نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زات کی تیل بدلی

پرسوں میرے ساتھ پھر وہی ہوا جو ایک برس اور تین ماہ پہلے ہوا تھا۔ یعنی میں اپنی گاڑی کا فلنگ اسٹیشن پر تیل بدلی کروانے گیا تو وہاں لڑکوں نے چیخ مار کر کہا کہ سر آپ وقت پر تیل نہیں بدلواتے۔ گاڑی تو اسی طرح چلتی رہتی ہے لیکن اس کا نقصان بہت ہوتا ہے لیکن آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ میں نے کہا بھئی اس میں اکیلے میرا ہی قصور نہیں ہے۔ میرے ملک میں تیل کی بدلی کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ ہم پٹرول ڈالتے ہیں، گاڑی چلتی رہتی ہے اور ہم ایسے ہی اس سے کام لیتے رہتے ہیں۔ پھر اچانک خیال آتا ہے تو تیل بدلی کرواتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کا سارا تیل اتنا خراب ہو چکا ہے کہ اسے باہر نکالنا مشکل ہو گیا ہے۔

میں نے کہا کہ یار چلتی تو رہی ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ تو سر پڑھے لکھے آدمی ہیں اور گاڑی کا وقت پر تیل بدلوانا بہت ضروری ہے۔ پچھلے سال بھی انہوں نے مجھ سے یہی بات کہی تھی اور مجھ سے بدستور یہ کوتاہی سرزد ہوتی رہی۔ جب وہ لڑکے تیل تبدیل کر رہے تھے تو میں سوچنے لگا کہ میں باقی سارے کام وقت پر کرتا ہوں۔ بینک بیلنس چیک کرتا ہوں، یوٹیلیٹی بلز وقت پر ادا کرتا ہوں اور یہ ساری چیزیں میری زندگی اور وجود کے ساتھ لگی ہیں لیکن میں نے کبھی اپنے اندر کا تیل بدلی نہیں کیا۔ میری روح کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اس میں بھی تبدیلی پیدا کی جاۓ لیکن اس بابت میں نے کبھی نہیں سوچا۔ میں یہ بات سوچ کر پریشان ہوتا رہا کہ کیا مجھ پر ایسا وقت آسکتا ہے کہ میں دنیا داری کے اور سارے کام کرتا ہوا اور خوش اسلوبی سے ان کو نبھاتا ہوا اپنی روح کی طرف بھی متوجہ ہوکر اس کی صفائی اور پاکیزگی کا بندوبست کروں۔ میں نے ان کے گزشتہ سارے سالوں کا حساب لگایا لیکن میں ایسا نہ کر سکا۔ میری نیت تو شاید نیک تھی اور میں اچھا آدمی بھی تھا لیکن یہ کوتاہی میری زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی آرہی تھی اور میرا کوئی بس نہیں چلتا تھا۔ میرے ساتھ ایسی بے اختیاری وابستہ تھی کہ میں اس کو اپنی گرفت میں نہیں لا سکتا تھا۔ میرے خیال میں اپنی روح کے تیل کو تبدیل کرنے کی اپنے بدن کی صفائی سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ جس کی طرف آدمی کسی وجہ سے توجہ نہیں دے سکتا وہاں بھی ہمارا مزاج اپنی گاڑیوں سے سلوک کی طرح سے ہی ہے۔ جیسا کہ ہم اپنی گاڑیوں میں پٹرول ڈال کے تو چلتے رہتے ہیں لیکن پٹرول سے مفید تر تیل بدلی کا کام ہم نہیں کرتے تاکہ گاڑی کا انجن محفوظ رہے۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ وہاں سوچتے سوچتے اور بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہ کچھ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جن کی توجہ اپنی تیل بدلی کی طرف زیادہ ہوتی ہے اور وہ انسانیت کے گروہ میں زیادہ خوبصورت بن کر ابھرتے ہیں اور لوگوں کی مزاج کے لۓ کچھ کہے بولے بغیر بہت سارے کام کر دیتے ہیں۔ اللہ نے پتہ نہیں ان کو کس طرح ایسا ملکہ دیا ہوتا ہے۔

بڑے سالوں کی بات ہے جب 53-1952ء میں بہت بڑا Flood آیا تھا اس وقت ابھی لاہور کو سیلاب سے بچانے والی فصیل بھی نہیں بنی تھی جسے آپ بند کہتے ہیں۔ اس وقت لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ایسی ایسی جگہوں پر جا بیٹھے تھے جہاں زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم اپنے طور پر یہ سوچ کر وہاں گۓ کہ شاید وہاں ہمارا جانا مفید ہو یا پھر تجسس میں بطور صحافی ہم کچھ دوست وہاں گۓ تو وہاں ایک بوڑھی مائی دو تین ٹین کے ڈبے رکھ کر بیٹھی تھی اس کے پاس ایک دیگچی تھی اور یوں لگتا تھا کہ اس نے کل شام وہاں چولہا بھی جلایا ہے اور اس سے کچھ پکایا بھی ہے۔ اس کا کوئی آگے پیچھے نہیں تھا۔ وہاں ان خیموں میں لوگ دور دور تک پھیلے ہوۓ تھے۔ ہمارے ساتھ آۓ ہوۓ ممتاز مفتی نے اسے دیکھ کر کہا کہ یار اس کی حالت تو بہت ناگفتہ اور خراب ہے۔ میں نے کہا کہ ظاہر ہے اور بھی بہت سے لوگ اس کے ساتھ ہیں۔ اس خراب حالت میں اس کے چہرے پر ایک عجیب طرح کا اطمینان و سکون تھا۔ وہ بڑی تشفّی کے ساتھ بیٹھی تھی اور اس کے چہرے پر کوئی شکایت نہیں تھی۔ ممتاز مفتی نے اس سے کہا کہ “ بی بی اگر تم کو دو سو روپے مل جائیں (دو سو کا سن کر اس کی آنکھیں روشن ہوئیں) تو پھر تُو ان کا کیا کرے گی؟“

کہنے لگی “ بھا جی لوگ بڑے غریب نیں میں اونہاں وچ ونڈ دیاں گی۔“

اب اتنے برس کے بعد مجھے اس مائی کا چہرہ بھی یاد آ گیا اور میں نے سوچا کہ اس نے اپنی روح کی تیل بدلی بڑے وقت پر کی تھی اور اس کی شخصیت و فردیت اور برتری وہاں گۓ ہوۓ ہم سارے دانشوروں، رائٹروں اور صحافیوں سے زیادہ اور بڑے درجے پر تھی۔

میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے سال اور اس سال کے درمیان مجھ میں ایک صلاحیت البتہ پیدا ہو گئی ہے اور وہ بھی کچھ اچھی صلاحیت نہیں ہے۔ اس میں تھوڑی سی کمینگی کا عنصر شامل ہے۔

وہ صلاحیت یہ ہے کہ میں اپنے مدِّ مقابل جب کسی نۓ آدمی کو دیکھتا ہوں تو مجھے اتنا ضرور پتا چل جاتا ہے کہ باوصف اس کے یہ شخص بڑی مضبوطی اور تیز رفتاری کے ساتھ اپنی زندگی کا سفر کر رہا ہے لیکن اس کا تیل اندر سے بہت گندہ ہے۔ کچھ لوگ زندگی میں ایسے بھی ملتے ہیں اور وہ ہر روز ملتے ہیں جنہوں نے کسی وجہ سے سارے کام کرتے ہوۓ اس کر طرف بھی توجہ مرکوز رکھی کہ میری روح کے اندر اور میری کارکردگی کے اندر کسی قسم کی آلائش نہ آنے پاۓ۔ جب میں روم میں تھا تو وہاں کے ایک بڑے اخبار کے مالک جس کے وہ مینجنگ ایڈیٹر بھی تھے انہوں نے اپنے جرنلسٹوں کو دعوت دی۔ انہوں نے مجھے بھی مدعو کیا۔ گو میں کوئی بڑا کام کا رائٹر بھی نہیں تھا۔ وہ بڑی عظیم الشّان دعوت تھی۔ وہاں بڑا پرتکلف اہتمام کیا گیا تھا۔ جب ہم کھانا وانا کھا چکے تو کچھ صحافیوں نے اس اخبار کے مالک سے فرمائش کی کہ آپ اپنا گھر ہمیں دکھائیں۔ کیونکہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کا گھر بہت خوبصورت ہے۔ ہم اسے اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرور دیکھیۓ اور آئیے۔ ہم نے ٹکڑیوں کی شکل میں اس کے گھر کا اندر سے نظارہ کیا۔ بڑا خوبصورت تھا۔ اس گھر کے جو بڑے بڑے ڈیکوریشن والے اور مجسموں سے بھرے کمرے تھے اور ان میں خوبصورت پینٹنگز بھی لگی ہوئی تھیں۔ ایک بڑے خوبصورت کمرے کے بارے میں ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ کس کا کمرہ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ میرے ڈرائیور کا کمرہ ہے۔ ہم بڑے حیران ہوۓ۔ ہم نے دوسرے کمرے کے بارے پوچھا جو پہلے سے بھی اچھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ باورچی کا کمرہ ہے۔ اس طرح ایک سے ایک اعلٰی اور بڑھ کر کمرے دیکھے جو سارے گھر کے ملازموں کے تھے۔ پھر ہم نے وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ دیکھا جس میں ٹیلیفون، ایک میز تھا جو کوئی پانچ آٹھ فٹ کا ہوگا۔ اس میں ایک بیڈ لگا تھا جو فولڈ بھی ہو جاتا ہے۔ ہمارے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ “ یہ میرا کمرہ ہے۔“

ہم نے کہا کہ سر آپ نے نوکروں کے لۓ تو اعلٰی درجے کے کمرے بناۓ ہیں اور اپنے لۓ یہ ہے۔ یہ کیا ماجرا ہے ؟

وہ کہنے لگے کہ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ میری ماں روم کے ایک بہت بڑے لارڈ کے گھر میں باورچن تھی اور انہیں جوکمرہ ملا ہوا تھا وہ بڑا تنگ تھا۔ اس کمرے میں ہم اپنی ماں کے ساتھ تین بہن بھائی بھی رہتے تھے۔ جب میں نے گھر بنایا تو میں نے کہا کہ ملازموں کے کمرے بڑے خوبصورت اور Well Decorated ہونے چاہئیں اور میں تو ہوں ہی ایک بڑا آدمی اس لۓ مجھے کسی بڑے کمرے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم اس کو دیکھ کر اور اس کی بات سن کر ششدر رہ گۓ کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں۔

اس کے ملازم بڑے نخریلے اور مزے کرنے والے تھے۔ میں اس اخبار کے مالک کی خوبی اب محسوس کرتا ہوں کہ انہوں نے بھی اپنی ساری توجہ اپنی زندگی کو چلانے کے لۓ اپنے پٹرول پر نہیں دی تھی بلکہ اس تیل پر دی تھی جو تبدیل کر کے انسانی زندگی کو سہولت کے ساتھ آگے لے جاتا ہے۔ ہم سے یہ کوتاہی عموماً ہوتی رہتی ہے۔ ہم بھی اپنی زندگیوں کو کم از کم ایک دفعہ تو اس انداز سے چلائیں جس طرح سے سائنس کہتی ہے یا میکینکل کو سمجھنے والے کہتے ہیں کہ آپ کے انجن اور مشین کو اتنے گھنٹوں یا دنوں کے بعد تیل بدلی کی ضرورت ہے اور وہ پٹرول سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ہم اپنے دجود کو اس طور سے چلائیں۔ کچھ لوگ جن سے میری فطرت بھی ملتی ہے اور میں ان کو آسانی سے پہچانتا ہوں کہ ان کی طبیعت کے اندر تیل بدلی والی خاصیت شاید ہوتی تو ہے لیکن کم ہوتی ہے۔ آپ کو زندگی میں بڑے بڑے امیر لوگ ملیں گے چاہے آپ کل سے اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔ وہ زندگی میں بڑے کامیاب ہوں گے اور بڑے اونچے عہدوں پر فائز ہوں گے لیکن زندگی کے میدان میں اور جو انسانیت کے کھیل کا میدان ہے اس میں وہ کمزور ہوں گے۔ کہیں نہ کہیں آ کر ان کا انسانی رشتہ گھٹن کا شکار ہوتا ہے۔ جیسا کہ گاڑی کے اندر Fresh Oil نہ ڈالا جاۓ تو وہ گھٹن کے ساتھ چلتی ہے اور ایک ماہر ڈرائیور بیٹھتے ہی بتا دیتا ہے کہ اس کے تیل کی تبدیلی نہیں ہوئی حالانکہ وہ دوڑ رہی ہوتی ہے لیکن جونہی اس کے تیل کی تبدیلی ہوتی ہے تو وہی ماہر ڈرائیور کہتا ہے کہ سر اب یہ زیادہ رواں چل رہی ہے۔ لگتا ہے پرسوں ہی تیل تبدیل کیا ہے۔ زندگی کا معاملہ بھی بالکل اسی طرح سے ہی ہے۔ میں اپنے بچوں اور پوتوں پر یہ توجہ دے رہا ہوں کہ میں ان کو ایم کام کرا دوں یا فلاں ڈگری دلوا دوں اور لائق بنا دوں اور کہیں فٹ کرا دوں۔ یہ زندگی کی کامیابی نہیں ہے۔ زندگی میں کامیاب ہونے کا سارا تعلق ہم نے اکنامکس سے وابستہ کر لیا ہے۔ ہمارے ایک دوست ہیں۔ اچھے آدمی ہیں لیکن طبیعت کے ذرا سخت ہیں (اور اب میں اس پروگرام کے بعد ڈائریکٹ انہیں کچھ کہنے کے یہی کہوں گا کہ جناب آپ اپنا “تیل بدلی“ کرا لیں۔ اس پروگرام کے بعد کئی لوگ آپ سے ملیں گے گو وہ اچھے ہوں گے اور اگر آپ کسی سے تھوڑے بے تکلف ہوں گے تو اپنے کسی دوست سے یہ ضرور کہیں گے کہ یار “تیل بدلی“ کروا لیں یا تمہارا تیل بدلی ہونے والا ہے۔ )

وہ ایک شام اخبار پڑھ رہے تھے تو تھانے سے ٹیلیفون آیا اور کسی نے کہا کہ سر ہم نے آپ سے استفسار کرنا ہے۔ کہنے لگے ہاں جی فرمائیے۔ اس نے کہا کہ آپ کی بیگم صاحبہ گاڑی لے کر جا رہی تھیں۔ انہوں نے گاڑی کی کسی اور گاڑی کے ساتھ ٹکر مار دی ہے۔ کوئی خاص نقصان نہیں ہوا اور انہوں (بیگم صاحبہ) نے اس امر کا اعتراف کر لیا ہے کہ یہ ٹکر میری غلطی سے ہوئی تھی۔ اس شخص کی فون پر بات سن کر میرا دوست بولا کہ اگر اس خاتون نے اعتراف کر لیا ہے تو وہ میری بیوی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس نے آج تک اپنی کسی غلطی کا اعتراف نہیں کیا اور وہ یہ کہہ کر دوبارہ اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گۓ۔ اس فون کرنے والے نے کہا کہ جی وہ اپنا نام شائستہ بتاتی ہیں تو صاحب نے کہا کہ اس نام کی کئی خواتین ہیں۔ وہ میری بیوی ہو ہی نہیں سکتی۔

یہ تیل بدلی والی بات ان پر بھی صادق آتی ہے اور یہ ایک سخت تر مثال ہے۔ جب میں ایک پسماندہ سے گاؤں کے ایک سکول میں کچی میں داخل کرایا گیا تو وہاں ایک بابا دال چپاتی ہوا کرتے تھے۔ اس کے پاس سرخ گاڑی تھی۔ وہ لمبا سا جبہ پہن کے رکھتے تھے اور یو۔پی کے کسی علاقے سے آۓ تھے۔ جب بھی ہم گلی میں باہر نکلتے اور ان کی رینج میں آتے تو وہ بابا دال چپاتی آگے بڑھ کر ہم کو پکڑ لیتا۔ ہم چھوٹے ہوتے تھے اور ڈر سے ہم چیخیں مارنے لگتے تھے اور روتے تھے لیکن وہ بابا ایک ہی بات کہتے تھے کہ “جا تو آگے اور دیکھ تماشا ابھی اﷲ کا فضل تجھے پکڑ لے گا اور دال چپاتی تیرے پیٹ میں ہے۔“

ہمیں لگتا تھا کہ اﷲ کا فضل بڑا خوف ناک ہوتا ہے لیکن وہ ہمیں ہمیشہ یہی کہتے ۔ جب میری ماں مجھے قاعدہ دے کر سکول بھیجتی تو میں کہتا کہ “ وہاں باہر بابا دال چپاتی ہو گا وہ مجھے پکڑ کر اﷲ کے فضل کے حوالے کر دے گا۔“

جب میں بڑا ہوا تو عید کا ایک دن تھا۔ ہم جب نماز پڑھ کے مسجد سے باہر نکل رہے تھے تو میرے والد صاحب جو کہ قصبے میں بڑے معزز تھے انہوں نے بابا دال چپاتی کی جوتیاں اٹھا کر پہننے کے لۓ سیدھی کیں تو وہ کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب ، ڈاکٹر صاحب یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ رہنے دیں میں ایسے ہی پہن لوں گا۔ میرے ابا جی کہنے لگے کہ مجھے یہ سعادت حاصل ہونے دیں کہ میں آپ کی جوتیاں سیدھی کروں۔ وہ بابا کہنے لگے ڈاکٹر صاحب آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ میں بڑا حیران ہوا کہ ابا جی ایک معمولی سے آدمی کو اتنا بڑا مان سامان دے رہے ہیں اور آخر کیوں؟

میرے ابا جی کہنے لگے کہ آپ ہم سب مسلمانوں کے لۓ فخر کا باعث ہیں۔

تو وہ بابا دال چپاتی کہنے لگے کہ میں ایک اچھا انسان تو ضرور ہو سکتا ہوں لیکن اچھا مسلمان ہونے کا فاصلہ ابھی بہت طویل ہے۔ اچھا مسلمان ہونا بہت مشکل ہے۔

خواتین و حضرات ! آپ کو کچھ لوگ ایسے بھی ملیں گے جو اتنے زیادہ سخت طبیعت کے تو نہیں ہوں گے لیکن ان میں کچھ عجیب سا بیلنس ہو گا۔ ہمیں اپنے دل کے اندر کوئی خباثت یا غلاظت نہیں پالنی چاہیۓ۔ گزشتہ سال بڑی بارشیں ہوئی تھیں اور شدید بارش میں ہم جمعہ پڑھنے گۓ تو نوجوان سے مولوی صاحب خطبہ دے رہے تھے۔ خطبہ دیتے ہوۓ انہوں نے کہا کہ دیکھیں کیا اﷲ کی رحمت ہے اور اس کی کیا مہربانی ہے اور کیسی خوبصورت اور دلفریب موسلادھار بارش ہو رہی ہے اور ہم اندر بیٹھے ہوۓ اﷲ کے لطف و کرم سے فیض اٹھا رہے ہیں اور جو لوگ گاڑیوں پر جمعہ پڑھنے آۓ ہیں ان کی گاڑیاں مفت میں دھل رہی ہیں۔

یہ بڑی باریک سی بات تھی اور اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ابھی ایک ماہ کے اندر اندر مولوی صاحب کو اپنی تیل بدلی کی طرف توجہ دینی چاہیۓ۔ ہم ان کو ابھی پوری کی پوری داد نہیں دے سکتے۔ میں آپ سے جاتے جاتے یہ درخواست ضرور کروں گا کہ آپ اپنی موٹر کی تیل بدلی بھی وقت پر کروائیں اور اپنی روح اور ذات کی تیل بدلی بھی وقت پر کریں ورنہ وقت بہت کم رہ جاۓ گا۔

اﷲ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اﷲ حافظ
 بشکریہ: اردو لائبریری 
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…