نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

من کی آلودگی

آج سے چند روز بیشتر ہم Pollution کی بات کر رہے تھے اور ہمارا کہنا تھا کہ ساری دنیا آلودگی میں مستغرق ہے اور یہ آلودگی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ شجر و حجر اور حیوانات کو بھی کھاۓ چلی جا رہی ہے۔ اس کے دور رس نقصانات ہیں اور اس کے خاتمے کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ جب ہم اس گفتگو میں بحثیت ایک قاری یا ناظر کے شریک تھے تو مجھے خیال آیا کہ انسانی زندگی میں دو متوازی لہریں ایک ساتھ چلتی ہیں۔ ایک تو ہماری اپنی زندگی ہوتی ہے۔ اور ایک زندگی کا نامعلوم حصہ ہوتا ہے۔ اس حصے کو ہم گو جانتے نہیں ہیں لیکن محسوس ضرور کرتے ہیں۔ یہ حصہ ہماری زندگی کی اس لہر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے جو اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے۔ اس وقت مجھے اپنے بابوں کا خیال آیا جن کا میں اکثر ذکر کرتا رہتا ہوں کہ وہ بابے Pollution کے بارے میں خاصے محتاط ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی بڑی فکر رہتی ہے کہ کسی بھی صورت میں آلودگی نہ ہونے پاۓ اور وہ اس حوالے سے خاص اہتمام کرتے۔ یہ International Pollution Campaign سے پہلے کی بات ہے جب ڈیروں پر ایک ایسا وقت بھی آتا تھا کہ ڈیرے کا بابا اور اس کے خلیفے آلودگی کے خلاف اپنے آپ کو باقاعدہ اور بطورِ خاص اہتمام میں مصروف رکھتے اور آنے جانے والوں کو اس آلودگی بابت آگاہ کرتے تھے جو انسان کی اندرونی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان بابوں کا باہر کی Pollution سے زیادہ تعلق نہیں ہوتا۔ ان بابوں کا خیال ہے کہ جب تک انسان کے اندر کی آلودگی دور نہیں ہو گی باہر کی آلودگی سے چھٹکارہ حاصل کرنا مشکل ہے۔ جب تک انسان کے اندر کی معشیت ٹھیک نہیں ہو گی چاہے باہر سے جتنے بھی قرضے لیتے رہیں باہر کی معاشی حالت درست نہیں ہو سکتی۔ اس لیے اندر کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ان بابوں کا یہ خیال تھا جو بڑا جائز خیال تھا کہ ہماری بہت سی بیماریاں ہماری اندرونی آلودگی سے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ دل کے قریب ایک بہت بڑا طاقچہ ہے اور اس طاقچے کے اندر بہت گہرے گہرے دراز ہیں۔ ان دروازوں کو نکال کر اوندھا کر کے صاف کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان میں عرصۂ دراز سے جالے لگے ہوۓ ہیں۔ تو کہیں چوہے کی مینگنیں پڑی ہیں اور طرح کی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے دل کے والو (Valve) بند ہو رہے ہیں اور ظاہر کی زندگی میں یہی تصور ابھرتا ہے۔ دل کی نالیاں بند ہو جانے کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس کے اردو گرد آلودگی جمع ہو چکی ہوتی ہے اور خطرناک حد تک جمع ہو جاتی ہے اور انسان کو اس کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ انسان خود کو چنگا بھلا اور ٹھیک ٹھاک خیال کرتا ہے لیکن دل کے قریب آلودگی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

خواتین وحضرات! دل کی آلودگی جاننے کے لیے تو ایک اور طرح سے جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں نگاہ ڈالنے کے لیے ایک زاویۂ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان بابوں کا خیال ہے کہ نفرت کی وجہ سے ہیپاٹائٹس بی پھیلتی ہے۔ اس بیماری کا سبب شدید نفرت ہے۔ پہلے یہ بیماری اتنی زیادہ نہیں تھی ایک وہ زمانہ تھا جب پاکستان نیا نیا بنا تھا اور ہم اس وقت نوجوان تھے۔ ہم تب خوشی کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے اور جب ہمیں کوئی کار بڑی خوب صورت لگتی تو اس کو ہاتھ لگاتے تھے اور بڑے خوش ہوتے تھے۔ ہم نے مال روڈ پر کتنی ہی خوب صورت کاروں کو ہاتھ لگایا۔ ہمیں تب یہ معلوم بھی نہ تھا کہ Jealous بھی ہوا جاتا ہے۔ اب برداشت نہیں ہوتا۔ اب یہ کیفیت ہے کہ اب والد بیٹے اور بیٹا والد سے حسد کرتا ہے۔ رستم سہراب کی طاقت شہرت اور اس کی ناموری سے حاسد ہوتا تھا اور دونوں کا آپس میں ٹکراؤ بھی ہوتا تھا اور سہراب اپنے سگے بیٹے رستم کو قتل بھی کرتا ہے۔ آدمی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کی شدید نفرت خود اسے ہی کھاۓ جا رہی ہوتی ہے۔ گو اس نے اوپر عجیب طرح کا خول بد نیتی سے نہیں چڑھایا ہوتا ہے بلکہ معاشرتی تقاضوں کی بدولت ہی ایک خول اس پر چڑھ جاتا ہے۔ بہت بڑے آرٹسٹ خدا بخشے زوبی ہوتے تھے۔ ان سے ایک دفعہ ایک بلوچ جاگیردار نے تصویر بنوائی۔ جب ان جاگیردار صاحب کی خدمت میں وہ تصویر پیش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس میں تو میری شکل ہی نہیں ملتی۔ یہ تصویر میری لگتی ہی نہیں ہے۔ وہاں ان کے جو پندرہ بیس حواری بیٹھے ہوۓ تھے انہوں نے بھی کہا کہ “ جی سائیں یہ شکل تو آپ سے ملتی ہی نہیں ہے۔“ اب وہ آرٹسٹ بڑے شرمندہ ہوۓ اور ان کی طبیعت پر بڑا بوجھ پڑا۔ وہ تصویر واپس لے آۓ۔ کراچی میں ان دنوں ان کے فن پاروں کی نمائش ہوئی تو انہوں نے اس نمائش میں اسی تصویر کے نیچے جاگیردار کا نام مٹا کر “چور“ لکھ دیا۔ اب ان صاحب کو بھی اس بات کی خبر پہنچی وہ اپنا موزر یا تلوار لے کر وہاں سے بھاگے اور انہوں نے بھی آ کر وہ تصویر دیکھی جس کے نیچے “چور“ لکھا ہوا تھا۔ وہ پھر سخت لہجے میں آرٹسٹ سے گویا ہوۓ اور کہا کہ تمھیں ایسی حرکت کرنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ آرٹسٹ نے کہا کہ “ یہ آپ کی تصویر نہیں ہے اور آپ نے خود ہی کہا تھا کہ میری اس تصویر سے شکل نہیں ملتی اور آپ کے حواریوں نے بھی یہی کہا تھا کہ حضور یہ آپ کی تصویر نہیں ہے۔ آپ نہ میرے اوپر کوئی کلیم کر سکتے ہیں اور نہ کوئی مقدمہ کر سکتے ہیں۔ جاگیردار صاحب کہنے لگے کہ پکڑو پیسے اور یہ تصویر میرے حوالے کرو اور بتیس ہزار روپے دے کر بغل میں اپنی تصویر مار کر چلے گۓ۔“

خواتین و حضرات! انسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ چور ہے یا سعد ہے۔ نیک ہے یا بد ہے۔ وہ چاہے جتنی بھی کوشش کرے اس پر اپنی اصلیت ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ اس کے پاس مراقبے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ اپنے آپ کو Face کرنے کے بعد ہی خوبیاں عیاں ہوں گی اور انسان اپنی خرابیاں دور کر سکے گا۔ جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ میرے چہرے پر ایک پھنسی ہو گئی ہے تو وہ آپ کو ڈسٹرب کرتی ہے لیکن جب وجود کے اندر، روح کے اندر کوئی بیماری آ جاتی ہے تو پھر اس کا علم نہیں ہوتا۔ ہماری آپا صالح کہا کرتی تھیں (خدا بخشے انہیں) کہ اشفاق! اللہ نے یہ جو کائنات بنائی ہے اس میں ہر طرح کے انسان ہیں۔ جھوٹے، بے ایمان، دغا باز، سچے، چور، معصوم، نیک بھولے صوفی درویش مکار ہر طرح کے انسان پاۓ جاتے ہیں اور پھر وہ لمبی فہرست گنوا کر کہتیں کہ خدا کا شکر ہے کہ ان تمام انسانوں میں سے نہیں ہوں۔ خواتین وحضرات انہیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ انہوں نے جتنی قسمیں گنوائی ہیں وہ ان میں سے باہر جا ہی نہیں سکتیں۔ ہمارے بابے ایک بات پر بڑا زور دیا کرتے تھے۔ ان کا فرمان تھا کہ آپ نے دل کے دراز کے مختلف کونوں میں جو گلدستے پھینکے ہوۓ ہیں، جو عقیدت کے گلدستے ہیں انہیں نکال کر باہر پھینکو کیونکہ ان کی بد بو بڑی شدید ہوتی ہے۔ آپ لوگوں کو پتہ ہے کہ جب گلدستہ پانی میں کافی دیر تک پڑا رہے تو پھر اس کے اندر سے بدبو پیدا ہوجاتی ہے اور وہ بدبو سنبھالی نہیں جاتی ہے۔ بابے کہتے تھے کہ ان بوسیدہ گلدستوں کو نکال کے پھینکنا بہت ضروری ہے۔ اب ہم ان سے جھگڑا کرتے کہ بابا جی عقیدت کے گلدستوں کو کیسے اور کیونکر دل سے باہر نکال پھینکا جاۓ۔ انہوں نے کہا کہ دیکھو جن گلدستوں کو تر و تازہ رہنا چاہیے تھا وہ آپ کے وجود کے اندر پڑے ہوۓ تر و تازہ نہیں رہے ہیں اور پڑے پڑے بدبودار ہو گۓ ہیں۔ وہ اس قدر بدبودار ہو گۓ ہیں لیکن زیادہ دیر پڑے رہنے کے باعث آپ کو ان گلدستوں یا بدبو سے محبت اور عقیدت ہو گئی ہے اور آپ انہیں باہر پھینکتے ہیں۔ جوں جوں آپ کی بیرونی زندگی میں Mouth Washes بنتے جائیں گے اور غرارے کرنے کی جتنی بھی دوائیں بنتی جائیں گی یہ اندر کی بدبو کو ختم نہیں کر سکتیں۔ اب کئی مٹی نیشنل کمپنیاں منہ میں خوشبو پیدا کرنے کے لیے ادویات بنا کر ہمیں دے رہی ہیں اور کروڑوں روپے اکھٹے کر رہی ہیں لیکن ان ادویات کے استعمال کے باوجود اندر سے بدبو کے ایسے “بھبکے“ اور “بھبھا کے“ نکلتے ہیں کہ یہ چیزیں اسے کنٹرول ہی نہیں کر سکتیں، حلانکہ خدا نے انسانی جسم بہترین ساخت پر بنایا ہے۔ یہ نہا دھو کر صاف ہو کر اچھا ہو جاتا ہے لیکن اب اندر کی بدبو نہیں جاتی ہے۔ ہم بابا جی سے پوچھتے کہ جناب یہ کس قسم کی عقیدت کا گلدستہ ہے۔ فرمانے لگے کہ مثال کے طور پر تم نے ایک گلدستہ بڑا سجایا ہوا تھا۔ اور اس گلدستے کا نام “مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں“ رکھا ہوا تھا۔ اب وہ گل سڑ گیا ہے، آپ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا کہ مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ بلکہ اسے صرف دکھانے کے لیے گلدستے کے طور پر رکھا تھا اور اسے ایسے ہی رکھ کر گلنے سڑنے دیا ہے۔ آپ نے ایک گلدستہ “ لوگوں کے ساتھ اچھی بات کرو“ بھی رکھا تھا۔ اب وہ بھی پڑا پڑا بد بودار ہو گیا ہے۔ آپ نے عدل و انصاف کے گلدستے کو بھی خراب کر دیا ہے۔ انسان نے عدل سے منہ موڑ لیا ہے حلانکہ انسان اور خاص کر مسلمانوں کے سارے نظام کی عدل پر بنیاد ہے۔ ہمیں ہر جگہ عدل کا حکم ہے۔ آپ کسی کی شکل سے نفرت کرتے ہوۓ کسی کو انصاف کی فراہمی روکنے کے مجاز نہیں ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ تم کسی سے محبت نہ کرو۔ اس پر کوئی مواخذہ نہیں لیکن بے انصافی اور عدل نہ کرنے پر مواخذہ لازم ہے۔ ان گلدستوں کو تر و تازہ کرنے کے لیے باقاعدہ ایک عمل کرنا پڑتا تھا اور بابا جی کے پاس بہت دیر تک رہنا پڑتا تھا۔ کچھ راتیں بسر کرنا پڑتی تھیں۔ کچھ ایسے محلول بھی پینے پڑتے تھے۔ آپ کو بتاؤں کہ گاؤ زبان اور ایک الائچی اس وقت کھانے کو دی جاتی جب نمازِ تہجد کا وقت شروع ہوتا اور اس کا ایک مُفَرّح قسم کا قہوہ پینے کو ملتا۔ ہمیں ڈیرے پر ایک خوشبودار دوا اسطخدوس کی چاۓ پلائی جاتی۔ اس کو دماغ کے جالے صاف کرنے والی دوا کہا جاتا تھا۔ سیانوں کا کہنا ہے کہ میوزک کی دھن بنانا سب سے مشکل کام ہے۔ اس میں سب سے مشکل بات یہ ہے کہ یہ ہمارے ہاں لکھا بھی نہیں جاتا۔ میں ایک چھوٹے درجے کا رائٹر ہوں جو بھی لکھتا ہوں پڑھ سکتا ہوں اور اسے بار بار پڑھ سکتا ہوں لیکن دھن بنانے والا میری طرح پچھلی دھن کو کاغذ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات رہنی ضروری ہوتی ہے کہ وہ کہاں سے چلا تھا اور اسے پہلی دھن کو دوسری تیسری یا آخری کے ساتھ کس طرح سے جوڑنا ہے۔ ویسے تو اللہ نے آپ کو بہت اچھا اور خوب صورت ذہن دیا ہے۔ اس میں آلودگی نہیں ہے لیکن اگر آپ کا دل چاہے کہ آپ اندر کی صفائی کریں اور اس عمل میں سے گزریں تو آپ کو ایک بہت بڑی مشکل پیش آۓ گی اور آپ کو لگے لگا کہ صفائی ہو رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہو گا بلکہ صفائی کے عمل میں ذرا سی کوتاہی سے اس میں اور آلودگی شامل ہو جاۓ گی۔

انسانی زندگی میں عجیب عجیب طرح کی کمزوریاں آتی ہیں اور آدمی ان میں پھنسا رہتا ہے اور جب وہ اپنی اندرونی طہارت چاہتا بھی ہے اور پاکیزگی کا آرزو مند بھی ہوتا ہے۔ تو بھی اس سے کوئی نہ کوئی ایسی کوتاہی سرزد ہو جاتی ہے کہ وہ بجاۓ صفائی کے مزید زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں اور میرا پیغام All Over the World کے لیے ہے کہ جب تک اندر کی صفائی نہیں ہو گی اس وقت تک باہر کی آلودگی دور نہیں ہو سکتی ہے۔ آپ روز شکایت کرتے ہیں اور آپ آۓ روز Letter to the Editor لکھتے ہیں کہ جی دیکھیں ہمارے گھر کے آگے گندگی پڑی ہوئی ہے یا ہمارے محلے میں گندگی ہے اور دل سے یہ آپ کی آرزو نہیں ہوتی کہ صفائی ہو۔ آپ نے اپنے اندر ابھی تک یہ طے ہی نہیں کیا کہ آپ نے اب صفائی کرنی ہے۔ یہ بات اس وقت طے ہو گی جب آپ کو پاکیزگی اور صفائی سے محبت ہو گی اور آپ نقلی خوشبوؤں کے سہارے زندگی بسر کرنے کی بجاۓ اندر کی آلودگی ختم کر دینے کا نہ سوچیں۔ آپ نے بہت سنا ہو گا کہ پاکیزہ لوگوں کے بدن کی خوشبو ایسی مفرح اور مسحور کن ہوتی ہے کہ ان کے قریب بیٹھنے سے بہت ساری آلودگیاں دور ہو جاتی ہیں چاہے انہوں نے کوئی خوشبو عطر نہ لگایا ہو۔ آپ بابوں کا طریقہ کار اختیار کریں یا نہ کریں یہ آپ کی اپنی مرضی ہے لیکن انہوں نے روح کی صفائی کے لیے جو ترکیبیں بنائی ہوئی ہیں ان کو آپ اپنا سکتے ہیں اور ان کو اپناۓ جانے کے بعد لوگوں کو بڑی آسانیاں عطا کی جا سکتی ہیں اور پی ٹی وی کی طرف سے ہر ہفتے ایک ہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: ماوراء
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15