نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

تھری پیس میں ملبوس بابے اور چغلی میٹنگ

میں اکثر اس پروگرم میں اور کبھی کبھی اس پروگرام سے ماورا دوسرے موقعوں یا پروگراموں میں بابوں کا ذکر کرتا رہتا ہوں اور ڈیروں کی بابت عموماً باتیں کرتا ہوں جس کے باعث عموماً راہ چلتے ہوئے اور دیگر کئی جگہوں پر سب لوگ مجھے روک کر پوچھتے ہیں کہ آپ کے بابے کیا ہوتے ہیں اور ان میں ایسی کون سے صفت ہوتی ہے جو آپ ان سے اس قدر مرعوب ہیں اور ان ہی کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ آپ بڑے پڑھے لکھے آدمی ہیں اور یہاں کے ہی نہیں ولائت سے بھی پڑھ کر آۓ ہیں۔ وہاں پڑھاتے بھی رہے ہیں۔ آپ ہمیں بھی بتایۓ کہ ان بابوں میں کون سی ایسی خوبی ہوتی ہے جو آپ کو متاثر کرتی ہے۔ میں ان سے یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کبھی ان سے ملیں یا ان سے Incontact آئیں تو پھر آپ کو پتہ چلے کہ یہ کس حد تک ہم عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ بابوں سے میری مراد یہ نہیں کہ ایک آدمی جس نے سبز رنگ کا لباس پہنا ہوا ہو۔ اس کے سر کے لمبے بال یا اس نے لمبی “ لٹیں “ رکھی ہوئی ہوں، گلے میں تسبیحات اور منکوں کی مالائیں ڈالی ہوئی ہوں ضروری نہیں وہ بابا ہی ہو۔ بہرحال کچھ بابے ایسے روپ میں بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر بابے جو اب آپ کی زندگی میں آپ کے قریب سے اور گردوپیش سے گزر جاتے ہیں وہ تھری پیس سوٹ زیبِ تن کرتے ہیں، سرخ رنگ کی ٹائی لگاتے ہیں اور ان کی اس سرخ ٹائی میں سونے کی پن لگی ہوتی ہے لیکن آپ کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ شخص جو میرے اس قدر قریب بیٹھا ہے یا میرے اس قدر قریب سے اٹھ کر گیا ہے، اس کے اندر وہ ایسی کونسی بات تھی جسے میں پکڑ نہیں سکا اور میں اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ یہ بڑا مشکل کام ہے۔ خواتین و حضرات فائدہ اٹھانے کے لۓ اپنے وجود کا ایسا ریڈیو سیٹ بنانا پڑتا ہے جس پر تمام سٹیشن آسانی سے پکڑے جا سکیں۔ میں ایک سنگل بینڈ کا ریڈیو ہوں۔ میرے اوپر صرف لاہور ہی سنائی دیتا ہے۔ لیکن میرے کمرے میں دنیا بھر کی آوازیں اکٹھی ہوتی ہیں اگر میرا Receiving Center اچھا ہو گا تو میں دوسری چیزیں بھی بڑی آسانی کے ساتھ پکڑ لوں گا لیکن اگر وہی Dull تو پھر مشکل ہے۔ اب اس Dullness کو دور کرنے کے لۓ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی ایسے لوگوں سے ملتا رہے جن کے اندر آپ کو اپنے سے مختلف کوئی چیز نظر آۓ چاہے وہ کسی بھی طرح کی اچھی چیز ہو۔ مغرب والے اس طرح کے رویے کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ بڑے متجسس قسم کے لوگ ہیں۔ انہیں جونہی کوئی ذرا مختلف، ذرا عام حالات سے ہٹ کر انہیں کوئی کردار ملا وہ رک کر اسے دیکھتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس کی تحقیق کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک بات طے شدہ ہے کہ اگر ہم نے کسی کو غلط کہہ دیا تو وہ غلط ہو گیا۔ آدمی کسی غلط شخص کے اندر یہ دیکھتا ہی نہیں کہ شاید اس میں بھی کوئی اچھی بات ہو جسے اپنی طرف سے غلط یا خراب قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس میں سے اچھائی تراشنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ بابوں کے پاس عجیب و غریب جذبہ ہوتا ہے وہ ہم میں نہیں ہے۔ وہ جذبہ انسانوں سے محبت کرنے کا جذبہ ہے۔ ہم کتابی طور پر تو کہہ لیتے ہیں کہ جناب ہم محبت کرتے ہیں یا ہم یہ ذکر کرتے ہیں کہ ہمیں ان سے بڑی محبت ہو گئی ہے لیکن محبت کے اندر داخل ہو کر اس کو اپنی ذات پر وارد کرنا یہ ایک مشکل اور مختلف کام ہے جس طرح بارش کا ذکر اور بارش کے اندر بھیگ جانا دو مختلف عمل ہیں۔ بارش کا ذکر کرنے سے جس طرح آدمی بھیگتا نہیں ہے۔ بابے محبت کے عمل میں اس آسانی سے داخل ہو جاتے ہیں کہ ہم جیسے لوگ حسرت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور ہمیں تادمِ مرگ یہ حسرت ہی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ ایک نہایت بےہودہ اور غیر توجہ طلب انسان کے اندر سے بھی کوئی ایسی چیز تلاش کر لیتے ہیں جو اس کی خوبی ہوتی ہے اور وہ اس کی خوبی کو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ہم سے وہ چادر نہیں اٹھائی جاتی جو بابے اٹھا لیتے ہیں۔ ہم سے ان کی طرح وہ چھپا ہوا حصہ اجاگر نہیں ہو پاتا۔ ہماری ٹریننگ کچھ اس طرح کی ہے کہ ہم جب بھی کسی شخص سے ملتے ہیں ہم اس شخص کی اچھائیوں پر نظر نہیں کرتے۔ صرف اس کی برائیاں ہی ہمیں نظر آتی ہیں۔ شاید ہماری تربیت ہی کچھ اس طرح سے ہوتی ہے۔ مجھے ایک بہت پرانا لطیفہ یاد آ رہا ہے جو آپ کو بھی سناتا ہوں۔ ایک میراثی تھا جو بڑا بزرگ آدمی تھا لیکن اس سے اس کی بیوی بڑی تنگ تھی اور اسے طعنے دیتی رہتی تھی کہ تو اپنی شکل دیکھ، تو کیسے بزرگ ہو سکتا ہے۔ وہ بے چارہ بھی بڑا پریشان تھا۔ ایک دن مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد وہ بیٹھا دعا مانگ رہا تھا تو اس کی بیوی نے اسے آ کر “ ٹھڈا “ (ٹھوکر) مارا اور کہا کہ تو ادھر بیٹھا دعائیں مانگ رہا ہے ، اٹھ کر کوئی کام وام کرو۔ بیوی کی اس حرکت سے اسے جلال آگیا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا، ہوا میں ابھرا، آسمانوں میں چھا گیا اور اس نے آسمان کے تین چار بڑے بڑے چکر لگاۓ۔ اس کی بیوی نیچے کھڑی اسے دیکھتی رہی اور دل میں سوچتی رہی کہ یہ کوئی اللہ کا بڑا پیارا ہے۔ وہ میراثی جب نیچے اتر آیا تو اس نے بیوی سے کہا دیکھا تو نے ہمارا کمال۔ اس کی بیوی کہنے لگی کون سا کمال؟ کہنے لگی وہ اللہ کا کوئی پاکیزہ بندہ تھا۔

وہ کہنے لگا “ اوہ میں سی۔“ تو وہ پھر کہنے لگی اچھا ! “ ایسے لئی ٹیڈھا ٹیڈھا اڈ رہیا سی۔“ ( اسی لۓ ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے۔)

یہ بڑی پرانی بات ہے لیکن اب ہم جب بھی کسی بندے سے ملتے ہیں، ہمیں اس میں سے ٹیڑھ نظر آتی ہے۔ جب ٹیڑھ ہمیں نظر آتی ہے تو پھر ہماری زندگی میں، ہماری ذات اور ہمارے وجود میں بھی ایک ٹیڑھ پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ٹیڑھ نکلتی نہیں ہے اس لۓ اللہ نے ہم پر خاص مہربانی فرما کر ہمیں غیبت سے منع فرمایا ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا ہمیں پتہ نہیں چلتا۔ کافی عرصے کی بات ہے کہ ہم کسی بابے کی ذکر کی محفل میں داخل ہوئے تاکہ اپنی ٹریننگ کی جاۓ۔

انہوں نے کہا کہ حضور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان کے وجود کے اندر ایک ایسا عضو ہے جو اگر خراب ہو جاۓ تو سارے کا سارا بندہ خراب ہو جاتا ہے اور وہ عضو دل ہے۔ اس طرح سے ہم اور آپ لوگوں کے دل خراب ہو گۓ ہیں اور ان کے اوپر “ راکھ “ جم گئی ہے جیسے پرانی دیگچی جس میں چاۓ پکاتے ہیں وہ اندر اور باہر سے ہو جاتی ہے بالکل اس طرح سے ہمارے دل ہو گۓ ہیں اور ہم اللہ کے ذکر سے اس کو صاف کرتے ہیں اور اس کو “ مانجا “ لگاتے ہیں اور اللہ ہُو کے ذکر سے اس زنگ اور کائی لگے دل کو صاف کرتے ہیں اور یہ خرابی بے شمار گناہ کرنے کہ وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ یقین کیجیے گا کہ جب میں اس محفل میں تھا اور میں اس میں شامل ہونے والا تھا تو میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ میں تو ایک اچھا نیک سا نوجوان ہوں اور میں نے کوئی خاص گناہ نہیں کیا تو میرا دل کیسے کالا ہو گیا اور میں اس کو “ مانجا “ لگاؤں۔ یہ ایک خیال سا میرے ذہن میں آ گیا اور کافی دیر تک میں سوچتا رہا۔ محفلِ ذکر سے قبل وہ بابا جی کہنے لگے کہ بیشتر اس کے کہ ہم محفل شروع کریں شاید بہت سارے اصحاب یہ سوچتے ہیں کہ وہ تو اچھے ہیں۔ انہوں نے تو کوئی گناہ نہیں کیا۔ تو پھر کیسے ہمارا دل کالا ہو گیا۔ کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔ کوئی چوری چاری نہیں کی۔ کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کیا۔

بابا جی کہنے لگے کہ ایسا سوچنے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بہت بڑے گناہوں میں سے ایک بہت بڑا گناہ غیبت ہے۔

خواتین و حضرات ! اب غیبت تو ہم سارے ہی کرتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم کھانا نہیں کھاتے۔ ہمارے گھر میں ہماری بہوئیں کہتی ہیں کہ ماموں اب ہمارا غیبت کا ٹائم ہو گیا ہے۔ دس بجے ان کی “چغلی میٹنگ“ ہوتی ہے۔ وہ ہر بار ایک دوسرے کے گھر میں جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس بار ہم نے چغلی میٹنگ رضیہ کے گھر میں رکھی ہے اور دس بجے سے لے کر بارہ بجے تک وہ چغلی کرتی ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ تم اتنی زیادہ چغلی کیوں کرتی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ساری دنیا میں اور پورہ کرہ ارض پر چغلی ہوتی ہے۔ جتنے بھی اخبارات چھپتے ہیں وہ سارا چغلیوں سے ہی بھرا ہوتا ہے۔ جو بھی کالم چھپتے ہیں ان میں لوگوں کی خرابیاں ہی بیان کی ہوئی ہوتی ہیں۔ کیس کی اچھائیاں تو نہیں ہوتیں ان میں اور فلاں برا فلاں برا کی گردان بھی ہوتی ہے اور اس سے ہم نے سبق لے کر یہ کام سیکھا ہے۔ ہم نے بابا جی کے ہاں ذکر کی محفل میں شرمندگی سے ذکر شروع کیا کہ واقعی ہم چغلی تو بہت زیادہ کرتے ہیں اور روز کرتے ہیں۔ چغلی اس لۓ کرنی پڑتی ہے کہ اپنی ذات میں چونکہ کوئی صفت یا خوبی نہیں ہوتی یا کم ہوتی ہے اور ہم دوسرے کو نیچے دھکیل کے اور ڈبو کے اپنے آپ کو اوپر اچھالتے ہیں۔ ہم نے بابا جی سے کہا کہ جی آپ کیسے خوبی تلاش کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی شخص کے اندر داخل ہوں اور اس کے متعلق صاحبِ حال ہوں تو پھر آپ کو آسانی ہو گی اور آپ بھی اس بات یا خوبی کو پکڑ لیں گے جس کو ہم پکڑ لیتے ہیں۔ مائیکل اینجلو ایک بہت بڑا مجسمہ ساز تھا۔ اس نے بہت خوبصورت مجسمے بناۓ۔ اس نے حضرت عیسٰی اور حضرت مریم کے بہت سے مجسمے بناۓ۔ اس کا بنایا ہوا ڈیوڈ کا اٹھارہ فٹ اونچا مجسمہ فلورنس میں بھی ہے جسے ساری دنیا دیکھنے جاتی ہے۔ اسے ہم نے بھی دیکھا۔

کسی نے اس سے پوچھا کہ مائیکل یہ بتاؤ کہ تم کس طرح سے یہ مجسمہ بناتے ہو۔ ایسا خوبصورت مجسمہ کیسے بنا لیتے ہو ؟ یہ تو انسانی کمال کا ایک آخری حصہ ہے۔ اس نے کہا کہ میں تو مجسمہ نہیں بناتا اور نہ ہی مجھے بنانا آتا ہے۔ میں سنگِ مرمر کا ایک بڑا ٹکڑا کہیں پڑا ہوا دیکھتا ہوں اور مجھے اس میں “ ڈیوڈ “ نظر آنے لگتا ہے اور میں چھینی، ہتھوڑی لے کر اس پتھر میں سے ڈیوڈ کے ساتھ پتھر کا فضول حصہ اتار دیتا ہوں اور اندر سے ڈیوڈ (حضرت داؤد) نکل آتے ہیں۔ میں کچھ نہیں کرتا۔ مجھے تو ڈیوڈ صاف نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ میں بس ان کے ساتھ غیر ضروری پتھر اتار دیتا ہوں۔ اس طرح سے یہ بابے جو ہیں یہ انسان کی غیر ضروری چیزیں اتار دیتے ہیں اور نیچے سے بڑا پاکیزہ، اچھا اور خوبصورت سا انسان نکال کے اپنے سامنے بٹھا لیتے ہیں اور پھر اس کو اپنی توجہ کے ساتھ وہ سب کچھ عطا کر دیتے ہیں بشرطیکہ وہ شخص اس کا آرزومند ہو اور صبر والا ہو۔ لیکن جو آرزومند ہو وہ صابر بھی ہونا چاہیے۔ جیسے خداوند کریم فرماتا ہے کہ :

اِنَّااللہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ۔ (بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔)

اگر کسی نے اللہ کو پانا ہو تو وہ صبر کرنے لگ جاۓ تو اس کا کام بن جاتا ہے جبکہ لوگ اس کے لۓ ورد، وظیفے کرتے ہیں۔ ناک رگڑتے ہیں لیکن اللہ کو صبر کرنے والے پا لیتے ہیں۔ میں نے شاید اسی محفل میں پہلے بھی یہ بات بتائی ہے کہ میر ایک تائی تھیں۔ وہ تیلن تھی۔ اس کا شوہر فوت ہو گیا۔ وہ تائی بے چاری کولہو پیلتی تھی۔ نہایت پاکیزہ عورت تھی۔ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہوئی لیکن اس نے شادی نہیں کی۔ جب میں اس سے ملا تو تائی کی عمر کوئی ساٹھ برس کے قریب تھی۔ اس کے پاس ایک بڑی خوبصورت “رنگیل پیڑھی“ تھی، وہ اسے ہر وقت اپنی بغل میں رکھتی تھی جب بیل کے پیچھے چل رہی ہوتی تو تب بھی وہ اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی۔ وہ ساگ بہت اچھا پکاتی تھی اور میں سرسوں کا ساگ بڑے شوق سے کھاتا تھا۔ وہ مجھے گھر سے بلا کے لاتی تھی کہ آ کے ساگ کھا لے میں نے تیرے لۓ پکایا ہے۔ ایک دن میں ساگ کھانے اس کے گھر گیا۔ جب بیٹھ کر کھانے لگا تو میرے پاس وہ “پیڑھی“ پڑی تھی میں نے اس پر بیٹھنا چاہا تو وہ کہنے لگی “ ناں ناں پُتر ایس تے نئیں بیٹھنا“ میں نے کہا کیوں اس پر کیوں نہیں بیٹھنا۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ زیادہ خوبصورت ہے۔ میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ اس پر کیوں نہیں بیٹھنا۔ کیا میں تیرا پیارا بیٹا نہیں۔

کہنے لگی تو میرا بہت پیارا بیٹا ہے۔ تو مجھے سارے گاؤں سے پیارا ہے لیکن تو اس پر نہیں بیٹھ سکتا۔

کہنے لگی بیٹا جب تیرا تایا فوت ہوا تو مسجد کے مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ “بی بی تیرے اوپر بہت بڑا حادثہ گزرا ہے لیکن تو اپنی زندگی کو سونا بھی بنا سکتی ہے۔ یہ تجھے اللہ نے عجیب طرح کا چانس دیا ہے۔ تو اگر صبر اختیار کرے گی تو اللہ تیرے ہر وقت ساتھ ہو گا کیونکہ یہ قرآن میں ہے کہ “ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے “ تائی کہنے لگی کہ میں نے پھر صبر کر لیا۔ جب کئی سال گزر گۓ تو ایک دن مجھے خیال آیا کہ اللہ تو ہر وقت میرے پاس ہوتا ہے اور اس کے بیٹھنے کے لۓ ایک اچھی سی کرسی چاہیے کہ نہیں؟ تو میں نے “رنگیل پیڑھی“ بنوائی اور اس کو قرینے اور خوبصورتی سے بنوایا۔ اب میں اس کو ہر وقت اپنے پاس رکھتی ہوں اور جب بھی اللہ کو بیٹھنا ہوتا ہے میں اسے اس پر بٹھا لیتی ہوں۔ میں کپڑے دھوتی ہوں، اپنا کام کرتی ہوں، روٹیاں ساگ پکاتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میرا اور اللہ کا تعلق ہے اور وہ صبر کی وجہ سے میرے ساتھ ہے۔ خواتین و حضرات ایسے لوگوں کا تعلق بھی بڑا گہرا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے اس بات کو یہاں تک محسوس کیا۔ وہ قرآن میں کہی بات کو دل سے مان گۓ وہ خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں۔ ہم جیسے لوگ “ٹامک ٹوئیاں “ مارتے ہیں اور ہمارا رخ اللہ کے فضل سے سیدھے راستے ہی کی طرف ہے۔ ہم سے کچھ کوتاہیاں ایسی ضرور ہو جاتی ہیں جو ہمارے کۓ کراۓ پر “ کُوچی “ پھیر دیتی ہیں۔ جس سے ہمارا بدن، روح، دل خراب ہو جاتا ہے۔

مجھے ابھی تھوڑی دیر پہلے اعظم خورشید کہہ رہے تھے کہ ہمارے ہاں نفرت کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ یہ نفرت کی فضا کس وجہ سے پیدا ہوئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں مختلف گروہِ انسانی وہ نفرت میں مبتلا ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں، ایک یہ کہ ہم اس علاقے کے رہنے والے ہیں اور ہم ان لوگوں سے ہٹ کے مسلمان ہوۓ ہیں جو انسانوں کو پسند نہیں کرتے۔ وہ لوگ برہمن تھے۔ ہم ایک اعتبار سے Convert ہیں۔ ہمارے اندر وہ پہلی سی کچھ کچھ چیز چلی آ رہی ہے کہ ہم کو ایسا آدمی جو خدا نخواستہ چھوٹے درجے پر ہو وہ اچھا نہیں لگتا۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جاتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر فوقیت نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اگر تم فوقیت کا کوئی راستہ جاننا ہی چاہتے ہو تو وہ تمہیں تقویٰ میں ملے گی اور تقویٰ ایسی چیز ہے جس میں آپ جتنے نیچے ہوتے جائیں اتنے ہی اوپر ہوتے چلے جائیں گے کیونکہ تقویٰ میں عاجزی ضروری ہے۔ بابا جی ہم سے یہی دریافت کرتے رہے کہ لوگوں سے محبت کیسے کرنی ہے کیونکہ لوگوں کی خدمت کر کے اور انہیں انسان مان کے ہی کسی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔ اگر خدمت نہ بھی کریں یہ مانیں تو سہی کہ یہ بھی انسان ہیں۔ ہمارے بابا جی کے ڈیرے کے پاس ایک بابا لہنا جھاڑو دیا کرتا تھا وہ جب بھی آتا تھا تو بابا جی اس کی اتنی عزت کرتے کہ کھڑے ہو جاتے۔

میں نے کہا کہ جی یہ تو جمعدار ہے چھوڑیں۔ وہ کہتے تھے نہیں نہیں یہ بڑا باعزت آدمی ہے۔ ہم کو کھانے میں وہاں دال ملتی تھی لیکن جب وہ آتا تھا تو پیڑھی کے نیچے سے مکھن بھی نکل آتا تھا، چٹنی بھی نکل آتی تھی، کاٹا ہوا پیاز، کھیرے بھی نکل آتے اور یہ ساری چیزیں لہنا صاحب کو ملتی تھیں۔ میں نے کہاکہ جی بتائیں ہم تو ایم-اے پاس کر کے آۓ ہیں اور پڑھے لکھے لوگ ہیں اور آپ ساری چیزیں اس کو دے دیتے ہیں۔

بابا جی کہنے لگے کہ حکیم کو پتہ ہوتا ہے کہ مریض کو کیسی غذا دینی ہے۔ آپ اپنی شکلیں دیکھو اور شکر کرو کہ تم کو کھانے میں دال روٹی مل جاتی ہے۔ خواتین و حضرات یہ ڈیرے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ میں بات کر رہا تھا کہ کسی آدمی کے اندر سارے خرابیاں دیکھ کے ٹیڑھا ٹیڑھا چلنا دیکھ کے، اس کا لنگڑا پن دیکھ کے اس کے اندر ایسی چیز کو تلاش کرنا کہ یہ اس کی خوبی ہے جو کسی وجہ سے اس پر بھی نہیں کھل سکی اور ایسے شخص کے ساتھ محبت کرتے چلے جانا آپ کے دل کو روشنی عطا کرتا ہے اور اس کو بغیر کسی ورد کے صاف بھی کرتا ہے۔ دل کو صاف کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ محبت کریں، چلیں محبت کرنا مشکل کام ہے آپ انسان کو انسان تسلیم کر لیں۔ گو مجھ سے اسّی برس کی عمر تک پہنچ جانے کے باوجود یہ نہیں ہو سکا کہ میں جو یہ مخالف ہے اس کی شہ رگ کے قریب بھی اللہ موجود ہے اور کم سے کم درجے کے آدمی کے پاس بھی اللہ ہے۔ ہمیں تو اس کی عزت کرنی ہے۔ ولائیت کے لوگوں کے بارے میں جو ہم تاثر رکھتے ہیں کہ وہ لوگوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں میں ان کے بارے میں بھی یہ کہا کرتا ہوں کہ وہ اخلاق نہیں ہے جس کا اللہ تقاضا کرتا ہے۔ ان کے پاس اخلاق کا عکس ہے۔ اصلی اخلاق نہیں ہے۔ اگر ان کے پاس اصلی اخلاق ہوتا تو وہ افغانستان پر ایسی بمباری نہ کرتے۔ بغیر کسی جواز اور دلیل کے انہوں نے ایسا کیا۔ وہ بھی اصلی اخلاق سے محروم ہیں لیکن آپ کے اور میرے دلوں پر ان کا بڑا دبدبہ ہے کہ جی وہ جو وعدہ کرتے ہیں یا سودا کرتے ہیں پورا کرتے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہمیں ان سے بازی لے جانی ہے کیونکہ ہمیں اللہ کی طرف سے ایسی رحمت عطا کی گئی ہے جو ان لوگوں کو عطا نہیں کی گئی۔

مسلمان ساری دنیا میں اتنے ذلیل و خوار کیوں ہیں؟ کیوں اتنی مشکل میں پڑے ہوئے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پوری کائنات میں جو مسلم امّہ ہے وہ دوسروں کے مقابلے میں برتر ہے۔ اگر برتر چیز کو ناپاکی کا ذرا سا بھی چھینٹا لگ جاۓ تو وہ برتر نہیں رہتی۔ غلیظ چیز کو جس طرح کا بھی گند لگ جاۓ وہ اس کا کوئی نقصان نہیں کرتی۔ آپ انسانیت کی دستار ہیں۔ آپ کے اوپر اگر گوبر کا ذرا سا چھینٹا لگ گیا تو یہ دستار اتار کے پھینکنی پڑتی ہے۔ یہ اہم ذمہ داری ہم پر عائد ہے کہ ہم نے اپنی دستار کو کیسے سنبھال کے رکھنا ہے اور اپنی دستار کو اچھی طرح سے اور سنبھال کر رکھنے کے لۓ یہ بات ضروری ہے کہ ہم اپنے بھائی، انسان اور آدمی کے ساتھ اپنا برتاؤ اور سلوک اچھا رکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ چغلی میٹنگیں بند کریں۔ انشاء اللہ ہم اپنی اس کوتاہی کو ختم کر کے دم لیں گے اور اس جانب توجہ دیتے رہیں گے اور دلاتے رہیں گے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15