نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ستے ہی خیراں۔۔۔

سن بابو لوکا!
تو اس کو ڈھونڈنے اور کا کھوج پانے کے لیے کہاں چلا گیا، کدھر کو نکل گیا؟
اس کو ڈھونڈنے اور اسے پانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے۔ راستے تو دور جانے کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔ سفر تو کرنے اور منزلیں طے کرنے لیے ہوتے ہیں۔ یہاں سے تو کہیں جانا ہی نہیں۔۔۔ کہیں پہنچنا ہی نہیں، پھر راستہ کیسا؟ اسے پانے اور اسے کھوجنے کے لیے تو ہمیں اپنے اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے وجود میں ڈھونڈنا ہے۔
بابو لوکا! اپنی شہ رگ کے ساتھ تلاش کرنا ہے۔۔۔ اور جب اپنی شہ رگ کے پاس پہنچ گئے تو پھر وہاں موجاں ہی موجاں۔۔۔ میلے ہی میلے۔
بڑی دور چلا گیا ہے بابو لوکا! پر میری بات سن لے کہ اصل میں کوئی راستہ وہاں نہیں جاتا۔۔۔ اس تک نہیں لے جاتا۔ وجہ یہ ہے بابو لوکا کہ وہ وہاں نہیں (گلے کے نیچے ہاتھ لگا کر)، یہاں ہے!۔ اور یہاں کے لیے کوئی راستہ نہیں۔۔۔ کوئی پگڈنڈی نہیں۔ بس اندر اترنا ہے۔۔۔ اپنے اندر۔ اندر دیکھنا ہے۔۔۔ اندر جھات ڈالنی ہے کہ کوئی گند بلا تو نہیں۔۔۔ کوڑا کرکٹ تو نہیں؟ شہ رگ کے تخت طاؤس کے نیڑے نیڑے۔۔۔۔ شرک، منافقت تو نہیں اندر۔۔۔ بس پھر ستے ای خیراں۔

 من چلے کا سودا سے اقتباس

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15