نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

گھوڑا ڈاکٹر اور بلونگڑا

ہم اہلِ زاویہ کی طرف سے آپ کی خدمت میں سلام پہنچے۔

ایک مرتبہ پھر اس ماحول میں‌ پہنچ کر یقیناَ آپ کو بھی ویسی ہی خوشی ہوئی ہوگی جیسی کہ مجھے اس وقت ہو رہی ہے۔ ایف۔اے کے زمانے میں عام طور پر (یہ ہمارے زمانے کی بات ہے) سٹوڈنٹس انگریز شاعر Oscar Wilde کی محبت میں‌بہت مبتلا ہو تے تھے۔ اب زمانہ آگے نکل گیا ہے۔ اب شاید اس کے نظموں‌ پر اس قدر توجہ نہ دی جاتی ہو۔ جس طرح سے ہم اس کی محبت میں گرفتار تھے ویسے ہی ہماری رتی جناح (قائد اعظم کی اہلیہ) جو ہم سے کافی چھوٹی تھیں وہ بھی Oscar Wilde کی محبت میں بہت بری طرح سے گرفتار تھیں اور اس کی نظمیں وہ قائد اعظم کی زبانی سنا کرتی تھیں۔ ان دنوں قائد اعظم بڑے مصروف ہوتے تھے اور ان پر بہت زیادہ بوجھ ہوا کرتا تھا اور کام کا بوجھ بتدریج بڑھتا جا رہا تھا لیکن وہ ایک ہی Requestکرتی تھیں کہ “جناح مجھے اس کی ایک نظم اور سناؤ“۔ قائد اعظم کا قد جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ بہت خوبصورت تھا لیکن آپ شاید اس بات سے واقف نہ ہوں کہ جب قائد اعظم لندن بیرسٹری پڑھنے کے لیے گۓ تو وہاں ایک ایکٹر کی ضرورت کا اشتہار آیا۔ یہ اشتہار ایک Shakespearean Theatre Company کی طرف سے تھا۔ اب قائد اعظم کو بھی اپنی انگریزی دانی اور اپنی آواز پر ناز تھا اور وہ بھی وہاں چلے گۓ۔ وہاں تمام امیدوار گورے تھے جو ستّر کے قریب تھے۔ قائد اعظم نے ایک مکالمہ پڑھ کر سنایا اور اتنے سارے امیدواروں میں جس کو چنا گیا وہ قائد اعظم ہی تھے۔ قائد اعظم اس انتخاب پر بہت خوش تھے اور وہ اپنا مستقبل ایک کامیاب اور نامور ایکٹر کا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اس کمپنی کا ڈرامہ سائن کر لیا اور گھر آ کر اپنے والد کے نام خط لکھا کہ “میں اتنے زیادہ لوگوں میں سے منتخب کر لیا گیا ہوں اور ایک انٹر نیشنل تھیٹریکل کمپنی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ہوں“۔ اب ان کے والد پونجا جناح پرانی وضع کے آدمی تھے۔ انہوں نے جوابی خط لکھا (اب مجھے یاد نہیں کہ وہ خط بذریعۂ جہاز گیا یا تار کے ذریعے بھیجا گیا) اور اس میں کہا کہ تم کو جس کام کے لیے بھیجا گیا ہے تم اس کی طرف توجہ دو۔ یہ تم نے کیا نیا پیشہ اختیار کر لیا ہے۔ “خبردار اگر تم نے اس طرح کی کسی سرگرمی میں حصہ لیا تو“ اب اس زمانے کے بچے بھی بڑے نیک اور تابع فرمان ہوتے تھےاور خط ملتے ہی قائد اعظم کو فکر پڑ گئی اور اس کمپنی کے مالک سے کہا کہ سر میں بہت شرمسار ہوں اور میں وعدہ کے مطابق پرفارم نہ کر پاؤں گا۔انہوں نے پوچھا کہ آخر تمہیں ہوا کیا ہے؟قائد اعظم نے کہا کہ سر میرے والد صاحب نے منع کیا ہے اور میرا اس طرح تھیٹر میں کام کرنا انہیں پسند نہیں ہے۔ کمپنی کے مالک نےکہ تمھارے والد کو کیا اعتراض ہے۔ یہ تمہاری زندگی ہے اور تم جو چاہو پیشہ اختیار کر سکتے ہو۔

قائد اعظم نے کہا کہ Sir you do not understand ہماری زندگی میں والد بڑے اہم ہوتے ہیں اور میں معافی چاہتا ہوں۔

رتی قائد اعظم سے Oscar Wilde کی نظمیں‌ضرور سنا کرتی تھیں۔ یہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے قبل مجھے آسکر وائیلڈ کی نظم کا ایک مصرعہ یاد آرہاتھا

Suffering is very long moment You can not divide it by time

خواتین و حضرات! Suffering ایسی چیز ہے جو لمحاتی ہوتی ہے لیکن اسے تقسیم کرنے کے لیے چاہے کتنے ہی موسم گزر جائیں وہ کسی صورت تقسیم ہو نہیں پاتے ہیں۔ پریشانی کا ایک چھوٹا سا لمحہ بھی طویل تر ہوجاتا ہے۔ انسانی زندگی میں بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی فرد یا گروۂ انسانی Suffering کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج کل ہم پر بھی کچھ ایسی ہی کیفیت طاری ہو چکی ہے۔ ہم ایک بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں اور ہمیں اس احساسِ ندامت نے دبا رکھا ہے جو کسی طرح سے ہمیں گھیر کر اپنے چنگل میں ‌لے آیا ہے۔ یہ Pain اور Sufferings دکھ و الم تو انسانی زندگی کے ساتھ چلتے رہنا چاہیۓ لیکن مایوسی اس کے قریب نہیں آنی چاہیۓ۔ مجھے خوشی ہے کہ جب میں‌اپنے ملک کے دوسرے ساتھیوں کو دیکھتا ہوں تو ان میں آج کے Scenario میں دو چیزیں نظر آتی ہیں۔ یا تو انہیں غصہ آتا ہے اور یا انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور ہماری گردن پر ہاتھ رکھ کر زبردستی ہمارے سر کو نیچا کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ خدا کے کرم و فضل سے لوگ اس قدر مایوسی کے عالم میں نہیں‌ہیں جیسا کہ ہمارا دشمن اندازہ کر رہا تھا۔

خواتین و حضرات! مایوس ہونے کی ضرورت نہیں لیکن دکھ تک جانے کا آپ کو حق حاصل ہے۔ میں جب سکول میں داخل ہوا تو مجھے جس مس کے حوالے کیا گیا وہ بڑی خوش اخلاق تھیں۔ نہایت خوش وضع اور لمبے قد کی شفیق سی استاد تھیں۔ ہماری مائیں ماسیاں بڑی سخت ہوتی تھیں اور اس استاد کی طرف سے ہماری طرف جو شفقت کا لپکا آرہا تھا وہ میرے لیے نیا تجربہ تھا۔ وہ ہمارے کھیلنے کے لیے آسائش کا سامان بھی مہیا کرتی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس استاد کے لیے دل میں ایک ایسی محبت پیدا ہو گئی ہے جس کا توڑنا بڑا مشکل ہو گیا۔ ہمیں اماں کے پاس رہنا تکلیف دہ ہوتا تھا لیکن اس مس کے پاس زیادہ آسانی محسوس ہوتی تھی۔ خواتین و حضرات گو یہ ایک میری ذاتی سی بات ہے اور میں آپ کو اپنا دکھ بتاتا ہوں کہ ان کی اس سکول سے یا ٹرانسفر ہو گئی یا پھر انہوں نے خود ہی سکول چھوڑ دیا۔ بہر کیف وہ ہم سے جدا ہو گئیں۔ میں اب اس بڑھاپے میں ‌پہنچ چکا ہوں، میں نے اب تک کی اپنی زندگی میں اتنا دکھ محسوس نہیں کیا جس قدر اس شفیق استاد کی جدائی سے مجھے ہوا۔ مجھے شاید یہ بات آپ کو بتانی چاہیۓ یا نہیں کہ اس جدائی میں نہ کھانا اچھا لگتا تھا نہ پینا اچھا لگتا تھا اور نہ ہی زندہ رہنا اچھا لگتا تھا۔ مجھے زبردستی سکول بھیجا جاتا تھا اور میں ‌اپنی اس ٹیچر کی یاد اور محبت میں اس قدر مبتلا ہو گیا تھا کہ میں عشق و محبت کے قصے پڑھتا ہوں تو مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس وقت گو بہت چھوٹا تھا لیکن لاشعور میں آخر کس طرح اتنا آگے بڑھ گیا تھا کہ میں‌اپنی اس استاد کو ایک بہت ہی ارفع اور اعلٰی مخلوق سمجھ کر اس کی پرستش کرنے لگا تھا اور جدائی کا دکھ بہت گہر ا محسوس کرتا تھا اور اس دکھ کے باوصف میں مایوس نہیں تھا اور میرے دل کے کسی نہ کسی کونے کھدرے میں یہ بات ضرور تھی کہ میں ان سے ضرور ملوں گا اور پھر اپنا آپ اس شفیق استاد کی خدمت میں ‌پیش کردوں گا۔ وقت گزرگیا اور ان سے ملنے کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا۔ وہ جانے کہاں چلی گئیں لیکن دل میں ان کا دکھ بڑھتا رہا۔ میں نے پھر میٹرک کیا، ایف۔اے ، بی۔اے کر چکنے کے بعد یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ بنا۔ ولائیت چلا گیا اور وہاں جا کر پڑھاتا بھی رہا۔ لکھنے لکھانے کا کام بھی کرتا رہا۔ جب میں‌لوٹ کر آیا تو مجھے ایک خاتون ملیں۔ بہت سنجیدہ، سلیقہ شعار اور وہ بہت پڑھی لکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کچھ لکھتی ہوں اور مجھے آپ کا سٹائل بہت پسند ہے اور میں چاہتی ہوں کہ آپ کی طرز کا لکھنا مجھے بھی آۓ۔ میں نے ان سے کہا کہ جی میں نے لکھنا کہیں سے سیکھا تو نہیں یہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ میرے بارے میں ایسا فرما رہی ہیں لیکن وہ محترمہ اصرار کرنے لگیں کہ آپ مجھے اصلاح ‌ضرور دیں اور میرے تحریروں پر Comments ضرور دیں۔ ان سے جب دوسری ملاقات ہوئی تو یہ جان کر میرے دل کی کلی کھل اٹھی کہ وہ محترمہ میری وہ استاد تھیں جس کی جدائی کا دکھ میں اب تک دل میں لیے پھرتا تھا اور آج میں اپنی اس محبوب ٹیچر کا استاد بن گیا۔ میرے اس وقت مایوس نہ ہونے نے مجھے اتنا بڑا سہارا دیا اور میں ایک امید پر زندہ رہا۔ میں جب بچپن کی بات کرتا ہوں تو اگر آپ مجھے سچ بولنے کی اجازت دیں تو میں بتانا چاہوں گا کہ اس وقت دو مرتبہ مجھ پر مایوسی کا عالم بھی رہا۔ اتنا مایوس جس طرح ایک مرغے کی کلغی گر جاۓ تو وہ ہو جاتا ہے۔ میں بھی اس قدر شدید مایوسی میں رہا لیکن اس کے بعد میں‌نے خدا سے کہا کہ اب بس یہ مایوسی مجھے زندگی کے بقیہ حصے میں نہیں ستاۓ گی۔ میں سکول میں ‌پکی یا پہلی جماعت میں تھا۔ میرے پاس سے ایک تانگہ گزرا۔اس تانگے کا کوچوان کچھ ظالم تھا اور وہ گھوڑے کو چھانٹے مار کر چلاتا تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا اور چھانٹے لگنے سے بیچارہ گھوڑا کچھ تڑپا اور بے ہوش ہو کر گر گیا۔ لوگوں نے جلدی سے گھوڑے کے بند اور راسیں کھول دیں اور لوگ اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ اٹھ نہ سکا۔کسی نے کہا کہ گھوڑا ڈاکٹر کو بلاؤ۔ جب میں‌نے یہ بات سنی تو میں بہت خوش ہوا اور وہاں کھڑا ہو کر دیکھنے لگا اور گھوڑا ڈاکٹر کا انتظار کرنے لگا کہ گھوڑا ڈاکٹر آکر کس طرح اس گھوڑے کو اٹھاۓ گا۔ اب میں نے گھر جانا تھا اور بستہ میرے ہاتھ میں تھا۔ گھوڑا ڈاکٹر کے انتظار میں آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ پون گزر گیا اور پھر تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ایک تانگہ آکر وہاں رکا جس میں سے ایک آدمی اترا جو اس گھوڑے کی طرف چلا۔ اب میں‌کسی گھوڑے نما ڈاکٹر کے بارے میں‌سوچ رہا تھا لیکن وہ تو بندہ ڈاکٹر نکلا اور میرے ایک گھنٹے کا انتظار سخت مایوسی میں تبدیل ہوگیا۔ میں واقعی اس وقت یہی سمجھتا تھا کہ گھوڑوں کا علاج کرنے کے لیے گھوڑے ہوں گے اور کتوں کا علاج کرنے کے لیے کتے ہوں گے۔ میں وہ مایوسی آج تک نہیں بھول سکا۔ وہ مایوسی میرے دل و دماغ سے جاتی ہی نہیں ہے۔

دوسری بار جب میں سخت مایوس ہوا وہ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ہمارے سکول کے ہیڈ ماسٹر کے بیٹے کے پاس ایک بڑا خوبصورت بلونگڑا (بلی کا بچہ) تھا۔ اسے دیکھ کر میرے دل میں بھی یہ آرزو پیدا ہوئی کہ میرے پاس بھی ایسا ہی کوئی بلونگڑا ہو۔ میں نے اپنے ابا جی سے کہا کہ آپ مجھےبھی بلونگڑا لا دیں۔ ابا جی کہنے لگے کہ چھوڑو یار، وہ تو بڑی فضول چیز ہے۔ تجھے ہم اس سے بھی اچھی چیز لے دیں گے۔ میں نے کہا کہ نہیں ابا جی میں تو بلونگڑا ہی لوں گا۔ ان دنوں میری ہمشیرہ کے ہاں بچہ پیدا ہونے والا تھا۔ ابا جی نے کہا کہ اشفاق تمھیں ایک ایسی پیاری چیز ملے گی جسے تم اٹھا بھی سکو گے۔ وہ تمھیں ‌پنجہ بھی نہیں مارے گی۔

میں نے کہا کہ مجھے اس سے اور اچھی چیز کیا چاہیۓ؟ خواتین و حضرات! مجھے اباجی اٹھا کے اور بڑی محبت کے ساتھ جھولا جھلاتے ہوۓ صبح ہمشیرہ کی طرف لے گۓ۔ میں‌نے دیکھا کہ میری ہمشیرہ سر پر رومال باندھے لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے پہلو میں ایک چھوٹا سا اور پیارا سا بچہ پڑا تھا۔ میرے ابا جی نے وہ بچہ اٹھا کر مجھے کہا لو دیکھو۔ میں نے جب اسے دیکھا تو اس کا رنگ سرخ تھا۔ اس کے آنکھیں اور منہ ناک بند تھا۔ میں اسے تھوڑی دیر تو دیکھتا رہا اور میں‌نے پھر روتے ہوۓ ابا جی سے کہا کہ نہیں ابا جی مجھے بلونگڑا ہی لے دیں۔ وہ دن بھی میری مایوسی کا دن تھا جو میں آج تک نہیں بھولا۔اس کے بعد میں ‌نے اپنے اللہ سے کہا کہ میں مایوس نہیں ہوں گا اور خدا کا شکر ہے کہ اب مجھ پر جو بھی کیفییت گزرے میں کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ یہ بھی خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم سب تکلیف میں ضرور ہوتے ہیں، دکھ میں مبتلا ضرور ہو سکتے ہیں لیکن ہم مایوسی کی راہ پر نہیں چلتے اور یہ ہمارے دین نے ہمیں سکھلایا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری ساخت ان لوگوں سے مختلف ہے جو ہمارے پڑوس میں آباد ہیں۔ جن سے ہم نے یہ ملک پاکستان لیا ہے۔ آپ نے کیکر کا درخت تو دیکھا ہی ہوگا اس کی جو “مڈھی“ ہوتی ہے جہاں‌کیکر کی شاخیں‌آکر گرتی ہیں۔ خواتین و حضرات، سوکھا ہوا کیکر کا درخت اور اس کی سوکھی ہوئی کیکر کی “مڈھی“ پھاڑنا بہت مشکل ہوتی ہے۔ بڑے سے بڑا لکڑہارا بھی اسے آسانی سے نہیں چیر سکتا۔ اس مقصد کے لیے خاص قسم کے کلہاڑے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں یہ واچ کرتا رہا ہوں کہ‌ خاص قسم کے کلہاڑے والے لکڑہارے جب اس پر کلہاڑے کی سو ضربیں لگاتے ہیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوتی کیونکہ مڈھی میں تنے ایک خاص انداز میں ایک دوسرے کو جکڑے ہوۓ ہوتے ہیں اور یہ میرا مشاہدہ ہے کہ جب اس مڈھی پر 101 ویں ضرب پڑتی ہے تو وہ مڈھی چر جاتی ہے۔ پھر اس پر کسی سخت ضرب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی وہ Continuous Effort اور اس مسلسل کوشش کے پیچھے ایک جذبہ کارفرما ہوتا ہے جو اس سخت قسم کی مڈھی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ انسان کو کسی دکھ، تکلیف یا درد میں مایوس نہیں ہونا چاہیۓ اور ہمیں خداوند تعالٰی نے بھی یہی فرمایا ہے کہ تم ہرگز ہرگز مایوسی میں داخل نہ ہونا۔ لیکن چونکہ شیطان سے میری دوستی پرانی ہے اور روز اس سے میرا ملنا ہوتا۔ وہ مجھے کہتا ہے کہ دیکھو اشفاق احمد تیرا یہ کام نہیں ہوا۔ تو تو کہتا تھا کہ میں ‌یہ وظیفہ یا کام کروں گا تو خدا میرا فلاں کام کر دے گا لیکن اللہ نے تیرا وہ کام کیا نہیں ہے۔ میں دکھی ہو کر اس سے کہتا ہوں کہ کام تو میرا نہیں ہوا، دعا تو میری قبول نہیں ہوئی لیکن سر میں آپ کی ڈی میں شامل نہیں ہوں گا۔ آپ مجھے مایوس کرنا چاہتے ہیں لیکن میں‌ مایوس ہونے والوں میں سے نہیں ہوں۔ چاہے آپ جو مرضی کرلو۔ اب تک تو اس کے ساتھ یہ تعلق اور رشتہ قائم ہے کہ وہ مایوس کرنے کی پے در پے کوششیں کر رہا ہے اور میں مایوس نہیں ہورہا۔ آپ زندگی میں جب بھی دیکھیں گے آپ محسوس کریں گے کہ شیطان اور کچھ نہیں کرتا صرف آپ کو مایوس کر دے گا کہ دیکھو تم نے اتنا کچھ کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ لیکن جناب شیطان صاحب میں دکھی ہوسکتا ہوں، رنجیدہ ہو سکتا ہوں، مایوس نہیں ہو سکتا اور یہ مجھ پر اللہ کی بڑی مہربانی اور خاص عنایت ہے کہ بچپن کے دو واقعات کے سوا کبھی مایوس نہیں ہوا۔ میں آپ سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں اور یقین کرتا ہوں کہ آپ مایوسی کے گھیرے میں‌کبھی مت آئیے گا کیونکہ آپ اگر کبھی جہلم کے پاس شیر شاہ سوری کے قلعے کے قریب گرو بالا ناتھ کے ٹیلے پر گۓ ہوں وہاں چڑھائی چڑھ کر جانا پڑتا ہے اور وہاں جانے والے لوگ تو تانگے پر سوار بیٹھے رہتے ہیں لیکن کوچوان اتر کر گھوڑے کے ساتھ چلنے لگتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں‌کہ اگر وہ نہ اتریں اور گھوڑے کو اس بات کی تشفی نہ ہو کہ میرا مالک بھی میرے ساتھ ہے تو وہ گھوڑا کبھی اونچائی پر نہ چڑھ سکے۔ آپ لوگوں کی اس محبت کا شکریہ کہ آپ یہاں‌ تشریف لاۓ اور آپ نے میری بات سنی۔ اب میں اور آپ آج کے بعد کسی معاملے میں بھی مایوسی کے اندر داخل نہیں ہوں گے۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ

پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15