نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Autograph - آٹو گراف

میں اب جب کبھی اپنے بالا خانے کی کھڑکی کھول کے دیکھتا ہوں تو میرے سامنے ایک لمبی گلی ہوتی ہے جو بالکل سنسان اور ویران ہوتی ہے۔ جب میں اسے دور تک دیکھتا ہوں تو لے دے کے ایک ہی خیال میرے ذہن میں رہتا ہے کہ یہاں وہ شخص رہتا ہے جس نے 1982ء میں میرے ساتھ یہ زیادتی کی تھی کہ اس کے سامنے وہ شخص رہائش پذیر ہے جو 1971ء میں میرے ساتھ قطعِ تعلق کر کے اپنے گھر بیٹھ گیا اور اس کے بعد سے ہم نے ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کی۔ سارے محلے میں سارے رشتے کچھ اسی طرح کے ہو چکے ہیں اور باوصف اس کے کہ کہیں کہیں ہم ایک دوسرے سے سلام و دعا بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے احوال بھی دریافت کرتے ہیں لیکن اندر سے ہم بالکل کٹ چکے ہیں اور ہمارے اندر جو انسانی رشتے تھے وہ بہت دور چلے گۓ ہیں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کچھ لوگوں کو فیل ہونے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ ساری زندگی Failure میں گزار دیتے ہیں۔ ان کا تعلق ہی ناکامی سے ہوتا ہے۔ انہیں اندر ہی اندر یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں میں کامیاب نہ ہو جاؤں۔ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ میں کامیاب زندگی بسر کرنے لگوں اور ایک اچھا Relaxed اور پرسکون شخص بن کر اس معاشرے کو کچھ عطا کر کے پھر یہاں سے جاؤں۔ ان لوگوں میں میں بھی شامل ہوں۔ یہ سارے الزام اور Blames جو مجھ کو میری زندگی میں لوگوں کی طرف سے ملتے رہے ہیں میں انہیں اکٹھا کر کے گلدستے کی طرح باندھ کے ان کی Catalog کر کے اپنی کاپی یا ڈبے کے اندر ایسے ہی محفوظ کرتا رہتا ہوں جیسے لڑکیاں اپنے البم سجھاتی ہیں۔ گو اب ان کے البموں میں بھی پہلے سی تصویریں نہیں رہی ہیں بلکہ ان کے دل کے البموں میں بھی وہ سارے کے سارے دکھ ایسے ہی ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے طعنہ دیا اور فلاں شخص نے مجھے فلاں کہا اور میں نے اسے نوٹ کر کے دل کی ڈائری میں درج کر لیا۔ یہ چیز کچھ اس شدت کے ساتھ عام ہو گئی ہے کہ اس کا نکالنا Psychiatrist اور سائیکی سمجھنے کے ماہر افراد اور ڈاکٹروں کے لیے اور ان کے ساتھ ساتھ پیروں فقیروں کے لیے بھی مشکل ہو گیا ہے۔

جب ہم ایسے مسائل لے کر جگہ بہ جگہ مارے مارے پھرتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں کنکھجورے کی طرح چمٹا اور جما ہوا خیال کیسے نکالا جاۓ اور اس سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جاۓ۔ اس حوالے سے ہمارے بابے ایک ہی بات کرتے ہیں کہ اس کے لیے مراقبے کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ جب تک آپ شام کے وقت مغرب کے بعد کسی تنہائی کے ماحول میں اپنی ذات کا مطالعہ نہیں کریں گے تب تک آپ پر یہ حقیقت آشکار نہیں ہو گی کہ میرا رویہ ناکامی کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے۔ میں اس کی طرف کیوں رجوع کر رہا ہوں حالانکہ مجھے تو زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور میں ایک کامیاب زندگی کا پیغام لیکر آپ کے پاس آیا ہوں لیکن پریشانی کا معاملہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کا مطالعہ نہیں کر سکتا اور ساری زندگی دوسروں کے ساتھ جھگڑتا چلا جاتا ہے حالانکہ اس کو اللہ تعالٰی نے ایک اعلٰی درجے کا کمپیوٹر دیا ہوا ہے جو اس کی اپنی ذات ہے اور وہ اس کمپیوٹر کو آپریٹ بھی کر سکتا ہے اور سکرین کے اوپر ساری تصویر آ سکتی ہے کہ خطا اور خامی کس کی ہے لیکن ہم اس کمپیوٹر کو جو ہمارے اندر فٹ ہے اسے Operate کرنا نہیں جانتے ہیں۔ جانتے اس لیے نہیں ہیں کہ کسی نے ہمیں تلاوتِ وجود کا فن نہیں سکھایا۔ آپ کا وجود بھی کتاب ہی کی مانند ہے۔ اس کی تلاوت کیے بغیر آپ پر راز اور حقائق نہیں کھلیں گے اور اپ اس کے برعکس سیدھے سبھاؤ اس سمت میں چلتے جاتے ہیں کہ گویا اس شخص نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا تھا تو میں اب اس کے ساتھ یہ سلوک کروں گا جبکہ دونوں کا سلوک اپنے اپنے مقام پر اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ اس بات کو جانچا اور چھانٹا جاۓ کہ کہاں میری غلطی ہے اور کہاں اس کی غلطی ہے اور جہاں پر اپنی غلطی نکلے وہاں بھی میں اپنی غلطی کا سہارا لے کر اور خود کو ہی غلط قرار دے کر اس کی طرف رجوع کروں۔

جب ہم لاہور سمن آباد میں رہتے تھے اس وقت سمن آباد ایک چھوٹی سے بستی ہوتا تھا اب تو ماشاء اللہ بہت بڑی ہو گئی ہے۔ وہاں میرے چچا کا سامنے والے گھر سے بڑا جھگڑا تھا۔ اس گھر میں ایک صاحب اور میرے چچا اکٹھے ہی مسجد نماز پڑھنے جاتے تھے لیکن وہ ایک دوسرے سے بولتے نہیں تھے۔ میں چچا سے کئی بار کہتا تھا کہ آپ بزرگ ہیں ان سے کوئی کلام کریں تو وہ کہتے “ یار لعنت بھیجو تم نے اس کی شکل دیکھی ہے وہ ہے ہی منحوس اور اس کا گھر دیکھو۔ بالکل ٹیڑھا ٹیڑھا سا ہے۔ جب اس کا گھر ہی سیدھا نہیں ہے تو یہ کیسے ٹھیک شخص ہو گا۔“

میں ان سے کہتا تھا کہ نہیں چچا آپ کی طبیعت میں غصہ ہے اس لیے اپ کو ایسا لگتا ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی اپنی ذات پر نظر دوڑا کر دیکھیں۔ آپ کو بھی اس طرح کے ہزار قصے ملیں گے جو آپ کے ذات سے وابستہ ہوں گے۔

ایک روز وہ صاحب جن سے ہمارے چچا کی لڑائی تھی وہ ایک تحریر لے کر چچا کے پاس آ گۓ۔ وہ عربی کی تحریر تھی۔ انہوں نے چچا سے جو کچھ کچھ عربی جانتے تھے ان سے کہا کہ خان صاحب آپ ذرا دیکھ لیں کہ یہ کیا لکھا ہے۔ چچا نے عجیب ناگواری سے “پھوں پھوں“ کر کے وہ کاغذ ان صاحب کے ہاتھ سے لیا اور دیکھ کر کہنے لگے کہ مجھے تو اس میں ایسی کوئی خاص بات نظر نہیں آتی۔ اس صاحب نے پھر کہا کہ خان صاحب میں آپ سے “ اِس “ فقرے کے معانی پوچھنا چاہتا ہوں۔ چچا کہنے لگے کہ میرے پاس اس وقت عینک نہیں ہے، نہیں تو میں آپ کو ضرور بتا دیتا۔ تب ان صاحب نے اپنی عینک آگے بڑھا دی (ہم بڈھوں کی عینک کا نمبر تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔)

چچا وہ عینک لگا کر پڑھنے لگے اور سر اٹھا کر ان صاحب کو دیکھا اور مخاطب کر کے کہنے لگے کہ شیخ صاحب آپ کا گھر بہت خوبصورت ہے، تو انہوں نے کہا جی آپ کی بڑی مہربانی۔ چچا نے پھر اس سے کہا کہ اب تو آپ کا چہرہ بھی اچھا ہو گیا تو انہوں (شیخ صاحب) نے کہا کہ ہاں جی میں دو سال بیمار رہا ہوں۔ میں وہاں بیٹھا تھا۔ میں نے کہا چچا جی یہ ساری شیخ صاحب کی عینک کی برکت ہے۔ جب آپ نے ان کی عینک پہنی ہے تو آپ کو ان کا گھر بہت پیارا لگنے لگا ہے اور ان کی شخصیت بھی اچھی لگنے لگی ہے۔ آپ نے کبھی ان کو ان کی عینک سے دیکھا ہی نہیں تھا۔ اس طرح ہم نے اپنے ساتھیوں کو کبھی ان کی عینک اور زاویے سے دیکھا ہی نہیں۔ پھر ہم ان کی مشکلات کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں خاص طور پر لوگوں کے درمیان کدورتیں کچھ اس انداز میں بڑھ رہی ہیں کہ وہ حقیقت میں نفرتوں یا کدورتوں کا درجہ رکھتی نہیں ہیں۔ بس ایک بات دل میں بیٹھ گئی اور ہم اس پر ایمان لے آۓ اور اسی لکیر کو پیٹنا شروع کر دیا۔ میں خاص طور پر بچیوں میں یہ بات آج کل بڑی نوٹ کرتا ہوں کہ ان میں یہ بڑا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے اور ان کے دل میں یہ بات Feed ہو گئی ہے کہ ساس تو ایک واہیات سی چیز ہوتی ہے۔ یہ تو اچھی ہوتی ہی نہیں ہے اور جب یہ تہہ کر لیا جاۓ کہ بس ساس نے تو ایسے ہی ہونا ہے اب میں نے تو ایم۔اے کر رکھا ہے۔ میں Educated ہوں، میں غلط ہو ہی نہیں سکتا یا سکتی۔ اگر ایک پڑھا لکھا شخص یا لڑکی یہ سوچ بھی (لے)کہ میں مثال کے طور پر اپنی ساس کو دوسرے زاویے سے ڈیل کر کے ماحول بہتر بنا سکتا ہوں لیکن یہ ہم سے بالکل نہیں ہوتا اور وہ ڈگریاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں جیسے جاہل ساس کرتی ہے اس کو ویسا ہی جواب ملتا ہے۔

ایک بار جب میری نواسی کے لیے رشتے کی بات چلی تو وہ مجھ سے کہنے لگی کہ نانا جب لڑکا دیکھنے جائیں تو آپ ضرور جائیں ایک تو آپ میرے خفیہ ایجنٹ ہیں اور دوسرا مجھے ابو امی اور بہنوں پر اعتبار نہیں ہے اور آپ صرف یہ بات ہی نوٹ کرنا کہ میرا جو ہونے والا شوہر ہے یا جس سے میری بات طے پا رہی ہے اس “ بد بخت “ کی کتنی بہنیں ہیں۔ آپ مجھے میری نندوں کے بارے میں بتانا۔ یعنی ابھی کوئی بات نہیں ہوئی اس نے کسی کو نہیں دیکھا لیکن تعداد کے اعتبار سے ہی وہ بچاری اتنی پریشان ہو رہی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کہ اگر وہ زیادہ ہوئیں تو میں نے وہاں شادی نہیں کرنی۔ میں نے اسے آ کر بتایا کہ بھئی وہ پانچ ہیں۔ تین کی شادی ہو گئی اور ابھی دو کی نہیں ہوئی تو اس نے کہا “ دفع دور میں نے وہاں شادی نہیں کرنی۔“

آپ اکثر دیکھتے ہوں گے کہ یہ جو مسلکی اور دینی جھگڑے ہوتے ہیں، فسادات ہوتے ہیں اس میں مسلک کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ کوئی بھی مسلک جھگڑے کا درس یا اس کی ترغیب نہیں دیتا لیکن چونکہ الزام دھر دیا جاتا ہے اس لیے اس الزام کو سہارنا یوں مشکل ہو جاتا ہے کہ الزام دھرنے والا کبھی بھی اس بات کی طرف توجہ نہیں دیتا کہ وہ جو یہ الزام دھر رہا ہے شاید وہ خود بھی اسی الزام کا مارا ہوا ہے اور وہی خرابی اس میں بھی موجود ہے۔ بہت دیر کی بات ہے میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی اور میں نوجوان تھا۔ ایک دفعہ ہم لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ پنڈی جا رہے تھے۔ دوپہر کو ہم نے گجرات میں کھاناوانا کھایا۔ ہم جب کھانا کھا کے چل پڑے تو تھوڑی دور جا کر میری والدہ کو خیال آیا کہ میری عینک تو وہیں رہ گئی ہے اور انہوں نے “اقبال، اقبال “ کہا (وہ میرے بڑے بھائی کا نام ہے)۔ ابا جی نے کہا کہ سب عورتوں کا یہی حال ہے۔ ان کو کبھی وقت پر کوئی چیز یاد نہیں رہتی۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ سفر کر رہی ہیں اور دھیان رکھنا ہے۔ بھائی نے کہا کوئی بات نہیں ہم راؤنڈ ٹرن لیتے ہیں اور عینک لے لیتے ہیں۔ ابھی کون سا زیادہ دورگۓ ہیں البتہ ہم دوبارہ وہاں پہنچ گۓ جہاں سے کھانا کھایا تھا۔ جب ہم عینک لے کر چلنے لگے تو ابا جی نے کہا کہ لو اگر ہم یہاں آہی گۓ ہیں تو میں اپنا مفلر بھی دیکھ لوں جو میں یہاں غسل خانے میں بھول آیا تھا۔ اب وہ اماں کی سرزنش تو کر رہے تھے لیکن انہیں اپنی غلطی نظر نہیں آ رہی تھی۔

خواتین و حضرات! انسانی زندگی میں ہم اکثر ایسی حرکتیں کر دیتے ہیں اور ہمارے اندر وہ وسعتِ قلبی پیدا نہیں ہوتی جو ہماری تربیت کا ایک خاصا ہے۔ یہ تو انفرادی مشکلات ہیں لیکن بعض اوقات خاندانوں کے اندر بھی Blame کی کیفیت چلتی چلی جاتی ہے۔ آپ کا کسی اس خاندان کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا جس سے آپ کے دادا لڑے تھے۔ نئی نسلیں آ جاتی ہیں لیکن آپ کو حکم دے دیا جاتا ہے کہ خبردار اس خاندان سے بات نہیں کرنی اور وہ کام چلا آتا ہے۔ بھئی کیوں بات نہیں کرنی۔ وہ ماضی کی بات تھی گئی آئی ہوئی۔ آپ اپنی سیاسی پارٹیوں میں دیکھیں ان میں کسی دانش اور منطقی بات پر کوئی اختلاف نہیں ہوتا لیکن کہا جاتا ہے کہ نہیں جی بس وہ اس سائیڈ پر اور میں اس سائیڈ پر ہوں اور وہ پارٹی ہی پھٹ پھٹ کے بیچ میں سے کچھ اور نکلتی ہے اور اسی وجہ سے ہماری جمہوریت کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نہیں ہے اور ہم اس Tradition کو لے کر بس چلے آتے ہیں۔

میں نے ایک قصہ ایسا بھی سنا جب میں حضرت مائل رحمۃ اللہ جو بڑے صوفی بزرگ تھے۔ وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد ذکرِ جہری کیا کرتے۔ جب وہ اونچی آواز میں ذکر کرتے تھے تو ان کی بلی جو ڈیرے پر رہتی تھی وہ آکے صفوں کو کھدیڑنا شروع کر دیتی تھی اور شور مچاتی تھی۔ آپ نے حکم دیا کہ جب ذکر شروع ہو تو اس بلی کو رسی ڈال کے باندھ دیا جاۓ کیونکہ یہ شرارتیں کرتی ہے۔ ان کے خادمین نماز کے فوراً بعد بلی کو رسی ڈال کے ایک کھونٹی کے ساتھ باندھ دیتے تھے اور ذکر چلتا رہتا تھا۔ بعد ازاں اس بلی کو آزاد کر دیا جاتا تھا۔ جب حضرت مائل فوت ہو گۓ اور ان کی جگہ جو بھی گدی نشین یا خلیفہ ہوۓ انہوں نے بھی ذکر کرانا شروع کر دیا اور بلی کو بدستور باندھا جاتا رہا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ وہ بلی فوت ہو گئی۔ ڈیرے پر بھی یہ صلاح مشورہ ہوا کہ ایک نئی بلی خریدی جاۓ اور ایک نئی رسی لی جاۓ اور اسے بھی عین ذکر کے وقت باندھ دیا جاۓ چنانچہ ایک نئی بلی اور رسی خریدی گئی اور اسے بھی اس طرح سے باندھا جانے لگا۔ پچھلی بلی پر جا الزام تھا وہ نئی بلی پر بھی اسی طرح عائد کر دیا گیا حالانکہ پہلے والی بلی مر کھپ چکی تھی۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اس آرڈر یا اس انداز کا جو حضرت مائل نے شروع کیا تھا اس میں یہ شرط ہے کہ ذکرِ جہری اس وقت شروع کیا جاۓ جب کہ ایک بلی موجود ہو اور اس کو اسی سے باندھا جاۓ۔ یہ انسانی زندگی میں بھی ایسی ہی رسی سے باندھی ہوئی ایک بلی ہے جو ہماری معاشرتی زندگی میں بھی داخل ہو چکی ہے اور وہ رسم چلتی چلی آتی ہے اور ہم اس کدورت کو ختم کرنے کی بجاۓ جو آپ کی ایک کھڑکی کھولنے سے شروع ہوتی ہے آپ طرح طرح کی اور کھڑکیاں کھولتے چلے جاتے ہیں، اسی لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ یہ بابوں کے ڈیرے ہوتے تھے جہاں بیٹھ کر ایسی ہی مشکلوں اور چیزوں کے علاج کرتے تھے۔ نہ تو وہ ڈاکٹر ہوتے تھے نہ وہ کوئی بڑے عالمِ دین ہوتے تھے نہ ہی بڑے ناصح ہوتے تھے وہ کچھ ایسی محبت کی پڑیا بندے کو عطا کرتے تھے جو نفسیاتی مشکلات اور ڈپریشن کا کاٹ کرتی تھی اور اس سے انسان کی طبیعت اور روح سے بوجھ ختم ہو جاتا تھا۔ آپ سارے صوفیاء کی تاریخ دیکھ کر بتائیں کہ انہوں نے لوگوں کو کس کس طرح سے ٹھیک کیا اور راحت دی۔ ان کے علاج میں مذہب کی بھی تمیز نہیں ہوتی تھی۔ وہ تمام بندوں کو پانے قریب لے آتے تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ بندے کی اکثر یہ آرزو رہتی ہے اور میری بھی ایسی یہ تمنا ہوتی ہے اور میں نوجوانوں کی طرح اس عمر میں اپنی آٹوگراف بک لے کر گھومتا ہوں اور ایسے لوگوں کے آٹو گراف حاصل کرنا چاہتا ہوں جو آسائش اور آسانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اداکاروں یا گانے والوں کے آٹوگراف لینے کا شوق ہوتا ہے۔ میں ایسے لوگوں کے آٹوگراف لینے کا خواہشمند ہوں جن پر دنیا کے جھمیلوں کا تشنج یا بوجھ نہیں ہے۔ میرے پاس جتنے بھی کاغذ ہیں اس میں دستخط تو کم لوگوں کے ہیں جب کہ انگوٹھے زیادہ لوگوں نے لگاۓ ہیں۔ کسی لکڑہارے کا انگوٹھا ہے، کسی ترکھان کا ہے، کسی قصائی کا ہے اور دیگر سخت سخت پیشے والوں کے انگوٹھے بھی ہیں۔ ابھی تازہ تازہ میں نے جو انگوٹھا لگوایا ہے وہ میں نے لاہور سے قصور کے راستے کے درمیان میں آنے والے چھوٹے سے شہر یا منڈی مصطفٰی آباد للیانی سے لگوایا ہے۔ میرے منجھلے بیٹے کو پرندوں کا بڑا شوق ہے۔ اس نے گھر میں پرندوں کے دانا کھانے کے ایسے ڈبے لگا رکھے ہیں جن میں Automatically دانے ایک ایک کر کے گرتے رہتے ہیں اور پرندے شوق سے آکے کھاتے رہتے ہیں۔ جب ہم قصور سے لاہور آ رہے تھے تو اس نے للیانی میں ایک دکان دیکھی جس میں پانچ پانچ کلو کے تھیلے پڑے ہوئے تھے جن میں باجرہ اور ٹوٹا چاول وغیرہ بھرے ہوئے تھے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ابو یہ پرندوں کے لیے بہت اچھا دانا ہے۔ میرا بیٹا اس دکان سے چاول اور باجرہ لینے گیا تو اس نے پوچھا کہ آپ کو یہ دانے کس مقصد کے لیے چاہئیں تو میرے بیٹے نے اس بتایا کہ پرندوں کو ڈالنے کے لیے۔ اس پر اس دکاندار نے کہا کہ آپ کنگنی بھی ضرور لیجیے کیونکہ کچھ خوش الحان پرندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو باجری نہیں کھا سکتے بلکہ کنگنی کھاتے ہیں۔ وہ بھی پھر کنگنی کھانے آپ کے پاس آیا کریں گے۔ اس نے کہا کہ بسم اللہ کنگنی ضرور دے دیں اور اس رہنمائی کا میں آپ کا عمر بھر شکر گزار رہوں گا۔ وہ چیزیں لے کر جب اس نے پرس نکالنے کی کوشش کی تو نہ ملا۔ جیبوں، گاڑی، آس پاس ہر جگہ دیکھا لیکن وہ نہ ملا تب وہ تینوں تھیلے گاڑی سے واپس اٹھا کر دکاندار کے پاس گیا اور کہا میں معافی چاہتا ہوں میں تو اپنا بٹوہ ہی بھول گیا ہوں۔

اس دکاندار نے کہا کہ “ صاحب آپ کمال کرتے ہیں یہ لے جائیں پیسے آ جائیں گے۔“

میرے بیٹے نے کہا کہ آپ تو مجھے جانتے نہیں ہیں ! وہ دکاندار بولا کہ میں تو آپ کو جانتا ہوں۔ وہ کیسے میرے بیٹے نے کہا۔ دکاندار گویا ہوا “ صاحب جو شخص پرندوں کو دانا ڈالتا ہے وہ بے ایمان نہیں ہو سکتا۔“

میں نے جھٹ سے اپنی آٹوگراف بک نکالی اور اس کا انگوٹھا لگوا لیا۔ ایسے ہی میرے پاس کئی لوگوں کے دستخط اور انگوٹھے موجود ہیں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور ان لوگوں کی طرح جن کے میرے پاس آٹوگراف موجود ہیں۔ ان کی طرح آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔اللہ حافظ۔

بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15