نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

زندگی سے پیار کی اجازت درکار ہے

پچھلے دنوں کچھ ایسے بوجھ طبیعت پہ رہے، ان کچھ اور چند دنوں کو میں اگر پھیلاؤں تو وہ بہت سارے سالوں پر محیط ہو جاتے ہیں لیکن اللہ کا فضل ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی میں دو ماہ ایسے آۓ کہ بوجھ میں کچھ کمی کا احساس پیدا ہوا اور یوں جی چاہا کہ ہم بھی زندوں میں شامل ہو جائیں اور جس مصنوعی سنجیدگی کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں اس سنجیدگی میں کچھ کمی پیدا کریں۔ ہم سے بڑوں نے بھی خود کو خوش کرنے کے لۓ خوش بختی کا سامان بہم کیا تھا لیکن بد قسمتی سے وہ سارے یہی سمجھتے رہے کہ اگر ہمارے پاس ڈھیر ساری دولت ہو گی تو ہم خوش ہوں گے۔ ان بڑوں نے یہی ورثہ اپنے بچوں میں منتقل کیا۔ ہمارے طالبعلموں کو بھی یہی بتایا گیا کہ بہت سارے پیسے اور اقتصادی طور پر مضبوط مستقبل ہی خوشی ہے۔ ان مادی خوشیوں کو سمیٹتے سمیٹتے اب حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ صورتِ حال نہایت تکلیف دہ ہو گئی ہے۔ آپ آۓ روز اخباروں میں نیب کے نتائج پڑھتے ہوں گے کہ فلاں شخص سے 5 یا 8 کروڑ واپس لے لیا گیا۔ یہ ہمارے وہ پیسے تھے جو لوگ لے کر بھاگ گۓ تھے۔ یہ بڑی دردناک کہانی ہے۔ میری تمنا اور آرزو ہے کہ ہم کاش ایسا بھی سوچنے لگیں کہ بہت زیادہ سنجیدگی کی دنیا سے نکل کر تھوڑی سی آسائش کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ خواتین و حضرات آسائش خالی پیسے کے جمع کرنے یا اپنی ذات کو مضبوط کرنے سے میسر نہیں آتی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرنے میں، گلستانوں کی سیر کرنے اور چیلوں کو دیکھنے میں بھی اتنی خوشی ملتی ہے جس کا اندازہ کرنا ہم شاید بھول گۓ ہیں۔ میں ایک مرتبہ لاہور سے قصور جا رہا تھا تو ایک پُلی پر لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور اس پلی کو ڈنڈے سے بجا رہا تھا اور آسمان کو دیکھنے میں محو تھا۔ مجھے بحثیت ایک استاد کے اس پر بڑا غصہ آیا کہ دیکھو وقت ضائع کر رہا ہے اس کو تو پڑھنا چاہیۓ۔ خیر میں وہاں سے گزر گیا۔ تھوڑی دور آگے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ جو فائلیں اور کاغذات میرے ہمراہ ہونے چاہئیں تھے وہ نہیں تھے لہٰذا مجھے لوٹ کر دفتر جانا پڑا۔ میں واپس لوٹا تو وہ لڑکا پھر ڈنڈا بجا رہا تھا۔ مجھے اس پر اور غصہ آیا۔ جب میں وہ کاغذات لے کر واپس آ رہا تھا تو تب بھی اس لڑکے کی کیفیت ویسی ہی تھی۔ میں نے وہاں گاڑی روک دی اور کہا، “یارو دیکھو تم یہاں بیٹھے وقت ضائع کر رہے ہو تمہاری عمر کتنی ہے۔“

اس نے بتایا کہ تیرہ یا چودہ سال ہے۔ میں نے کہا کہ تمہیں پڑھنا چاہیۓ۔ وہ کہنے لگا جی میں پڑھنا نہیں جانتا۔

تب میں نے کہا کہ تم یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو۔ میرے خیال میں فضول میں اپنا اور قوم کا وقت ضائع کر رہے ہو۔ تمہیں شرم آنی چاہیۓ۔

وہ کہنے لگا جی میں تو یہاں بیٹھا بڑا کام کر رہا ہوں۔ میں نے کہا آپ کیا کام کر رہے ہیں؟

کہنے لگا جی میں چڑی کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ وہی چڑی ہے جو پچھلے سے پچھلے سال ادھر آئی تھی اور اس نے یہیں گھونسلا ڈالا تھا۔ تب اس کے ساتھ کوئی اور چڑا تھا، اب کی بار یہ شاید اور کسی سے شادی کر کے آئی ہے۔

میں نے کہا کہ تم کیسے پہچانتے ہو کہ یہ وہی چڑیا ہے۔ وہ کہنے لگا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ میں اس کو پہچانتا ہوں۔ یہ مجھے پہچانتی ہے۔ مجھے اس کی بات سن کر پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ میرے ملک میں ایک اورنیتھالوجسٹ بھی ہے۔

(The person who knows the details of the birds)

اس کا کوئی گائیڈ نہیں ہے۔ یہ کسی یونیورسٹی سے یہ مضمون نہیں پڑھا ہوا کیونکہ ہماری کسی یونیورسٹی میں یہ Subject نہیں پڑھایا جاتا ہے۔ میں چونکہ شرمندہ ہو چکا تھا اور میں اس سے کہہ چکا تھا کہ تم بڑا وقت ضائع کر رہے ہو اور فضول کام میں لگے ہو اور اب میں نے اپنے موقف سے نہ ہٹتے ہوۓ اور شرمندگی ٹالتے ہوۓ کہا کہ یار تمہیں کوئی کام کرنا چاہیۓ۔ میری طرف دیکھو میں کیسی اچھی گاڑی میں ہوں اور میں اپنی ایک میٹنگ میں جا رہا ہوں۔ لوگ مجھے اجلاسوں میں بلاتے ہیں اور میں تم سے بڑے درجے میں ہوں اور یہ اس وجہ سے ہے کہ میں تعلیم یافتہ ہوں اور تم نے گویا تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور تم فضول لڑکے ہو۔

وہ میری بات سن کر ہنس کے کہنے لگا “ صاحب جی بات یہ ہے کہ ہم تم دونوں ہی برابر ہیں۔ میں اس پلی پر بیٹھا بھاگتی ہوئی موٹریں دیکھ رہا ہوں۔ آپ موٹر میں بیٹھے ہوۓ پلیاں بھاگتی ہوئی دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے بھی کچھ زیادہ اکٹھا نہیں کیا۔“

خواتین و حضرات، کبھی کبھی اس لڑکے کی بات مجھے یاد آ جاتی ہے۔ میں نے اب حال ہی میں پچھلے سے پچھلے ہفتے یہ فیصلہ کیا کہ اتنی زیادہ Rigid خشک اور اتنی زیادہ سنجیدہ زندگی بسر کرنے کی نہ تو انفرادی طور پر ضرورت ہے اور نہ ہی اجتماعی طور پر ضرورت ہے بلکہ ہمیں ڈھیلے ڈھالے اور پیارے پیارے آدمی ہو کر Relax رہنے کا فن سیکھنا چاہیۓ۔ خواتین و حضرات اگر آپ مجھ سے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی پوچھیں تو میں آپ کو بتاؤں گا کہ جب میں سیکنڈ ایئر میں تھا تو لاہور میں (جو لوگ لاہور کو جانتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ نسبت روڈ اور میکلوڈ روڈ کو ایک چھوٹی سی سڑک ملاتی ہے اور وہ سڑک بالکل دیال سنگھ کالج کے سامنے ہے) دیال سنگھ کالج کے پاس ایک حلوائی کی دکان ہوتی تھی جو سموسے بیچتا تھا۔ تب اس کے سموسے پورے لاہور کے مہنگے ترین ہوتے تھے اور وہ تین آنے کا ایک سموسہ بیچتا تھا۔ اس کے سموسوں کی خوبی یہ تھی کہ ان میں آلو کی بجاۓ مٹر کے سرسبز دانے ہوتے تھے۔ یہ قیام پاکستان سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد کسی نے اس طرح کے مٹر کے سموسے بناۓ ہی نہیں ہیں شاید۔ ہم سب دوستوں کی بڑی آرزو ہوتی تھی کہ ایک عدد سموسہ ایک دن میں ضرور کھایا جانا چاہیۓ اور ہماری بدقسمتی یہ ہوتی تھی کہ میری ماں مجھے کالج جانے کے لۓ دو آنے دیتی تھی۔ اب دو آنے میں ایک آنہ ملانا خاصا مشکل کام تھا۔ ہم تین آنے اکٹھے کرنے کے چکر میں پڑے رہتے تھے اور وہ ایک سموسہ کھاتے بھی دوستوں سے نظر بچا کے تھے کیونکہ جو دوست دیکھ لیتا وہ تو پھر حصے دار بن جاتا تھا۔ ہم اس تین آنے میں‌ میسر آنے والی عیاشی سے بڑے لطف اندوز ہوتے تھے اور آج ساٹھ برس سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہم یاد کرتے ہیں کہ عیاشی کے جو لمحے تھے وہ تھے اور میری افسانہ نگاری، ناموری اور ڈرامہ نگاری کے لمحات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اگر کالج کی زندگی سے ذرا پیچھے جاؤں تو اور خوشی کے لمحات آتے ہیں۔ ابھی کل ہی میرے پوتیاں پوتے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ دادا، نانا آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن کون سا ہے۔ میں انہیں بتا رہا تھا کہ میں دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اور میں تب خوش خط تختی لکھا کرتا تھا اور مجھے کبھی کبھی اس خوش خطی پر ایک یا دو پیسہ انعام بھی ملتا تھا اور تب بھی اتوار کی چھٹی ہوتی تھی۔ ایک دن میری ماں نے مجھے بتایا اور ان کی یہ بات سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ انہوں نے چتری مرغی کے نیچے انڈے رکھے ہیں اور وہ انہیں سی رہی ہے۔ اکیس دن کے بعد ان انڈوں سے چوزے نکلیں گے اور وہ تمہارے کھیلنے کا سامان ہو گا۔ تم ان چوزوں سے کھیلا کرنا۔ میں نے ماں سے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ کسی ایسے دن نکلیں گے جب میں سکول میں ہوں گا۔ میری ماں نے کہا کہ تم گھبراؤ مت میں نے مرغی کے نیچے انڈے اس حساب سے رکھے ہیں کہ اتوار کی صبح کو ہی چوزے نکلیں گے اور وہ تمہارا چھٹی کا دن ہو گا۔ تم ان سے خوب کھیلنا۔

خواتین و حضرات، جب وہ بچے نکلے وہ ہفتے کا دن تھا۔ میں خوش خط تختی لے کر جب سکول جانے لگا تو میری ماں نے مجھے خوشخبری دی کہ “ اشفاق چوزے نکل آۓ اور چھ ابھی نکلے ہیں باقی نکل رہے ہیں۔“

پیارے بچو آپ اندازہ نہیں لگا سکتے اس وقت میرے دکھ اور میری مایوسی کا۔ کیونکہ چوزے نکل آۓ تھے اور میں سکول جا رہا تھا اور میں نہ انہیں انڈوں سے نکلتے ہوۓ دیکھ سکتا تھا اور نہ ان کے پاس سارا دن بیٹھ سکتا تھا۔ میں نے رنجیدہ ہو کر کہا، “ اماں تو نے تو کہا تھا کہ اتوار کو نکلیں گے آج ہفتہ ہے۔“

میری ماں نے مجھ سے کہا کہ بیٹے جب چوزے نکل آتے ہیں تو ہفتہ بھی اتوار ہو جاتا ہے۔ تیرے لۓ بھی آج اتوار ہی ہے۔ تختی بستہ رکھ دے، سکول نہیں جانا۔ وہ دن آج تک میری زندگی کا خوبصورت دن ہے اور مجھے یاد ہے کہ وہ ہفتہ کیسے اتوار بن گیا اور وہ سارا دن میں نے کتنی خوشی کی لہر میں گزارا۔ میں اسے باوصف اس لۓ نہیں بھول سکتا کہ مجھے زندگی میں بڑی کامیابیاں ملیں۔ میرے لۓ بڑے باجے بجے، بڑے کمرے سجاۓ گۓ لیکن اس خوشی کا میں آپ کو ترجمہ کر کے نہیں بتا سکتا، اس کی ترجمانی نہیں کر سکتا۔

ہمیں ایسی خوشیوں کی طرف رجوع کرنے کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ اب میں نے پچھلے دو ہفتوں سے یہ فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اپنے مشاہدے کی بنا پر کیا ہے کہ زندگی پر تھوڑا اختیار تو ہونا چاہیۓ یا اس پر کنٹرول حاصل کرنا چاہیۓ۔ یہ تو اپنی مرضی سے چلی آ رہی ہے۔

Life is Bigger than Life

میرا یہ مشاہدہ یہ دیکھ کر ہُوا کہ یوٹیلیٹی بلز جن کے بارے میں آپ روتے پھرتے ہیں۔ یہ آپ تک 24 گھنٹے کے اندر اندر پہنچ جاتے ہیں لیکن وہ چیک جو آپ کی تنخواہ یا محنت کا پیسہ ہوتا ہے وہ ایک ماہ سے پہلے آپ تک نہیں پہنچتا۔ بعض اوقات تو ایک مہینے سے بھی زیادہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔گنیز بک والوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے تین بڑے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ یہ بھی ہے کہ “ جی ہم نے آپ کا چیک روانہ کر دیا ہے۔ وہ بس پہنچنے ہی والا ہو گا۔“ حالانکہ چیک نہیں پہنچتا۔ میرے پوتے پوتیاں اور ان کے سکول کے باقی دوست ایک ہی موٹر پر آتے ہیں اور راستے میں وہ اپنے دوستوں کو ان کے گھروں میں چھوڑتے آتے ہیں لیکن میرے پوتے پوتیاں گھر آ کر اپنے انہی دوستوں سے فون کر کے بات کرتے ہیں اور خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیتے ہیں حالانکہ ابھی چند منٹ پہلے وہ انہیں چھوڑ کر آۓ ہوتے ہیں۔ جب میں پورا منہ کھولے بڑی تکلیف میں اپنے ڈینٹسٹ کے آگے بیٹھا ہوتا ہوں تو وہ بار بار مجھ سے پوچھتا ہے کہ " اشفاق صاحب تکلیف تو نہیں ہورہی" اور وہ ایک ایسے وقت پر پوچھتا ہے جب نہ میں بول سکتا ہوں نہ سر ہلا سکتا ہوں۔ بس زندگی بھی کچھ اسی ڈینٹسٹ اور مریض کی طرح سے ہے۔ اب میں جو دو ہفتوں سے سوچ رہا ہوں تو بڑے اعتدال پسندی کے موڈ میں ہوں۔ آپ پر بڑی نصیحتوں اور بابوں کی بات کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا۔ میری سوچ کی طرح آپ بھی سیر کریں۔ پرندوں بارے غور کریں۔ اچھا سوچیں کیونکہ جب تک آپ کے اندر کی pollution دور نہیں ہو گی باہر کی تو بالکل ختم نہیں ہو گی۔ پہلے اندر کی صفائی ہونی چاہیۓ۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اب زندگی میں Relaxed رہنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ میں اب زندگی کے اس آخری حصے میں کبھی Dieting نہیں کروں گا۔ میں 70 برس ڈائٹنگ کرنے کی کوشش کرتا رہا اور میرے ساتھ اور بھی عورتیں، لڑکیاں لڑکے زور لگاتے رہے لیکن وہ ڈائٹنگ نہیں کر سکے کیونکہ یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ پتہ نہیں یہ کیوں نہیں ہوتا۔ میری آپا رضیہ ایک دن اپنے خاوند سے کہنے لگیں کہ “ارشد آپ کو ڈائٹنگ کرنی چاہیۓ، دیکھیں نا آپ چلتے ہوۓ ایسے لگتے ہیں جیسے دو آدمی چل رہے ہوں۔“

لہٰذا ارشد بھائی نے ڈائٹنگ شروع کر دی۔ پھر دو ماہ کے بعد کہنے لگیں کہ آپ تو آم کی گٹھلی کی طرح چوسے ہوۓ لگتے ہیں۔ آپ اپنا چہرہ آئینے میں دیکھیں تو سہی، آپ نے اتنی لمبی اور خوفناک ڈائٹنگ کیوں کر لی۔

ارشد بھائی کہنے لگے، رضیہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم کو میری کون سے سائیڈ سے محبت ہے۔ کبھی تم موٹاپے پر تنقید کرتی ہو تو کبھی دبلے پن پر۔

خواتین و حضرات ڈائٹنگ مشکل کام ہے اور اگر اب میرے پوتے پوتیاں مجھے کہیں گے کہ نانا آپ چوڑائی کے رخ پھیلتے جا رہے ہیں تو میں کہوں گا کہ اب تو میں چوڑائی کے رخ ہی پھیلوں گا۔ "Let Me Relax"

میں نے دوسرا فیصلہ یہ کیا ہے کہ میری میز پر جو گند پڑا ہوتا ہے، جو ٹوٹی سرنجیں جن سے میں پین میں سیاہی ڈالتا ہوں، پرانے پین، پھٹی پرانی کتابیں اور سوکھی دواتیں پڑی ہوئی ہیں، یہ میں اب ویسے ہی پڑی رہنے دوں گا۔ میں صفائی نہیں کروں گا۔ میری بے ترتیبی اور صفائی نہ کرنے پر میری بیوی مجھے کہا کرتی ہے کہ کیا یہ پڑھے لکھے لوگوں والا کام آپ کرتے ہیں کہ کسی چیز کی آپ کو خبر ہی نہیں ہے اور میں اس کی باتیں سن کر شرمندہ ہو جاتا ہوں۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں شرمندہ بھی نہیں ہوں گا۔ میں آپ سے بھی یہی درخواست کروں گا کہ اب آپ بھی اپنی شرمندگیوں کو، اپنے دکھوں اور دباؤ کو کم کرنا شروع کریں اور ایک آزاد اور ہلکی پھلکی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔ خواتین و حضرات میرے سر پر کچھ کتابوں کا بوجھ تھا کہ یہ ضرور پڑھنی ہیں اور ختم کرنی ہیں۔ میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں History of God کے ساتھ ساتھ مولانا رومی کی مثنوی بھی شروع کروں گا اور کسی پریشانی کا اظہار نہیں کروں گا کیونکہ بلا وجہ کا اتنا سارا بوجھ لے کر میں کیا کروں گا۔

(پروگرام میں شریک ایک خاتون سوال کرتی ہیں)

سوال : اگر ہم اپنی ذات کو عذاب میں مبتلا نہیں کریں گے اس وقت تک ہم کامیاب زندگی کیسے بسر کریں گے۔

اشفاق احمد : میرے ارد گرد کامیاب زندگی بسر کرنے والے بہت سے لوگ ہیں، جنہوں نے زندگی سے پیار نہیں کیا بلکہ کامیابی سے پیار کیا ہے۔ جب آپ زندگی کو کامیابی سے علٰیحدہ کر دیتے ہیں اور زندگی کو مقفل کر دیتے ہیں اور صرف کامیابی کو پکڑ لیتے ہیں تو پھر آپ کی کیفیت وہی ہوتی ہے جو ابھی ماضی قریب میں ہم نے دیکھا کہ جن لوگوں نے بہت پیسے اکٹھے کر کے اپنی زندگیاں بنائیں پھر ان پر بدعنوانی کے مقدمات چلے اور پھر ان کی گردنیں ناپی گئیں۔ کامیاب ہونا اور چیز ہے، زندگی کے ساتھ وابستہ رہنا الگ چیز ہے۔ بے شک بچوں کو ہم سب استاد یہی کہتے ہیں کہ عذاب میں مبتلا ہوۓ بغیر کامیابی ممکن نہیں لیکن آج میں آپ لوگوں کے سامنے اپنا دل کھول کے لایا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میں کامیاب بھی ہوں اور میری زندگی بھی خوشگوار اور ضمیر بھی مطمئن ہو۔ صرف کامیابی ہی کامیابی نہ ہو۔ ترقی اور فلاح میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے۔ ترقی فلاح نہیں ہے فلاح کے اندر ترقی موجود ہے۔ خالی ترقی آپ کا ساتھ نہیں دے گی۔ اب میں نے یہ جو فیصلے کۓ ہیں یہ آپ کی مرضی کے بغیر کۓ ہیں لیکن آپ مجھے اس بات کی اجازت دیں اور کہیں کہ “ ٹھیک ہے بابا آپ اپنی زندگی اپنی مرضی کے مطابق گزاریں لیکن اس میں فلاح کا رخ ہو اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالٰی اب میری زندگی میں فلاح کا رخ ضرور ہو گا۔ میں صرف ترقی کی طرف جانے والا نہیں ہوں گا۔ اگر میں خالی ترقی کی طرف جاؤں گا تو پھر میں ڈیزی کٹر (وہ تباہ کن بم جو امریکہ نے افغانستان میں استعمال کۓ) بناؤں گا۔ پھر میں تورا بورا کو فنا کر کے ریت میں تبدیل کر دوں گا۔ مجھ ایسی ترقی نہیں چاہیۓ۔ مجھے زندگی سے پیار کرنے کی اجازت دیں اور میں بھی آپ کو یہ اجازت دیتا ہوں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ آمین۔ خدا حافظ۔

پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15