بھائی والی کا رشتہ

آج سے کئی ہفتے قبل میں نے اپنے بابا جی نور والے کا ایک واقعہ بیان کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تو نے رکشہ والے کو کون سے پلےسے پیسے دیۓ تھے۔ وہ “دتے" میں سے ہی تو دیۓ تھے“اگر سوا چار روپے بنتے تھے تو پورے پانچ روپے ہی دے دیۓ ہوتے۔ ڈیرے پر جانے سے ہمارے دوست ابنِ انشاء بڑے ناراض ہوتے تھے۔ انہوں نے مجھے ناراض ہو کر کہا کہ “تو وہاں کیا کرنے جاتا ہے؟ یہ ڈیرے فضول جگہیں ہیں“ لوگ وہاں بیٹھ کے روٹیاں کھاتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور پھر اٹھ کر چلے آتے ہیں انہیں وہاں سے کیا ملتا ہے؟ میں نے رکشہ والا واقعہ ابن انشاء کو بھی سنایا اور اس نے اپنے ذہن کے نہاں خانے میں یہ واقعہ ایسے نوٹ کر لیا کہ مجھے اس دن کے واقعہ سے وہ کچھ نہیں ملا جو اس نے حاصل کر لیا اور پھر وہ “دتے" میں سے دیتا رہا اور ابنِ انشاء کی زندگی میں ایک مقام ایسا بھی آیا کہ وہ دے دے کر تنگ آگیا اور اس نے کہا کہ اب میں کسی کو ٹکا تو دور کی بات ٹکنی بھی نہیں دیتا کیونکہ اس طرح دتے میں سے دینے سے میرے پاس اتنے پیسے آنے شروع ہو گۓ ہیں کہ میں پیسے جمع کرانے کے لیے بینک کی سلیپیں بھی نہیں بھر سکتا (وہ بھی ہماری طرح سست آدمی تھا) اس نے کہا کہ میرے پاس اتنے پیسے آنے لگے کہ میرے لیے انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ ہمارے سارے ہی بابے ایسی باتیں سمجھاتے رہتے ہیں۔ جب ہم اپنے بابا جی کے پاس ڈیرے پر جاتے ہیں تو وہاں ایک چھوٹی سی رسم ہوتی ہے جس میں بابا جی ایک شخص کو دوسرے شخص کا شراکت دار یا شریک بھائی بنا دیتے ہیں جیسا کہ مدینہ شریف میں ہوا تھا۔ وہ بھی اسی واقعہ کی نقل کرتے ہوۓ یا اس کی پیروی کرتے ہوۓ ایک شخص کو کہتے ہیں کہ اب سے فلاں شخص تمھارا شریک بھائی ہے۔ کئی دفعہ وہ شریک بھائی پسند آتا ہے اور بعض اوقات پسند نہیں آتا لیکن بابا جی کے حکم کی پیروی کرتے ہوۓ با امر مجبوری شریک بھائی کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ میں نے زندگی میں یہ بات محسوس کی ہے کہ نہ صرف انسانی زندگی شیئرنگ میں مصروف ہے بلکہ شجر حجر پہاڑ پتھر دریا بھی اس کائنات میں ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے ہوۓ چلتے ہیں۔ شراکت کسی کو کچھ دینے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ کسی کو پیسے یا مثال کے طور پر دس لاکھ کا چیک دے کر آپ تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ایک آدمی کے ساتھ شئیر کرنا مشکل ہے۔ بہو کا اپنی ساس کے ساتھ شیئر کرنا یا شوہر کا بیوی کے ساتھ شئیرنگ کی زندگی زیادہ کٹھن کام ہے۔ یہ باتیں ہمیں بابے لوگ ہی بتاتے تھے۔ ہمیں یہ باتیں کہیں کتابوں میں تو نظر نہیں آئیں۔ باباجی فرمایا کرتے تھے کہ درخت بھی ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور درختوں کو بھی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ “میں مسمی درخت پیپل اشفاق احمد کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ یہ جتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑے گا میں اس کو خوشدلی سے قبول کروں گا اور میں اس کے جواب میں اس کے لیے آکسیجن فراہم کرتا رہوں گا۔ چاہے میں کہیں بھی رہوں یہ رشتہ قائم رہے گا۔

اس طرح بڑی بڑی چیزیں سورج چاند بھی شیئر کرنے والے ہیں۔ جب ہم اس وقت سٹوڈیو میں بیٹھے پروگرام کر رہے ہیں ہمارا کے۔ٹو تقریباً ایک کروڑ ٹن برف کی پگڑی باندھ کر ہر وقت شیئرنگ کے لیے مستعد اور تیار ہے اور وہ سورج کو پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ دو روشنی کی مزید کرنیں مجھ پر ڈال۔ جھنگ میں پانی کم ہو گیا ہے اور مجھے چناب میں پانی بھیجنا ہے۔ اس نے برف اپنے لیے اکٹھی نہیں کی یہ اس کا اپنا شوق نہیں ہے۔ اس کو تھوڑی زینت کا شوق تو ضرورہے کہ لوگ میرانام لیں اور میرے درشن کرنے کو یہاں آئیں لیکن اس کا باقی تمام کام دوسروں کی خدمت ہے۔ سورج اپنی گرمی کا کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا ہے۔ ایک فلسفی نے بڑا خوبصورت فقرہ لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ “بڑھاپے میں انسان کی کیفیت ایسے ہو جاتی ہے جیسے ڈوبتا ہوا سورج“۔

خواتین و حضرات! ڈوبتے سورج کی روشنی صرف اپنے آپ کو دہکانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ لیکن سارا دن وہ اپنی روشنی دوسروں کو ہی عطا کرتا ہے اور اسے اس کا فائدہ نہیں ہوتا۔ اس طرح ہوائیں بادل سب شیئر کرنا جانتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے۔ ہمارے دوست قدرت اللہ شہاب کی والدہ “ماں جی“ دوپہر کوکھانا کھا کے ایک خاص کونے میں ایک خاص چارپائی پر لیٹ جاتی تھیں اور انہوں نے ہلکا سا ایک کمبل اوڑھا ہوتا تھا۔ اس گھر کی بلی جو اپنا حق جانتی تھی جیسے ہی ماں جی سوتیں وہ بلی بھی چھلانگ لگا کر چارپائی پر چڑھ جاتی تھی اور پھر آہستگی کے ساتھ اپنے دونوں پنجے لگا کر ماں جی کو دھکیلتی تھی کہ مجھے بھی سونے کے لیے جگہ دو۔ وہ بڑا کمال کا سین ہوتا تھا اور اکثر شہاب مجھے کہتے تھے کہ جلدی آؤ، جلدی آؤ ماں جی اور بلی میں مقابلہ ہو رہا ہے اور ماں جی اسے “دفع ہو“ یا ذرا سی کوئی بات کہہ کر اس کے لیے جگہ چھوڑتی جاتی تھیں کیونکہ وہ ایک ایسا رشتہ تھا شراکت کا کہ وہ بلی کو کوستے ہوۓ آگے کھسکتی جاتی تھیں اور بلی اپنی پوری جگہ بنا کر نیم دراز ہو تی جاتی تھی۔ پیارے بچو! جب تک ہم انسانوں کے درمیان شیئرنگ کا رشتہ قائم رہے گا یہ دنیا خوش اسلوبی سے چلتی رہے گی۔ لیکن جب شیئرنگ میں رخنہ پڑنے لگتا ہے جیسا کہ ہمارے ہاں پڑ رہا ہے تو بے زاری بڑھ جاتی ہے اور اس طرح سے آدمیوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا جا رہا ہے اور “نکھیڑا“ جا رہا ہے۔ یہ ایک خوفناک صورتِ حال ہے۔ ایک زمانے میں جب میں نے بی۔اے کر لی تو میں نے بھی گھر والوں سے لڑائی کی کیونکہ جب بچہ سیانا ہوجا تا ہے تو وہ گھر والوں سے لڑتا ضرور ہے۔ سیانا ہونے کے بعد وہ سب سے پہلے تھرڈ ائیر میں کمیونسٹ بن جاتا ہے۔ دوسرا وہ گھر والوں سے ضرور لڑتا ہے۔ میں بھی کچھ ایسے ہی ناراض ہو کر گوجر خان چلا گیا۔ یہ میں آپ کو خفیہ بات بتا رہا ہوں۔ وہاں جا کر میں سکول ماسٹر لگ گیا۔ وہاں ایک بڑے اچھے آدمی ہوتے تھے ان کا تھوڑا سا تصوف کے ساتھ بھی لگاؤ تھا۔ ہم شام کو ان کی بیٹھک میں بیٹھتے تھے ۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ آتے تھے اور باتیں بھی ہوتی تھیں۔ وہاں ایک آدمی نابی کمہار بھی آتا تھا۔ تھا تو وہ کمہار لیکن کوزہ گر کو خدا نے بڑی صلاحتیوں سے نوازا ہوتا ہے۔ اس کی سوچ بڑی عجیب ہوتی تھی۔ وہ ایک روز وہاں آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا کہ صاحب جی، یہ جو زمین ہے اس کا وزن کتنا ہے؟اس کا کام مٹی کا تھا تو ظاہر ہے اس کی دل چسپی مٹی میں زیادہ ہونی تھی۔ میں جسے اپنے علم پر بڑا ناز تھا، میں نے کہا کہ زمین کے بوجھ کے بارے میں تو میں نہیں جانتا لیکن میں تمہیں کہیں سے دیکھ کر ضرور بتاؤں گا۔ میں نے سکول کی لائبریری سے انفارمیشن اور معلومات کی کتابیں نکال نکول اور جوڑ جاڑ کے دیکھا اور اس سے کہا کہ بھئی دیکھو زمین کا وزن سائنس کی رو سے اتنے ہزار اتنے لاکھ، اتنے کروڑ ٹن ہے۔اسے ٹن کےبارے میں بھی بتایا کہ ایک ٹن 28 من کا ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میرے طرف سے اس قدر مشکل سوال حل کر دیۓ جانے کے باوجود بھی وہ مطمئن نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مجھ سے پھر گویا ہوا اور اس نے مجھ سے یہ بات پوچھ کر مجھے حیران کر دیا کہ

“جی ایہہ وزن بندیاں سمیت اے کہ بندیوں بگیر“

اس وقت تو میں اس کی اس بات پر چڑا بھی کہ یہ کیسی بات کر رہا ہے لیکن آج میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر چیز کی بندے کے ساتھ شراکت ہے۔ جب ہم سڑک پر گاڑی چلاتے ہیں تو دوسروں کو یکسر بھلا دیتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ بس ہم ہی ہیں۔ میرا بھی یہی حال ہے۔ میں بھی کہتا ہوں کہ بس میں ہی ہوں اور “گلیاں ہون سنجیاں تے بس میرا مرزا یار پھرے“میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کیا پروا ہے کہ میں لین کے اندر چلوں یا سڑک کو شیئر کروں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں شیئر کرنے کا رحجان ختم ہو چکا ہے اور جس قوم یا گروۂ انسانی میں شیئرنگ کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے وہ سوسائٹی غرق ہونے لگتی ہے۔ ڈوبنے لگتی ہے۔ ہم شیئرنگ کے بغیر نہیں چل سکتے۔ اللہ تعالٰی نے اس کا نظام ہی ایسا بنایا ہے۔ آج سے تین چار سال پہلے میں امریکہ گیا۔ میرا بیٹا وہاں پروفیسر ہے۔ ہم اس کی یونیورسٹی سے واپس آرہے تھے تو ہماری گاڑی سے آگے ایک اور گاڑی جار رہی تھی۔ سڑک بالکل سنسان تھی۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہاکہ یار اس سے آگے نکلو۔ یہ تو بہت آہستہ جار ہا ہے۔ کہتا اچھا ابو گزرتے ہیں اور وہ آگے نکلنے میں بہانے بازی کر رہا تھا۔ میں نے غصے سے کہا کہ تم اس کو ہارن دو اور اسے ایک طرف کر دو۔ وہ کہنے لگا کہ ابو اسے ہوٹ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ عمر رسیدہ آدمی ہے جو گاڑی چلا رہا ہے۔ اگر میں ہارن دوں گا تو یہ گھبرا جاۓ گا اور کسی نقصان کا اندیشہ ہے۔ میں نے کہا دفع کر یا اگر نقصان ہوتا ہے تو اس کا ہونا ہے ہمیں کیا؟ میرا بیٹا کہنے لگا کہ ابھی موڑ آجاۓ گا تو اس سے آگے نکل جائیں گے اور وہ ویسے یہ آہستہ آہستہ گاڑی چلاتا رہا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟ وہ کہنے لگا کہ ابو بات یہ ہے کہ یہ میرا کولیگ ہے۔ میں نے کہا کہ اچھا کیا یہ تمہارے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھاتا ہے؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ میں نے کہا کہ کیا یہ تمہارے ساتھ ایڈمنسٹریشن میں ہے؟ وہ کہنے لگا کہ نہیں۔ میں نے کہا پھر یہ تمہارا ساتھی کیسے ہو گیا؟ وہ کہنے لگا کہ یہ ابو He is my road fellow اور میں اسے گھبرانا پسند نہیں کرتا۔ میں نے کہا کہ لعنت! تمہیں پڑھنےاس لیے بھیجا تھا کہ اس طرح کی فضول باتیں سیکھ لے۔ ادھر لاہور یا کراچی میں آکے گاڑی چلا اور کھٹا کھٹ کسی کے بیچ میں مار۔ یہ تو نے کیا نئی اصطلاح “سڑک کا ساتھی“ بنا رکھی ہے۔ یہ کوئی رشتہ وشتہ نہیں ہے۔

خواتین و حضرات! جب شیئرنگ کی تار ٹوٹتی ہے تو پھر اس قسم کی مشکلات پیدا ہو تی ہیں اور نواب دیں (نابی کمہار) جیسا کمہار پیدا ہوتا ہے تو وہ شیئرنگ کے رشتے کو جوڑتا ہے جیسے کہ وہ مٹی کو جوڑ کر کوزہ بناتا ہے بالکل اسی طرح سے ہے۔

میں عرض کر رہا تھا کہ کسی کو کچھ دے دینا تو بڑا ہی سہل کام ہے۔ شیئر کرنا مشکل کام ہے۔ میاں بیوی کا خاص طور پر شیئرنگ کا بہت عجیب رشتہ ہے۔ نہ بھی پسند ہو تو بھی تعلق رکھنا پڑتاہے۔ قرآن پاک میں بھی اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم کو اپنی بہت سی بیویاں نا پسند ہوں گی لیکن تم نے ان سے ساتھ رہنا ہے۔ جوڑنے والے اپنی جسمانی یا نفسیاتی تکلیف کے باوجود کیا کچھ حاصل کرتے ہوں گے اس کا اندازہ ہمیں نہیں ہے۔ لیکن ہمارے بابے کہتے ہیں کہ شیئرنگ کرنے سے آپ کو ایک عجیب طرح کی تقویت ملتی ہے۔ ایسی ہی تقویت جو آپ آکسیجن کی صورت میں درخت سے حاصل کرتے ہیں جس سے آپ توانا رہتے ہیں۔ اگر آپ زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں شراکت اور “بھائی والی“ کے اوپر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اردگرد کس طرح سے شیئرنگ کا عمل جاری ہے۔ لیکن یہ عمل توجہ دینے سے نظر آتا ہے اور جس وقت اس عمل کو اپنی زندگی میں شامل نہ کر لیا جاۓ مشکل ہو جاۓ گی اور ہم اس مشکل میں سے گذر رہے ہیں اور ساری دنیا اس شیئرنگ سے نکل رہی ہے۔ میرے ایک دوست کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ اس کا نام صائمہ تھا۔ جب ہم سمن آباد میں رہتے تھے اس کی وہاں شادی ہو گئی پھر وہ سمن آباد سے شادی کے بعد لندن چلی گۓ۔ اس کا خاوند انجینئر تھا۔ وہ لندن سے پھر کینیڈا شفٹ ہو گۓ۔ جب ان کے ماشاء اللہ دو تین خوب صورت سے بچے ہو گۓ تو پھر صائمہ نے کہا کہ ہم کتنی دیر باہر رہیں گے اور اس کے بعد وہ واپس گھر لاہور آۓ۔ پہلے تو وہ پوش ایریاڈیفینس میں رہے پھر گلبرگ آۓ اور آخر کار وہ سمن آباد میں ہی آگۓ حالانکہ یہ علاقہ ان کے مزاج کے مطابق نہیں تھا اور نہ ہی یہ علاقہ ان کے بود و باش کے لیول پر پورا اترتا تھا۔ ایک دن میں اپنے دوست اے حمید سے ملنے کے لیے جا رہا تھا تو وہ مجھے راستے میں مل گئی اور اس نے مجھے بتایا کہ انکل آج کل میں سمن آباد میں ہوں۔ میں نے کہا کہ تم نے علاقہ کیوں نہیں بدلا۔ وہ کہنے لگی کہ انکل ایک تو اس علاقے سے میری بچپن کی یادیں وابستہ ہیں اور یہاں سٹور بھی بڑا نزدیک ہے جو چیز نہیں ہوتی وہ میں جھٹ سے لے آتی ہوں۔ میں نے کہا کہ سمن آباد میں ایسا کون سا اشیاۓ ضروریہ کا سٹور ہے جس سے ہر چیز دستیاب ہے۔ وہ کہنے لگی انکل بہت بڑا ہے اور نہایت اعلٰی درجے کا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے تو نہیں دیکھا۔ کہنے لگی اماں کا گھر میرے گھر کے نزدیک ہی ہے جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے وہاں سے جا کے لےآتی ہوں۔ اس سے اچھا سٹور تو مجھے ملا ہی نہیں۔ میں بڑی دیر اس سے باتیں کرتا رہا اور خوش ہوتا رہا۔ شیئرنگ اس طرح سے ہوتی ہے اور اس کی جڑیں کئی طرح سے ملی ہوتی ہیں۔ اب آپ کو ذات کے حوالے سے یہ فیصلہ خود کرنا ہے اور ایسا فیصلہ کرنے کے لیے ایک وقت ضرور مقرر کرنا پڑے گا جس میں آپ اپنے آپ کا احاطہ کریں۔ لوگوں نے مجھ سے مراقبہ کے حوالے سے پوچھا بھی ہےاور میں انشاء اللہ کسی اور پروگرام میں مراقبہ کی تمام اقسام عرض کروں گا اور وہ اقسام اکتسابی طور پر ہی ہوں گی کیونکہ میں خود تو اس کا ماہر نہیں ہوں۔ مراقبہ ایک خود احتسابی کا طریقہ ہی تو ہے۔ وگرنہ انسان لوگوں پر تنقید کرتا ہوا ہی اس جہانِ فانی سے گذر جاتا ہے۔ آپ کو شراکت کی ہلکی ہلکی لہریں نہ صرف اپنے علاقے، گھر یا ملک میں ملیں گی بلکہ آپ جہاں بھی چلے جائیں جہاں بھی انسان آباد ہیں اور جہاں بھی اللہ کے نظارے ہیں وہ نظارے اور فضائیں آپ کو اپنے ساتھ شیئر کرتی ہوئی ہی ملیں گی۔ آپ مری اور بھوربن کیوں جاتے ہین؟ وہ بھوربن آپ کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ پلیز آجاؤ بڑی دیر ہو گئی ہے۔ میں آپ کے ساتھ کچھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ جب آپ وہاں سے ہو کر آتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ بھوربن میرے ساتھ کچھ شیئر کر رہا تھا کیونکہ آپ کا وہاں جانے کا پھر دل کرتا ہے۔ شراکت بڑی نعمت ہے جو قدرت کی طرف سے ہمیں عطا ہوتی ہے۔ جب میں اٹلی میں تھا، وہاں ایک اصول ہے کہ ہر سال ڈرائیونگ لائسنس کی جب تجدید کرائی جاتی ہے تو آپ کو ایک بار پھر ڈاکٹر کے حضور بینائی کے ٹیسٹ کرانے کے لیے پیش ہونا پڑتا ہے۔ میں بھی ڈاکٹر کے پاس گیا اور اس نے کہا کہ اوپر کی لائن سے پڑھتے ہوۓ چھٹی لائن تک آؤ۔ آخری لائن بڑی باریک لکھی ہوئی تھی۔ میں نے پانچویں لائن تک تو کھٹا کھٹ پڑھ دیا لیکن جب چھٹی پر آیا تو رک گیا اور میں نے ڈاکٹر سے اطالوی زبان میں کہا کہ یہ مجھ سے نہیں پڑھی جاتی تو ڈاکٹر نے کہاکہ “پاس“۔ یہ پانچ لائن پڑھنے کا حکم ہے۔یہ چھٹی تو میں تمھیں اپنی طرف سے کہہ رہا تھا۔ اب میں اس چھوٹے سے رشتے کو، محبت کے رشتے کو کیا نام دوں۔ لیکن اس نے میرا دل پرباش کر دیا تھا اور اس کی معمولی سی محبت کی بات سے میرا دل خوشی سے بھر گیا تھا۔ مجھے یہ بات محسوس کر کے بھی بری خوشی ہوتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے بہت کچھ جانتے ہوۓ اور نہ جانتے ہوۓ بھی ہمارے ساتھ شیئر کیا ہے اور میں نے تو شیئرنگ کے فائدے بہت اٹھاۓ ہیں۔ میں یہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس شیئرنگ سے میں نے کسی کو کیا دیا۔ البتہ یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے اس شیئرنگ کی بدولت بہت کچھ حاصل کیا۔

اللہ تعالٰی آپ سب کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا اور شیئر کرنے کا شرف عطافرماۓ۔ اللہ حافظ

 بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: قیصرانی
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود