بونگیاں ماریں، خوش رہیں

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ سب کو سلام پہنچے۔ آج کے اس “ زاویے “ میں میرا کچھ سنجیدہ انداز اختیار کرنے کو جی نہیں چاہتا بلکہ آج کچھ ہلکی پھلکی سی باتیں ہونی چاہئیں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی ہلکی پھلکی باتوں سے ہی عبارت ہے۔ ہم اس پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے کچھ سنجیدہ اور گھمبیر قسم کی باتیں کر رہے تھے اور میرے ذہن میں یہ لہر بار بار اٹھ رہی تھی کہ پاکستان کے اندر ہماری بہت سے مشکل منازل موجود ہیں جن میں بہت بڑا ہاتھ ان اونچے پہاڑوں کا بھی ہے جو اللہ تعالٰی نے اپنی کمالِ مہربانی سے ہم کو عطا کیے ہیں۔ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑ کے۔ٹو پاکستان میں ہے۔ میں اسے سب سے اونچا یوں کہوں گا کہ بہت سے جغرافیہ دان اور ہیئت دان یہ کہتے ہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی اتنی اونچی نہیں ہے جتنی کہ کے۔ٹو کی ہے۔ یہ ہمالیہ سے دو فٹ یا دو فٹ کچھ انچ اونچا ہے۔ کے۔ٹو کی چوٹی ہمارے پاس ہے، ناگا پربت کی چوٹی ہمارے پاس ہے، راکا پوشی کی چوٹی کے ہم مالک ہیں۔ مجھے بھی آپ کی طرح ان چوٹیوں سے بڑی محبت ہے۔ اوپری منزل یا ان چوٹیوں پر پہنچنے کے لیے جب انسان رختِ سفر باندھتا ہے تو وہ صرف ایک ہی ذریعہ استعمال نہیں کرتا۔ پہلے انسان جیپ کے ذریعے پہاڑ کے دامن تک پہنچتا ہے پھر آپ کو ٹٹو یا خچر کی ضرورت محسوس ہو گی۔ اس کے بعد ایک مقام ایسا آجاۓ گا کہ راستہ دشوار گزار ہو جاۓ گا اور پیدل چلنا پڑے گا۔ پھر ایک ایسی جگہ آۓ گی جب آپ کو رسوں کا استعمال کرنا پڑے گا۔ تب کہیں جا کر آپ اوپر اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ زندگی میں صحتِ جسمانی اور صحتِ روحانی کو برقرار رکھنے کے لیے انسان ایک ہی طریقۂ علاج نہیں اپنا سکتا ہے بلکہ اسے مختلف طریقے اور ذرائع استعمال کرتا پڑتے ہیں۔ ایلوپیتھک علاج ہے، حکمت ہے، ہومیو پیتھک کا طریقہ ہے اس کے علاوہ چائنیز کا طریقۂ علاج ہے جس میں وہ صبح سویرے اٹھ کر قدرت سے کرنٹ حاصل کرتے ہیں۔ ہم نے چائنا میں دیکھا کہ وہ صبح باہر کھڑے ہو کر ہاتھ ہلاتے رہتے ہیں اور قدرتی انرجی اپنے اندر سمیٹتے رہتے ہیں اور اپنی بیٹری چارج کرتے ہیں۔ اس قسم کی باتیں اور چیزیں ہمارے ہاں ہمارے بزرگوں، بڑوں اور بابوں نے بھی سوچی ہیں اور ان کی ان باتوں کو جو میرے جیسا آدمی چوری چوری سنتا اور سیکھتا رہا، ان میں سے ایک طریقۂ علاج یہ بھی ہے کہ وہ روحانی ادویات کا استعمال رکھتے ہیں۔ خواتین و حضرات! یہ روحانی ادویات کہیں فروخت نہیں ہوتیں۔ کوئی ایسا بازار یا مرکز نہیں ہے جہاں سے جا کر ڈاکٹری نسخہ کی طرح ادویات خرید سکیں۔ نہ تو یہ گولیوں کی شکل میں ہوتی ہیں نہ یہ ٹنکچر ہوتی ہیں نہ ان کی ڈرپ لگ سکتی ہے اور نہ ہی یہ ٹیکوں کی صورت میں دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ تو کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا کچھ نہ ہونا سا بھی ہونے کی طرح سے ہے۔ میری اور آپ کی زندگی کا سارا دار و مدار یہی ہے کہ کوشش اور جدوجہد کرنی ہے اور یہی ہمیں پڑھایا اور سکھایا گیا ہے۔ لیکن چینی فلسفۂ تاؤ کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ٹھوس اور نظر میں آنے والی چیز اور جو بظاہر آپ کو مفید نظر آۓ وہ درحقیقت مفید نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر آپ لاہور سے اسلام آباد جانا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی کار نکالتے ہیں اور اسے سٹرک پر تیزی سے بھگاتے ہیں۔ آپ کی یہ کوشش اور تیز بھگانا ایک ساکن چیز سے وابستہ ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ تیزی سے گھومتا ہوا پہیہ ایک نہایت ساکن دھرے کے اوپر کام کرتا ہے۔ اگر وہ دھرا ساکن نہ رہے اور وہ بھی گھومنے لگ جاۓ تو پھر بات نہیں بنے گی۔ اس کوشش اور جدوجہد میں تیزی سے مصروف پہیۓ کے پیچھے مکمل سکون ہے۔ اور خاموشی و استقامت اور حرکت سے مکمل گریز ہے۔ مجھ سے اور آپ سے یہ کوتاہی ہو جاتی ہے کہ ہم تیز چلنے کے چکر میں پیچھے اپنی روح کی خاموشی اور سکون کو توڑ دیتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان بھی چلو بھاگو دوڑو کی رٹ لگاتے ہیں اور “ آوے ای آوے اور جاوے ای جاوے “ کے نعرے لگاتے ہیں۔ زندگی اللہ کی بنائی ہوئی ہے اور اس نے زندگی میں حسن رکھا ہے۔ میرے سامنے پڑی چاۓ کی پیالی کے در و دیوار اس کا کنڈا یہ مفید نہیں ہے بلکہ اس کا خلا مفید ہے۔ ہم پیالی کے کنارے پر چاۓ رکھ کے نہیں پی سکتے۔ اس لیے خلا کی اہمیت اس کی نظر آنے والی بیرونی خوبصورتی سے زیادہ ہے۔ ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ گھر کے خلا کے اندر رہتے ہیں۔ کیڑے مکوڑوں کی طرح دیوار میں گھس کر نہیں رہتے۔ دیواریں کسی کام نہیں آتیں بلکہ خلا کام آتا ہے۔ آپ زندگی کے ساتھ شدت کے ساتھ نہ چمٹ جایا کریں اور ہر مفید نظر آنے والی چیز کو بالکل ہی مفید نہ سمجھ لیا کریں۔ میں روحانی دوا کی بات کر رہا تھا جو عام کسی طبیب کے ہاں نہیں ملتی یا کسی ملٹی نیشنل لیبارٹری میں تیار نہیں ہوتی۔ یہ دوائیں آپ کو خود بنانا پڑتی ہیں اور ان دواؤں کے ساتھ ایسے ہی چلنا پڑتا ہے جیسے بے خیالی میں آپ کسی کھلے راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان روحانی ادویات کا نسخہ بھی کسی جگہ سے لکھا ہوا نہیں ملتا ہے۔ یہ آپ کو اپنی ذات کے ساتھ بیٹھ کر اور خود کو ایک طبیعت کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھنے کے انداز میں پوچھنا پڑتا ہے کہ بابا جی یہ میری خرابی ہے اور یہ میری الجھن ہے اور پھر آپ ہی کے اندر کا وجود یا طبیب بتاۓ گا کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ جب آپ خود اپنی ذات سے خامیاں خوبیاں پوچھنے اور سوال و جواب کرنے بیٹھ جاتے ہیں تو مسئلے حل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈپریشن کے مرض سے پریشان ہیں۔ کروڑوں روپے کی ادویات سے ڈپریشن ختم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور یہ مرض ایسا ہے کہ خوفناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اچھوت کی بیماری لگتا ہے۔ ہمارے بابے جن کا میں ذکر کرتا ہوں وہ بھی اس Stress یا ڈپریشن کے مرض کا علاج ڈھونڈنے میں لگے ہوۓ ہیں تا کہ لوگوں کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جاۓ۔ پرسوں ہی جب میں نے بابا جی کے سامنے اپنی یہ مشکل پیش کی تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ڈپریشن کے مریض کو اس بات پر مائل کر سکتے ہیں کہ وہ دن میں ایک آدھ دفعہ “ بونگیاں “ مار لیا کرے۔ یعنی ایسی باتیں کریں جن کا مطلب اور معانی کچھ نہ ہو۔ جب ہم بچپن میں گاؤں میں رہتے تھے اور جوہڑ کے کنارے جاتے تھے اور اس وقت میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت بھی پاپ میوزک آج کل کے پاپ میوزک سے بہت تیز تھا اور ہم پاپ میوزک یا گانے کے انداز میں یہ تیز تیز گاتے تھے :

“ مور پاوے پیل سپ جاوے کُھڈ نوں بگلا بھگت چک لیاوے ڈڈ‌ نوں تے ڈڈاں دیاں لکھیاں نوں کون موڑ دا “

(مور ناچتا ہے جبکہ سانپ اپنے سوراخ یا گڑھے میں جاتا ہے۔ بگلا مینڈک کو خوراک کے لیے اچک کر لے آتا ہے اور اس طرح سب اپنی اپنی فطرت پر قائم ہیں اور مینڈک کی قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے)۔ ہم کو زمانے نے اس قدر سنجیدہ اور سخت کر دیا ہے کہ ہم بونگی مارنے سے بھی قاصر ہیں۔ ہمیں اس قدر تشنج میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہم بونگی بھی نہیں مار سکتے باقی امور تو دور کی بات ہیں۔ آپ خود اندازہ لگا کر دیکھیں آپ کو چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت ایسا نہیں ملے گا جب آپ نے بونگی مارنے کی کوشش کی ہو۔ لطیفہ اور بات ہے۔ وہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر موقع کی مناسبت سے سنایا جاتا ہے جبکہ بونگی کسی وقت بھی ماری جا سکتی ہے۔ روحانی ادویات اس وقت بننی شروع ہوتی ہیں جب آپ کے اندر معصومیت کا ایک ہلکا سا نقطہ موجود ہوتا ہے۔ یہ عام سی چیز ہے چاہے سوچ کر یا زور لگا کر ہی لائی جاۓ خوبصورت ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں :

بہتر ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

عقل کو رسیوں سے جکڑنا نہیں اچھا جب تک عقل کو تھوڑا آزاد کرنا نہیں سیکھیں گے۔ ہماری کیفیت رہی ہے جیسی گزشتہ 53 برسوں میں رہی ہے (یہ پروگرام سن 2000 میں نشر ہوا تھا)، صوفیاۓ کرام اور بزرگ کہتے ہیں کہ جب انسان آخرت میں پہنچے گا اور اس وقت ایک لمبی قطار لگی ہو گی۔ اللہ تعالٰی وہاں موجود ہوں گے وہ آدمی سے کہے گا کہ “اے بندے میں نے تجھے معصومیت دے کر دنیا میں بھیجا تھا وہ واپس دے دے اور جنت میں داخل ہو جا۔“

جس طرح گیٹ پاس ہوتے ہیں اللہ یہ بات ہر شخص سے پوچھے گا لیکن ہم کہیں گے کہ یا اللہ ہم نے تو ایم-اے، ایل ایل بی، پی ایچ ڈی بڑی مشکل سے کیا ہے لیکن ہمارے پاس وہ معصومیت نہیں ہے لیکن خواتین و حضرات! روحانی دوا میں معصومیت وہ اجزاۓ ترکیبی یا نسخہ ہے جس کا گھوٹا لگے کا تو روحانی دوا تیار ہو گی اور اس نسخے میں بس تھوڑی سی معصومیت درکار ہے۔ اس دوائی کو بنانے کے لیے ڈبے، بوتلیں وغیرہ نہیں چاہئیں بلکہ جب آپ روحانی دوا بنائیں تو سب سے پہلے ایک تھیلی بنائیں جس طرح جب ہم بڈھے لوگ سفر کرتے ہیں تو دواؤں کی ایک تھیلی اپنے پاس رکھتے ہیں۔ بہت سی ہوائی کمپنیاں ایسی ہیں جن کے ٹکٹ پر لکھا ہوتا ہے کہ Check your passport your visa and their validity and your medicine bag آپ کو بھی ایک تھیلی تیار کرنی پڑے گی جس کے اندر تین نیلے منکے یا جو بھی آپ کی پسند کا رنگ ہے اس کے منکے اور اعلٰی درجے کی کوڈیاں، ایک تتلی کا پر، اگر تتلی نہ ملے تو کالے کیکر کا پھل، کوئی چھوٹی سی آپ کی پسند کی تصویر، چھوٹے سائز میں سورۂ رحٰمن اور اس کے اندر ایک کم از کم 31 دانوں یا منکوں والی تسبیح ہونی چاہیے۔ اس تھیلی میں ایک لیمن ڈراپ ہونا چاہیے۔ اس تھیلی میں ایک سیٹی اور ایک پرانا بلب بھی رکھیں۔ پھر آپ لوٹ کر معصومیت کی طرف آئیں گے۔ یہ میری پسند کی چیزوں پر مبنی تھیلی ہے۔ آپ اپنی پسند پر مبنی چیزیں اپنی تھیلی میں رکھ سکتے ہیں۔ اس پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ تھیلی ہونی ضرور چاہیے کیونکہ ہم معصومیت سے اتنے دور نکل گۓ ہیں اور اس قدر سمجھدار ہو گۓ ہیں اور چالاک ہو گۓ ہیں کہ اللہ نے جو نعمت ہمیں دے کر پیدا کیا تھا اس سے آج تک فائدہ اٹھا ہی نہیں‌ سکے۔ خداوندِ تعالٰی نے کہا تھا کہ “ میں تمہارا ذمہ دار ہوں رزق میں دوں گا۔ عزت و شہرت تمہیں میں دوں گا اور اولاد سے نوازوں گا “ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو خود بڑے عقلمند آدمی ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہم اپنی عقلمندی سے پا سکتے ہیں اور اسی زعم میں تشنج کی زندگی میں مبتلا ہیں۔ میرا چھوٹا پوتا اویس سکول میں پڑھتا ہے۔ وہ ایک دن سکول سے آیا تو بڑا پریشان تھا اور گھبرایا ہوا بھی تھا۔ اس نے اپنی ماں سے کہا کہ “ ماما آج سکول میں کھیلتے ہوۓ میری قمیص کا بٹن ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے اپنا بٹن تو تلاش کر لیا لیکن مجھے وہ دھاگہ نہیں ملا جس سے یہ لگا ہوا تھا۔“

اب آپ اندازہ کریں کہ ہم اپنے بچوں کو کس انتہا درجے کی اور پریشان کن ذمہ داری سکھا رہے ہیں۔ میں نے اسے گود میں اٹھا لیا اور کہا کہ بیٹا بٹن جب گرتا ہے تو اس کے ساتھ دھاگہ نہیں گرتا۔ اس کی ماں ہنسنے لگی کہ دیکھو کتنا بے وقوف ہے۔ میں نے کہا۔ یہ کتنا بےوقوف نہیں بلکہ کتنا معصوم ہے۔ ہم کتنا بھی بچوں کو سکھا لیں لیکن ان سے قدرتی معصومیت تو جاتے جاتے ہی جاۓ گی۔ خواتین و حضرات اس معصومیت کو ہمیں واپس لانا ہے۔ جب تک ہمیں وہ واپس نہیں ملے گی ہم اپنا علاج نہیں کر پائیں گے۔ آپ نے جو تھیلی بنائی ہے اسے آپ نے ہفتے میں دو تین مرتبہ کھول کر بھی دیکھنا ہے۔ اگر اسے نہیں دیکھں گے تو آپ کی مشکلات دور نہیں ہوں گی۔ یہ معصومیت کی تھیلی آپ کو سکون فراہم کرے گی۔ آپ کی معصومیت لوٹاۓ گی۔ اونچی منزل تک پہنچنے کے لیے رسی درکار ہوتی ہے۔ صرف پیدل چل کر ماؤنٹ ایورسٹ سر نہیں کیا جا سکتا۔ میرے خالہ زاد بھائی کی بیٹی جو میری بھتیجی بھی لگتی ہے اس کی شادی تھی اور رخصتی کے وقت ہماری وہ بیٹی سب سے مل رہی تھی اور وہ اپنے باپ سے بھی بڑی محبت سے جھپی ڈال کے ملی۔ پھر اس نے اپنے پرس سے کچھ نکال لیا اور وہ نکالی ہوئی پڑیا سی اپنے والد کو دے دی۔ اس کے بعد جب وہ مجھے ملنے لگی تو میں نے کہا بیٹا وہ تو نے پرس سے نکال کر اپنے باپ کو کیا دیا ہے۔

وہ کہنے لگی تایا کچھ نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میرے آنکھوں نے کچھ دیکھا ہے۔

وہ کہنے لگی کہ تایا جان میں نے ابو کا کریڈٹ کارڈ انہیں واپس کیا تھا کیونکہ اب میں نے ایک اُلو اور پکڑ لیا ہے۔ اس کے پاس بھی کریڈٹ کارڈ ہو گا۔ مجھے اس کا وہ انداز اور معصومیت بڑی پسند آئی۔ اگر میرے جیسا لالچی ہوتا تو کہتا کہ ایک یہ بھی رکھ لیتا ہوں ایک دوسرا ہو گا۔ ابو نے کیا کہنا ہے۔ میں اپنے اور آپ کے لیے یہ تجویز کروں گا کہ ڈپریشن کے مرض کی کسی اور طرح سے گردن ناپی جا سکتی ہے۔ سواۓ اس کے کہ آپ اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کے دو عدد بونگیاں نہ ماریں۔ ان بونگیوں سے ڈپریشن دور بھاگتا ہے۔ سنجیدگی کو اگر گلے کا ہار بنائیں گے تو جان نہیں چھوٹے گی۔ ہم اس آرزو کے ساتھ کہ ساری دنیا اور بالخصوص میرے ملک کے لوگوں کو اللہ آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود