چیلسی کے باعزت ماجھے گامے

میں ایک بات پر بہت زور دیتا رہا ہوں اور اب بھی مجھے اسی بات پر زور دینے کی تمنا ہے لیکن الحمدللہ کچھ اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ میں جس شدت سے اس صیغے پر قائم تھا وہ اتنا اہم نہیں تھا۔ میرا اس پر کامل یقین ہے کہ ہمارے ملک کے لوگوں کو ایک سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ (روٹی، کپڑا اور مکان کی کہانی تو عام چلتی رہی ہے اور اس بارے بڑا پرچار ہوتا رہا ہے) لوگوں کو ان کی عزتِ نفس سے محروم رکھا گیا ہے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ وہ اپنی توقیر ذات کے لۓ آپ سے، اپنے ملک سے تقاضا کرے، میری عزتِ نفس اور Self Respect مجھے دی جائے۔ دولت، شہرت، روپیہ پیسہ اور علم کی ہر شخص ڈیمانڈ نہیں کرتا بلکہ عزت کا تقاضا سب سے پہلے کرتا ہے۔ دنیا کے جتنے بھی مہذب ملک ہیں انہوں نے اپنے لوگوں کو جو ایک بڑا انعام عطا کیا ہے وہ سارے کے سارے لوگ عزتِ نفس میں ایک سطح پر ہیں۔ یہ ان ملکوں کی جمہوریت کا خاصا کہہ لیں یا ان کی سوچ و فکر کی خوبی کہہ لیں یا پھر کوئی اور نام دے لیں۔ میں غیر ملکوں کی مثال دیا تو نہیں کرتا لیکن مجبوری کے تحت دے رہا ہوں کہ آپ ولایت چلے جائیں یا پھر لندن چلے جائیں وہاں آکسفورڈ سٹریٹ یا بون سٹریٹ میں دیکھیں تو وہاں کے نخریلے رہائشوں نے اس جدید دور میں دو گھوڑوں والی بگھیاں رکھی ہوئی ہیں اور وہ لارڈز اس طرح وقار سے رہتے ہیں، آپ وہاں ایک جگہ چیلسی کے لوگوں کو دیکھ لیں وہ ہمارے جیسے گامے ماجھے کی طرح سے ہیں۔ ایک پاؤں میں جوتا ہے ایک میں نہیں ہے۔ پہلے چیلسی کے سارے لوگ “ہپی“ ہوتے تھے۔ ان کی مالی حیثیت نہایت قابلِ رحم ہے لیکن ان کے مقابلے میں لارڈز اعلٰی حیثیت میں ہیں۔ لیکن اگر ڈاکخانے پر (یہ واقعہ چونکہ میرے سامنے پیش آیا اس لۓ عرض کر رہا ہوں) قطار میں کھڑے ہو کر آپ ٹکٹ لینا چاہ رہے ہیں تو پھر وہ شخص جو قطار میں آگے کھڑا ہے اسے پیچھے کر کے لارڈ آگے نہیں آ سکتا اور کسی بھی صورت میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ لارڈ جانتا ہے کہ یہ آگے کھڑے شخص کی عزتِ نفس کا معاملہ ہے اور یہ اس کا استحقاق ہے۔ جب گندی مندی حالت کا آدمی تھانے میں بھی جائے اور اس کی شکل و صورت ایسی ہو کہ آپ اس سے بات کرنا گوارہ نہ کریں تو وہاں تھانے کا جو ایس ایچ او ہوتا ہے وہ اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے :

? Yes sir, what I can do for you

لیکن ہمارے ہاں اور خاص طور پر ہمارے ملک میں ایک اس بات کی بڑی محرومی ہے کہ لوگوں کو ان کی عزتِ نفس اور توقیر سے محروم رکھا گیا ہے اور ہماری سب سے بڑی کمزوری اور زبوں حالی کی وجہ یہ ہے۔ میں پہلے بھی کہتا ہوں اور اب اس کو دہراتا ہوں کہ 20 لاکھ کے قریب ایسے لوگ ہیں جو صاحبِ حیثیت ہیں، صاحبِ ارادہ ہیں اور جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ یہ اندازہ میرا اپنا ہے۔ تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ ان 20 لاکھ افراد میں ہم رائٹر، وکیل، تاجر، ڈاکٹر اور فیوڈل لارڈ بھی شامل ہیں۔ یہ ٹھیک ٹھاک چلتے چلے جا رہے ہیں ان کا باقی چودہ کروڑ عوام سے تعلق نہیں ہے۔ وہ باقی لوگوں کو اپنا ساتھی نہیں سمجھتے۔ آپ ان دوسرے لوگوں کو اس صورت میں بھی ساتھی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں ان کی عزتِ نفس واپس لوٹا دیں۔ ایسے نہیں کہ “ غریبی مکاؤ “ کا ایک پروگرام شروع کریں یا اس نظریے کے قائل رہیں کہ جب تعلیم عام نہیں ہو گی اس وقت تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

عزتِ نفس کا حصول تو ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ بابے لوگوں کو بھی ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک بار ہمارے بابا جی نے کہا کہ جب اس کرۂ ارض پر دوسرا آدمی پیدا ہو گیا تھا تو پہلے کا حق آدھا ہو گیا تھا جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارا حق تو پورے کا پورا ہے۔ یہ دوسرے تو ایسے ہی ہیں۔ انہیں چھوڑو دفع کرو۔

بعض اوقات بے خیالی میں ہم سے ایسی کوتاہی بھی ہو جاتی ہے کہ ہم حق رکھنے والوں کو تحریر و تقریر میں حق اس لۓ نہیں لوٹا سکتے کہ یہ لوگ جاہل ہیں یا تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ جب تک تعلیم عام نہیں ہو گی یہاں Democratic System ٹھیک نہیں ہو سکتا اور ہمارے اخبار والے عموماً اسے لکھ دیتے ہیں کہ جی ملک میں 85 فیصد جاہل لوگ رہتے ہیں۔ میں ان اخبار والوں سے درخواست کرتا ہوں کہ صاحب اتنے سخت لفظ استعمال نہ کیا کریں۔ آپ ان کو جاہل لکھتے ہو جو گندم اُگا کے بوریوں میں بھر کے آپ کے گھروں تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ وہ جاہل لوگ ہیں جو آپ کے لۓ جوتے سی کر ڈبوں میں بند کر کے آپ کو پہنچاتے ہیں۔ آپ خدا کے واسطے ایسے ہی انہیں جاہل نہ کہیں۔ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ عزتِ نفس اس وقت تک عطا نہیں کی جا سکتی جب کہ عطا کرنے والا خود معزّز نہ ہو۔ ہم جب تک اپنی نظروں میں خود محترم نہیں ٹھہریں گے اس وقت تک عزتِ نفس لوٹانے کا کام نہیں کر سکیں گے۔ ہم نے ایک تحقیقی سروے میں اکیس بندوں سے دریافت کیا کہ وہ رشوت کیوں لیتے ہیں؟ ان لوگوں میں بڑے لوگ بھی تھے جو ایک لاکھ روپے کے قریب رشوت لیتے تھے۔ بہت بھلے آدمی تھے اور سوٹ پہنتے تھے اور ہر نماز کے وقت سوٹ ٹائی اتار کر شلوار قمیض پہن کر نماز ادا کرتے تھے۔ نماز کے بعد پھر سوٹ پہن لیتے۔ میں نے ان سے ایک بار کہا کہ جی نماز سوٹ میں بھی ہو جاتی ہے تو کہنے لگے نہیں اس طرح برا لگتا ہے۔ ہمیں ان سے ایک مشکل سا کام تھا جو انہوں نے کر دیا۔ ان کے اسسٹنٹ نے مجھے کہا کہ “ اشفاق صاحب ہم آپ کی بڑی “مانتا“ کرتے ہیں اور ہمیں آپ سے بڑی محبت ہے آپ اس طرح کریں کہ ہمیں 75 ہزار دے دیں۔“ میرے ساتھ میرا کزن تھا جس کا کام تھا اس نے انہیں تو وہ پیسے دے دیئے ہوں گے۔ جب میں اٹھ کر آنے لگا تو وہ صاحب جو سوٹ بدل کے نماز پڑھ کر پھر سوٹ پہن لیتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ برا نہ مانیں تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔

ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔

لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو تب بھی سپاہی نے کہا کہ یار پہلے گاڑی والے کو چھوڑ دیا ہے تو اس موٹر سائیکل والے کو بھی جانے دو۔

(اب میں وہاں کھڑا تماشہ دیکھ رہا ہوں) پھر جب تیسرا سکاؤٹ کوئی شکایت لے کر آیا تو میں نے سپاہی سے آ کر کہا یار تُو تو باکمال اور چودھری قسم کا سارجنٹ ہے سب کو چھوڑ رہا ہے اور یہ ساری سکاؤٹ تمہیں سیلوٹ مار رہے ہیں۔

وہ کہنے لگا کہ یہ سارے ایچی سن کالج کے لڑکے ہیں، ان کے گھر والے انہیں گاڑیوں پر چھوڑ گئے ہیں اور لعنت ہے کہ تین دن ہو گۓ ہیں ایک پیسہ کسی سے نہیں لے سکا۔ میں نے اس سے کہا کہ اس وجہ سے کہ یہ سارے آپ کے سر پر کھڑے ہیں۔ آپ پیسے لیں یہ بھلا آپ کو روکتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ نہیں سر اس وجہ سے نہیں کہ یہ میرے سر پر کھڑے ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہ آ کر مجھے سیلوٹ کرتے ہیں اور “سر“ کہتے ہیں۔ کہتا ہوں اگر ایک بھی پیسہ لوں تو میں لعنتی ہوں کیونکہ ان کا سیلوٹ مجھے ایک معزز شخص بنا دیتا ہے اور معزز آدمی رشوت نہیں لیتا۔ ان نے کہا کہ اس کی بیوی رشوت کے پیسے نہ لانے کے باعث ناراض ہے اور یہ آٹھ دن سے اس کو سیلوٹ کۓ جا رہے ہیں۔ وہ سپاہی کہنے لگا کہ سر میں سوکھی روٹی کھاؤں گا اور جب تک یہ مجھے سر کہتے ہیں اور سیلوٹ کرتے ہیں رشوت نہیں لوں گا۔

(حاضرینِ محفل میں سے ایک خاتون)

زندگی کے ہر شعبے میں چاہے وہ رشتہ ہے یا کاروبار یا دوستی ہے اس میں عزتِ نفس درکار ہے۔ میں ایک عورت ہونے کی حیثیت سے گھر کی مثال دوں گی اور گھر کے ماحول کی عکاسی کروں گی کہ میاں بیوی، ماں بیٹی یا بہن بھائی کو ایک دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا چاہیۓ۔

اشفاق احمد : جی بڑی اچھی بات ہے اور ہم بھی یہ بات کر رہے ہیں کہ جو جو بھی رشتے ہیں وہ عزت مانگتے ہیں لیکن عزتِ نفس پر ہماری توجہ اس لۓ نہیں ہے کہ ہم نے خود اپنی ذات کو عزت عطا نہیں کی ہوئی اور ہم سے ایسے فعل سرزد ہو جاتے ہیں اس لۓ ہم دوسرے کو عزت نہیں دے سکتے۔ یہاں پر آ کر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

آپ کو یاد ہو گا جب شارجہ میں میانداد نے چھکا لگایا تھا۔ میں شادمان کے علاقے میں جا رہا تھا کہ میری گاڑی میں خرابی پیدا ہو گئی۔ میں نے نیچے اتر کر دیکھا تو اس کو ٹھیک کرنا میرے بس کی بات نہیں تھی۔ ایک خاتون گھر سے باہر آئیں۔ انہوں نے آ کر دیکھا اور پھر کہا کہ یہ آپ سے ٹھیک نہیں ہو گی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں کہیں جلدی جانا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ آپ گاڑی کو یہاں چھوڑ دیں۔ میرا بیٹا آٹو انجینئر ہے وہ اسے دیکھ لے گا؛ میں بلاتی ہوں۔ اس لڑکے نے آ کر کہا کہ انکل آپ جا کر اندر بیٹھیں میں دیکھتا ہوں اور وہ کام کرنے لگا۔ میں ان کے گھر جا کر بیٹھ گیا۔ وہاں ٹی وی لگا ہوا تھا۔ اس دوران میں میانداد آیا، اس نے چھکا لگایا اور پاکستان جیت گیا۔ اس وقت پوری قوم ٹی وی اور ریڈیو سیٹوں سے چمٹی ہوئی تھی۔ اس لڑکے کی ماں نے مجھے آ کر کہا کہ گاڑی ٹھیک ہو گئی۔ میں نے اس لڑکے سے آ کر کہا کہ یار تم نے میچ نہیں دیکھا۔

وہ کہنے لگا کوئی بات نہیں۔ آپ نے دیکھ لیا تو میں نے دیکھ لیا۔ آپ کی دقت ختم ہو گئی۔

خواتین و حضرات ! اس نے یہ چھوٹی سی بات کہہ کر مجھے خرید لیا۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن اس نے مجھے ایسی چیز عطا کی جس کا میں آج تک دینے دار ہوں۔

ہم اپنی والدہ کو “پھرنتو“ کہتے تھے۔ وہ آزاد منش خاتون تھیں اور عموماً اپنے کمرے میں نہیں رہتی تھیں بس اِدھر اُدھر پھرتی رہتی تھیں۔ اتنی پڑھی لکھی بھی نہیں تھیں۔ میرے بڑے بھائی انہیں کہتے تھے کہ “ ان کو ہم گھر والوں نے آوارہ گردی کے جرم میں پکڑنا ہے۔“ جب بھی دیکھیں کمرے کا چکر لگا کے باورچی خانے میں پہنچی ہوتیں۔ انہیں جہاں بھی چھوڑ کر آتے تھوڑی دیر کے بعد وہ کچن میں “ کڑھم “ کر کے موجود ہوتیں۔ ایک بار دوپہر کے وقت وہ باورچی خانے میں کھڑی تھیں اور سب سوئے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا جی کیا کر رہی ہیں تو وہ کہنے لگیں کہ بندر والا مداری آیا تھا وہ بھوکا تھا اس کے لۓ پکوڑے تل رہی ہوں۔ میری اماں کا سارا سینٹر باورچی خانہ تھا وہ بھی کہتیں کہ میری زندگی کا مرکز ہی یہ ہے اور مجھے لوگوں کو کچھ عطا کر کے خوشی ہوتی ہے۔ میں اب سوچتا ہوں کہ انہوں نے خود کو ایک عزت عطا کر رکھی تھی۔ اس زمانے کی شاید ساری عورتیں اس نظریے کی قائل تھیں۔ یہ تو اب عورتوں کو سمجھایا گیا ہے کہ آپ بینکنگ کریں، باہر نکل کر لوگوں کی خدمت کریں، شاید مردوں کو بینکنگ نہیں آتی خیر یہ ایک الگ کہانی ہے۔ اگر آپ اپنی زندگی کو کبھی غور سے دیکھیں اور چھوٹی چمٹی کے ساتھ زندگی کے واقعات چنتے رہیں تو آپ کو بے شمار چیزیں ایسی نظر آئیں گی جو ایسے ہی آپ کی نگاہ سے اوجھل ہو گئی ہیں لیکن وہ بڑی قیمتی چیزیں ہیں۔ خیر گلی میں میرا ایک چھوٹا سا گھر تھا۔ اس کے دو کمرے تھے۔ ہم کبھی کبھی وہاں جاتے تھے۔ جب کبھی وہاں جاتے تو آتے وقت اس کی دیکھ بھال غلام قادر کو سونپ دیتے۔ وہ وہاں ڈاکخانے میں ملازم بھی تھا۔ میری بیوی نے چابیاں دیتے ہوئے اسے کہا “ غلام قادر سردیاں آنے سے پہلے یا سردیاں آنے کے بعد چیزیں گھر سے باہر نکال کر انہیں دھوپ لگا لینا۔“ اس نے کہا کہ “ بہت اچھا جی۔“

غلام قادر نے وہ چابی لے کر ایک دوسری چابی بانو قدسیہ کو دے دی تو اس نے کہا یہ کیا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ جی یہ میرے گھر کی چابی ہے۔ جب آپ نے اپنے گھر کی چابی مجھے دی ہے تو میرا فرض بنتا ہے کہ میں اپنے گھر کی چابی آپ کو دے دوں۔ کوئی فرق نہ رہے۔ آپ مجھ پر اعتماد کریں اور میں نہ کروں یہ کیسے ممکن ہے۔ میری بیوی اس کی بات سن کر حیران رہ گئی۔

حضرات یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اللہ نے ایسی عزت عطا کی ہوتی ہے کہ وہ عزت سے محروم نہیں ہوتے اور کہیں سے چھینا جھپٹی کر کے اکٹھی نہیں کرتے۔ میں ایک لکھنے والا ہوں۔ مجھے جگہ جگہ سے عزت ٹٹولنے، حاصل کرنے کی عادت ہے۔ پیسے کا لالچ سب سے بری بات ہے۔ لیکن جو دولت مند شخص ہوتا ہے، وہ کسی بھی وقت چیک بھر کے پیسہ منگوا سکتا ہے۔ جب میری لکھنے والے کی، دیگر ڈرامہ کرنے والے، ایکٹر، گانے بجانے والے یا کسی اور آرٹسٹ کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کی ساری رسیاں لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ اس کے پاس اپنی چیک بک نہیں ہوتی اس لۓ وہ تڑپتا رہتا ہے اور آواز دیتا رہتا ہے کہ لوگو! خدا کے واسطے رسی سنبھال کے رکھنا۔ اگر تم نے رسی چھوڑ دی تو میں پھر مر گیا۔ اس کو یہ مصیبت پڑی ہوتی ہے اس لۓ اس مشکل سے نکلنے کے لۓ جب تک اس غلام قادر جیسی طبیعت نہیں ہو گی بات نہیں بنے گی۔ چیلسی یا لندن کا وہ لارڈ بننا ضروری ہے جو دوسروں کو بھی اتنی ہی عزت دینا چاہتا ہے اور لارڈ ان ماجھے گاموں کو بھی عزت دیتے ہیں جتنی وہ خود رکھتے ہیں۔

(حاضرین میں سے ایک صاحب بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں)

کسی کو عزت دینی ہو تو شہر کی چابی پیش کی جاتی ہے۔ یہ عزت دینے کی ایک Symbol ہے۔

اشفاق احمد :- بہت خوب۔ بالکل ٹھیک ہے۔ ہمارے بچپن کے زمانے کی بات ہے۔ ہمارے ماسٹر دُولر صاحب ہوتے تھے۔ وہ فرانس سے آئے تھے اور انہوں نے وہاں سے آ کر سکول کھولا تھا۔ اس کی بیوی فوت ہو چکی تھی۔ ایک بیٹی تھی جو بڑی اچھی خوش شکل تھی اور ساڑھی پہنتی تھی۔ انہوں نے سکول کے پاس ایک خوبصورت سی گھاس پھونس کی “ جھگی “ ( کٹیا ) ڈالی ہوئی تھی۔ ان کی ایک گائے تھی۔ ہم جتنے بھی چھوٹے چھوٹے ٹینے سے جو سٹوڈنٹ تھے۔ بہت سارے بچے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ہمیں گانے بھی سناتے تھے۔ ایک مرتبہ دلی میں ایک بہت بڑا سکول کھلا جس کا پرنسپل بھی انگریز ہی مقرر کیا گیا۔ اس پرنسپل کو آب و ہوا راس نہ آئی تو وہ چلا گیا۔ پھر دوسرا منگوایا گیا وہ بھی بیمار ہو گیا اور اسے پیچش لگ گۓ۔ کسی نے وائسرائے کو رائے دی کہ آپ اگر ان (دُولر صاحب) کو بلا لیں تو وہ سکول چلا سکتے ہیں۔ اس طرح ہمارے سکول میں ایک انگریز آگیا اور اس نے آ کر ماسٹر صاحب سے پوچھا کہ :

? What about joining that school

ماسٹر صاحب نے کہا کہ But why ۔

اس طرح جھگڑا ہو گیا۔ ہم اپنے چھپروں کے نیچے کلاسوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کی بیٹی بھی وہاں آ گئی۔ اس انگریز نے ماسٹر صاحب سے کہا کہ

.We will give you more money

بہر کیف آخر ماسٹر صاحب نے اس سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں لیکن .If you expand my stomach accordingly

(پہلے میرا معدہ کھینچ کر اتنا بڑا کر دو کہ اس میں ڈھیر سارے پیسے سما جائیں جن کی تم آفر کر رہے ہو۔)

ماسٹر صاحب نے اس سے کہا کہ میں ان بچوں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ میں گاؤں گاؤں اور گھر گھر جا کر ان بچوں کو اکٹھا کر کے لایا ہوں اور اب میں ان کو ایک دم کیسے چھوڑ کر چلا جاؤں۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔

وہاں ایک گارڈر کو بجا کر اور ٹن ٹن کر کے ہمارے آنے اور جانے کی گھنٹی بجائی جاتی تھی لیکن جب تین دفعہ وہ گھنٹی بجتی تو وہ دُولر صاحب کی آمد سے پہلے بجتی تھی۔ جب وہ گھنٹی تین بار بجی تو ہم پریشان ہو گئے اور بھاگ کر باہر آ گئے اور کھڑے ہو گئے۔ دُولر صاحب سب بچوں کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ “ بندہ نوازو تم کو پتہ ہے کہ میں بندہ ہوں اور آپ بندہ نواز ہیں۔“ ہم نے کہا کہ ہاں جی (حالانکہ ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہ بندہ نوازی کیا ہے)۔

انہوں نے پھر باآوازِ بلند کہا کہ میں تمہارا خادم ہوں۔ ایک ظالم اور خونخوار آدمی آیا تھا جو مجھے تم سے چھین کر اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا۔ وہ تقریر کرتے ہوئے رو بھی رہے تھے۔ دُولر صاحب نے کہا کہ اگر میں اپنی بیٹی کی بات مان کر یہاں سے چلا جاتا جو دلی جانے کی بڑی خواہش مند ہے تو نہ میں آپ سے مل سکتا نہ آپ مجھ سے مل سکتے۔ جب وہ رو رہے تھے اور ہمیں بہت پیارے تھے تو ہم بھی ان کی ٹانگوں سے چمٹ کر رونے لگے۔ ایک عجیب حال دوہائی وہاں مچ گئی۔ وہ ایک باعزت آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی ذات کو عزت عطا کی ہوئی تھی حالانکہ اتنے بڑے مالی فائدے سے محروم رہے۔ وہ جب بھی دنیا سے گۓ ہوں گے اس اعزاز کے ساتھ گۓ ہوں گے جس کی لوگ تمنا کرتے ہیں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ۔

بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود