٹے کا جب بھی خط آتا ہے تو مجھے بینک جانا پڑتا ہے کیونکہ اس نے خط میں پیسے مانگے ہوۓ ہوتے ہیں۔

خطوں سے وابستہ بڑی لمبی داستانیں ہیں۔ اگر ہم اس کی طرف چل نکلے تو بڑا وقت لگ جاۓ گا اور میرا یہ خط رہ جاۓ گا جو آپ کو سنانا بڑا ضروری ہے۔ ہم نے پہلے دوسری جنگِ عظیم کا ذکر کیا تو آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ اس جنگ میں ہمارے علاقے کا سب سے بڑا اور طاقتور محاذ برما تھا اور ہمارے بہت سارے فوجی وہاں پر تھے۔ وہ فوجی جو محاذِ جنگ پر ہوتے ہیں ان کی سب سے بڑی آرزو اور تمنا گھر سے آنے والے خط کی ہوتی ہے چنانچہ ان پر پریشانیوں کی جو پرچھائیاں پڑتی ہیں وہ خطوں کے ریفرنس سے ہی ہوتی ہیں۔ فوجی دروانِ جنگ جنگل میں تھے اور ڈاک جب تقسیم ہوئی تو کسی فوجی کے گھر سے کوئی خط نہ آیا اور چار پانچ چھ دن ایسے ہی گزر گۓ۔ ایک دن ایک خوش نصیب کا خط آ گیا اور دوسرے جو تین چار پانچ فوجی بیٹھے تھے کیونکہ ان کا کوئی خط نہیں آیا تھا اور جس کا خط آیا تھا اس نے خوشی سے لفافہ لہرایا اور کہا کہ دیکھو ایسے خط ہوتے ہیں جو گھر سے آتے ہیں۔ اس نے لفافہ چاک کیا اور اس سے کاغذ نکالا۔ اس کاغذ ‌کے دونوں طرف کچھ بھی لکھا ہوا نہیں تھا، وہ بالکل کورا کاغذ تھا۔

دوسرے فوجی اس کا مذاق اڑانے لگے لیکن اس نے کہا کہ نہیں کہ کورا کاغذ نہیں بلکہ باقاعدہ ایک خط ہے۔ یہ میری بیوی کا خط ہے۔ آج کل ہماری بول چال بند ہے اس لۓ یہ خالی کاغذ ہے لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ خط میری بیوی کا ہے۔

خواتین و حضرات، میرے ہاتھ میں جو خط ہے وہ کچھ اس طرح سے ہے :

“جناب نامعلوم مگر موجود یہیں کہیں السلام علیکم!

مجھے یقین ہے کہ آپ کو 8 جون کی تاریخ اسی طرح سے یاد ہو گی جیسی کہ مجھ کو ہے۔ اس روز میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو عمر بھر نہیں بھلاؤں گا۔ اس تاریخ سے پہلے میں اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ پارک میں جاتا تھا۔ ہم بینچ پر بیٹھتے تھے اور ہمارا بچہ ہمارے سامنے پھولوں کی کیاریوں کے درمیان بھاگا کرتا تھا۔ اس تاریخ سے پہلے میں نے اپنے پورے خاندان کا بوجھ اٹھایا ہوا تھا اور میں کبھی کبھی دو چار آنے فقیروں کو بھی خیرات کر دیا کرتا تھا۔ اب عرصۂ دس سال سے میں بیکار پڑا ہوں۔ ٹھیک آٹھ جون سے، ٹھیک اس رات سے جب تم نے میری کمر میں اپنے پستول کی گولی اتاری تھی اور وہ ریڑھ کی ہڈی میں پھنس گئی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ اس رات تم بہت ہی نروس تھے اور پستول تمہارے ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ میں نے اندازہ لگایا تھا کہ تم پہلی بار کسی پٹرول پمپ کو لوٹنے آۓ ہو۔ میں نے دن بھر کی کمائی ساری کی ساری تم کو دے دی تھی۔ پھر پتہ نہیں تم کو کیا ہوا اور تم نے کیوں میرا دایاں بازو مڑور کر میری کمر سے لگا دیا اور مجھے دھکیلتے ہوۓ اندر کمرے میں لے گۓ۔ وہاں تم نے میرے سر میں پستول کا بٹ مار کر مجھے اوندھے منہ فرش پر گرا دیا۔ پھر پتہ نہیں میرے اوندھے منہ گر جانے کے بعد تم نے پستول کیوں چلایا؟ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اندھیرے کمرے میں ایک شعلہ سا لپکا۔ پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا اور جب میں جاگا تو گردن کے نیچے میرا سارا جسم شل ہو چکا تھا اور میں فرش پر بے حس و حرکت پڑا تھا۔ پھر تین لڑکے اپنی موٹر سائیکلوں میں پٹرول بھروانے آۓ اور انہوں نے مجھ سے میرا حال دریافت کیا۔ میرا خیال تھا کہ میں زور زور سے پکار کر چیخیں مار کر لوگوں کو اپنی طرف بُلا رہا تھا مگر ان لڑکوں نے مجھے بتایا کہ تمہارے منہ سے صرف سرگوشی جیسی آواز نکل رہی تھی جو بہت ہلکی تھی۔ مجھے بالکل یاد نہیں کہ کس طرح مجھ کو لوگوں نے حیدرآباد کے ہسپتال میں پہنچایا جہاں مجھے داخل کرا دیا گیا۔ میری 19 سالہ روتی ہوئی بیوی کو ڈاکٹروں نے بتایا کہ ہم مجبور ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہڈی میں پھنسی ہوئی گولی کو نکالنا خطرناک ہے۔ میری بیوی مجھے اٹھا کر گوٹھ لے آئی اور ہم سب میرے مرنے کا انتظار کرنے لگے۔ میں دن رات ایک پھٹے (تختے) پر لیٹا ایک کوٹھری میں پڑا رہتا اور میری بیوی مجھے دوا کی گولیاں کھلاتی رہتی۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک نہایت تیز دھار قینچی میرے تختے کے پاس کھلی پڑی تھی۔ اس کا ایک پھل بہت آسانی سے میرا کام تمام کر سکتا تھا۔ مجھے اسے اس قدر قریب دیکھ کر خوشی ہوئی لیکن میرا بے حس ہاتھ اسے اٹھانے سے معذور تھا۔ میری موت بھی میرے اختیار میں نہیں تھی۔ میں اس کو دیکھ رہا تھا اور وہ میرے قریب نہیں آ رہی تھی۔ میں تمہیں صاف صاف بتا دوں کہ تمہارے پستول کی گولی پورے چھ ماہ میری ریڑھ کے مہرے میں موجود رہی اور میں اسے دل سے لگا کے بے حس و حرکت جیتا رہا۔ پھر مجھے کراچی کے آغا خان ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹروں نے مل کر بڑی احتیاط سے پھنسی ہوئی گولی میرے وجود سے نکال دی لیکن مجھے بتایا گیا کہ میں زیادہ سے زیادہ اب اٹھ کر اپنی چارپائی کے کنارے پر بیٹھ سکوں گا۔ بشرطیکہ میرے ارد گرد اور میری کمر کے پیچھے لکڑی کا ایک مخصوص ڈبہ بنا کر رکھا جاۓ۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ میں تھوڑا سا بیٹھ کر کھانا کھا سکا کروں گا لیکن یہ بہت مشکل تھا۔ میری بیوی اور میرا بوڑھا باپ مجھے اٹھا کر لکڑی کے سہارے بٹھا دیتے تھے اور پھر مجھے اس لکڑی کے تختے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ میں کچھ لقمے خود کھا سکتا اور گلاس اٹھا کر پانی بھی پینے لگا تھا۔ گھر والے شام کو مجھے اٹھا کر صحن میں لمبی صف پر ڈال دیتے اور میں اس پر کھسکتا کھسکتا اس صف کے دوسرے کنارے پہنچ جاتا ہوں پھر ادھر سے اسی طرح سے واپس آ جاتا۔ میں خوش ہوں کہ کسی کے مدد کے بغیر بدن کو خود حرکت دے سکتا ہوں۔ پھر مجھ پر درد کے خزانے نچھاور ہو گۓ۔ پہلے میرے بازوؤں میں درد اٹھا اور میں پندرہ دن تک تڑپتا رہا۔ پھر درد ٹانگ میں منتقل ہو گیا اور مجھے یوں لگتا گویا میری ٹانگ آری سے کاٹی جا رہی ہے اور الگ ہونے کو نہیں آتی پھر یہی درد پیٹ میں چلا گیا اور میں قے کر کر کے عاجز آ گیا۔ اس کے بعد میرے اوپر کے دھڑ میں تھوڑی طاقت آنے لگی اور میں بیساکھیوں کے سہارے کھڑا بھی ہونے لگ گیا لیکن چونکہ ٹانگوں میں کوئی حس موجود نہیں اس لۓ میں چل نہیں سکتا۔ اب میرے ہاتھوں اور بازوؤں میں ایک سنسناہٹ ہے لیکن ٹانگیں بالکل ساکت ہیں۔ بیساکھیوں کے سہارے کھڑے کھڑے کئی مرتبہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے کھولتے ہوۓ پانی کے حمام میں اتار دیا ہو۔ میرا سارا بدن جل جاتا ہے سواۓ میری ٹانگوں کے۔ میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ یااللہ اگر تو نے مجھے کچھ اور نہیں دینا تو مجھے مسلسل درد عنایت فرما دے کیونکہ مکمل بے حسی کے مقابلے میں درد ایک بڑی نعمت ہے۔ انسان کو پتہ چلتا رہتا ہے کہ وہ موجود ہے اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ موجود ہے۔ درد کے زور پر کئی مرتبہ میرے دونوں ہاتھ ایک ساتھ اٹھ جاتے ہیں اور میں آدھے منٹ تک انہیں وہاں فضا میں رکھ سکتا ہوں۔ پھر میرے ہاتھ نیچے گر جاتے ہیں۔ اور میں درد کی دوسری لہر کا انتطار کرنے لگتا ہوں۔ جس رات تو نے مجھے گولی ماری تھی اس سے کچھ ماہ بعد جب میرا سارا وجود ساکت اور صرف گردن کے اوپر کا حصہ زندہ تھا میں نے خدا سے ایک اور آرزو کی تھی کہ میرے دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دو منٹ تک کے لۓ اٹھے رہنے کی سکت عنایت فرما دے تا کہ میں کوئی چھوٹی سے دعا مانگ سکوں۔ میری آرزو پوری ہو گئی اور میں چارپائی پر لیٹ کر اس عید کے موقع پر جو ابھی گزری ہے گاؤں کی عیدگاہ میں پہنچ گیا۔ میرے والد اور ماموں نے مجھے بیساکھیاں دے کر ایک درخت کے سہارے کھڑا کر کے مجھے وہاں باندھ دیا تا کہ گِر نہ جاؤں اور میں نمازیوں کو وہاں جمع ہوتے ہوۓ دیکھنے لگا۔ مولوی صاحب نے خطبے میں فتحِ مکہ کے تعلق سے ایک شخص کی معافی کا واقعہ سنایا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا حضرت حمزہ رضی اللہ کو نیزہ مار کر شہید کیا تھا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دوستوں جیسے پیارے چچا کی رحلت کا بڑا ہی غم تھا لیکن اس گہرے غم کے باوجود آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص “وحشی“ کو معاف کر دیا۔ میں نے عین اسی وقت جب میں یہ واقعہ سن رہا تھا دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ “ اے میرے اللہ اس نوجوان کو جس نے 8 جون کو مجھے گولی ماری تھی، وہ جہاں کہیں بھی ہے معاف کر دینا۔ اس بے چارے کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ میرے گمنام دوست مجھے آپ کا نام معلوم نہیں ہے اور نہ ہی آپ مجھ سے کبھی مل سکیں گے اس لۓ میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ میرے پاس آپ تک پہنچنے کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں تھا جو میں نے اختیار کر لیا ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے صبح سویرے سب سے پہلے تمہاری صحت و سلامتی کی دعا نہ کی ہو اور اونچی آواز میں پی ٹی وی کی مشہورِ عالم صدا نہ دی ہو کہ اللہ تم کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔“

خدا حافظ۔

پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15