عالم اصغر سے عالم اکبر تک

ہم سب کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ہمارے ہاں بڑی دیر سے عالمِ اکبر کا تصور چلا آ رہا ہے اور اس پر بڑا کام بھی ہوا ہے اور اِس کے بارے میں صاحبِ حال لوگ جانتے ہیں اور جو اس میں گزرے ہیں ان کی کیفیت ہم لوگوں سے ذرا مختلف رہی ہے۔

Macrocosm (عالمِ اکبر) کے ساتھ ساتھ Microcosm (عالمِ اصغر) کا بھی سلسلہ چلا، کہ جو کچھ ہے وہ اس خدا کی طرف سے ہے۔ مغرب کے لوگ خاص طور پر امریکہ اور روس نے اس موضوع پر بڑا کام کیا ہے۔ ہمارے ہاں مشرق میں مولانا روم نے اور ان کے بعد مولانا روم کے شاگرد حضرت علامہ محمد اقبال نے بھی اس پر بہت کچھ لکھا اور بتایا ہے لیکن اس کے اسرار اہستہ اہستہ اس وقت کھلنے لگے جب مغرب میں Parapsychology کا علم بطورِ خاص پڑھایا جانے لگا اور اس کی تفاسیر باہر نکلنے لگیں۔ امریکہ کی انیس کے قریب یونیورسٹیوں جن میں نارتھ کیرولینا کی یونیورسٹی بہت معروف ہے وہ اس سلسلے میں بہت آگے ہے۔ بھارت کی گیارہ کے قریب یونیورسٹیاں بھی اس پر کام کر رہی ہیں۔ ہم اس پر کام نہیں کرتے کیونکہ اس کو وقت کا ضیاع خیال کرتے ہیں یا سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل دقیانوسی تصور ہے لیکن West نے جو تصور قائم کیا ہے وہ Macrocosm اور Microcosm کا تصور تھا جسے عالمِ اکبر اور عالمِ اصغر کہتے ہیں۔ مغرب والے کہتے ہیں کہ عالمِ اکبر تو وہ کائنات ہے جو آپ کے اردگرد پھیلی ہوئی ہے اور عالمِ اصغر “میں “ ہوں یعنی چھوٹا سا ایک وجود، میرے سے لے کر مینڈک کا وجود۔ اب اس بات پر غور ہو رہا ہے اور بڑی اچھی لائینوں اور خطوط پر سوچا جا رہا ہے کہ عالمِ اکبر کا عالمِ اصغر کے اوپر کوئی اثر پڑتا ہے یا عالمِ اصغر کا کوئی کیا ہوا کام عالمِ اکبر میں پہنچتا ہے؟

کیا یہ بات سچ ہے کہ

لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

وہ اس نتیجہ پر پہنچے ( خاص طور پر ویانا یونیورسٹی کے پروفیسر) ہیں کہ اس کا برا شدید اثر پڑتا ہے اور وہ بات جس پر ہم ہنسا کرتے تھے کہ جی ستاروں کا آدمی کے ساتھ اور اس کی قسمت کے ساتھ کیا تعلق ؟ ستارہ ستارہ ہے اور اس کی اپنی گردش اور اپنی چال ہے اور آدمی یہاں بیٹھا ہے آخر تعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکن علم بتاتا ہے کہ نہیں آدمی یہاں ایسے ہی بیٹھا نہیں ہے اس کے پُرکھوں اور Archie Types کے ذریعے ایک پورا عمل جاری ہے۔

میں معافی چاہتا ہوں کہ میں ایسے ہی Technically Detail میں چلا گیا۔ میں یہ بات آپ سے اس لۓ عرض کر رہا ہوں کہ 1953ء میں میں پہلی مرتبہ انگلستان گیا۔ میرے لندن میں بڑے پیارے دوست تھے جن سے ملے ہوۓ مجھے ایک عرصہ ہو گیا تھا۔ جن میں جاوید، اعجاز، الیاس، گرنجش اور جگجیت سنگھ وغیرہ شامل تھے۔ یہ سارے لوگ بی بی سی میں کام کرتے تھے اور انہوں نے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی ہوئی تھی۔ اس وقت بی بی سی کا ٹی ہاؤس ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہم سارے اکٹھے ہوتے تھے اور گپیں ہانکتے تھے۔ وہاں پر ہمارا دوست الیاس جو تھا وہ بڑا خاموش طبع آدمی تھا۔ وہ سدھانیہ سے پاکستان اور پھر یہاں سے انگلستان چلا گیا تھا۔ اسے بائیں کان سے سنائی نہیں دیتا تھا۔ لاہور میں اس نے آپریشن بھی کرواۓ لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس نے لندن سے بھی آپریشن کروایا لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مسئلہ لا علاج ہے۔ پہلے اس نے چارٹراکاؤنٹنگ کا کام شروع کیا لیکن وہ اس میں ناکام ہو گیا پھر اس نے بیرسٹری والا پڑھائی کا سلسلہ شروع کیا جو اس کے دوسرے دوست کر رہے تھے۔ اس میں بھی اس کا دل نہ لگا۔ یہ بس عجیب آدمی تھا۔ ایک دن ہم شام کو بیٹھے ہوۓ تھے تو جگجیت کہنے لگا“ اوۓ تم تو ہم سکھوں سے بھی گۓ گزرے ہو، یہ تمھاری اردو زبان بھی کیا زبان ہے اس میں تم لکھتے “ خ و آ ب“ ہو اور پڑھتے “ خاب“ ہو۔ لکھتے خ و ش“ ہو اور پڑھتے “خُش“ ہو۔ یہ تو کوئی زبان نہ ہوئی۔ اعجاز یہ سن کر کہنے لگا۔ دیکھو بھئی گرائمر کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ کافی دیر تک یہ بحث ہوتی رہی اور ہم بڑے غور سے اسے سنتے رہے۔ میں نے بھی اپنے علم کے مطابق اس موضوع پر بات کی۔ الیاس ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا کہ جگجیت سنگھ “ ایہہ جیہڑی خواب دے وچ‘و‘ اے نا ایہہ کیہندی اے میں نئیں بولدی بس اینا ای راز اے“ وہ اس مزاج کا آدمی تھا اور وہ کہتا تھا کہ “ بس میں نئیں بولدی“ وہ ذرا دھیما اور ڈھیلا سا آدمی تھا۔ مجھے اعجاز کہنے لگا کہ تو الیاس سے پوچھ کہ اس کے ساتھ یہاں کیا واقعہ گزرا۔ میں نے اس سے پوچھا کیوں بھئی تیرے ساتھ کیا ہوا؟ کہنے لگا یار میں نے ایک پڑھائی شروع کی ‘ پھر چھوڑ دی۔ پھر دوسری کی، اس میں بھی دل نہ لگا۔ میں تھوڑا سا پریشان تھا اور ایک دن شام کے وقت آ رہا تھا اور مجھے سینٹ جونز ووڈ سٹریٹ سے ہو کے البرٹ روڈ جانا تھا۔ البرٹ روڈ کراس کر کے پھر مجھے ریمنز پارک جانا تھا۔ میں Potato Chips کھاتا جا رہا تھا اور سڑک سنسان تھی۔ ایک اور سنسان گلی کے درمیان میں میں جب پہنچا تو ایک لمبے تڑمبے امریکن سیاح نے مجھ سے کہا کہ Do you know the hide park اور میں نے اس سے پتا نہیں کیوں کہہ دیا کہ Yes I know but I do not tell you کیونکہ اس طرح کا جواب دینے کا کوئی “تک“ نہیں تھا۔ وہ امریکی سیاح “کھبچو“ تھا اس نے “کھبے“ بائیں ہاتھ کا ایک گھونسا میری کنپٹی پہ مارا اور میں گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا۔ جب میں گھٹنوں کے بل گر گیا تو میں نے سر اٹھا کر اس سے کہا Thank you very much اور اس امریکی نے برجستہ کہا: you are well come

الیاس نے کہا کہ میں اس کے یہ الفاظ تو سن سکا لیکن پھر میں بے ہوش ہو گیا اور وہیں پڑا رہا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے ہوش آیا تو مجھے شرمندگی اس بات پر تھی کہ میں نے اسے “ تھینک یو“ کیوں کہا۔ مجھے چاہیۓ تھا کہ اسے جواباً مارتا یا پھر نہ مارتا۔ الیاس اب دوستوں کے تنگ کرنے پر جواز یہ پیش کر رہاتھا کہ غالباً اس کا جو گھونسا تھا وہ میری کنپٹی کے ایسی مقام پر لگا تھا جہاں سے شریانیں دماغ کے اس حصے میں جاتی ہیں جو بڑا ہی شکر گزار ہوتا ہے اور وہ تھینک یو تھینک یو کہتا ہے اور میں نے اسے مجبور ہو کر Thank you کہہ دیا۔

الیاس نے مزید بتایا کہ اگلے دن جب وہ صبح سویرے اٹھا ( میرے پاس ایک الارم تھا جو جب چلتا تھا تو اس کے ساتھ بی بی سی ریڈیو کی نشریات چلنا شروع ہو جاتی تھیں) اور جب الارم کے ساتھ ریڈیو چلا تو میں حیران رہ گیا کہ اس کی آواز کچھ عجیب سی تھی چناں چہ جب میں نے اپنے دائیں کان میں انگلی ڈال کے بند کیا تو میرا بایاں کان ڈن ڈناڈن کام کر رہاتھا۔ میں پھر چیخ مار کے باہر نکلا اور اپنی لینڈ لیڈی سے لپٹ گیا اور خوشی سے کہا کہI can listen and hear from both Ears وہ بھی بڑی خوش ہوئی اور کہا کہ Really Ilyas?

میں نے کہا کہ بالکل تم کچھ لفظ بولو اور اس طرح وہ میرا ایک کان بند کرکے ٹیسٹ لیتی رہی۔ الیاس کہنے لگا کہ میں اب سوچتا ہوں کہ کیا یہ حادثاتی واقعہ تھا؟ ایسے ہی ہو گیا یا ایک آدمی کو کیلی فورنیا سے نیویارک، نیویارک سے لندن بھیجا گیا اور وہ چلتا ہوا اور سارا سفر طے کر کے یہاں پہنچا اور عین اس وقت اس گلی میں پہنچا جب کہ مجھے بھی وہاں سے گزرنا تھا اور ایک شریف آدمی کی طرح میں نے اسے راستہ بتانا تھا جو دراصل میری طرف سے حماقت کے مترادف تھا اور میں نے اس کے برعکس اسے کیوں کہا کہ ہاں راستہ تو میں جانتا ہوں، بتاؤں گا نہیں۔

یہ سب کچھ کیا ہے؟ اور اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اور کیا ہم بڑی کائنات میں جو عالمِ اکبر ہے اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور جو جو کچھ وہاں سے طے ہوتا ہے یا لکھا گیا ہے اور کیا اس لکھے کے مطابق سارے کام ہو رہے ہیں یا کہ ہمارے سارے افعال انفرادی طور پر طے پاتے ہیں۔ یہ بات ان دنوں بی بی سی کی کینٹین میں زیرِ بحث تھی لیکن کوئی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتاتھا اور سارے الیاس کو اس کی خام خیالی اور نالائقی کی بات ہی قرار دیتے تھے۔ اس وقت شاید عالمِ اکبر اور عالمِ اصغر کا علم اس قدر آگے نہیں بڑھا تھا۔ ہم جب بھی اس حوالے سے بحث کرتے ہیں تو اکثر بات میں یہ کہتے ہیں اگر اللہ پر پورا ایمان ہو اور اگر انسان کو اپنی ذات پر اعتماد ہو یا اگر انسان کی خودی بلند ہو تو وہ کچھ کر سکتا ہے۔ پھر خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب تو کتابی باتیں ہیں اور ٹیکسٹ کی باتیں ہیں جو ہم نے پڑھی ہوئی ہیں۔ ہم تو یہ پوچھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اللہ پر ہم ویسا اعتماد کیسے لائیں جیسا کہ ہونا چاہیۓ اور جس طرح کے اعتماد کا ہم ذکر کرتے ہیں، میرے ابا جی نے بتایا تھا کہ اللہ میاں ہوتے ہیں اور میں اس بات کو لے کر چلا آ رہا ہوں۔ اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں، فوت ہو جاؤں گا اور اس کا محض یہی تصور میرے ساتھ رہے گا۔ زندگی کے اور بھی تو بہت سارے معاملات ہیں۔ ان میں ہمارا کتابی اور ٹیکسٹ بک کا علم وہ ہمیں ایک بات فیڈ کر دیتا ہے لیکن وہ ہمارا سہارا نہیں بنتا۔ آگے نہیں لے جاتا لیکن جو مرشدوں اور گروؤں کا علم ہوتا ہے وہ انفارمیشن کے علم سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ انفارمیشن کا علم وہ ہے جو ہم اور آپ نے حاصل کیا ہے۔ یہ علم ہمیں اطلاعات کے طور پر ملتا ہے اور استاد اور طالب علم کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ ہوتا ہے اور علم دور کھڑے ہو کر یا چاک سے لکھ کر دور بیٹھے سٹوڈینٹس کو فراہم کیا جاتا ہے اور یہ فلائنگ علم Flying Kiss کی طرح سے پہنچتا ہے اور ایسے ہی اثرانداز ہوتا ہے جیسے Flying Kiss اثر انداز ہوتی ہے ( اس مثال پر معافی چاہتا ہوں) لیکن گرو کا جو علم ( ہے) وہ اس سے مختلف ہے۔ یہ اس لۓ مختلف ہے کہ گرو اور چیلے کے درمیان یا مرشد اور مرید کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا، فاصلہ رکھا نہیں جاتا۔ قربت ہوتی ہے۔ مرشد چٹائی پر بیٹھ کر مرید کو تعلیم دیتا ہے اور مرید تعلیم حاصل کرتا ہے۔ اکثر و بیشتر اس کے ہاتھ گرو کے پاؤں پر ہوتے ہیں یا زانوں ہر ہوتے ہیں۔ اتنی قربت کے باعث وہ اپنے استاد یا مرشد کے اتنے قریب آ جاتا ہے کہ وہ اس کو بہت اچھا لگنے لگتا ہے اور اسے اپنے گرو یا مرشد سے پیار ہو جاتا ہے اور ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ وہ شاگرد شوق میں آ کے فرطِ محبت سے اپنے گرو کی “ چھنگلی“ کھا جاتا ہے۔ گرو اس کو نہ منع کرتا ہے نہ اس کو انکار کرتا ہے اور اسے کھانے دیتا ہے۔ دوسرے دن شاگرد اس کی دوسری “ چھنگلی“ بھی کھا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ سارے مرشد کو کھا جاتا ہے۔ اب مرشد اس کے پیٹ کے اندر ہے اور معدے میں اتر کر اس کی رگ رگ میں سرائیت کر گیا ہے اور مرشد کا سارا علم سارے کا سارا مرید کے بدن کے اندر خون کی صورت دوڑنے لگتا ہے۔ اسی لۓ آپ نے دیکھا ہو گا کہ آستانوں پر جب میلاد یا درود شریف کی محفل ہوتی ہے تو (خاص طور پر سلسلۂ نقشبندیہ میں، کیونکہ میں نے ولایت میں اکثر ایسے ہی دیکھا ہے۔ لندن اور نیویارک میں بھی وہاں انگریز ترک بھی خوب درود شریف پڑھتے ہیں) تو وہاں کھڑے ہو کر ایک شجرہ پڑھا جاتا ہے جس میں شاعری نہیں ہوتی۔ وہ ایسے ہی ہوتا ہے کہ

“ میرے پـیر اولیـا کے واسطے حضرت نظام الدین کے واسطے“

وہ اس طرح سے پڑھتے چلے جاتے ہیں اور ایک کے بعد ایک گرو کا نام آتا چلا جاتا ہے۔ وہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے۔ دوسرے نے پہلے سے علم حاصل کیا اور اس طرح یہ پٹی آگے چلتی جاتی ہے۔ اس طرح سے علم آگے سے آگے عطا ہوتا ہے۔ ولایت کی طرح ڈگریاں عطا نہیں ہوتیں۔ گرو کے علم میں یہ آسانی ہوتی ہے کہ آپ کو کتابی علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ ایسی جو بھی بات جس میں مرشد یا گرو بولتا ہے وہ کرتے ہیں تو وہی ہو گی جو مرشد کرتا رہا ہے۔ آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کے تین دن کھومتے رہیں وہ آپ کی نشونما کا باعث نہیں بن سکے گا جب تک وہ آپکے معدے میں نہ اتر جاۓ اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جاۓ اور پھر آپکو تقویت عطا ہوتی ہے۔ میں آپ اور ہم سب منہ کے اندر سے علم کو ایک دوسرے کے اوپر اگلتے رہتے ہیں اور پھینکتے رہتے ہیں اور پھر اس بات کی توقع کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی۔ حالانکہ میں نے یہ بات بڑی اچھی کی تھی اور بڑی سوچ سمجھ کے کی تھی اور وہ بات جو گرو آپ کو عالمِ اکبر سے عالمِ کبیر کے ساتھ وابستہ کر کے دیتا ہے اور اس کے اسرار و رموز بیان کرتا ہے جبکہ کتابی صورت میں صرف اپنا آپ پیش کر کے یا اپنے آپ کو فولڈر بنا کے پیش کیا جاتا ہے۔ میرا یہ ذاتی خیال ہے کہ کہ واقعی جو عالمِ صغیر ہے جو میں ہوں‘ جو آپ ہیں یہ سارے کے سارے بنی آدم "اداۓ یک جگرن" کی طرح سے ہیں اور جب اقبال کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ انسان تو بڑی حدیں عبور کر کے کئی بار تو عالمِ کبیر سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔

بات الیاس میاں سے کہاں سے کہاں چلی گئی لیکن اگر وہ واقعی عالمِ اصغر اور عالمِ اکبر میں کسی وابستگی کو جاننے کے خواہاں ہیں تو اس کے لۓ ہمارے بزرگوں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ آپ اپنے نفس کو جان جائیں تو پھر آپ خدا کو جان لیتے ہیں، پا سکتے ہیں اور جب خدا کو جان جائیں گے تو پھر آپ عالمِ اکبر سے بھی آگے گزر جائیں گے۔ اپنے نفس کو جاننے کے لۓ بڑی اہم بات اور فارمولا یہ ہے کہ شام کے وقت آپ مغرب کی نماز کے بعد دیوار کے ساتھ “ڈھو“ لگا کر اپنے آپ کو اور اپنے اس چھوٹے سے چوزے کو تلاش کریں جو بڑے بڑے تختوں کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ وہ چوزا ہمارا نفس ہے۔ اس کے اوپر ہم نے بڑے بڑے تختے لگاۓ ہوۓ ہیں۔ ایک تختہ ہوتا ہے دانشور، ایک ہوتا ہے پہلوان۔ ایک لیڈر کے نام کا ہوتا ہے۔ ایک امیر آدمی کے نام سے ہوتا ہے تو دوسرا کسی اور نام کا۔

اس طرح ہم بچپن سے لے کر اوپر تک بہت سارے “پھٹے“ لگاتے چلے جاتے ہیں تو جب ہمارا چوزا باہر بازار میں نکلتا ہے تو یہ تختے کھڑکنے لگتے ہیں اور سارے لوگ دیکھتے ہیں کہ جناب وہ ہیرو جا رہا ہے۔ جناب وہ رائٹر جا رہا ہے۔ یہ اشفاق صاحب ہیں جی اور دانشور ہیں۔ اگر کوئی باہمت آدمی جس طرح کچھ لوگ کرتے بھی ہیں وہ ہمت سے زور لگا کر، کندھا دے کر ان پھٹوں یا تختوں کے نیچے سے اپنے نفس کو نکال کر اس کی اصل شکل و صورت سے آشنائی حاصل کر کے عالمِ اکبر سے وابستہ ہو کر بہت آگے نکل جاتے ہیں اور جو کہا گیا ہے کہ “جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔“ اور رب کو پہچان لینے کے بعد کوئی مشکل رہ ہی نہیں جاتی ہے۔ دنیاوی زندگی میں سب سے مشکل کام اس تختے کو ہٹانا ہے جو ہم نے بڑی محنت سے بڑے بڑے وزنی صندوقوں میں اپنے اوپر بٹھا رکھے ہیں۔ اب یہ سب آپ کے سامنے ہیں۔ میں تو ساری زندگی ان تختوں کو ہٹا نہیں سکا۔ میں تو ان پھٹوں تختوں سمیت ہی لحد میں جاؤں گا اور فرشتے وہ تختے دیکھ کر حیران ہوں گے کہ یہ کن چیزوں کو اپنے ساتھ لگاۓ پھرتا ہے جس طرح لوگ اپنی ڈگریوں کو فریم کر کے لگاتے ہیں‘ ہمارے بزرگ اپنے نفس کی تلاش کے کام کو تلاوت الوجود کہتے ہیں کہ اپنے وجود کی تلاوت کرو۔ الیاس میاں ابھی تک لندن میں ہی ہے لیکن ابھی تک اس کا وہاں دل نہیں لگا اور وہ ابھی تک یہی سمجھتا ہے کہ “ خواب“ کی “و“ ہم سب سے ناراض ہے اور کہتی ہے کہ جا میں نہیں بولتی۔

بڑی مہربانی، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: فریب
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود