نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

June, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

توکل

ہم سب کی طرف سے اہلِ زاویہ کو سلام پہنچے۔ اس میز پر ہم گزشتہ کئی ماہ اور ہفتوں سے پروگرام کر رہے ہیں۔ اس میز پر کچھ کھانے پینے کی اشیاء ہوتی ہیں۔ ابھی ایک لمحہ قبل میں حاضرین سے درخواست کر رہا تھا کہ یہ آپ کے لیے ہیں اور آپ انہیں بڑے شوق سے استعمال کر سکتے ہیں لیکن ہم زندگی میں اتنے سیانے محتاط، عقل مند اور اتنے ”ڈراکل” ہو گۓ ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید اس میں کوئی کوتاہی یا غلطی ہو جاۓ گی اور جب میں اس بات کو ذرا وسیع کر کے دیکھتا ہوں اور اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ ہم صرف احتیاط کرنے کے لیے پیدا ہوۓ ہیں اور جب اس کو ذرا اور وسیع تر دائرے میں میں پھیلاتا ہوں تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میں اور میرے معاشرے کے لوگ سارے کے سارے ضرورت سے زیادہ خوفزدہ ہو گۓ ہیں اور انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں ہم سے کوئی کوتاہی نہ ہو جاۓ۔ ہم آج کل نقصان کی طرف مائل ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے اسی لیے اگر ہم کو کوہ پیمائی کرنا پڑے۔ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنی پڑے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ تو بڑا ”رسکی” کام ہے۔ رسک کاہے کو لینا، بہتر یہی ہے کہ آرام سے رہیں اور چار پیسے بنانے کے لیے کوئی پروگرام بنا…

اشفاق احمد کی حکمت کی باتیں - 2

قول ایک سواری ہے، جس پر سوار ہو کر ہم عمل کی منزل کے کنارے پر پہنچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہم کرتے یوں ہیں کہ عمل کے کنارے پہ پہنچ کے بھی قول کی کشتی کی سواری کو نہیں چھوڑتے اور اس میں سوار ہی رہتے ہیں اور عمل کی منزل کا کنارہ ہمارے سامنے ہمارے آس پاس ہی گھومتا رہتا ہے۔
----------------------------------------------------------
جو حق دار ہیں۔۔۔۔۔۔ان کو بھی دو۔۔۔۔۔۔اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے۔۔۔۔اس کو بھی دو۔۔۔۔۔۔۔تا کہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے، کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جائے۔
 بشکریہ: بی بی :)

محبت اور انا؟

محبت آزادی ہے۔ مکمل آزادی۔ حتٰی کہ محبت کے پھندے بھی آزادی ہیں جو شخص بھی اپنے آپ کو محبت کی ڈوری سے باندھ کر محبت کا اسیر ہو جاتا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں آزادی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھرو۔ محبت تلاش نہ کرو۔۔۔۔ آزادی کی تلاش بیسیوں مرتبہ انسان کو انا کے ساتھ باندھ کر اسے نفس کے بندی خانے میں ڈال دیتی ہے۔ محبت کا پہلا قدم اٹھتا ہی اس وقت ہے جب وجود کے اندر سے انا کا بوریا بستر گول ہو جاتا ہے۔ محبت کی تلاش انا کی موت ہے۔ انا کی موت مکمل آزادی ہے۔ ..... انا دنیا پر قبضہ جمانے کا پروگرام بناتی ہے۔ یہ موت سے غایت درجہ خوف کھاتی ہے۔ اس لیے زندگی پر پورا پورا قبضہ حاصل کرنے کا پلان وضع کرتی ہے۔ انا دنیاوی اشیاء کے اندر پرورش پاتی ہے اور مزید زندہ رہنے کے لیے روحانی برتری میں نشوونما حاصل کرنے لگتی ہے۔ اس دنیا کی غلامی اور چاکری کی ڈور انا کے ساتھ بندھی ہے۔ انا خود غلامی ہے، خود محکومی ہے۔ انا کو آزاد کرانا اور اسے غلامی سے نجات دلانا ہمارا کام نہیں۔ ہمارا کام تو خود کو انا کی غلامی اور محکومی سے آزاد کرانا ہے۔ یاد رکھئے انا کبھی بھی اپنایت سے، قربانی…

اشفاق احمد کی حکمت کی باتیں

ہمارے بابا سائیں نور والے فرماتے ہیں کہ اللہ کی آواز سننے کی پریکٹس کرنی چاہئے، جو شخض اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملا لیتا ہے، اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی نے بابا جی سے پوچھا کہ ”اللہ کی آواز کے ساتھ اپنا دل ملانا بھلا کیسے ممکن ہے؟“ تو جواب ملا کہ ”انار کلی بازار جاؤ، جس وقت وہاں خوب رش ہو اس وقت جیب سے ایک روپے کا بڑا سکہ (جسے اس زمانے میں ٹھیپہ کہا جاتا تھا) نکالو اور اسے ہوا میں اچھال کر زمین پر گراؤ۔ جونہی سکہ زمین پر گرے گا، تم دیکھنا کہ اس کی چھن کی آواز سے پاس سے گزرنے والے تمام لوگ متوجہ ہوں گے اور پلٹ کر زمین کی طرف دیکھیں گے، کیوں؟ اس لئے کہ ان سب کے دل اس سکے کی چھن کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ یا تو تم بھی اپنا دل اس سکے کی آواز کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کر لو یا پھر اپنے خدا کی آواز کے ساتھ ملا لو“
بابا جی کا بیان ختم ہوا تو نوجوانوں کے گروہ نے ان کو گھیر لیا اور سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ کسی نے پوچھا ” سر! ہمیں سمجھائیں کہ ہم کیسے اپنا دل خدا کے ساتھ ”ٹیون اپ“ کریں کیونکہ ہمیں یہ کام نہیں آتا؟“ اشفاق صاحب نے اس بات کا بھی بے حد …

گھوڑا ڈاکٹر اور بلونگڑا

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔
ایک مرتبہ پھر اس ماحول میں‌ پہنچ کر یقیناَ آپ کو بھی ویسی ہی خوشی ہوئی ہوگی جیسی کہ مجھے اس وقت ہو رہی ہے۔ ایف۔اے کے زمانے میں عام طور پر (یہ ہمارے زمانے کی بات ہے) سٹوڈنٹس انگریز شاعر Oscar Wilde کی محبت میں‌بہت مبتلا ہو تے تھے۔ اب زمانہ آگے نکل گیا ہے۔ اب شاید اس کے نظموں‌ پر اس قدر توجہ نہ دی جاتی ہو۔ جس طرح سے ہم اس کی محبت میں گرفتار تھے ویسے ہی ہماری رتی جناح (قائد اعظم کی اہلیہ) جو ہم سے کافی چھوٹی تھیں وہ بھی Oscar Wilde کی محبت میں بہت بری طرح سے گرفتار تھیں اور اس کی نظمیں وہ قائد اعظم کی زبانی سنا کرتی تھیں۔ ان دنوں قائد اعظم بڑے مصروف ہوتے تھے اور ان پر بہت زیادہ بوجھ ہوا کرتا تھا اور کام کا بوجھ بتدریج بڑھتا جا رہا تھا لیکن وہ ایک ہی Requestکرتی تھیں کہ “جناح مجھے اس کی ایک نظم اور سناؤ“۔ قائد اعظم کا قد جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ بہت خوبصورت تھا لیکن آپ شاید اس بات سے واقف نہ ہوں کہ جب قائد اعظم لندن بیرسٹری پڑھنے کے لیے گۓ تو وہاں ایک ایکٹر کی ضرورت کا اشتہار آیا۔ یہ اشتہار ایک Shakespearean Theatre Company کی طرف سے ت…

بھائی والی کا رشتہ

آج سے کئی ہفتے قبل میں نے اپنے بابا جی نور والے کا ایک واقعہ بیان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تو نے رکشہ والے کو کون سے پلےسے پیسے دیۓ تھے۔ وہ “دتے" میں سے ہی تو دیۓ تھے“اگر سوا چار روپے بنتے تھے تو پورے پانچ روپے ہی دے دیۓ ہوتے۔ ڈیرے پر جانے سے ہمارے دوست ابنِ انشاء بڑے ناراض ہوتے تھے۔ انہوں نے مجھے ناراض ہو کر کہا کہ “تو وہاں کیا کرنے جاتا ہے؟ یہ ڈیرے فضول جگہیں ہیں“ لوگ وہاں بیٹھ کے روٹیاں کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور پھر اٹھ کر چلے آتے ہیں انہیں وہاں سے کیا ملتا ہے؟ میں نے رکشہ والا واقعہ ابن انشاء کو بھی سنایا اور اس نے اپنے ذہن کے نہاں خانے میں یہ واقعہ ایسے نوٹ کر لیا کہ مجھے اس دن کے واقعہ سے وہ کچھ نہیں ملا جو اس نے حاصل کر لیا اور پھر وہ “دتے" میں سے دیتا رہا اور ابنِ انشاء کی زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا کہ وہ دے دے کر تنگ آگیا اور اس نے کہا کہ اب میں کسی کو ٹکا تو دور کی بات ٹکنی بھی نہیں دیتا کیونکہ اس طرح دتے میں سے دینے سے میرے پاس اتنے پیسے آنے شروع ہو گۓ ہیں کہ میں پیسے جمع کرانے کے لیے بینک کی سلیپیں بھی نہیں بھر سکتا (وہ بھی ہماری طرح سست آدم…