اشفاق احمد کی حکمت کی باتیں - 2

قول ایک سواری ہے، جس پر سوار ہو کر ہم عمل کی منزل کے کنارے پر پہنچتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہم کرتے یوں ہیں کہ عمل کے کنارے پہ پہنچ کے بھی قول کی کشتی کی سواری کو نہیں چھوڑتے اور اس میں سوار ہی رہتے ہیں اور عمل کی منزل کا کنارہ ہمارے سامنے ہمارے آس پاس ہی گھومتا رہتا ہے۔

----------------------------------------------------------

جو حق دار ہیں۔۔۔۔۔۔ان کو بھی دو۔۔۔۔۔۔اور جو ناحق کا مانگنے والا ہے۔۔۔۔اس کو بھی دو۔۔۔۔۔۔۔تا کہ تجھے جو ناحق کا مل رہا ہے، کہیں وہ ملنا بند نہ ہو جائے۔

 بشکریہ: بی بی :)