نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

رشوت

آج سے کوئی دس بارہ برس بیشتر کچھ Sociologist جن میں دو تین امریکی اور چار پانچ Scandinavian تھے، وہ یہاں تشریف لائے۔ وہ اس بارے میں تحقیق کر رہے تھے کہ پاکستان اور دوسرے ملکوں میں رشوت کی رسم کیوں عام ہے اور سرکاری وغیر سرکاری افسر جب بھی موقع ملے رشوت کیوں‌لیتے ہیں؟ اور اپنے ہی ہم وطنوں کو اس طرح سے کیوں پریشان کرتے ہیں؟ تقریباً ایک برس یا اس سے کچھ زائد عرصہ میں بھی ان کے ساتھ تفریح‌کے طور پر رہا کہ دیکھتے ہیں ان کی تحقیق کا آخر کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ آخر کار یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچی کہ کوئی شخص اس وقت تک رشوت نہیں لے سکتا جب تک کہ وہ اپنے آپ کو خوار، ذلیل، پریشان اور زبوں حال نہ سمجھے۔ پہلے اپنے دل اور اپنی روح کے نہاں خانے میں انسان اپنے آپ کو ذلیل، کمینہ، چھوٹا اور گھٹیا سمجھتا ہے۔ اس کے بعد وہ رشوت کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ اگرکوئی شخص عزت و وقار اور اطمینان اور Dignity کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے تو وہ کسی حال میں رشوت کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ ہمارے دین میں‌بھی اس بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ آپ وقار، عظمت اور تمنکنت کا دامن کسی صورت میں بھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنے آپ کو ایک اعلٰی اور ارفع مخلوق جانیں کیونکہ آپ کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کر دیا گیا ہے۔ اس لئے آپ ہر وقت اشرف المخلوقات کے فریم ورک کے اندر اپنی زندگی بسر کریں یا بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اکثر ہم سوچتے ہیں اور کتابوں میں بھی پڑھتے ہیں کہ کتے کو ہمارے ہاں نجس جانور سمجھا جاتا ہے اور اسے پالنے کی ترغیب نہیں دی گئی۔ ماسوائے اس کے کہ یہ ریوڑ کی رکھوالی کرے اور محض‌اس کام کے لئے اس کو رکھنے کی اجازت ہے۔ گھروں میں اسے پالنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے بارے میں‌بہت سے منطقی دلائل بھی دئے جاتے ہیں اور اس میں‌دینی دلائل بھی شامل ہو جاتے ہیں اور اس صورتِ حال میں‌ہمارے نئی نسل کے بچے بہت ناراض ہوتے ہیں (مجھے میرے پوتےپوتیاں‌کہتے ہیں کہ دادا آپ اس کی کیوں اجازت نہیں دیتے کہ کتے کو گھر میں رکھا جائے) ہم طوعاً وکرہاً بچوں کی بات مانتے ہوئے اجازت تو دے دیتے ہیں لیکن اس پر غور ضرور کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی کیا جاتا ہے کہ ایسا حکم آخر کیوں‌ہے؟ اگر یہ ناپاک ہے یا گند ڈالتا ہے تو بہت سے جانور ایسے ہیں جو ناپاک ہوتےہیں اور گند ڈالتے ہیں لیکن بطورِ خاص اس کے اوپر کیوں قدغن ہے؟ پتہ یہ چلا کہ کتا چونکہ تمام جانوروں میں سے اور خاص طور پر پالتو جانوروں میں سے Psychophysicist (خوشامد پسند) جانور ہے اور ہر وقت مالک کے سامنے جا و بے جا دم ہلاتا رہتا ہے۔ اس لئے ہمارے دین نے یہ نہیں چاہا کہ ایک ایسا ذی روح آپ کے قریب رہے جو ہر وقت آپ کی خوشامد میں مبتلا رہے اور یہ خیال کیا گیا کہ یہ انسانی زندگی پر ایک منفی طور پر اثر انداز ہوگا اور یہ خوشامد پسند ہر وقت دم ہلا ہلا کے اور پاؤں میں لوٹ لوٹ کے اور طور و بے طور آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اس لئے حکم ہوا کہ ایسا جانور مت رکھیں، یہ خصوصیات آپ میں‌بھی پیدا ہو جائیں گی اور جب آپ کے اندر Sycophancy اور خوشامد پسندی اور بلا وجہ لوگوں کو خوش کرنے کا جذبہ پیدا ہونے لگےگا تو آپ کی شخصیت، انفرادیت اور وجاہت پر اس کا منفی اور برا اثر پڑے گا۔ اس لئے اس جانور کو نہ رکھیں۔ آپ بلی کو رکھ کر دیکھیں، کبھی آپ کی خوشامد نہیں‌کرتی بلکہ جب موڈ بنے، پنجہ مارتی ہے، گھوڑا کتنا پیارا جانور ہے اور انسان کا پرانا دوست ہے۔ انسان پر اپنی جان فدا کرتا ہے لیکن جب آپ اس کو بری نظر سے دیکھیں گے یا زیادتی کریں‌گے تو “الف“ ہو جائے گا اور دونوں‌ٹانگیں اوپر اٹھا کر سیدھا کھڑا ہو جائے گااور کبھی خوشامد نہیں کرے گا اور آپ کے ساتھ برابری کی سطح پر چلے گا۔ اُور سارے جانور ہیں، عقاب ہے، باز ہے۔ آپ نے اکثر باز کو دیکھا ہوگا۔ جیسے ہمارے ہاں‌عرب شہزادے آتے ہیں اور انہوں نے اس کو ہاتھوں پر بٹھایا ہوتا ہے اور اس کی آنکھوں‌کو بند کر کے رکھا جاتا ہے۔ اس لئے اس کے سر پر ٹوپی دی ہوتی ہے۔ اگر اس کی آنکھوں کو بند کر کے نہ رکھا جائے تو وہ مالک جس نے اس کو اپنی کلائی کے اوپر بٹھایا ہوتا ہے، اس پر بھی جھپٹ سکتا ہے کہ مجھے پاؤں ‌میں دھاگے اور زنجیریں ڈال کر کیوں‌قیدی بنایا ہے۔ ایسی چیزوں کو رکھنے کی اجازت ہے لیکن جو آپ کی عظمت اور وقار میں کمی کا باعث بنیں اور آپ کو خوشامد سکھائیں تو ایسے جانوروں کو رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور ہمیں اس بات کا حکم ہے کہ ہم اپنی وجاہت کو ہر حال میں قائم رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ فرعونیت، تکبر اور گھمنڈ سے پرہیز کرتے رہیں اور اپنے اور تکبر کے درمیان ایک لائن ہر وقت کھینچ کر رکھیں۔ انسان کی اپنی بھی بڑی مجبور زندگی ہے کہ جگہ جگہ پر اسے لائنیں کھینچنی پڑتی ہیں حتٰی کہ اسے اپنی Biological Needs یعنی اپنی جبلی خواہشات کے آگے بھی لائنیں‌کھینچنے کا حکم ہے۔ یہ میری جبلی خواہش ہے کہ میں کھانا کھاؤں، اچھا کھانا کھاؤں۔ بہتر، مزید اور لذیذ کھانا کھاؤں لیکن مجھے حکم ہے کہ بس آج لائن کھینچ دوں۔ آج آپ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھا سکتے۔ نہایت لذیذ کھانے آپ کے سامنے آتے رہیں گے، اشتہا انگیز چیزیں آپ کو اکساتی رہیں گی لیکن کھا نہیں سکتے۔ حکم یہ ہے کہ آپ کے لئے آپ کو روک دیا گیا ہے کیونکہ آپ انسان ہیں اور آپ بلند تر چیز ہیں۔ انسان کو اس لئے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے کہ جب وہ پورے کا پورا آزاد ہو جاتا ہے اور جب وہ کرنے اور نہ کرنے کی یکسان صلاحیت رکھتا ہو اور یہاں وہ انسان آزاد ہو جاتا ہے لیکن وہ اس لمحے وہ کرتا ہے جس میں وہ اپنی ذات کو لگام ڈال کے بے جا اور ناجائز خواہشیں اور عمل سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس سے وہ اشرف المخلوقات بنتا ہے۔ آزادی یہ نہیں کہ کسی کے خلاف مضمون لکھ دیا، تقریر کر دی بلکہ اپنی ذات کو لگام ڈال کے اور باگیں‌کھینچ کر رکھنے کو آزادئ انسان کا نام دیا جاتا ہے۔ بھینس برسیم کےکھیت میں‌چلی جا رہی ہے تو وہ اٍدھر اُدھر منہ مارے گی، کُتا نجس بھی کھاتا جائے گا اور پاک چیزیں بھی لیکن انسان وہ ہے کہ جو کھا بھی سکتا ہے اور پھر بھی نہیں کھاتا اور خود کو پابند بھی رکھتا ہے اس اور پابندی کے دوران سو مہمان بھی اس کے پاس آئیں تو وہ ان کی خدمت کرتا ہے، کھلاتا پلاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے لیکن خود نہیں کھائے گا۔ انسان کی جِبِلّی خواہشات پر پابندی لگانے کا مقصد انسانوں‌کو بھوکا رکھنا نہیں بلکہ انسان کی عظمت اور وقار کو برقرار رکھنا مقصود ہے تاکہ وہ بوقتٍ ضرورت خود پر کنٹرول رکھے۔ ہمارے یہاں‌لاہور ماڈل ٹاؤن میں‌ایک برگیڈئیر صاحب ہیں، انہیں‌کتے رکھنے کا بہت شوق ہے۔ ان کا ایک اچھا السیشن کتا تھا۔ وہ شاید برگیڈئیر صاحب کی نظر سے گر گیا تھا اور وہ کھلا بھی چھوڑ دیا کرتے تھے اور وہ کتا اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر گھومتا تھا۔ وہ کتا دورانٍ آوارگی قصاب کی دکانوں پر چھیچھڑے اور کچا گوشت کھاتا، سنتے ہیں کہ کچا گوشت کتے کے لئے بہت مہلک ہوتا ہے۔ جب وہ دکانوں‌سے گھوم پھر کر اور کچا گوشت کھا کے آجاتا اور اس کے “لچھن“ بھی کچھ اچھے نہیں تھے۔ اس وجہ سے برگیڈئیر صاحب نے اس کے گلے میں دھاگہ ڈال کر ایک کارڈ ڈال دیا جس پر لکھا تھا “مہربانی فرما کر اس کتے کو گوشت نہ ڈالا جائے اور اگر یہ قصاب کی دکان پر آئے تو قصاب حضرات اس کو دھتکار کر پرے بھیج دیں۔“ اب بیچارےتمام قصاب ڈر گئے اور وہ برگیڈئیر صاحب کے کتے کو کچھ نہیں دیتے تھے اور ایک دوسرے کو بھی انتباہ کرتے کہ خبردار اسے کچھ نہ دینا ورنہ مارے جاؤ گے۔ اسے یونہی بھوکا پیاسا ہی رہنے دو اور وہ بیچارہ ویسے ہی لوٹ جاتا۔ کتا جیسا کہ میں‌کہہ رہا تھا کہ ایک خوشامد پسند جانور ہے، اس نے بھی سوچا کہ اس طرح تو میری جان آفت میں پھنس گئی ہے، میں‌کیا کروں۔ السیشن کتے بڑے ذہین ہوتے ہیں، چنانچہ اسے پتہ چلا کہ یہ سب خرابی میرے گلے میں‌لٹکتے ہوئے کارڈ کی ہے تو اس نے پنجوں‌کے زور سے اور دانتوں سے وہ گتہ یا کارڈ کاٹ کر گلے سے اتار پھینکا۔ جب اگلے دن وہ باہر گیا تو ظاہر ہے کہ اب اس کے گلے میں کوئی ایسا ویسا نوٹس نہیں تھا اور وہ مزے سے کھا پی کے واپس آگیا تو ایسی زندگی بسر کرنے سے بہتر ہے کہ انسان ایک غار میں چلا جائے اور بے غیرتی اور کم مائیگی کی زندگی بسر نہ کرے اور ایسی زندگی بسر نہ کرے جس طرح‌کی عام طور پر حشرات الارض کرتے ہیں۔

ایک بار ایک عالمی سطح کے ہیئت دانوں‌کی کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس میں آئن سٹائن بھی شریک تھے۔ ایک ہیئت دان نے دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد آئن سٹائن سے کہا کہ جناب دیکھئے!اگر ہم کائناتوں کو ذہن میں رکھیں اور جتنے بھی عالَم اللہ تعالٰی نے بنائے ہیں، ان کو بھی اپنی نظر سے جانچنے کی کوشش کریں تو انسان کا مقام Mathematically ایک ذرے سے بھی بے حد کم تر رہ جاتا ہے یعنی وہ کچھ بھی نہیں ہے اور انسان تو اتنی بڑی کائنات کے اندر ایک بے معانی سی چیز ہے۔ یہ سن کر آئن سٹائن نے کہا، ہاں ‌واقعی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ وہ ایک بے معانی، بے مایہ اور کم تر، کم حقیقت انسان جس کی حیثیت ایک ذرے سے بھی کم ہے، وہ ہی دوربین لگا کر ان کائناتوں کا مطالعہ کر رہا ہے اور وہی ان کائناتوں کے بھیدکھول رہا ہے اور لوگوں کو ان کائناتوں کی تفصیل سے آگاہ کر رہا ہے اور لوگوں کو کائنات کی جزیات کی بابت بتاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اتنا بھی حقیر نہیں سمجھا جانا چاہئے کہ وہ رشوت کی لپیٹ میں آجائے۔ کوئی بھی آدمی جو بظاہر آپ کو ہنستا ہوا دکھائی دے اور بظاہر یہ کہے کہ جی ساری دنیا ہی رشوت لیتی ہے۔ بظاہر وہ آپ سے کہے کہ جی Values Change ہو گئی ہیں اور قدریں وہ نہیں رہیں۔ ان سے وہ اپنے آپ کو ضرور گھٹیا، کمینہ اور ذلیل انسان ہی سمجھتا رہتا ہے اور اس کے اندر Guilt کا جذبہ ہر وقت اپنا کام دکھاتا چلاجاتا ہے۔ اللہ میاں‌نے ہم کو عجیب وغریب طرح سے باندھا ہوا ہے۔ آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اس بھری دنیا میں جتنی بھی قومیں، جتنی بھی نسلیں اور گروہٍ انسانی آباد ہیں، ان سب کا دن طلوعِ آفتاب سے شروع ہوتا ہے، سورج نمودار ہوا اور دن چڑھ گیا اور کہا گیا کہ آج یکم دسمبر یا جنوری کی پہلی تاریخ ‌ہے، صرف ایک امّہ ایسی ہے پوری کائنات میں جس کا دن شام کے وقت سے شروع ہوتا ہے۔ جب شام پڑتی ہے تو اس کا نیا دن معرضٍ وجود میں آتا ہے اور وہ امّہ اسلام کی امّہ ہے، آپ نے رمضان المبارک میں دیکھا ہوگاشام کو نقارہ بجتا ہے، توپ چلتی ہے، اعلان ہوا یا سائرن بجتا ہے اور مغرب کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ اب ہم رمضان کے مہینے میں داخل ہو گئے ہیں، ہم رمضان میں‌صبح‌کے وقت نہیں داخل ہوتے بلکہ رات کے وقت ہوتے ہیں۔ یہ عجیب دین ہے کہ شام سے یا رات سے منسوب کر کے اس کے دن اور مہینہ سے آغاز کیا جاتا ہے، دنیا کے کسی اور مذہب میں ایسا نہیں ہے اور کسی امت پر ایسا بوجھ نہیں۔ اس کی وجہ جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس امت کو بارٍ گراں عطا کیا گیا ہے کہ باوصف اس کے کہ تمھارا نیا دین چڑھ گیا ہے، تم نئے ماہ میں داخل ہو گئے ہو اور اس کے بعد پوری تاریک رات کا سامنا ہے لیکن تم ایک عظیم Dignified امّہ ہو۔ تم ایک پروقار امت سے تعلق رکھتے ہو۔ تم اس تاریکی سے گھبرانا ہرگز ہرگز نہیں بلکہ اس تاریکی میں سے گزر کر اپنے وجود پر اعتماد کر کے تمہیں اس صبح تک پہنچنا ہے جس سے ساری جگہ روشنی پھیلے گی۔ گویا اس تاریکی کے اندر ہی آپ کو اپنی ذات، وجود اور شخصیت سے روشنی کرنی ہے۔ ہم، تم، آپ سب کے سب اپنا مہینہ، اپنا دن مغرب کے بعد رات سے شروع کرتے ہیں اور بحیثیت مسلمان یقین ہوتا ہے، یہ تاریکی ہمیں‌کسی قسم کی گزند یا تکلیف نہیں پہنچا سکتی۔ ہم ہیں اور یہ تاریکی ہے اور ہمارے وجود سے ہی اس تاریکی میں روشنی ہے۔ ہم روشن دن کی آرزو میں یا روشن صبح کو پکڑنے کے لئے ہرگز ہرگز اتنے بے چین‌نہیں ہیں جس قدر دنیا کی دوسری قومیں ہیں مضطرب ہیں، ہم اپنی سانسوں سے تاریک راتوں میں‌اجالا کرتے ہیں اور اپنی سانسوں سے شمعیں روشن کرتے ہیں۔ یہ وقار اور عظمت جو ہے یہ ہمارا طرۂ ‌امتیاز ہے لیکن کہیں‌کہیں ہم کمزور ہو جاتے ہیں اور وقار سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر ہمارے اندر Guilt کا احساس ضرور پیدا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اپنے آپ پر کچھ ایسی خود تنقیدی سے کہیں کہ نہیں اب زمانہ بدل گیا ہے، اب ساری دنیا ایسی ہو گئی ہے تو ہم بھی ویسے ہو جائیں۔ یہ بڑے شوق سے کہہ لیں یا بڑے شوق سے لکھ لیں، بڑے شوق سے اپنے Guilt کو Argument کر لیں، جان نہیں چھوٹنی کیونکہ جو حکم آپ کے اوپر جاری کر دیا گیا ہے، اور جس فریم ورک میں آپ کو رکھ دیا گیا ہے ہونا وہی ہے۔

مجھے حضرت نظام الدین اولیا رح کے خلیفہ خواجہ نصیرالدین چراغ دہلوی کی وہ بات یاد آتی ہے جب ایک بار قحط پڑ گیا اور دٍلی میں‌بہت “سوکھا“ ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ یا حضرت ‌(وہ چبوترے پر تشریف فرما تھے) آپ تو چراغٍ دلی ہیں، آپ جا کے نمازٍ استسقاء پڑھائیے اور بارانٍ رحمت کے لئے دعا کیجئے تو وہ کہنے لگے کہ میں کچھ مُتردَّد ہوا، پریشان ہوا کہ میں‌کیسے دعا کروں۔ یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ وہ بارانٍ رحمت کرے یا نہ کرے۔ خیر وہ طے شدہ مقام پر نمازٍ استسقاء پڑھانے چلے گئے۔ وہاں‌جا کر نماز پڑھائی اور دعا کی اور دعا کے بعد دیکھا کہ آسمان پر کچھ بھی نہیں، نہ کوئی ابر کے آثار ہیں نہ بارش کے۔ وہ لوٹ آئے اور کچھ شرمندہ تھے۔ وہاں‌ایک بزرگ یوسف سرہندی تھے۔ انہوں نے کہا کہ صاحب پہلے بھی ایک ایسا واقعہ پیش آچکا ہے۔ ہم نے بھی ایک بار بارش کے لئے دعا کی تھی لیکن وہ بدترین قحط اور Drought کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکا تھا اور اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ کہنے لگے کہ ہمارے زمانے میں جب ہماری دعا قبول نہیں ہوئی تھی تو ایک صاحب میرے پاس آئے اور انہوں ‌نے کہا کہ اگر تم بارانٍ رحمت کے لئے دعا کرانا چاہتے ہو تو کسی باوقار Editorialized آدمی سے کرواؤ اور اللہ باوقار اور غیرت مند آدمی پر بڑا اعتماد کرتا ہے اور اس کی بات سنتا ہے۔ تو میں‌نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہمیں‌اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے تو بتاؤ کہ کس سے دعا کروائیں تو اس شخص نے بتایا کہ سیری دروازے کے پاس ایک بزرگ رہتے ہیں، وہاں چلتے ہیں۔ یوسف سرہندی نے مزید کہا کہ وہ شخص مجھے ان کےپاس لے گیا اور میں دیکھ کر بہت حیران اور شرمندہ بھی ہوا کہ بزرگ جو تھے وہ خواجہ سرا تھے یعنی ہیجڑے (مُخَنَّث تھے اور ان کا نام خواجہ راحت تھا)۔ اب وہ شخص کو مجھے وہاں لے کر گیا تھا، اس نے خواجہ رحمت مخنث سے کہا کہ یہ (یوسف سرہندی) آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ مینہ یا باراں یا Rain Fall کے لئے دعا فرمائیں تو انہوں نے کہا،کیوں کیا ہوگا؟ اس شخص نے کہا یا حضرت (اس ہیجڑے سے کہا، مجھے انہیں ہیجڑا کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے اور یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے ایسی بزرگ شخصیت کے لئے لیکن چونکہ وہ مخنث تھے اور اپنے آپ کو خود بھی کہتے تھے، دیکھئے باوقار لوگ بھی کیا ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق کسی ذات، عورت، مرد یا مخنث سے تعلق نہیں ہوتا۔یہ وقار ایک الگ سی چیز ہے جو انسان کے اندر روح سے داخل ہوتا ہے) دِلّی سوکھا ہے، بارش نہیں ہو رہی۔ ان حضرت نے اپنی خادمہ سے کہا کہ پانی گرم کرو، وضو کیا اور دعا مانگی اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ پھر کہنے لگے کہ اے یوسف سرہندی آپ جائیں‌اور اپنے معروف طریقے سے بارش کے لئے نماز ادا کرو اور خدا سے دعا مانگیں کہ وہ اپنی مخلوق کو بارش عنایت فرمائے لیکن اگر پھر بھی بارش نہ ہو تو (انہوں‌نے اپنی قباسے ایک دھاگہ یا بڑھا ہوا ڈورا کھینچا) اس ڈورے کو اپنے دائیں ہاتھ پر رکھ کر اللہ سے درخواست کرنا کہ یہ خواجہ رحمت مخنث جس نے تیری رضا کا چولا پہن لیا ہے اور اب لوگوں سے نہیں ملتا اور ایک مقام پر ایک وقار کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اس طرح‌ مخلوق میں بھی شامل نہیں‌ہوتا کہ وہ دعائیں منگواتا پھرے، اس نے بارش کے لئے عرض کیا ہے۔ یوسف صاحب کہنے لگے کہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ وہاں‌بہت سے لوگ اکٹھے تھے۔ پورا دلی امڈ کے آیا ہوا تھا۔ وہاں نماز استسقا پڑھی لیکن بد قسمتی سے کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر میں‌نے اپنی دستار سے خواجہ رحمت مخنث کی قباء کا وہ ڈورا نکالا اور اسے دائیں‌ہاتھ پر رکھ کر خدا سے دعا کی تو وہاں‌کھڑے کھڑے بادل گھٍر کر آیا اور موسلا دھار بارش ہونے لگی اور اس قدر زور کی بارش شروع ہو گئی کہ لوگ تیزی سے بھاگنے کے باوجود اپنے گھروں تک نہ پہنچ سکے۔

خواتین و حضرات! اب یہ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم کس وقار کے ساتھ اور اس امّہ سے تعلق رکھتے ہوئے کیسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ خدا ہم کو عزت و وقار سے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ آمین۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: قیصرانی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15