نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

۔ "چائیے" کا روگ ۔

میں آپ کو اکثر ایسی باتیں بھی بتاتا رہتا ہوں جو آپ کے مطالعے، مشاہدے یا نظر سے کم ہی گزری ہوں گی۔ ایک زمانے میں تو ہمارے ہاں بہت سی درگاہیں اور “ زاویے “ ہوتے تھے جہاں بزرگ بیٹھ کر اپنے طرز کی تعلیم دیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ یہ سلسلہ کم ہونے لگا۔ یہ کمی کس وجہ سے ہوئی میں اس حوالے سے آپ کی خدمت میں درست طور پر عرض نہیں کر سکتا۔ وہ درگاہیں، زاویے اور وہ بزرگ یوں مفید تھے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور کمیوں کے باوصف لوگوں کو ایسی تسلی اور تشَفّی عطا کرتے تھے جو آج کے دور کا مہنگے سے مہنگا Psychoanalyst یا Psychiatrist نہیں دے سکتا۔ خدا جانے ان کے پاس ایسا کون سا علم ہوتا تھا۔ ان کا کندھے پر ہاتھ رکھ دینا یا تشفی کے دو الفاظ کہہ دینے سے بڑے سے بڑا بوجھ آسانی سے ہٹ جاتا تھا۔ ہمارے بابا جی جن کے پاس ہم لاہور میں جایا کرتے تھے ان کی کئی عجیب باتیں ایسی ہوتی تھیں جو ہماری دانست سے ٹکرا جاتی تھیں اور وہ پورے طور پر ہماری گرفت میں نہیں آتی تھیں کیونکہ ہم ایک اور طرح کا علم پڑھے ہوۓ تھے۔ ہمارا علم سکولوں، کالجوں اور ولائیت کا تھا اور اس نصاب میں وہ بابوں کی باتیں ہوتی نہیں تھیں۔ ایک روز انہوں نے فرمایا کہ دنیا کی سب سے بری، تکلیف دہ اور گندی بیماری “ چاہیے کا روگ “ ہے۔ ان کی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر “چاہیے کا روگ“ کیا ہے۔ یہ بات یہاں سے چلی جب میں نے ڈیرے کے غسل خانے کے اس دروازے کو ٹھیک کر لینا چاہیے کی بات کی جس کا ایک دروازہ قبضہ ڈھیلا ہونے کے باعث ایک طرف جھکا ہوا تھا۔ میری اس بات کے جواب میں بابا جی نے فرمایا کہ چاہیے کا ایک روگ ہوتا ہے جو کمزور قوموں کو لگ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ یہی ذکر کرتے رہتے ہیں کہ “یہ ہونا چاہیے“، “وہ ہونا چاہیے۔“ ہمارے ایک دوست صفدر میر تھے جو اب فوت ہو چکے ہیں وہ انگریزی کے Columnist تھے۔ انہوں نے بابا جی سے یہ بات سن کر ایک کالم Should Syndrome یعنی Should کی بیماری لکھا تھا۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ اخباروں میں چھپتا ہے کہ ہمیں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔ ہمارے کئی لیڈر بھی تقریروں میں کہتے ہیں کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے یا ویسا کرنا چاہیے۔ ہمیں آبادی میں کمی کرنی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔

خواتین و حضرات اس طرح کی باتیں چاہیے کے چکر میں آ کر ہی ختم ہو جاتی ہیں اور ان کا عملی اور تعمیری پہلو سامنے نہیں آتا۔ جب میں نے غسل خانے کے دروازے کی بات کی تو انہوں نے کہا کہ ایسے نہیں بولا کرتے اور ڈیروں پر ایسا نہیں کہا کرتے ہیں۔ بس دروازوں کو اپنی مرضی کے مطابق ٹھیک کر دیا کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ چاہے آپ غلط کرتے لیکن چاہیے کہنا درست نہیں۔

میں نے کہا بابا جی اس میں آخر اتنی کیا خرابی ہے۔ کہنے لگے کہ چاہیے کا لفظ سارے زمان و مکان پر حاوی ہے۔ اس لیے برا ہے۔ اس کا نہ ماضی سے تعلق ظاہر ہوتا ہے نہ حال یا مستقبل کے ساتھ تعلق بنتا ہے بلکہ یہ ہر جگہ گھس جاتا ہے۔ اس لیے اس کا لیول دیمک کا ہے اور یہ دیمک کی طرح سارے ارادوں کو چاٹ جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب آپ اکثر ماضی کو استعمال کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ ہمیں مشرقی پاکستان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں بجلی بنانے کے لیے ایک اور ڈیم بنانا چاہیے تھا۔ یہ ساری باتیں ماضی کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں جن کو ہم بدل نہیں سکتے پھر یہی بدبخت چاہیے حال کے ساتھ آ جاتا ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ انگلش میڈیم سکول بنا دینے چاہئیں، ہمیں جدیدیت اختیار کرنا چاہیے اس طرح کی بےشمار باتیں ہیں اور بھی بہت سے چاہیے ہیں۔ پھر یہ لفظ چاہیے مستقبل کی طرف چلا جاتا ہے اور یہ لفظ حال، ماضی اور مستقبل کے درمیان گھومتا رہتا ہے اور کسی بات کو تقویت عطا نہیں کرتا اور بدقسمتی سے جو کمزور قومیں ہوتی ہیں وہ “ چاہیے “ ہی کا ذکر کرتی رہتی ہیں اور وہ صوبوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنی چاہیے، نیک بن جانا چاہیے پر اصرار کرتی رہتی ہیں اور “ چاہیے “ استعمال کر کے آرام سے اپنا فرض ادا کر کے سوئی رہتی ہیں اور خود کو بری الذمہ خیال کرتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ جی یہ تو روحانی قسم کا ڈیرہ ہے یہاں پر تو دینی باتیں ہوتی ہیں لیکن آپ نے جو بات کی ہے یہ تو “ ماؤزے تنگ “ کی بات سے بہت ملتی ہے۔ 1966ء میں مجھے ایک Silly School Girl کی طرح ماؤزے تنگ (چینی رہنما) کو دیکھنے کا بڑا شوق تھا حالانکہ میں اس وقت بڑی عمر کا تھا۔ میں ان دنوں سفر کرتا ہوا چائنا پہنچا۔ مجھے وہاں چین والوں نےکہا کہ جناب ماؤزے تنگ کو تو کوئی بھی نہیں مل سکتا۔ میں نے کہا کہ میں نے بس یہاں بیٹھے رہنا ہے اور انہیں مل کر جانا ہے۔ آپ نے وہ فقیرنی دیکھی ہو گی جو آپ کے پیسے دینے سے انکار کے باوجود موٹر کے ساتھ لگ کر بیٹھی رہتی ہے۔ میں بھی چین والوں سے ایسے ہی کرتا رہا اور وہ بڑے زچ ہوۓ ان دنوں ان کا Cultural Revolution چل رہا تھا اور انہوں نے مجھ سے جان چھڑانے کے لیے وعدہ کیا آپ کو چار منٹ کے لیے ملوا دیں گے۔ میں بڑا خوش ہوا کہ چار منٹ نصیب ہوگۓ لیکن آنجہانی ماؤزے تنگ کی یہ بڑی مہربانی تھی کہ وہ مجھے گیارہ منٹ کے لیے ملے تھے۔ اس ملاقات میں بھی یہ “چاہیے“ کا ذکر آیا لیکن وہ کچھ اور انداز میں تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے دیکھتے دیکھتے اتنی ترقی کر لی ہے اور ہم تو آپ سے ایک سال پہلے آزاد ہوۓ ہیں لیکن مشکلات سے نہیں نکل سکے۔ آخر آپ نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہاکہ جب ہمارے ذہن میں کوئی پراجیکٹ یا خیال آتا ہے یا یہ ذہن میں آتا ہے کہ “ ہمیں یہ کرنا چاہیے “ تو اس خیال کے فوراً بعد ہم اس فریم ورک کو لانگ مارچ میں شامل کر دیتے ہیں۔ اس کا ذکر بند کر دیتے ہیں اور اسے مکمل کرنے کے فکر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ان دنوں چین میں ایک “ خوفناک چاہیے “ آیا ہوا تھا۔ ماؤزے تنگ کہہ رہا تھا کہ پانچ ہزار سال قبل ہمارے سنیاسی، جوگی جو “ آکو پنکچر “ کا طریقہ علاج اختیار کرتے تھے اسے ڈھونڈنا چاہیے جبکہ اس وقت کے ماڈرن ڈاکٹر ان کی اس بات سے ناراض تھے کہ یہ کیا فضول بات کر رہے ہیں۔ وہ سنیاسی تو نالائق لوگ تھے، سوئیاں لگاتے تھے، تکلیف دیتے تھے لیکن ماؤزے تنگ نے کہا کہ چلو اس طریقہ کو لانگ مارچ میں لے آتے ہیں اور ڈھونڈتے ہیں۔ جب میں نے ڈیرے پر یہ بات کی تو ہمارے بابا جی نے بھی بتایا کہ ہمارے ہاں بھی ایک رسم تھی جس میں لوگ فسد کھلواتے تھے جس میں جسم کے مختلف حصوں پر کٹ دے کر فساد والا یا خراب خون نکال دیا جاتا تھا اور مریض کو آرام آ جاتا تھا۔ مرزا اسد خان غالب بھی بڑی باقاعدگی سے فسد کھلواتے تھے۔ اس زمانے کے فسد کھولنے والوں کو معلوم ہوتا تھا کہ کتنا کٹ دینا ہے اور کتنا خون بہانا ہے اور کب اسے بند کر دینا ہے۔ بہار کے موسم میں یہ علاج کیا جاتا تھا اور مرد عورتیں دونوں فسد کھلواتے تھے۔ تب بلڈ پریشر نامی مرض کا کوئی نام بھی نہیں ہوتا تھا کیونکہ وہ فسد کے ذریعے خون کے دباؤ کو نارمل رکھتے تھے۔ جب میں نے ماؤزے تنگ کی آکوپنکچر والی بات کی تو بابا جی نے کہا کہ آپ تو پڑھے لکھے آدمی ہیں، آپ فسد کھولنے والے تلاش کریں۔

خواتین و حضرات آپ نے سنا ہو گا کہ لوگ فساد والا خون ختم کرنے کے لیے جونکیں بھی لگواتے تھے۔ اب امریکا میں بھی جونکیں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ اب چونکہ بابا جی کا حکم تھا تو میں تلاش کرتے کرتے، یہاں وہاں پوچھتے اور تحقیق کرتے پتہ چلا کہ فسد کھولنے والوں کا ایک گھرانہ کوئٹہ میں آیا ہے۔ میں کوئٹہ گیا اور اس گھرانے میں پہنچا تو وہاں نوجوان بڑے اچھے تھے۔ وہ مجھے بڑی محبت سے ملے۔ وہ کہنے لگے کہ جی ہم اب یہ کام نہیں کرتے اور اب ہم لیمن ڈراپس یعنی کھٹی میٹھی گولیاں بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے باپ دادا نے تو کچھ خاص کمایا نہیں لہٰذا ہم نے لیمن ڈراپس تیار کرنے والی مشینیں لگا لی ہیں کیونکہ اس میں زیادہ پیسہ ہے اور اب ہمارا کمائی کا یہ ذریعہ ہے۔ بابا جی کہا کرتے تھے کہ تم چاہیے کے چکر میں نہ آنا بلکہ کچھ کر ڈالنا وگرنہ تم چاہیے چاہیے ہی میں ڈوب جاؤ گے اور چاہیے کا سمندر بہت گہرا ہوتا ہے۔ تھوڑے دن ہوۓ میں سبزی منڈی گیا تو دو سائیکل سوار نوجوان میرے پاس سے بڑی تیزی کے ساتھ گزرے۔ اتنی تیزی سے گزرے کہ مجھے اچانک گاڑی کے بریک لگانا پڑے۔ اچانک بریک لگانے سے میرے پیچھے والی گاڑی میری گاڑی کے ساتھ آ کر ٹھک سے لگی۔ ہم نے اپنی گاڑیاں ایک طرف کھڑی کر لیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کچھ زیادہ نقصان تو نہیں ہوا ہے۔ میں نے ٹکر مارے والے صاحب سے کہا کہ معافی چاہتا ہوں کہ مجھے سخت بریک لگانا پڑے اور اس نے کہا کہ الحمدللہ آپ کا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ وہ بالکل چوراہا تھا۔ میں نے ان صاحب سے کہا کہ یہاں پر ایک بتی ہونی چاہیے یا کم از کم ایک ٹریفک والا تو ضرور ہونا چاہیے۔ وہ صاحب کہنے لگے کہ یہ سب غلط بات ہے۔ کچھ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے ان دونوں لڑکوں کو سزا ملنی چاہیے اور میں ان کو پکڑ کر سزا دوں گا۔ میں نے کہا کہ وہ تو اب کہیں کے کہیں نکل گۓ ہوں گے لیکن وہ صاحب کہنے لگے کہ میں ان کو ضرور پکڑوں گا۔ اگر اب نہ پکڑ سکا تو شام کو یہ گھر تو آئیں گے ہی نا، اس وقت سزا دوں گا۔ میں نے کہا جناب وہ کیسے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔

خواتین و حضرات! چاہیے زندگی میں بہت جگہ ہم پر دباؤ ڈالتا ہے۔ ہمارے جہلم کے علاقے میں روس سے بڑی تعداد میں مرغابیاں آتی ہیں اور ہم وہاں شکار کھیلنے جاتے تھے۔ جہلم میں لوگوں کی بڑی زمینیں نہیں ہیں۔ چھوٹے چھوٹے زمیندار ہوتے ہیں اس لیے انہیں ٹریکٹر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ ہم جس شخص کے گھر میں ٹھہرے وہ چاہ رہا تھا کہ میں ٹریکٹر خریدوں۔ وہ گاؤں کا سردار تھا جبکہ اس کی بیوی جو سمجھدار اور پڑھی لکھی تھی، وہ ٹریکٹر خریدنے کے خلاف تھی اور اس کا کہنا تھا کہ ٹریکٹر کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ رقبہ ہی اتنا زیادہ نہیں ہے جس کے لیے ٹریکٹر کی ضرورت ہو لیکن اس شخص نے کہا کہ میرا شوق ہے اور میں نے ٹریکٹر ضرور لینا ہے۔ اس وجہ سے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان ایک چپقلش سی تھی۔ اس کی بیوی نے کہا کہ ہمارے پاس دھنی کے بیلوں (اعلٰی نسل کے بیلوں کی ایک قسم) کی ایک جوڑی ہے وہ خوب ہل چلاتے ہیں اور میں ٹریکٹر نہیں آنے دوں گی لیکن وہ شخص بضد تھا۔ جب بات ذرا سی اونچی ہو گئی تو اس نے بیوی سے کہا کہ میں تمہیں اس لیے گھر نہیں لایا کہ “ مجھے تم چاہیے تھی “ یا مجھے تمہاری ضرورت تھی بلکہ مجھے تم سے محبت تھی تمہیں اس لیے گھر لایا ہوں اور اسی طرح مجھے ٹریکٹر سے محبت ہے لہٰذا اگلے دن بیگم صاحبہ خود شو روم گئیں اور ٹریکٹر بک کروایا اور گُڑ کے چاول پکا کر سارے گاؤں میں تقسیم کیے اس لیے کہ چاہیے اور محبت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ میرا ایک بھانجا تھا جب وہ انکم ٹیکس آفیسر ہوا تو اس کی تعیناتی ملتان میں ہوئی۔ اس کی بیوی اور میری بہو جو بڑی پیاری ہے میں ایک بار اس کے پاس ملتان گیا۔ گرمیوں کے دن تھے۔ میری بہو کا کہیں جانے کا پروگرام تھا تو ان نے کہا کہ ماموں مجھے تو جانا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ خوشی سے جاؤ ہم خود ہی پکائیں گے اور مرضی کے بناۓ ہوۓ کھانے کھائیں گے۔ اس نے جاتے ہوۓ اپنے شوہر سے کہا کہ میں نے وہ تمام کام کاغذ پر لکھ کر لگا دیۓ ہیں جو آپ نے میری غیر موجودگی میں کرنے ہیں اور دیکھو تم سُست آدمی ہو، کوتاہی نہ کرنا۔ ان کاموں میں دودھ کے پیسے، دین بھائی درزی کے پیسوں کی ادائیگی بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ پودوں کی صفائی، اخبار والے کا بل اور دیگر کئی چیزیں لکھی ہوئی تھیں۔ آخر میں اس نے لکھا تھا کہ “ مجھ کو بھولنا نہیں مجھ سے محبت کرتے رہنا ہے“ وہ 15 دن کے لیے میکے (ساہیوال) جا رہی تھی۔ جب وہ میکے سے لوٹ کر آئی تو تب بھی میں وہیں تھا اس نے آتے ہی لکھے ہوۓ کاموں کو دیکھا جن پر اس کے شوہر نے ٹک کیا ہوا تھا لیکن آخری بات ٹک نہیں تھی۔ اس پر وہ چیخنے پیٹنے اور چلانے لگی کہ تم نے مجھے یاد کیوں نہیں رکھا۔ تمہیں میری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اب وہ (اس کا شوہر) کافی دیر اسے سنتا رہا پھر بولا بیوی میری اچھی بیوی تمہیں یاد رکھنا اور محبت کرنا تو عمر بھر کا سودا ہے یہ کیسے ٹک ہو سکتا ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں محبت تو میں نے کرنی ہی جانی ہے۔ تم مجھے ٹک کرا کے اسے بند کرانا چاہتی ہو۔ یہ سن کر وہ اپنے شوہر کو جھپی ڈال کے اس کے ساتھ لٹک گئی اور کہنے لگی نہیں نہیں اسے ٹک نہیں کرنا ہے ایسے ہی رہنے دیں۔ اس طرح اس کے شوہر نے چاہیے والا کام بند کر دیا تھا۔ ایسے نہیں کیا کہ اس کام کو بھی ٹک کر دینا چاہیے۔ ہمارے بابا کہتے ہیں کہ جونہی آپ چاہیے کے چکر میں آتے ہیں آپ کے کندھوں اور ذہن سے سارا بوجھ اتر جاتا ہے اور انسان سوچتا ہے کہ اب اس چاہیے میں سارے لوگ شامل ہو گۓ ہیں۔ میں بری الذمہ ہو گیا۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا چاہیے۔ ہم میں محبت ہونی چاہیے۔ لیکن صرف چاہیے پر بات چھوڑ دینے سے بات نہیں بنتی اور یہ Should Syndrome ہماری معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔

خواتین و حضرات! جس طرح بڑے لوگ چاہیے کی بجائے عمل پر توجہ دیتے ہیں اور جیسے کوزہ گر اپنی تھوڑی سی مٹی پر دباؤ ڈال کر نہایت خوبصورت برتن میں ڈھال لیتا ہے ویسے ہی ایک اعلٰی درجے کا کوزہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن ہمارے پاس وہ چاہیے خوبصورت کوزے کی بجاۓ مٹی کا ایک “تھوبہ“ ہی رہ جاتا ہے اور ہم اس چاہیے کو کوئی شکل نہیں دے پاتے ہیں۔ وہ بڑی خوش نصیب قومیں ہیں جو یہ بات جان جاتے ہیں کہ اس چاہیے میں صرف باقی لوگ ہی نہیں میں بھی شامل ہوں اور میں اپنی حد تک اپنی ذمہ داری ضرور پوری کروں گا اور خواتین و حضرات بابوں کے علم کی طرف بھی متوجہ رہا کرو۔ ان کی باتیں گوہرِ نایاب ہوتی ہیں جو کتابوں سے نہیں ملتیں۔ عمل کرنے سے بات بنتی ہے۔ اس سے علم پھوٹنے لگتا ہے۔ آپ عمل کے اندر اس طرح داخل ہوا کریں جیسے ایک سائنس دان لیبارٹری میں کھڑا ہو کر محنت کرتا ہے اور یہ کرنا چاہیے وہ کرنا چاہیے پر ہی نہیں رہتا بلکہ عمل کی صورت میں تجربات کرتا ہے۔ اس طرح سے علم عطا ہوتا ہے ورنہ ہم آپ دیۓ ہوۓ علم پر گزارا اور چاہیے چاہیے کی گردان ہی الاپتے رہیں گے اور مانگے کے علم پر ہی رہیں گے۔ علم سیکھنے کا اچھا اور آسان طریقہ یہ ہے جو احکامات دیۓ جائیں چاہے وہ دینی ہوں، حکومتی یا معاشرتی ہوں۔ آپ لال بتی پر کھڑے ہونے یا رکنے سے اس بات پر انکار نہیں کر سکتے کہ پہلے اس سرخ بتی کو نیلی کریں پھر رکیں گے۔ آپ کو سرخ بتی کے فوائد کا تو کھڑے ہونے کا ہی پتہ چلے گا، گزر جانے سے تو نقصان ہی ہو گا۔ میں اب آپ سے اجازت چاہوں گا اور جاتے جاتے آپ سے عرض کروں گا کہ آپ کا علم جسے Wisdom of the East کہتے ہیں اس دانشِ مشرق جو انبیاء کا علم ہے اس کی طرف بھی توجہ دیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جوریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15