نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

Salute to non-degree technologists

آپ سب کو اہلِ زاویہ کی طرف سے سلام پہنچے۔ ہم اس پروگرام کے شروع ہونے سے پہلے تعلیم اور علم کی بات کر رہے تھے۔ علم ایک ایسا موضوع ہے جس پر آپ صدیاں بھی لگا دیں تو ختم نہ ہو کیونکہ یہ موضوع بڑی دیر سے چلتا آ رہا ہے کہ علم کیا ہے ؟ اور اسے کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اب جو موضوع دنیا کے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ کیا علم کے ساتھ Ethics and Morality یا اخلاقیات کو بھی لیا جانا چاہیۓ یا کہ خالی ٹیکنالوجی اور سائنس پڑھا دینی چاہیۓ۔ ابھی تک دنیا نے اس حوالے سے کوئی خاص اور حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ہم مشرق والوں نے ایک زمانے میں یہ فیصلہ کیا تھا اور دوسرے علم کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم رومی رحمۃ اللہ اور سعدی رحمۃ اللہ پڑھاتے رہے ہیں اور اخلاقیات پر مبنی کتابیں کورس میں ہوتی تھیں لیکن اب کہا جاتا ہے کہ اب اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ آدمی کو ایک Given Specific Discipline of Knowledge میں ایک دیۓ گۓ موضوع پر اپنی Specialization کرنی چاہیۓ اور اس کے بعد اسے چھوڑ دینا چاہیۓ۔ اکثر آپ بڑے پیشہ ور لوگوں کی شکایت کرتے ہیں جن میں ڈاکٹرز، انجینئرز، بیوروکریٹس شامل ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ہم فلاں افسر یا ڈاکٹر کے پاس گۓ تھے لیکن انہوں نے ہم پر کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ بس وہ اپنی بات کرتے رہے جبکہ ہم چاہتے تھے کہ وہ ہمارے ساتھ ویسا سلوک کریں جیسا انسان انسانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس یہ جواز ہے کہ ہم اس علم کو جانتے ہیں جس کی آپ کے بدن کو ضرورت ہے۔ جس علم کی آپ کی روح اور جذبات و احساسات کو ضرورت ہے۔ وہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ وہ آپ کسی اور جگہ سے جا کر لیں پھر آپ جگہ جگہ مارے مارے پھرتے ہیں۔ پرانے زمانے میں جب علم اتنا عام نہیں تھا تو جس بابے کے پاس علم ہوتا تھا اس کے پاس شفقت بھی ہوتی تھی، محبت بھی ہوتی تھی، آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی ہوتے تھے اور اگر جواب نہیں آتا تھا تو اس کے پاس وہ تھپکی ہوتی تھی جس سے سارے دکھ اور درد دور ہو جاتے تھے لیکن اب اس طرح سے نہیں ہوتا۔ میں بھی دیکھتا ہوں اور آپ بھی دیکھتے ہوں گے کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کی بڑی توقیر کرتے ہیں۔ یہ ایک اچھی بات ہے۔ وہ ممالک جو اس میدان میں پیچھے ہیں مشکل میں مبتلا ہیں اور اس مشکل سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور اسے قریب سے دیکھا ہے کہ ہم Technologist یا پیشہ ور لوگوں کو اس محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے جس محبت کے انداز سے ہم ان کے بارے میں انگریزی اور اردو کے اخبارات میں مضمون لکھتے ہیں۔ میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ گوجرانوالہ کے پاس ایک قصبہ کامونکی ہے۔ اس کے پہلو میں جاتے ہوۓ میں نے دیکھا کہ پانی سے بھرے ہوۓ کھیتوں کے اندر گھٹنے گھٹنے پانی میں لڑکیاں دھان کی پنیری لگا رہی تھیں جسے “ لابیں “ لگانا کہتے ہیں۔ وہ آٹھ دس لڑکیاں ایک سیدھی قطار میں پنیری کا پودا لگا رہی تھیں حالانکہ ان کے پاس کوئی فٹا یا ڈوری باندھی ہوئی نہیں تھی لیکن وہ نہایت خوبصورت انداز میں بالکل سیدھی قطار میں پنیری لگاتیں اور پھر ڈیڑھ فٹ پیچھے ہٹ جاتیں اور تقریباً ڈیڑھ فٹ پیچھے ہٹ کے ویسی ہی ایک اور قطار میں وہ پنیری یا دھان کا پودا لگاتیں۔ یہ میرے لۓ ایک نئی چیز تھی اور میں وہاں کھڑا ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔

ایک لڑکی نے کہا بابا جی آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟

میں نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم ایک سیدھی لائن میں ایک دی ہوئی یا باریک Given Space کو کس طرح سے Follow کرتی ہو؟ اس نے کہا کہ یہ تو ہمارا صدیوں کا کھیل ہے۔ ہماری نانی، دادی اور ماں یہ کام ہی کرتی آئی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو ٹھیک ہے کہ آپ کے وجود کے کمپیوٹر میں چِپ لگا ہوا ہے کہ کس طرح سے کام کرنا ہے لیکن‌ میں تخیل کا آدمی ہوں۔ مجھے دل کے اندر اس تخیل کو آگے بڑھا کر داد تو دینے دو۔ اس نے کہا کہ بابا جی آپ کی بڑی ہی مہربانی۔ میں ان کا کام دیکھتا رہا اور ان سے پوچھتا رہا کہ تم کو اس کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں۔ انہوں نے وہ بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ پانی میں مسلسل کھڑے رہنے سے ان کے پاؤں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے اور شلواروں کے پائینچے پھٹ جاتے ہیں۔ جب میں بچوں سے کہتا ہوں کہ ان لڑکیوں کا کام بھی ایک علم ہے تو یہ ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو ان پڑھ لڑکیاں ہیں وہ علم پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ علم تو صرف ان لڑکیوں اور خواتین کے پاس ہے جو کالج یا یونیورسٹی سے حاصل کرتی ہیں۔

چرخہ کاتنے والی مائی کا کام تو علم نہیں ہے حالانکہ وہ تند بھی نکالتی ہے، کپڑا بھی بنا کے دے دیتی ہے اور ہم کھیس اور رضائی بھی اس کے ہاتھ کے کاتے ہوۓ سوت کی لیتے ہیں لیکن ہم اسے Technologist ماننے کے لۓ تیار نہیں ہوتے۔ ان لڑکیوں کو کام کرتے دیکھ کر اور واپس آ کر میں نے اپنے شہر کے لوگوں کا جائزہ لینا شروع کیا تو محسوس کیا کہ یہ بڑا ہی خوش نصیب ملک ہے اور یہ ملک Technologists سے بھرا ہوا ہے۔ سڑک کنارے ایسے ایسے کمال کے ذہین موٹر مکینک بیٹھے ہیں جو آپ کو ایک اعلٰی درجے کی امپورٹڈ موٹر کو خراب ہونے کی صورت میں آسانی سے ٹھیک کر کے دے دیتے ہیں۔ میں نے اپنی ایک کمیٹی اور پڑھے لکھے لوگوں کے آگے ایک درخواست پیش کی کہ ان Technologist کو بڑے خوبصورت سرٹیفکیٹس چھاپ کر دیتے ہیں اور ان پر ہم سب دستخط کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم سڑک کنارے بیٹھے ہوۓ لوگوں کو بھی سندیں دیں۔

لیکن اس کمیٹی نے میری اس بات کو اچھا نہ سمجھا اور ان پر ناگوار گزرا اور کہنے لگے آپ بھی کیا فضول بات کرتے ہیں۔ وہاں ایک بڑے صاحب تھے جو جج بھی رہ چکے ہیں اور آپ سارے انہیں جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا اشفاق صاحب اگر انہیں کچھ دینا بھی ہوا تو کیا آپ ان کا ٹیسٹ لیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ اپنی بیالیس لاکھ کی گاڑی بغیر ٹیسٹ لۓ ان کو دے آتے ہیں اور کہتے ہیں “ بھا صدیق اسے ٹھیک کر دینا “ اور وہ کہتا ہے کہ جی اسے ٹھیک کرنے میں تین دن سے کم نہیں لگیں گے۔ اس کی خرابی بڑی پیچیدہ ہے (میں بھا صدیق کی وہ بات سن رہا تھا) اس نے مزید کہا کہ جی اگر جاپان والے آئیں تو انہیں ہم سے ضرور ملوانا۔ انہوں نے اس گاڑی میں ایک بنیادی غلطی کی ہے اور اگر وہ فلاں جگہ پر آدھے انچ کی جھری دے دیں اور ایک قابلہ ادھر لگا دیں تو یہ خرابی اس میں پیدا ہو ہی نہیں سکتی۔ میں نے کمیٹی والے صاحبان سے کہا کہ آپ ان ہنر مندوں کو مجھے سلام کر لینے دیں۔ پھر میں نے ان بڑے لوگوں سے ڈرتے ڈرتے کہا کہ بہت لائق لڑکیاں ہیں جنہوں نے ایگریکلچر میں “لابیں“ لگانے میں ایم ایس سی کر رکھی ہے کیا انہیں سرٹیفیکیٹ دے دیں تو جواب ملا۔

“ دفع کریں جی۔“

اب ان کے خیال میں ان کے پاس کوئی علم سرے سے ہے ہی نہیں۔ علم تو ان کے خیال میں وہ ہے جس پر وہ ٹھپہ لگا دیں اور یونیورسٹی اس ٹھپے کی تصدیق کر دے۔ ہماری اس کیمٹی میں ایک ہارٹ سرجن بھی تھے۔ وہ کہنے لگے کہ اشفاق صاحب آپ نے جو سرٹیفکیٹ چھپوایا ہے ایسا تو میرے پاس بھی نہیں اور یہ تو اس سے خوبصورت ہے جو میں نے ایف آر سی ایس کرنے پر ایڈنبرا سے لیا تھا۔ کیا آپ یہ سرٹیفکیٹ ایسے ہی دے دیں گے اور یہ کس کو دیں گے۔ ؟

میں نے کہا میں یہ سرٹیفکیٹ اس ویلڈر کو دوں گا جو آپ کے ہسپتال کے باہر بیٹھا ویلڈنگ کرتا تھا۔ وہ کہنے لگے آپ اسے کیوں دیں گے؟

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میں آپ کو اس کی ویلڈنگ گن لے دیتا ہوں اور آپ سے کہتا ہوں کہ پیتل اور تانبے کا ٹانکا لگا دیں لیکن اپ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ جس طرح وہ آپ کا کام نہیں کر سکتا اس طرح آپ اس کا ہنر نہیں جانتے۔ آپ ڈاکٹر صاحب مجھے ان بے ڈگریوں کے پیارے ہنر مندوں کو اتنی تو عزت دینے دیجیۓ جتنی آپ کو مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ اس خیال کو چھوڑ دیں۔ ویسے ہم ان لوگوں کی عزت کرنے کے لیۓ لکھتے اور چھاپتے رہیں گے۔ اس سے خواتین و حضرات میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہم ان لوگوں کو ان کی عزتِ نفس لوٹانا ہی نہیں چاہتے۔ آرٹسٹ، موچی، نائی ہر ایک انسان کی عزت ہوتی ہے اور دوسری اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ پاکستانی ہے اور مجھے اس کو اتنی عزت تو دینی چاہیۓ جتنی میں باہر سے آۓ ہوۓ گورے کو دیتا ہوں۔ ہمارے مزاج اتنے کیوں بگڑے؟ ہمارے معاشرے میں عزت نہ دینے کا رحجان کیسے آیا، ہمارے سکول اور درس گاہیں اخلاقیات کی تعلیم کیوں نہیں دیتی ہیں۔ یہ بات میں سمجھ نہیں سکا ہوں۔ میں ایک چھوٹے اور عاجز لکھاری کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ میرے ملک کے چودہ کروڑ آدمی روٹی کپڑے اور مکان کی تلاش میں اتنے پریشان نہیں جتنے وہ عزت کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ وہ سارے کے سارے کسی ایسے کندھے کی تلاش میں ہیں جہاں وہ سر رکھ کر رو سکیں اور اپنا دکھ بیان کر سکیں لیکن انہیں اس بھرے پرے اور طاقتور ملک میں کندھا نہیں ملتا اور بدقسمتی سے ہم انہیں وہ مقام نہیں دے سکتے ہیں جو ہم بیرونِ ملک جاتے ہی وہاں کے ڈرائیوروں اور قلیوں کو سر سر کہہ کر دیتے ہیں۔ جب میں ان خیالات کی مصیبت میں مبتلا تھا تو میرے پاس ایک بابا ابراہیم آیا وہ ضلع شیخوپورہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے مجھے آ کے کہا “ میں نے تمہارا بڑا نام سنا ہے اور تم بڑے اچھے حلیم طبیعت کے انسان ہو۔ میں ریڈیو اور ٹی وی سے تلاش کرتا ہوا تمہارے پاس پہنچا ہوں۔ تم مجھے پڑھنا سکھا دو۔“ میں نے کہا “ بابا تم اس عمر میں پڑھ کر کیا کرو گے؟“ اس نے کہا کہ میری اس وقت عمر 78 سال ہے۔ میں بارہ سال کا تھا جب میرا باپ مجھے چاول کی پنیری لگانے کھیت میں لے آیا۔ میں اس وقت سے لے کر اب تک دھان اُگاتا رہا ہوں۔ اب اللہ نے مجھے بارہ سال بعد خوشیاں دی ہیں اور میرے بیٹے کے ہاں بیٹا اور بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ وہ دونوں بچے اب سکول جاتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر جب چولہے پر میں گڑ کی چاۓ بنا رہا ہوتا ہوں تو وہ دونوں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اندر سے ان دونوں کی جو آواز آ رہی ہوتی ہے وہ مجھے بڑی اچھی لگتی ہے۔ وہ پڑھتے ہوۓ جب یہ کہتے ہیں کہ “میں پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنوں گا۔ ملک و قوم کی خدمت کروں گا۔ ان پڑھ آدمی ڈھور ڈنگر (جانوروں) سے بدتر ہوتا ہے اس لۓ علم حاصل کرنا چاہیۓ۔“

تو میں یہ سن کر باہر بیٹھ کر روتا ہوں کہ میں ڈھور ڈنگر ہوں اور میں ملک کی خدمت نہیں کر سکوں گا، میں اس لۓ پڑھنا چاہتا ہوں کہ میں ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اور میں مرنے سے پہلے پہلے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا بابا، تُو تو ساٹھ برس ہم کو چاول کھلاتا رہا ہے، تیرے سے زیادہ خدمت تو کسی اور نے نہیں کی۔ وہ کہنے لگا کہ کتاب میں یہ لکھا ہے کہ “ پڑھ لکھ کر ملک کی خدمت کروں گا۔“ لیکن میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ اب مجھے کسی نے بتایا ہے کہ تو لاہور میں اشفاق احمد کے پاس چلا جا، وہ تمہیں پڑھا دے گا اور میں نے یہ بھی سنا ہے کہ لاہور شہر میں بوڑھوں کو پڑھانے کا بھی انتظام ہے اور اگر مجھے الف ب والا کچا قاعدہ آ گیا تو میرا بیڑا پار ہے۔ اللہ مجھے شاباش کہے گا اور کہے گا کہ تو ملک و قوم کی خدمت کر آیا ہے۔ اب میں شرمندہ بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یااللہ ہم جو ان لوگوں کے بارے اُوٹ پٹانگ بول جاتے ہیں اس کا تو بابے کو علم ہی نہیں۔ جب میں نے اس بابے سے چاول کھلانے والی خدمت کا کہا تو وہ کہنے لگا نہیں اس کے تو میں پیسے لیتا رہا ہوں۔ میں نے کہا بابا جو کام ہم کرتے ہیں ہم بھی اس کے پیسے لیتے ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ ہم پڑھے لکھے لوگ مفت میں ہی بغیر تنخواہ، پنشن کے قوم کی خدمت کرتے ہیں۔

اب وہ میری جان کے پیچھے پڑ گیا اور اٹھے نا۔ میں نے اس سے جان چھڑانے کے لۓ کہا کہ بابا تو کوئی ایسا کام جانتا ہے جو گاؤں میں لوگ کیا کرتے ہیں۔

کہنے لگا مثلاً کیا کام؟

میں نے کہا کہ گاؤں میں جب کسی لڑکی کی بارات آتی ہے تو لوگ بارات کی خدمت کرنے کے لۓ بھاگے پھرتے ہیں اور مفت میں کام کرتے ہیں کیا تو ایسا کر سکتا ہے؟ کہنے لگا نہیں۔

میں نے کہا کہ جب گاؤں میں کوئی ڈھگی وچھی (بیل گائے) بیمار ہو جاتی ہے تو اس کا تمہیں کوئی علاج آتا ہے جیسا کہ اپھارے میں کاڑھا دیا جاتا ہے۔ کہنے لگا نہیں میں کوئی نسخہ نہیں جانتا۔ اب میں اس سے جان چھڑانے کے لۓ اسے گھیرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کہنے لگا کہ مجھے دوسرے گاؤں والے گھوڑی پر بٹھا کے لے جاتے ہیں اور اپنی فصل دکھاتے ہیں تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ یہ جو بارہ پودے سر پھینک کے کھڑے ہیں یہ بچ جائیں گے اور وہ جو سینہ تانے کھڑے ہوۓ ہیں مر جائیں گے اور انہیں فصل کی اچھائی اور کمزوری بابت بتاتا ہوں۔

میں نے اس سے کہا بابا تو تو ایگریکلچر کا پی ایچ ڈی ہے“ اوہ ظالما تو نے اب اور پڑھ کے کیا لینا ہے۔“

کہنے لگا نہیں مجھے داخل کرا دیں کیونکہ کتاب میں یہ ہی لکھا ہے کہ ان پڑھ ڈھور ڈنگر ہیں۔

اب دیکھیۓ وہ بابا پاکستان اور جاپان دونوں کو چاول کھلا رہا ہے اور بہت بڑا Technologist ہے لیکن ہمارے ہاں کیا اور کہاں خرابی ہے کہ ہم اپنے ٹیکنالوجسٹ کو ٹیکنالوجسٹ نہیں سمجھتے۔ صرف انہی کو ٹیکنالوجسٹ گردانتے ہیں جن کے اوپر ایک ڈگری لگا دی گئی ہے۔ اگر یہ خلیج اسی طرح سے رہی تو پھر ہماری طاقت ایسے ہی کم ہوتی رہے گی جتنی کی ایک چھوٹے سے دس بارہ لاکھ کے نفوس والے مقروض ملک کی ہوتی ہے جسے علم ہی نہیں ہوتا کہ ملک کدھر جا رہا ہے۔ جو ملک سارے گروہ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں۔ امیری غریبی سارے ملکوں میں ہے اور یہ رہے گی لیکن گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے والے ملک کی ضلح کچہری میں ایک غریب آدمی کی اتنی ہی عزت ہے جتنی امیر آدمی کی ہے۔ جب ہم نے پاکستان بنایا تھا اور میں اس وقت بی۔ اے کر چکا تھا تو آزادی کے تحریک میں جب ہم مختلف دیہاتوں میں تقریریں کرنے جاتے تھے تو یہ ہی کہتے تھے کہ جب پاکستان بنے گا تو تم دیکھو گے کہ تمہیں عزت دی جائے گی۔ وہ دودھ کی نہریں نہیں ہوں گی لیکن تمہیں عزت میسر آۓ گی۔ وہ لوگ ہم سے ہاتھ اٹھا کے پوچھتے تھے کہ کیسے عزت ہو گی۔ میں انہیں کہتا کہ یہ غلامی کی جگہ ہے اور انگریز تمہارا حاکم ہے لیکن جب پاکستان بنے گا تو ضلع کچہری میں تم سے کوئی بے ادبی یا بدتمیزی سے پیش نہیں آۓ گا اور تمہیں وہاں “ پھجا ولد لبھا حاضر ہو“ کی آواز نہیں لگے گی بلکہ وہاں کرسیاں لگی ہوئی ہوں گی۔ آپ کو نائب کورٹ آکے سلام کرے گا اور کہے گا “ تشریف لایۓ آپ کی باری ہے۔“ وہ بے چارے اس دھوکے میں آ گۓ اور عزت کی خاطر چل پڑتے اور نعرے مارتے اور وہاں سکھ ہندو “جھگ“ کی طرح بیٹھ جاتے تھے کہ یہ وعدہ جو ان سے کیا جا رہا ہے یہ پورا ہی ہو گا اس لۓ لوگ ان کے نعرے لگا رہے ہیں۔ خواتین و حضرات میں ان کو عزتِ نفس دیۓ جانے کے خواب دکھا کر ایسے ہی گناہ کرتا رہا ہوں۔ اب میں عمر کے آخری حصے میں ہوں اور وہ لوگ جن سے ہم وعدہ کرتے تھے وہ عارف والا اور خانیوال میں آباد ہیں اور میری طرح عمر رسیدہ ہو گۓ ہیں لیکن میں انہیں ان کی عزتِ نفس لوٹا یا دلوا نہیں سکا اور اب کچھ ہونا بہت مشکل ہے۔

میں اپنے چھوٹوں اور ساتھیوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا انہیں کچھ نہ دیں، انہیں دولت نہیں چاہیۓ انہیں صرف ان کی عزتِ نفس لوٹا دیں پھر دیکھیں یہ کیسے شیروں کی طرح کام کرتے ہیں اور جس کی ہمیں اور آپ کو آرزو ہے؛ یہ آپ کو بدلے میں دیں گے لیکن ابھی تک یہ کام رکا ہوا ہے اور مجھے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ “اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ اگر مجھے کہیں سے اس بات کی تھوڑی سی بھی بھنک پڑتی رہے کہ انہیں عزتِ نفس لوٹا دی جاۓ گی تو مجھے حوصلہ ہو گا اور شاید اس بھنک کی وجہ سے صبر کا دامن میرے ہاتھ میں ہی رہے۔ یہ عزتِ نفس لوٹانے سے ہمارے پلے سے تو کچھ نہیں جائے گا۔ کسی کو کوئی پیسہ دھیلا نہیں دینا بس عزت دینی ہے، احترام اور تکریم دینی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ سے آج یہ جو بات ڈائریکٹ ہوئی ہے اس کا کچھ نہ کچھ مثبت اثر ضرور ہو گا۔ کیونکہ آپ کے چہرے بتا رہے ہیں کہ آپ اس دلیل کو تسلیم کرتے ہیں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ۔
 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15

"بے عزت "

میں نے کہا فرمائیے۔ تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ میری نمازوں اور داڑھی پر نہ جائیں اور میرے حصے کے پیسے الگ دیں۔
ان کے اس طرح ڈائریکٹ الفاظ کہنے سے مجھے تکلیف بھی ہوئی اسی لۓ اس نے کہا کہ آپ محسوس نہ کرنا یہ تو ہمارا ۔۔۔۔۔ ان اکیس لوگوں سے تحقیق کرنے کے بعد پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے رشوت لینے والا خود کو ایک بے عزت شخص خیال کرتا ہے۔ وہ خیال کرتا ہے کہ “میں تو دو ٹکے کا آدمی ہوں۔ نہ میرے کوئی آگے ہے نہ پیچھے ہے"۔ وہ ایسا لاشعوری طور پر سمجھتا ہے۔ بابے کہتے ہیں کہ جب تک اپ اپنے آپ کو عزت عطا نہیں کریں گے اس وقت تک کام نہیں بنے گا۔
لاہور میں اب جس جگہ واپڈا ہاؤس ہے جب یہ بلڈنگ نہیں تھی تو ایک زمانے میں اس جگہ ایک سپاہی کھڑا ہوتا تھا۔ اشارہ نہیں ہوتا تھا اور وہ ٹریفک کوکنٹرول کرتا تھا۔ اس کے ساتھ نیلی وردیوں والے خوبصورت اور چاک و چوبند آٹھ سات سکاؤٹس کھڑے ہوتے تھے۔ ایک سکاؤٹ نے سپاہی کو آ کے سیلوٹ کیا اور کہا کہ سر وہ شخص خلاف ورزی کر کے گیا ہے تو سپاہی نے کہا کہ یار جانے دو کوئی بات نہیں۔ پھر دوسرا سکاؤٹ آیا اس نے کہا وہ موٹر سائیکل والا قانون کی خلاف ورزی کر ک…