نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Mind over the Matter

یہ ذہن کا بازار بھی عجیب منڈی ہے جس میں کبھی کوئی چھٹی نہیں ہوتی۔ دن کو ذہن کام جاری رکھتا ہے اور رات کو سو جانے پر خوابوں کی صورت میں اپنے عمل میں مصروف رہتا ہے اور اس میں ایک دلچسپ اور نہایت عجیب بات یہ ہے کہ اس منڈی میں باہر کے تاجر بھی آتے رہتے ہیں۔ کچھ قافلے سمرقند و بخارا سے، کچھ گلف اور ولائیت سے آتے جاتے اور شامل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ عمل رکنے اور ختم ہونے کو نہیں آتا اور اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی آ کر ذہنی و فکری عمل میں شامل ہو جاتے ہیں جن کی بہت سی چیزیں مستعار بھی لینی پڑتی ہیں اور انہیں اپنانا بھی پڑتا ہے اور کچھ ایسے سوالات ذہن میں گھر کر لیتے ہیں جن سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتی ہے اور کچھ کو تو زندگی میں باقاعدہ شامل کرنا پڑ جاتا ہے مثلاً خدا کے بارے میں بہت سوال کۓ جاتے ہیں اور پوچھا جاتا ہے کہ خدا کیوں ہے؟ کیسے ہے؟ کس طرح سے ہو سکتا ہے؟ کیونکہ ہم اسے اپنے حواسِ خمسہ سے جان نہیں سکتے۔ ایسے اور کئی طرح کے سوال آپ کے خیال میں اترتے ہوں گے۔

لوگ تین چار قسم کے سوال بہت پوچھتے ہیں ایک یہ کہ ایک بچہ جو ایک خاص گھرانے میں اور خاص مذہبی خیالات رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوا لامحالہ طور پر اس کا مذہب بھی وہی ہو گا جو اس کے والدین کا ہے۔ اس بچے میں تبدیلی لانے کے لۓ کیا طریقہ اختیار کیا جاۓ اور اس کو بڑی شاہراہ پر کیسے لایا جاۓ جس کی ہم ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ سوال بھی عموماً پوچھا جاتا ہے کہ کئی ایسے غیر مسلم جنہوں نے بڑے نیکی کے کام کۓ تو کیا یہ لوگ بہشت میں نہیں جائیں گے جس طرح گنگا رام نے اور گلاب دیوی نے ہسپتال بنواۓ تھے۔ اس پر ہم کسی اور پروگرام میں بات کریں گے۔ اس طرح ذہن کی منڈی میں ہر طرح کا سودا چلتا رہتا ہے اور جب خدا کی ذات کا سوال آتا ہے تو پھر کافی مشکل پڑتی ہے۔ ہمارے یہاں بھی اس معاملے پر چند روز قبل بڑے پڑھے لکھے، جیَّد اور سیانے یہ بات کرتے رہے اور ہم بھی سنتے رہے اور اس میں شامل بھی ہوتے رہے۔ خواتین و حضرات نتیجہ یہاں تک پہنچا کہ مرئی ( دیکھی جانے والی ) چیز زیادہ طاقتور ہوتی ہے یا غیر مرئی زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ سامنے نظر آنے والی چیز تو طاقتور ہے ہی تو کیا جو چیز نظر نہیں آتی وہ بھی طاقتور ہو سکتی ہے؟ اور اگر ان دونوں کا تقابل کیا جاۓ تو کونسی چیز زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہ نہایت اچھا، بہت ہی حیران کن اور توجہ طلب سوال تھا۔ آپ بھی یہ سن کر حیران ہوں گے کہ جتنی بھی غیر مرئی Invisible چیزیں ہیں وہ بڑی طاقتور ہوتی ہیں اور نظر میں آنے والی چیزوں سے زیادہ فوقیت اور تقویت رکھتی ہیں۔ ہوا نظر نہیں آتی لیکن ہوا کے دونوں روپ چاہے وہ آکسیجن کی شکل میں ہوں یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شکل میں ہوں، زندگی عطا کرنے والے ہیں اور ہمارے ایک سانس کے بالکل قریب ہی دوسرا سانس کھڑا ہوتا ہے اور موجود ہوتا ہے اور دنیا کی قیمتی ترین شے آکسیجن ہمیں مفتا مفت ملتی ہے اور کسی غریب یا امیر میں تمیز کۓ بغیر ملتی ہے، فرض کیجیۓ کہ اگر خدانخوستہ زندگی کا یہ قیمتی ترین سرمایہ ہمیں دکان سے جا کے لینا پڑتا تو کیا سماں ہوتا۔ صبح ہر کوئی اپنا اپنا ڈبہ لۓ آکسیجن بھروانے نکلا ہوتا۔ پھر دفتر، سکول یا کالج جانے کی بات کرتا۔ ہم تو چھوٹے کام نہیں کر سکتے، ایسی صورتِ حال اور جانوروں، جانداروں اور انسانوں کی دھکم پیل اور بھیڑ میں سب چکرا کر مر جاتے۔ ہوا اپنے دونوں روپوں میں نظر نہیں آتی لیکن اتنی طاقتور ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو ہماری زندگی ہی ختم ہو جاۓ۔ چرند پرند شجر و حجر بھی ختم ہو جائیں۔ ایسے ہی آپ غور کریں تو ایسی نوعیت کی اور بھی کئی چیزیں موجود ہیں لیکن اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر آپ کھڑے ہوں اور کسی بلڈنگ یا پلازے سے کوئی پتھر ٹوٹ کر آپ کے سر پہ لگے تو آپ کو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جاۓ۔ ابھی پچھلے دنوں زلزلے نے کیا تباہی مچائی ہے، کتنے ہی لوگوں کا جانی نقصان ہو گیا۔ اس طرح سب سے سخت اور طاقتور چیز تو پتھر ہے لیکن آپ ہوا کو طاقتور گردان رہے ہیں حالانکہ نظر میں آنے والی چیز زیادہ طاقتور ہے لیکن ہم اس بات پر توجہ نہیں دیتے اور نہیں دے رہے کہ یہ پتھر، پہاڑ، چٹانیں اور زلزلے سے گرنے والے بھاری بھر کم گارڈر، ستون اور مینار جو کئی زندگیاں ختم کر دیتے ہیں اگر کششِ ثقل یا Gravity نہ ہو یہ ہماری کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور کششِ ثقل ایسی چیز ہے جو نظر نہیں آتی۔ فرض کیجیۓ کہ زمین میں کشش نہ ہو تو اوپر سے کتنا ہی بڑا پتھر کیوں نہ گرے وہ تو بس ڈانس کرتا ہوا ہی رہ جاۓ گا اور اگر آپ اس کو تھپڑ ماریں گے تو وہ ڈانس کرتا ہوا دوسری سمت چلا جاۓ گا کیونکہ اس میں تو کوئی جان بھی نہیں ہو گی۔ امریکہ نے افغانستان میں ڈیزی کٹر بمبوں کے ساتھ جتنی بمباری کی ہے اور 52 بی طیاروں سے جو بڑے بڑے بم گرائے ہیں یہ سب کششِ ثقل کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔ اگر زمین میں کشش نہ ہوتی تو اس وقت افغانستان کے بچے ان بمبوں سے فٹ بال کھیل رہے ہوتے۔ اس سے ثابت یہ ہوا کہ غیر مرئی چیز زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور اس کی طاقت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے۔ آپ روشنی کو دیکھیں یہ نظر نہیں آتی۔ یہ ہر چیز کو منور ضرور کرتی ہے لیکن نظر نہیں آتی۔ بلب سے نکلنے والی روشنی اور مجھ تک پہنچنے والی روشنی یا فرش کے اوپر ہالہ بنانے والی روشنی کے درمیان جو روشنی کا سفر ہے وہ نظر نہ آنے والا ہے۔ آپ یہ سن کر بھی حیران ہوں گے کہ سورج جو اس قدر روشن ستارہ ہے اور ہماری زندگیوں کا دارومدار اس پر ہے وہ ساری روشنی جو سورج ہمیں عطا کرتا ہے اور جو زمین پر پڑتی ہے اگر ہم سورج اور زمین کے درمیان سفر کریں اور اس حد کو عبور کر جائیں جہاں سے روشنی Reflect نہیں ہوتی تو آپ یہ دیکھ کر حیرن ہوں گے کہ سورج اور زمین کے درمیان اتنا اندھیرا ہے جس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے بالکل Pitch Darkness ہے۔ جب روشنی پڑنے کے بعد منعکس ہوتی ہے تو ہم تک پہنچی ہے۔ وہ روشنی جو ہم کو دکھائی نہیں دیتی، محسوس نہیں ہوتی جس کو ہم چھو نہیں سکتے وہ طاقت رکھتی ہے۔ اسی طرح سے گرمی کو لے لیجیۓ۔ گرمی یا حدت بھی نظر نہیں آتی۔ اس کا کوئی بت نہیں، وجود یا نقشہ نہیں ہے لیکن یہ گرمی اور Heat ہے جو آپ کے کھیتوں کو پکار رہی ہے۔ پھولوں، پھلوں اور پودوں کی نشوونما کر رہی ہے لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ یہ حدت میں نے آتی ہوئی دیکھی اور چونسے آم پر پڑتی ہوئی دیکھی اور اس آم کو پکتے ہوۓ دیکھا ایسے ہو نہیں سکتا۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے کہ “ Mind Over The Matter “ کے الفاظ استعمال کۓ جاتے ہیں۔ ذہن کی جو ایک منڈی لگی ہے اس کی طاقت آپ کے اچھے، توانا اور خوبصورت وجود پر شدت سے حاوی ہے۔ ذہن میں غصہ، غم، چالاکی، نفرت، شدت اور خوف جو ہیں یہ ساری چیزیں بھی Invisible ہیں۔ یہ نظر نہیں آ سکتیں اور نظر نہ آنے والی چیزوں نے آپ کی، میری اور ہم سب کی زندگی کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہم کو بری طرح سے جکڑ رکھا ہے کہ ہم اس کے سامنے بے بس ہیں۔ اگر مجھے غصہ نظر آتا، نفرت کہیں سے بھی دکھائی دے جاتی تو میں اسے چھوڑ دیتا۔ اگر نفرت کی تصویر کھینچی جاسکتی تو پتہ چلتا کہ یہ کتنی بدشکل چیز ہے۔ اس کے کئی پاؤں ہوتے، گندی سی ہوتی۔ آدھی بلی اور آدھے چوہے کی صورت والی ہوتی۔ لیکن اسے ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے لیکن ہمارے دیکھے جانے والے وجود پر ان چیزوں کا قبضہ ہے۔ اب آپ اس بات پر تڑپتے پھرتے ہیں کہ خدا کے واسطے ہماری نفرتیں ختم ہوں، ہمارے ملک میں وہ سہولتیں آئیں جن کا اللہ سے وعدہ کیا گیا تھا کہ ہم اپنے لوگوں میں آسانیاں تقسیم کریں گے۔ وہ وعدہ پورا کرنے خدا کرے وقت آۓ لیکن وہ ہماری یہ خواہش پوری اس لۓ نہیں ہوتی کہ غیر مرئی چیزوں نے ہمیں پکڑ اور جکڑ رکھا ہے۔ جب آپ اپنے گھر والوں، دوستوں یا دشمنوں کے ساتھ لڑتے ہیں تو آپ اپنا غصہ یا نفرت کسی جسم رکھنے والی چیز کو صورت میں دکھا نہیں سکتے، محسوس کروا سکتے ہیں۔ آپ عموماً ایسی خبریں اخبار میں پڑھتے ہوں گے کہ چچی کو آشنائی کے شبہ میں ٹوکے کے وار سے ہلاک کر دیا۔ ایک بندہ گھر آیا اس نے اپنے بچوں کو بھی مار دیا۔ اسے کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ مائنڈ اس پر اتنی شدت سے حملہ آور ہو رہا ہے کہ اسے اور کچھ سوجھ ہی نہیں رہا ہے اور وہ ذہن کے قبضے سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ نظر میں نہ آنے والی چیزوں نے، مجھ نظر میں آنے والے کو اور میرے اردگرد جو دنیا آباد ہے، جو بڑی خوبصورت دنیا ہے اس پر تسلط جما رکھا ہے اور کسی کو ہلنے نہیں دیتیں۔ اس نظر نہ آنے والی چیز جسے سائنسدان “Mind Over The Matter “ کہتے ہیں اس نے میرے وجود پر قبضہ جما رکھا ہے۔

اخبار میں ہم اس طرح کے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا خبریں پڑھتے ہیں۔ ان میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہوتی۔ بس ذہن میں پیدا ہونے والی بات کی کارستانی ہوتی ہے اور ہم یہ شک یا خیال قائم کر لیتے ہیں۔ کہ یہ خرابی فلاں گروہ نے کی ہو گی اور ہم بغیر کسی دلیل، منطق یا Reason کے بمباری شروع کر دیتے ہیں جیسے افغانستان پر کی گئی۔ یہ کام ان پڑھ نہیں کرتے بلکہ پڑھے لکھے اور بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگ کرتے ہیں۔ ایسا انفرادی طور پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی طور پر بھی ہوتا ہے۔ انبیاء (ع) جو ہم کو تعلیم دیتے رہے یہ ایسی بات کی تعلیم دیتے رہے کہ اے اللہ کے بندو خدا کے واسطے اس پیغام کی طرف رجوع کرو جو تمہیں غیر مرئی خدا نے دیا ہے۔ خواتین و حضرات خدا کی ذات سے زیادہ غیر مرئی چیز تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ وہ حواسِ خمسہ سے بہت باہر ہے اور بہت دور ہے لیکن اگر غیر مرئی چیزیں ہی طاقتور ہو سکتی ہیں تو اللہ جس میں Invisible ہے وہ تو پھر سب سے زیادہ طاقتور ہوا نا اور وہ سب سے زیادہ طاقتور ہے بھی۔ لوگ کئی دفعہ اس بات میں الجھ جاتے ہیں کہ کیونکہ ہمیں خدا نظر نہیں آتا ہے تو اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ پرسوں اس بات پر جھگڑا بھی ہو رہا تھا اور میں ان سے بار بار یہ عرض کر رہا تھا کہ یہ مت کہیے کہ چونکہ خدا ہمیں نظر نہیں آ رہا ہے، کشش ثقل دکھائی نہیں پڑ رہی ہے اور ہوا نظر نہیں آ رہی ہے تو اس کا پھر سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ آپ کے حواسِ خمسہ بہت محدود ہیں لیکن انسانی زندگیوں میں ایسے بھی بے شمار وقت آۓ جب انسان پرسکون ہو کر مراقبے اور Meditation میں بیٹھا اور پھر وہ اپنے حواسِ خمسہ سے الگ ہو کر ایک اور دنیا میں داخل ہوا تو پھر اس کا کنکشن ان چیزوں سے ہوا جو غیر مرئی چیزوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ میں نے سنا ہے بحرالکاہل میں بہت جزیرے ہیں جہاں سے کرکٹ کھیلنے والے بھی آتے ہیں۔ ہاں یاد آیا کرکٹر لارا کے ملک ویسٹ انڈیز کے قریب ایک جزیرہ ہے۔ اس جزیرے پر لوگوں نے بڑی چاہت کے ساتھ ایک عبادت کدہ بنایا جس میں دنیا کی دھاتوں کو ملا کر ایسی گھنٹیاں بنائیں جو نہایت سریلی اور دلکش آوازیں پیدا کرتی تھیں اور دور دور سے لوگ آکر اس عبادت کدے میں پرستش کیا کرتے تھے چاہے ان کا کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ ہوتا۔ لوگ اس سرمدی باجے کی آوازوں میں اپنے اللہ کو یاد کرتے تھے۔ پھر سنتے ہیں کہ وہ جزیرہ آہستہ آہستہ غرقِ آب ہو گیا لیکن اس کی خوبصورت گھنٹیوں کی آواز لوگوں کو سنائی دیتی تھی۔ چند سال بیشتر فرانس کا ایک صحافی اس جزیرے کی کھوج میں نکلا اور اس جزیرے کو جغرافیائی طور پر تلاش کرنے کے بعد وہاں ان گھنٹیوں کو سننے کی کوشش کرتا رہا جو پانی کے نیچے اتر چکا تھا کیونکہ لوگ کہتے تھے کہ اگر کوئی صاحبِ گوش ہو تو اسے ان گھنٹیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ وہ صحافی لکھتا ہے کہ میں بڑی دیر تک بیٹھا رہا۔ کئی دن اور ہفتے وہاں گزارے لیکن مجھے سواۓ سمندر کی آوازوں کے اور شور کے اور سمندری بگلوں کی آوازوں کے اور کچھ سنائی نہ دیا۔ اس نے سوچا کہ یہ شاید پرانی کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے چنانچہ وہ جانے سے بیشتر آخری بار اس مقام کو سلام کرنے کی غرض سے گیا۔ وہ وہاں بیٹھا اور اس نے افسوس کا اظہار کیا کہ میں اتنی دور، ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے یہاں آیا اور اتنے دن یہاں گزارے لیکن وہ گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا جس کی آرزو لے کر وہ چلا تھا۔ وہ انتہائی دکھ کی کیفیت میں وہاں بیٹھا رہا۔ وہ کہتا ہے کہ میں وہاں مایوسی کی حالت میں لیٹ گیا اور اس نے اپنے پاؤں گھٹنوں تک ریت میں دبا لۓ تو اسے گھنٹیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ ایسی آواز جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور وہ صدائیں اور ہوائیں جو پہلے اسے سنائی دے رہی تھیں ایک دم سے خاموش ہو گئیں اور ان گھنٹیوں کی آوازیں صاف سنائی دینے لگیں۔ وہ نظر نہ آنے والی آوازیں پانی کے اندر سے آنے لگیں۔ وہ صحافی کہتا ہے کہ جتنی دیر میرا دل چاہا میں وہ سریلی اور مدھر آوازیں سنتا رہا اور میں اب اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر صدیوں پہلے ڈوبے ہوۓ عبادت کدے کی گھنٹیوں کی آواز سننی ہے تو سمندر کا شور سننا ہوگا اور اگر اپنے اللہ سے ملنا ہے تو اس کی مخلوق کو سننا ہو گا۔ یہی ایک راستہ ہے کیونکہ اللہ نظر نہ آنے والا ہے جبکہ اس کی مخلوق نظر آنے والی ہے۔ اگر آپ اس کی مخلوق کے ساتھ رابطہ قائم کریں گے تو بڑی آسانی کے ساتھ وہ سڑک مل جاۓ گی جو گھنٹیوں والے عبادت کدے سے ہو کر ذاتِ خداوندی تک پہنچتی ہے۔ آج ہماری گفتگو میں یہ بات معلوم ہوئی کہ نظر نہ آنے والی چیز، نظر آنے والی چیز سے زیادہ طاقتور اور قوی ہوتی ہے اور یہ نظر نہ آنے والی ساری صفات ہمارے گوشت پوست کے انسان پر اور ہماری زندگی پر کس طرح سے حاوی ہیں اسے ہم تنہا بیٹھ کر بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں اور ان چیزوں نے ہمیں اذیت میں ڈال رکھا ہے اور یہ ہماری اچھی سی زندگی کا “ماسٹر“ بن کر بیٹھی ہوتی ہیں۔

میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15