نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بابے کی تلاش

بڑے برسوں کے بعد کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ میں سینما دیکھنے گیا۔ کالج کے زمانے میں ہم “منڈوا“ (سینما) دیکھنے جایا کرتے تھے۔ تب بھی اس وقت ہی جاتے تھے جب Matinee Show ہوتا تھا اور اتنے سال کے بعد جب دوبارہ سینما جانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو بھی یہ میٹنی شو ہی تھا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کئی پروگراموں میں ذکر کر چکا ہوں کہ لوگ مجھ سے اس پروگرام کی مناسبت سے کسی بابے کا پتہ پوچھتے ہیں یا پوچھتے ہیں کہ ہم روحانیت کی منازل تلاش کر سکیں یا ہمیں کوئی ایسا طریقہ بتا دیں کہ ہم باطن کا پتہ کر سکیں اور اس منزل پر پہنچیں جہاں تک پہنچنے کے لۓ ہمیں کہا گیا ہے اور میں ان سے اکثر یہی عرض کیا کرتا ہوں کہ بابوں کی دنیا وہ ایسے نہیں ہے کہ جس طرح وہ کسی ماہر ڈاکٹر کا پتہ ہو اور آپ آرام سے کسی ماہرِ طبیب یا سپیشلسٹ کا پتہ اور فون نمبر حاصل کر لیں یا آپ کا نامی گرامی وکیل جو کبھی ہارتا ہی نہ ہو اس کے چیمبر کا پتہ، فون یا فیکس نمبر لے لیں بلکہ یہ بابے تو آپ کے اندر سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جب آپ تہیہ کر لیتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں بالکل ایسا ہی فیصلہ جس طرح آپ اور آپ کے گھر والے کرتے ہیں کہ آپ نے بی۔اےکرنا ہے۔ جس طرح بی۔ اے کرنے کے لۓ چودہ برس کا عرصہ درکار ہوتا ہے اسی طرح باطن کے سفر کے لۓ بھی آپ کو اپنی ذات کے لۓ ویسا ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ دیکھئے۔۔۔۔!

انسان جو ہے وہ دوسرے جانداروں کے مقابلے میں ایک مختلف جاندار ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر جانداروں میں بھی جان ہوتی ہے اور انسان میں بھی جان ہے اور انسان بھی دوسرے جانداروں کی طرح حرکت کرتا ہے، بولتا اور چلتا پھرتا ہے لیکن ان دونوں میں ایک بڑا واضح فرق ہے کہ انسان میں روح ہوتی ہے اور جانوروں میں روح نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر چار بکرے کھڑے ہیں ان میں سے ایک کو ذبح کر دیں۔ اس کی کھال اتاریں اور باقی تین کو چارہ ڈال دیں تو وہ بڑے شوق سے چارہ کھانے لگ جائیں گے اور ان کی توجہ نہیں ہو گی کہ ان کا ساتھی تختہ دار پر چڑھ چکا ہے۔ انہیں کوئی ملال یا دکھ نہیں ہو گا۔ دوسری طرف ایک انسان کو آپ قتل کر کے پھینک دیں یا خدانخواستہ قتل کۓ جانے کے بعد کہیں پڑا ہو اور آپ وہاں لوگوں سے کہیں کہ آپ سکون سے بیٹھ کر سکون سے کھانا کھائیں یا خوش رہیں تو وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ میں جہاں تک جان سکا ہوں وہ یہ ہے کہ روح اور جان میں ایک یہی فرق ہے کہ جان ہر جاندار کا ایک چھوٹے لیول پر ساتھ دیتی ہے لیکن جو روح عطا کی گئی ہے وہ صرف انسان کو دی گئی ہے۔ہر انسان کے اندر ایک ایسی چِپ لگا دی گئی ہے اور پہلے سے پروگرامنگ کر دی گئی ہے جس طرح آپ نے اپنے جسم اور اپنی جان کو پرورش کی آنکھ سے دیکھنا ہے بالکل اسی طرح سے آپ نے اپنی روح کو بھی ان بلندیوں پر لے جانا ہے جن بلندیوں سے یہ اتر کر آپ کے وجود کے ساتھ پوست ہو جائے اگر آپ یہ پوچھتے رہیں گے کہ جناب مجھے بتائیے کہ ہم یہ کیسے کریں؟ تو آپ کی یہ بات محض کتابی اور اکتسابی سی بات ہی ہوگی۔ آپ ایک تجسس کے طور پر ہی پوچھیں گے کہ ایسے بھی ہوتا ہے؟ اور فرض کریں کہ آپ کو بتا بھی دیا جائے کہ فلاں صاحب بڑی روحانی منازل طے کر چکے ہیں اور ان کے پاس سمجھانے اور بتانے کے لۓ کچھ ہے اور اس کے بعد آپ تہیہ بھی کریں کہ ان سے کچھ حاصل کریں تو آپ یوں ان سے کچھ حاصل نہ کر سکیں گے کہ آپ کی ایک آنکھ اور سارا وجود اور اس کے ساتھ نصف دماغ اس بات پر متعین ہو جائے گا کہ میں اس صاحب کی کوئی ایسی چوری پکڑوں جس پر میں تنقید کر سکوں اور لوگوں کو بتا سکوں کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ عام طور پر جتنے بھی لوگ آتے ہیں وہ خاص طور پر ایسی ہی نگاہ رکھتے ہیں اور عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہم اس بات پر زیادہ نظر رکھتے ہیں کہ ایک آدمی سے بابے نے ہاتھ ملایا اور اس آدمی نے ہاتھ ملاتے ہوئے بابے کو پانچ روپے کا نوٹ دیا اور انہوں نے اسے لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا ۔ یہاں آ کر آپ کے سوچنے، سمجھنے اور اختیار کرنے کی ساری صلاحیتیں مسدود ہو جاتی ہیں کیونکہ اب آپ نے اس شخص کی چوری پکڑ لی ہے اور اس آدمی کو اپنے سے بدتر خیال کیا۔ میں آج سارے پروگرام میں اسی موضوع پر فوکس رکھوں گا کیونکہ مجھ سے عام طور پر یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ “بابوں“ کی باتیں کیوں کرتے ہیں۔ باتیں اس لۓ کرتا ہوں کہ یہ ہماری روح کو بلندی عطا کرنے کے لۓ ہماری مدد کرتے ہیں اور ہماری روح کو ارتفاع اور بلندی اس صورت میں عطا ہوتی کہ ہم دوسرے جانداروں کے مقابلے میں خود کو ثابت کریں کہ ہم حرکت، سوچ اور کھانے پینے میں Movement اور Reproduction میں تو ان کے ساتھی ہیں لیکن ہم ان سے آزاد ہیں اور ان معنوں میں آزاد ہیں کہ “ اگر ہم چاہیں تو کریں اور چاہیں تو نہ کریں۔“ بھینس جب کھیت میں سے گزرتی ہے تو وہ آزاد نہیں ہوتی وہ ہر صورت میں چارہ کھانے یا اِدھر اُدھر منہ مارنے پر مجبور ہوتی ہے۔ جانور کی نسبت ایک آدمی چالیس افراد کو یا پانچ سو افراد کو کھانے کی دعوت پر بلا سکتا ہے، کھانا کھلا سکتا ہے اور خود الگ سے کھڑا ہو سکتا ہے کہ میرا روزہ ہے میں نہیں کھاؤں گا۔ اگر وہ روزے سے نہ بھی ہو تو بھی وہ اگر ضروری خیال کرے تو کھا پی لے اگر چھا ہے تو نہ کھائے۔ اس کی Animal Drive جو ہے وہ اس کی Instinctive Drive ہے اور وہ اس پر کنٹرول کرتا ہے اور یہ اس کی روح ہے جو اسے کنٹرول کی طاقت اور بلندی عطا کرتی ہے۔ اس کے لۓ اگر آپ مجھ سے بار بار اصرار کریں کہ آپ کو وہ راستہ بتایا جائے جس کی معرفت ایسے آدمی سے آپ ملاقات کر سکیں جو آپ کی روح کی سر بلندی میں آپ کی مدد کرے تو اس حوالے سے میں عرض کروں گا کہ اس کے لۓ آپ کو آنکھ کھول کر رکھنی ہو گی اور منہ بند کر کے رکھنا ہو گا۔ ایک مرتبہ سمندر کے اندر ایک چھوٹی مچھلی نے بڑی مچھلی کو روک کر کہا کہ “ آپا مجھے بتاؤ کہ سمندر کہاں ہے میں بڑی پریشان پھرتی ہوں، مجھے سمندر نہیں ملتا، میں نے سمندر کا لفظ سن رکھا ہے۔“

اس پر بڑی مچھلی نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ جہاں ہم دونوں کھڑی ہیں یہ ہی سمندر ہے۔ چھوٹی مچھلی بولی واہ آپا آپ نے بھی وہی بات کی جو سارے لوگ کرتے ہیں۔ یہ تو پانی ہے سمندر نہیں ہے اور وہ یہ کہہ کر وہاں سے چل پڑی، اسے بڑی مچھلی آوازیں دیتی رہی کہ رُک جاؤ۔ میری پوری بات سن کر جاؤ اور یہ بات سننی تمھارے لۓ بہت ضروری ہے کہ اگر تم سمندر کی کھوج میں نکلو گی تو تمھیں سمندر نہیں ملے گا لیکن اگر آنکھیں اور اپنے کان کھول کر مشاہدہ کرو گی تو پھر وہ سمندر ضرور نظر آئے گا جس کی تمھیں تلاش ہے، لیکن بڑی مچھلی کی بات ختم ہونے سے قبل چھوٹی مچھلی بڑی دور جا چکی تھی اور اس نے میری طرح سے اپنی بڑی آپا کی بات نہیں سنی۔

32 سال کے بعد بلکہ اس سے بھی زیادہ سالوں کے بعد میں ایک بار پھر چند روز قبل سینما دیکھنے گیا۔ کڑی دھوپ تھی لیکن جب میں سینما کے اندر داخل ہوا تو مجھے اندر اندھیرا نظر آیا جیسا کہ باہر سے اچانک اندر جائیں تو آنکھیں چندھیائی ہوئی ہوتی ہیں۔ ہال میں میری سیٹ قریب ہی تھی اور میں بیٹھ گیا۔ اس کے بعد سکرین چلنے سے قبل ایک اور صاحب ڈائس پر آئے جنہوں نے روشنی کے ایک ہالے کے اندر اس فلم کا تعارف کرایا کہ اس فلم کو بنانے کا مقصد کیا تھا اور کس لۓ چلایا گیا؟ اور کس لۓ ہم نے یہاں بطورِ خاص پڑھے لکھے لوگوں کو دعوت دی ہے۔ ان صاحب کو روشنی کے ہالے میں دیکھ کر مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ کوئی شخص کسی طرح کسی روشنی کے ہالے میں آ جائے تو وہ خودبخود اجاگر ہونے لگتا ہے، اس کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ دیکھو اس وقت میں اپنا آپ ظاہر کر رہا ہوں۔ فلم شروع ہوئی اور ہال میں بالکل اندھیرا چھا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہال کا دروازہ کھلا اور ایک تماشائی اندر داخل ہوا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ مجھے نظر تو نہیں آیا کیونکہ دروازہ بند ہو گیا تھا۔ جب دروازہ کھلا تھا تو اندر آنے والے شخص کا وجود مجھے نظر آیا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ یہ آدمی تو کسی صورت میں اپنی سیٹ تک نہیں پہنچ سکتا لیکن تھوڑی ہی دیر میں ایک ٹارچ جلی اور اس ٹارچ نے اس شخص کے پاؤں کے اوپر ایک چھوتا سا ہالہ بنایا اور اس ہالے کی مدد سے وہ شخص چلتا گیا، ٹارچ والا اس کے پیچھے پیچھے آتا گیا اور جہاں اس شخص کی سیٹ تھی اس کو بٹھا دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے پھر فلم تو کم دیکھی۔ یہی سوچتا رہا کہ اگر کسی شخص کی زندگی میں ایسا ہالہ آئے اور کوئی گائیڈ کرنے والا اسے میسر ہو تو پھر وہ شخص یقیناً اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے لیکن اس کے لۓ ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے، سینما کا رخ کرنا پڑتا ہے اور فلم کے لگنے کے اوقات کا علم ہونا چاہیۓ۔ دروازہ کھلنا چاہیۓ، پھر ٹارچ والا خودبخود آ کر مدد کرتا ہے اور آپ کو مدد کے لۓ کسی کو پکارنے یا آواز دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ آپ جب آوازیں دیتے ہیں، چیخ و پکار کرتے ہیں اور دنیا داری کے معاملات کے اندر رہتے ہوئے آہ و بکا کرتے ہیں تو پھر وہ ٹارچ والا نہیں آتا۔ اس طرح آپ بس پتے اکٹھے کرتے رہتے ہیں اور ٹیلیفون نمبر جمع کرتے رہتے ہیں لیکن وہ بات جو بڑی مچھلی نے چھوٹی مچھلی سے کہی تھی کہ آنکھیں کھول کے رکھو اور مشاہد بن کے رہو تاکہ تم پر سارے بھید آشکار ہوں اور روشن ہوں۔ اس مادی زندگی میں جس میں بار بار آپ کے دوست احباب، عزیز و اقارب مادہ پرستی کی بات کرتے ہیں کہ جی پاکستان میں لوگ بہت مادہ پرست ہو گئے ہیں، لوگوں میں پہلی سی محبت پیار اور یگانگت نہیں رہی۔ مادہ پرستی کا کھیل صرف پاکستان میں ہی نہیں چلا بلکہ ساری کی ساری دنیا اس وقت مادہ پرستی کے چکر میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کی یہ بری بات نہیں ہے، میں ایک ایسے علاقے میں رہا ہوں اور ایسی جگہ جنما پلا ہوں جہاں سانپ بہت ہوتے تھے اور کلر کے سانپ بکثرت پائے جاتے تھے۔ ہم بچپن میں جنگل میں جا کر یا ویران اور گرے پڑے گھروں میں سانپوں کی کینچلیاں اکٹھی کیا کرتے تھے۔ کیا آپ کو سانپوں کی کینچلیوں کا پتہ ہے؟ سانپ ایک خاص وقت پر سو جاتا ہے اور اس کے جسم کے اوپر ایک پلاسٹک کے شاپر بیگ کی طرح کی باریک کھال یا کینچلی چڑھ آتی ہے اور اس کینچلی پر اس سانپ کے سے نقش و نگار منتقل ہو جاتے ہیں اور سانپ ایک خاص عرصے کے لۓ اس کینچلی کے اندر رہ کر Hibernate کرتا ہے، تب وہ نہ سانس لیتا ہے نہ کھانا کھاتا ہے، بالکل مردہ یا سدھ بدھ ہوکے پڑا رہتا ہے۔ میں اس Economic World میں جب بھی اس کو ( کینچلی) کو دیکھتا ہوں تو غور کرتا ہوں کہ ہم سانپ ہیں جو Economics یا پیسے کی دوڑ کے اندر اپنے بدن پر کینچلی چڑھا کر خاموش پڑے ہوئے ہیں۔ ہم بے حس و حرکت ہیں اور ہمارا کوئی بس نہیں چلتا۔ ہمیں Consumer Goods بنانے والی کمپنیاں جس طرح چاہتی ہیں استعمال کرتی ہیں اور کرتی چلی آ رہی ہیں۔ خواتین و حضرات جس بات سے آپ خوفـزدہ ہیں زیادہ دیر تک چل نہیں سکے گی کیونکہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب سانپ کو اپنی Growth کے لۓ اس کینچلی کے اندر سے نکلنا پڑتا ہے اور وہ کمال سے اور بڑی عجیب و غریب حرکات و سکنات کر کے اپنے بدن کو پرانی ٹوٹی دیواروں سے رگڑ رگڑ اور گھسا گھسا کے کنج ( کینچلی) سے باہر نکلتا ہے اور اپنی وہ کینچلی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ جب وہ باہر نکلتا ہے تو زندگی میں اور زندگی کے دوسرے جانوروں کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ سانپ جس طرح اپنی نشونما کے لۓ ایک خاص وقت پر اس خول میں سے نکلتا ہے اور باہر آ کر زندگی میں شامل ہوتا ہے اور نئے انداز و ڈھنگ اور نئے سرے سے سانس لیتا ہے اسی طرح انسانوں کی یہ ساری بستیاں جو مجموعی طور پر اس وقت اپنی Economics کی کینچلی کے اندر لپٹی پڑی ہیں، ان کو اپنی گروتھ کے لۓ باہر نکلنا ہی پڑے گا اور یہ نکل کے ہی رہیں گی کیونکہ یہ معاشرہ، یہ دنیا اور خدائی اور جَنتا اس کام کے لۓ نہیں بنی جس میں اس کو داخل کر دیا گیا ہے یا ایک مخصوص کینچلی چڑھا دی گئی ہے۔ یہ بستیاں اپنی روحانی نشونما کے لۓ بنی ہیں اور ان بستیوں کے باسیوں کو اپنی روحانیت کا مظاہرہ کرنا ہے اور اپنے باطن کے سفر میں آگے نکلنا ہے۔ باطن کے اس سفر میں آپ شور و غوغا کر کے کسی کو ٹیلیفون کر کے، کسی کو Message بھیج کر یا کسی کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے ہوشیار کرکے نہ کوئی پیغام دے سکتے ہیں اور نہ لے سکتے ہیں۔ یہ خاموشی کی ایک دنیا ہے اس میں اگر آپ کبھی داخل ہو سکتے ہیں تو پھر ہی آپ اس کا مزہ لے سکتے ہیں۔ مت پوچھیں کہ ہمیں کسی بابے کا پتہ بتائیں، آپ خود بابا ہیں۔ جب آپ کو دیوار سے ڈھو ( ٹیک) لگا کر آرام سے بیٹھنا آ گیا اور دنیا کی سب سے بڑی عبادت یعنی آپ خاموشی میں داخل ہو گئے تو آپ کے اوپر انوار وبرکات کی بارش بھی ہونے لگے گی اور انواع و اقسام کا رزق بھی آپ کا مقدر بنتا چلا جائے گا۔ میں جب اٹلی سے لوٹا تو بحری جہاز“موتاناوے وکتوریہ“ کے ذریعے وطن آیا۔ یہ میرا آبی جہاز پر سفر کرنے کا پہلا تجربہ تھا۔ جب نیپلز کی بندر گاہ پر جہاز مغرب کے وقت آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا اور شہر کی روشنیاں دور ہونے لگیں تو وہ نہایت سست رفتاری کے ساتھ گہرے پانیوں کی طرف چل رہا تھا اور عشاء کے وقت تک شہر ہماری نظروں سے بالکل اوجھل ہو گیا اور ہم آ کر کھانے کی میز پر بیٹھ گئے اور اس کے بعد ہم اپنے اپنے کیبنوں میں آ کر لیٹ گئے۔ صبح اٹھے تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ جہاز کس رخ جا رہا ہے، اسے کون چلا رہا ہے اور یہ کیسے چل رہا ہے۔ ہم جب ناشتہ کر ہی رہے تھے تو سپیکر پر ایک آواز گونجی، وہ نہایت میٹھی سی Italian انداز میں انگریزی بولنے کی آواز تھی جو کہہ رہی تھی کہ “ میں کپتان بول رہا ہوں۔“ And I want to say some thing to you and give some instructions.

ہم سب نے یہ سن کر اپنا کھانا وہیں چھوڑ دیا اور کپتان کی آواز آتی رہی اور وہ ہمیں بتاتا رہا کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور کس طرح سے یہ گیارہ دن کا سفر اس کے ساتھ گزارنا ہے۔ نہ ہمیں کپتان کبھی نظر آیا، نہ اس سے تعارف ہوا، نہ ملاقات ہوئی اور نہ ہی اس سے ملنے کے مواقع میسر آئے۔ ایک صرف اس کی آواز ہی تھی جو آتی تھی اور ہمیں زندگی کے نئے مرحلے میں داخل کر جاتی تھی۔ میں نے اس وقت جب بہت طوفانی سمندر سے جہاز گزر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ ایک اور بھی کشتی ہے جس کو ہم دنیا کہہ سکتے ہیں اور اس کشتی کا ایک نگہبان اور کپتان بھی ہے جس کی آواز ہم تک پہنچتی رہتی ہے جو ہمیں ہدایات دیتا رہتا ہے اور احکام صادر کرتا رہتا ہے، وہ ہمیں دیکھائی نہیں دیتا، ہمیں ملتا نہیں ہے اور نہ ہی ملنے کی امید ہوتی ہے اور ہم اس کے حکم کے مطابق چلتے رہتے ہیں اور جو اس کے احکام ماننے والے ہوتے ہیں انہیں کسی بابے یا کسی Instructions دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ یہ خاموشی اور تنہائی کا سفر ہے جو بھی اس Silence کے سفر کو اختیار کرتا ہے اس کو بند اندھیرے کمرے میں ایک دروازہ ضرور نظر آتا ہے جس میں وہ روحانی طور پر داخل ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس اور ہمارے پاس روح کا وہ جلوہ موجود ہے اور وہ Chip جس کا میں نے پہلے ذکر کیا ہے وہ کسی اور کے Egnite کرنے سے نہیں چلے گا۔ وہ آپ ہی کی کوشش اور جدوجہد سے چلے گا لیکن یہ کوشش اور Struggle اس سے مختلف ہے جو آپ اکنامک ورلڈ میں کرتے ہیں یا جو آپ Competition میں کرتے ہیں اور جس طرح سے ہمیں حکم ہے جس طرح اسلام نے رخ مقرر کیا ہے کہ آپ نے اس رخ کھڑے ہونا ہےاور خدا نے تو فرمایا ہے کہ میں ہر جگہ موجود ہوں لیکن ہمیں حکم دیا کہ تم خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ساری کوشش شروع کرو۔ ہم نے سب سے پہلے رخ کو متعین کرنا ہے۔ اگر آپ روحانیت کی دنیا میں داخل ہونے کے ارزومند ہیں تو سب سے پہلے آپ کو اپنی ذات کو یہ سمجھانا پڑے گا کہ ہم ایک رخ لے کر اس طرف بڑھیں۔ پچھلے دنوں ایک جغرافیے کے رسالے میں میں نے ایک مضمون دیکھا جس میں لکھا تھا کہ بہت دیر پہلے لوگوں نے ایک چھوٹے سے جزیرے پر ایک عبادت گاہ بنائی اور اس میں دنیا کی ہر قسم کی دھات کی گھنٹیاں لگائیں اور وہ گھنٹیاں ہوا کے چلنے سے بجتی تھیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ جزیرہ آہستہ آہستہ زیرِ آب آگیا اور وہ مندر یا عبادت گاہ پانی کی آغوش میں آ کر ختم ہو گئی۔ کچھ پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ ابھی بھی وہاں پانی کے اندر سے گھنٹیوں کی آوازیں آتی ہیں اور جو سننے والے کان رکھتے ہیں انہیں وہ آواز اب بھی صبح شام آتی ہے لیکن ان سننے والوں کا کہنا ہے کہ آپ کو گھنٹیوں کی آواز سننے کے لۓ سمندر کی آواز سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ اس طرح خدا سے بات کرنے اور اس کو سننے کے لۓ مخلوق کے درشن کرنا ہوں گے جو لوگ مخلوقِ خدا کے متعلق غور کرتے ہیں اور اس کے ہو جاتے ہیں اور مخلوقِ خدا کی خدمت کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں یا وہ لوگوں سے کیڑے نکالنا بند کر دیتے ہیں ان کو کسی بابے، رہنما یا ہادی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ ڈائرکٹ اس آواز میں پہنچ جاتے ہیں جو سمندر کے نیچے چھپے ہوئے عبادت کدے کو ہر وقت نمودار ہوتا دیکھتے رہتے ہیں۔

خدا آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔ اللہ حافظ۔

 بشکريه: اردو لائبریری
ٹائپنگ: فریب
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تعلق کیا شے ہے؟

یہ بھی حسیات سے تعلق رکھنے والی غیر مرئی خوبیوں میں سے ایک کیفیت ہے، جسے محسوس تو کیا جا سکتا ہے لیکن سمجھنے پر آئیں تو سمجھ نہیں سکتے۔ ماں کی محبت کے تعلق کو مامتا کہہ کر واضح نہیں کر سکتے۔ ڈکشنری میں یا لٹریچر سے اس کی وضاحتیں ملتی ہیں، مامتا نہیں ملتی۔ جہاد پر جان سے گزر جانے والے بہادر کے جذبے کو اس وقت تک سمجھا نہیں جا سکتا، جب تک آپ خود ایسی بہادری کا حصہ نہ بن جائیں۔ تعلق، زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لیے صبر کی مانند ایک ڈھال ہے۔ جب کبھی جہاں بھی سچا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، وہاں قناعت، راحت اور وسعت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ آپ کو اندر ہی اندر یہ یقین محکم رہتا ہے کہ "آپ کی آگ" میں سلگنے والا کوئی دوسرا بھی موجود ہے، دہرا وزن آدھا رہ جاتا ہے۔


غلط فہمی

ایک شام ہم لندن میں فیض صاحب کے گرد جمع تھے اور ان کی شاعری سن رہے تھے ۔ انہوں نے ایک نئی نظم لکھی تھی اور اسے ہم بار بار سن رہے تھے ۔ وہاں ایک بہت خوبصورت ، پیاری سی لڑکی تھی ۔ اس شعر و سخن کے بعد " سیلف " کی باتیں ہونے لگیں ۔ یعنی " انا " کی بات چل نکلی اور اس کے اوپر تمام حاضرین نے بار بار اقرار و اظہاراورتبادلہ خیال کیا ۔ اس نوجوان لڑکی نے کہا فیض صاحب مجھ میں بھی بڑا تکبر ہے اور میں بھی بہت انا کی ماری ہوئی ہوں ۔ کیونکہ جب صبح میں شیشہ دیکھتی ہوں تو میں سمجھتی ہوں کہ مجھ سے زیادہ خوبصورت اس دنیا میں اور کوئی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فیض صاحب کو بڑی " سینس آف ہیومر " دی تھی ۔ کہنے لگے بیبی ! یہ تکبر اور انا ہر گز نہیں ، یہ غلط فہمی ہے ۔ ( انہوں نے یہ بات بالکل اپنے مخصوص انداز میں لبھا اور لٹا کے کی ) وہ بیچاری قہقہے لگا کے ہنسی ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ 104


قدرتی طرز زندگی۔۔۔

آپ اپنی کار دس پندرہ میل پہاڑ کے اوپر لے جا سکتے ہیں لیکن آپ کو یقین ہوتا ہے کہ چوٹی پر پہنچنے کے بعد پھر اترائی ہی اترائی ہے۔ یہ یقین اس لیے ہوتا ہے کہ آپ قدرت کے رازوں سے واقف ہیں اور پہاڑ کے خراج کو سمجھتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کار مسلسل اوپر ہی اوپر نہیں جا سکتی، نہ ہی نیچے ہی نیچے جا سکتی ہے۔ یہ صورتیں بدلتی رہتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ چینی فلسفے والے اس کو ین اور یانگ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہم لوگوں سے زندگی میں یہی غلطی ہوتی ہے کہ ہم لوگ متبادل کے راز کو پکڑتے نہیں ہیں، جو شخص آگے پیچھے جاتی لہر پر سوار نہیں ہوتا وہ ایک ہی مقام پر رک کر رہ جاتا ہے۔ (گلائیڈر جہازوں کے پائلٹ اس راز کو خوب سمجھتے ہیں) وہ یہی سمجھتا رہتا ہے کہ پہاڑ پہ اوپر ہی اوپر جانا زندگی سے نیچے آنا موت ہےئ۔ وہ زندگی بھر ایک نفسیاتی لڑائی لڑتا رہتا ہے اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتا ہے۔ ایک سمجھدار انسان جب زندگی کے سفر پر نکلتا ہے تو آسان راستہ اختیار کرتا ہے۔ وہ بلندی پر جانے کا پروگرام بنا کر نہیں نکلتا کہ نشیب میں اترنے کے خوف سے کانپتا رہے وہ تو بس سفر پر نکلتا ہے ا…

خوبی سے تباہی

بڑی دیر سہیل مجھے امریکہ کے متعلق بتاتا رہا۔ "وہ ملک بھی کھوکھلا ہو گیا ہے۔۔۔ انسانوں کی طرح ملک اور قومیں بھی ہمیشہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی خوبیوں کے ہاتھوں تباہ ہو جاتی ہیں۔۔۔" ہمیشہ کی طرح وہ بہت چمکدار اور ذہین تھا اس کے چہرے پر تمام تر امریکی چھاپ تھی۔ "کیسے؟۔۔۔ سر۔" "خوبی وہ چیز ہے جس پر انسان خود اعتماد کرتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے لوگ اس کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ر فتہ رفتہ یہ خوبی اس کی اصلی اچھائیوں کو کھانے لگتی ہے اسی خوبی کی وجہ سے اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسی خوبی کے باعث وہ انسانیت سے گرنے لگتا ہے۔ فرد۔۔۔ قومیں۔۔۔ سب اپنی خوبیوں کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں۔"


خواہشات اور تمنائیں

میں یہ سمجھتا ہوں اور میرے بابوں نے یہ بتایا ہے کہ اگر آپ اپنی خواہشوں کو، اپنی تمناؤں کو، اپنی آرزؤں کو زرا سا روک سکیں جس طرح آپ اپنے پیارے "ڈوگی" کو کہتے ہیں، "تم زرا باہر دہلیز پر ٹھہرو، میں اپنا کام کرتا ہوں پھر میں تمھیں لے کر چلوں گا" تو خواہشات کو بھی سنگلی ڈال کر چلیں اور خواہشات کو جب تک آپ پیار نہیں کریں گے، اسے نچائیں گے نہیں، اس کو گلستان کی سیر نہیں کروائیں گے وہ چمٹ جائیں گی آپ سے۔ لاتعلقی، آپ اور آپ کی تمناؤں کے درمیان سنگلی ہوتی ہے اور ایک عجیب طرح کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اسی طرح خواہش کے اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ ہونا چاہیے اس کو کھلائیں، ساتھ رکھیں، لیکن اس کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔