نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Evil Eye - نظر بد

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں محبت بھرا سلام پہنچے۔

میں ایک تھوڑے سے دکھی دل کے ساتھ، طبیعت پر بوجھ لے کر آپ سے بات کر رہا ہوں ور امید ہے کہ آپ بھی میرے اس دکھ میں شرکت فرمائیں گے۔ ایک زمانے میں جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری بڑی آپا جو نظرِ بد پر بڑا اعتقار رکھتی تھیں، میں اس وقت باوصف کہ بہت چھوٹا تھا اور میں بھی نظر وظر کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن چونکہ میرے بڑے بھائی مجھے سیر کے لۓ اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور میں نیلی نیکر پہن کر اپنے سنہرے بالوں کے ساتھ “ باوا “ سا بنا ہوا ساتھ چلتا تھا تو میری بڑی آپا کہتی تھیں کہ ٹھہرو میں اس کے ماتھے پر تھوڑی کالک لگا دوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ لیکن میں ان کے اس عمل سے بڑا گھبراتا تھا۔ کئی گھرانوں میں نظر کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ میں کالک لگانے سے گھبراتا کہ میرے ماتھے پر کالک کیوں لگائی جاتی ہے؟ میری چھوٹی آپا اس پر کوئی یقین نہیں رکھتی تھیں اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا تو مجھے پتہ چلا کہ یہ ماتھے پر کالک نہیں لگاتے بلکہ اس طریقے سے نظر اتاری جاتی ہے۔ میری ماں سرخ مرچیں لے کر انہیں جلتے ہوئے کوئلوں پہ رکھ کر کہا کرتیں کہ اگر ان کے جلنے سے بدبو آتی ہے تو نظر ہے اگر نہیں آتی تو پھر نظر نہیں ہوتی ہے۔ میرے والد صاحب اور میرے بھائی ان کے اس اعتقاد پر بہت ہنسا کرتے تھے کہ یہ کیا فضول بات ہے۔ نظر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میری نانی کہتی تھیں کہ تمہارے ماموں اعجاز اور تمہاری ممانی رضیہ جو منگورہ (سوات) میں اس وقت موقع پر ہی جاں بحق ہو گۓ جب ایک درخت ان کی کار پر آن گرا، انہیں نظر لگ گئی تھی۔ اس بارے میں میری ماں بتاتی تھیں کہ ہم نے ماں کو ایسے ہی بتایا ہے۔ ان کی کار پر کوئی درخت ورخت نہیں گرا تھا بلکہ سڑک کنارے ایک بلڈوزر کھڑا ہوا تھا۔ جب ان کی کار گزری تو اس بلڈوزر کا مٹی اٹھانے والا بھاری بھر کم "چمچہ “ عین اس وقت ان کی گاڑی پر گر گیا جب موٹر اس کے نیچے سے گزر رہی تھی۔ ایسی بہت سی کہانیاں زندگی میں چلتی رہتی ہیں۔ آپ نے بھی سنی ہوں گی لیکن ہم تعلیم کی وجہ سے ایسی کہانیوں پر کچھ زیادہ اعتماد نہیں کرتے۔ ایک وقت ایسی صورتِ حال میری زندگی میں بھی پیدا ہوئی جب میں بڑی بری طرح سے نظرایا گیا۔ میں بڑا ہو چکا تھا اور پڑھ لکھ چکا تھا۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو چکا تھا۔ اس واقعہ میں مجھ پر اس قدر بوجھ پڑا کہ میں نے گھبرا کر اور سر جھکا کے اس بات کا اعلان کیا کہ واقعی نظرِ بد کوئی چیز ہے اور نظر لگانے والا بڑے اہتمام کے ساتھ Plan کر کے نظر لگاتا ہے۔ یہ نہیں کہ نظر اتفاق سے لگ گئی۔ نظر لگانے والا اندر سے بڑا کینہ پرور ہوتا ہے اور بے ایمان ہوتا ہے۔ ہم 52-1950ء کے قریب پہلی مرتبہ مشرقی پاکستان گۓ۔ ہم نے چار پانچ دن وہاں گزارے اور پہلی مرتبہ ہم نے جی بھر کے کیلے کھائے۔ جب ہمارا وہاں سے لوٹنے کا پروگرام ختم ہوا تو ہمارا وہاں سے واپس آنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایسی محبت والے لوگ تھے جو خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ ہم واپس جائیں لیکن ہمیں مجبوراً واپس آنا پڑا۔ اللہ نے ہماری خواہش ایک بار پھر پوری کی کہ ہمیں تقریباً آٹھ ماہ کے بعد دوبارہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم بہت سارے شاعر، ادیب اور رائٹر تھے جو وہاں ایک اجلاس میں شرکت کے لۓ گۓ تھے۔ ہمیں وہاں حد سے زیادہ محبت ملی اور ہمارے وہ بھائی ہمیں ایسی چیزیں کھانے کو دیتے جو ہم نے پہلے کبھی دیکھی بھی نہیں تھیں۔ بنگال اکیڈمی والوں نے مجھے کہا کہ اشفاق صاحب ہم نے آپ کے لۓ یہ ایک بہت بڑا پھل رکھا ہے جو ناریل سے بھی بڑا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا کہ آپ اس کو کاٹیں لیکن اسے آپ احتیاط سے کاٹیں کیونکہ یہ پیچھے پڑ جاتا ہے۔ اسے “کٹھل“ کہتے تھے۔ جب میں نے اسے چھری سے کاٹنا شروع کیا؛ میں نے ایک آدھ بار تو چھری چلائی لیکن اس نے واقعی میرے دونوں ہاتھوں کو وہیں سے پکڑ لیا جہاں پر تھے۔

دنیا کی اگر کوئی پاورفل گوند یا گلو اگر کہیں سے ملتی ہے تو وہ “کٹھل“ سے نکلتی ہے۔ وہ سب ہمیں کہتے تھے کہ کوئی داڑھی والا آدمی اسے نہ کاٹے کیونکہ اگر اس کے کاٹتے ہوئے ہاتھ داڑھی کو لگ گیا تو وہ ساری نوچ کے نکالنی پڑے گی۔ اس کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں ہو گا۔ وہاں ہم نے خوب کٹھل کھایا۔ میں نے اپنے استاد غلام مصطفٰی تبسم سے کہا جی میں ہوٹل سے نیچے گیا تھا اور آپ کے لۓ یہ انناس لایا ہوں۔ میں نے دس انناس کو دھاگے کے ساتھ باندھ کے لٹکا رکھا تھا۔ وہ کہنے لگے تو ان کو کیوں لے آیا۔ میں نے کہا سر یہاں آئے ہیں تو انناس توکھائیں گے۔

وہ پوچھنے لگے کتنے کے آئے ؟

میں نے جواب دیا جی ایک روپیہ دس آنے کے یہ دو انناس آئے ہیں۔

وہ غصے میں آ کر کہنے لگے اسے کاٹے گا تیرا باپ؟ ہم کو تو پتہ ہی نہیں کہ انہیں کیسے کاٹا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ جی میں وہ بھی “سائی“ (طے کر کے) لگا کے آیا ہوں ابھی ہوٹل میں کام کرنے والا لڑکا اوپر آئے گا اور وہ دو مزید انناس بھی لا رہا ہے۔

وہ کہنے لگے ارے برباد ہو جائیں گے۔ میں نے کہا جناب انہیں فرج میں رکھیں گے اور شوق سےکھائیں گے ایسا موقع بار بار کہاں ملتا ہے۔ چنانچہ وہ لڑکا آیا، اس نے کاٹ کے طشتری میں رکھ دیۓ۔ ہمارے وہاں قیام کے وقت ہمارے لۓ اور ہمارے پیارے میزبانوں کے لۓ یہ ایک عید کا سا سماں تھا۔ وہاں محبت کی اتنی بڑی دنیا آباد ہو گئی تھی کہ میں نے زندگی میں اس سے پہلے محبت کا ایسا مظہر نہیں دیکھا تھا۔

وہاں پر ایک بی بی جس کا نام اوما تھا اس نے ہمیں علامہ اقبال کی ایک نظم :

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن مجھ کو پھر افسانوں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن

سنائی۔ ایسی خوبصورت آواز اور اچھی انداز میں میں نے یہ نظم نہیں سنی۔ اس موقع پر مجھے انشاء جی کہنے لگے کہ ہمیں شرم آنی چاہیۓ اور ہمیں بھی کچھ آنا چاہیے۔ یہ اقبال کی نظم کتنے اچھے انداز میں گا رہی ہے۔ ہم نے اپنے بیرے سے کہا کہ یار ہمیں بھی کچھ گانا سکھا دو چنانچہ ہم نے پہلا گانا مشرقی پاکستان میں اپنے پاکستانی بھائیوں سے سیکھا وہ یہ تھا :

اللہ میک دے، پانی دے، چھایا دے تُو ای ہو اللہ میک دے، پانی دے، چھایا دے تُو ای (گانے کے انداز میں)

ہم یہ شعر تو گا کر کہہ لیتے تھے لیکن “ اللہ “ کہنے کا خوبصورت انداز صرف انہی کو آتا تھا۔

خواتین و حضرات کیا آپ نے کبھی کسی سندھی کو “ اللہ “ کہتے ہوئے سنا ہے۔ جب کوئی سندھی اپنی کسی نظم میں یا کلام میں “ اللہ “ کہتا ہے تو میں اس پر قربان ہو جاتا ہوں یعنی میرے میں طاقت ہی نہیں رہتی۔ میں نے “ اللہ“ کا اُچارن “ اللہ“ کا تلفظ اور اس لفظ کی قرأت ان سے زیادہ خوبصورت انداز میں سوائے سندھیوں کے کسی کے منہ سے نہیں سنی۔ ایسے ہی ہمارے مشرقی پاکستان کے بھائی وہ ادا کرتے تھے۔ ہم نے وہاں سائیکلیں لے لیں۔ وہ اپنا گھر تھا اور میزبان اپنے بھائی تھے۔ ہم صبح سویرے سائیکلیں لے کر نکلتے اور سائیکلیں چلاتے ہوئے گانا گاتے پھرتے تھے۔ جس کا ترجمہ کچھ اس طرح سے تھا :

“ اے اللہ ہم تو تیرے بندے ہیں اور تیرا نام بار بار لیتے ہیں۔“

ہم سب اپنی اپنی اونچی، نیچی اور بیٹھی آوازوں میں گانے گاتے پھرتے تھے۔ ہمارے ساتھ گانے والے احمد راہی کی آواز تو بالکل ہی بیٹھی ہوئی تھی۔ ہم جب وہاں شہر میں گاتے پھرتے تھے اور شہر کا چکر لگاتے تو پتہ چلتا کہ جیسے جسم میں توانائی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور میں نے اس وقت یہ بھی محسوس کیا کہ ایک تیسری آنکھ جو نظرِ بد والی آنکھ کہلاتی ہے وہ ہم لوگوں کو دیکھ رہی ہے۔ میں نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ وہ آنکھ ہم پر اثر انداز ہو رہی ہے اور اس آنکھ نے باقاعدہ Plan کر کے منصوبہ بندی کرکے ہمارے درمیان تفرقہ ڈالا اور یہ آپ سب کو معلوم ہے مشرقی پاکستان کی سرحد سے تقریباً پچاس ساٹھ میل کے فاصلے پر ایک شہر ہے۔ خواتین و حضرات، براعظم ایشیاء کے اندر اگر کوئی دہشت گردی کا مرکز پہلی مرتبہ قائم ہوا تو وہ اس “ اگر تلہ “ شہر میں ہوا۔ وہاں تیسری آنکھ نے بڑی ہمت سے بڑی محنت کر کے ہمارے درمیان نفرتیں بھی پھیلائیں۔ غلط فہمیاں بھی پھیلائیں اور اس سے وہ تانا بانا بُنا کہ وہ دہشت گردی نہ صرف اس علاقے میں رہی بلکہ وہاں سے پھیلتی پھیلتی دوسرے علاقوں میں بھی چلی گئی۔ وہاں سے نکل کر سری لنکا میں بھی چلی گئی۔ وہاں کے ٹرینڈ کۓ ہوئے دہشت گرد باہر نکل کر دوسرے علاقوں پر حملہ آور ہوتے اور بڑی اچھی اور پرسکون زندگی گزارنے والوں کو ذلیل و خوار کرتے۔ پھر انہوں نے میرے ہی ان بھائیوں کو جن کے ساتھ مل کر ہم گانے گاتے تھے جن میں ہم نے قدرت اللہ شہاب کو بھی ملا لیا تھا اور ہم وہاں سے میٹھا دہی کھایا کرتے تھے اور اس دہی کے بڑے بڑے بھرے ہوئے “کونڈے“ جہاز میں رکھ کر لاہور بھی لے آئے تھے۔ (وہ اس دہی میں کھجور کا شیرہ ڈالتے ہیں اور اس سے اچھی سویٹ ڈش میں نے پہلے یقیناً نہیں کھائی تھی اور نہ آپ نے کھائی ہو گی) ان کے اور ہمارے دلوں میں غلط فہمیاں ڈال دیں اور اس تیسری نظرِ بد والی آنکھ نے وہیں سے ہمارے اپنوں، دوستوں، جاننے والوں اور ہماری جان و جگر کو لیا اور ان کو مکتی باہنی کا نام دے کر ان کی ٹریننگ شروع کی جس میں انڈین فورسز کے آدمی بھی تھے اور انہوں نے بھی مکتی باہنی کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ اس تیسری آنکھ کو یہ خوف تھا کہ اگر ان دونوں (مشرقی اور مغربی پاکستان) کے درمیان محبت اور یگانگت بڑھتی رہی اور یہ ایک دوسرے کے اس شدت کے ساتھ قریب آتے رہے اور دین کے رشتے کے بعد یہ ثقافتی رشتوں میں بھی مزید بندھتے چلے گۓ تو پھر ہمیں انہیں ایک دوسرے سے علٰیحدہ کرنا یا “نکھیڑنا“ بڑا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے منصوبہ بندی کر کے اور دنیا کے دوسرے ملکوں کو ساتھ ملا کے یہ پروگرام بنایا کہ کسی نہ کسی طرح سے اس رشتے کو توڑ دیا جائے۔

انہوں نے جو سب سے بڑا کام کیا وہ یہ تھا کہ اس تیسری نظرِ بد والی آنکھ نے ہمیں اپنی ہی نگاہوں میں پامال کر دیا؛ شرمندہ کر دیا۔ سارا بوجھ اور الزام اٹھا کر ہمارے اوپر رکھ دیا اور ہم وہ سارا بوجھ ابھی تک اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ ان کا بڑا کمال ہے۔ اس شرمندگی نے کس طرح سے آپ پر اور آپ کی نفسیات پر اثر ڈالا ہے۔ یہ وہ لوگ بڑی اچھی طرح سے جانتے ہیں لیکن ایشیاء کے اور پاکستان کے لوگ نہیں جانتے صرف ہندوستان کے لوگ ہی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کا جو پہلا اڈا اور مرکز قائم ہوا وہ کہاں قائم ہوا تھا۔ جہاں سے دہشت گردی کی شاخیں پھوٹی تھیں۔ جب آپ دہشت گردی کا نام لیتے ہیں اور دہشت گردی کی بات کرتے ہیں تو ان کا پہلا مقام “اگر تلہ“ ہی تھا اور وہ دہشت گردی کا پودا اب تک پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہم جو مظلوم و مقہور ہیں، جن پر ظلم کیا گیا ہے اور پوری دنیا یا گلوب میں پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی کا شکار ہوا اور اس کا ایک حصہ دہشت گردی کے زور پر جدا کیا گیا۔ یہ نظرِ بد یونہی نہیں لگ جاتی اس کے لۓ خاص منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ ہم جو بھائی آپس میں ملتے تھے “جھپیاں“ ڈالتے تھے، مل کر کبھی سُر میں اور کبھی بے سُرے ہو کر گاتے تھے وہ سارے کے سارے ملیا میٹ ہو گۓ۔ (اس موقع پر اشفاق احمد بنگلہ زبان میں کوئی محبت اور دوستی کا گیت گاتے ہیں۔) اب لوگ چلے تو پھرتے ہیں اور ابلاغ کا ایسا زور ہے کہ بہت سے لوگ سچ مچ یہ ماننے لگے ہیں کہ شاید پاکستانی بھی دہشت گرد ہیں۔ ہمیں ہر روز دہشت گرد باور کرایا جاتا ہے اور ہم ہر روز شرمندگی کی آنکھوں پر لجاجت کا ہاتھ رکھ کر گھروں میں داخل ہوتے ہیں اور باہر نکلتے ہیں۔ یہ آخر کیسے اور کس طرح سے ہو گیا؟ اب پھر کون سا ایسا گانا اور ترانا گایا جائے کہ ہمیں اس بات کا احساس نہ رہے۔ ہم ایک بڑی پوری اور زندہ قوم ہیں اور ہم نیوکلیئر پاور ہیں۔ کسی سے کم تر نہیں ہیں۔ میں اب کس بابے کو جا کر ملوں کہ وہ میرے ملک کے بندوں کے دل سے شکوک و شبہات نکال دے۔

مجھے ہالینڈ میں ایک بھارتی دوست ملے۔ میں نے کہا کہ وہ ایک ظلم تو تم نے کیا اور کمال اور بڑی چالاکی کے ساتھ کیا لیکن یہ فن تم نے کس طرح سے اجتماعی زندگیوں پر اپلائی کیا کہ ہم خود کو ذمہ دار سمجھنے لگے۔

وہ کہنے لگے کہ اگر ہم یہ کمال آپ کو بتا دیں تو پھر ہمارے پاس کیا رہ جائے گا۔ ہم اب بھی کوشش کریں گے اور کرتے رہیں گے اور آپ کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ یہ ہمارا منتہائے مقصود ہے۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان جغرافیائی طور پر ہندوستان سے دور ہو یا مثال کے طور پر انڈونیشیا کے قریب ہو تو پھر ساری دنیا اس ملک کو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دیکھے۔ اب یہ ایسی جگہ پر پھنس گیا ہے ایک ایسے ظالم پڑوسی کے چنگل میں آ گیا ہے کہ یہ جسمانی طور پر تو شاید طاقتور رہے گا اور ہے بھی لیکن نفسیاتی طور پر اس شرمندگی سے نہیں نکل سکتا جس میں اسے مبتلا کر دیا گیا ہے۔ نظر اور نظرِ بد کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔ میں اس کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور ماتھے پر کالک لگانے کے فلسفے کو نہیں مانتا تھا۔ اب مان گیا ہوں۔

چٹاگانگ میں دریائے ہگلی کے کنارے ایک بزرگ معزالدین شازی (رح) تھے۔ وہاں انہوں نے کٹیا ڈالی ہوئی تھی۔ ہم سب ان کو سلام کرنے گۓ۔ اس زمانے میں میں نظرِ بد کے معاملے کو نہیں مانتا تھا۔ وہ ہم سے بڑی محبت سے ملے۔ سوکھے اور دبلے سے تھے۔ ان میں روحانی طاقت ظاہری طور پر نظر آتی تھی اور بڑی شائستہ گفتگو کرتے تھے۔ ہم سے دین، ایمان اور یکجہتی کی باتیں کرتے رہے۔ ہم جب اجازت لے کر جانے لگے تو انہوں نے اپنی انگلی سے ہمارے ماتھے کے اوپر ایسے کچھ لکھا۔ ہم اس کو مانتے نہیں تھے لیکن جب ایک بزرگ محبت سے ایسا کر رہا تھا تو ہم کیسے انکار کر سکتے تھے۔ ابنِ انشاء نے کہا کہ میں نہیں لکھواتا اور وہ ایک طرف ہو کر کھڑے ہو گۓ۔ جمیل الدین عالی نے کہا کہ میں نے لکھوا تو لیا ہے لیکن میں اسے مانتا نہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں جی میں لکھوا بھی لیتا ہوں اور مان بھی لیتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بڑی برکت تھی۔ میں بعد میں بھی ان کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

ایک بار چٹاگانگ میں میں فیض احمد فیض سے ملا تو انہوں نے کہا کہ اشفاق میں تجھے ایک دنیا کی مزیدار ترین آئس کریم کھلاتا ہوں اور انہوں نے ایسی آئس کریم لا کر دی جو ہم نے واقعی ہی پہلے کبھی نہیں کھائی تھی۔ میری بیوی نے کھاتے ہی کہا کہ اشفاق صاحب دودھ دہی تو ہمارے ملک میں بھی ہوتا ہے یہ اتنی مزیدار آئس کریم یہاں کیسے بنتی ہے؟ اس پر فیض احمد فیض کہنے لگے کہ سارا دودھ دہی تو تم کھا جاتے ہو آئس کریم کیسے بنے۔ میں نے آئس کریم کھلانے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئیں میں اب آپ کو ایک بابے سے ملواتا ہوں۔ وہ بھی بڑی محبت کے ساتھ چل پڑے۔

اب میں عمر کے اس حصے میں جب ان باتوں کو اپنے اس ملک اور بھائیوں کو سوچتا ہوں تو میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ جتنا بڑا ظلم ہماری ذات پر بھائیوں سے جدائی کی صورت میں ہوا ہے اس سے بڑا ظلم کرۂ ارض پر کسی قوم پر نہیں ہوا اور پھر صورتِ حال ایسی ہے کہ چور “چتر“ بھی بن گیا۔

میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری                                                                                                                                   
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15