نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

July, 2011 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

فونگ شوئی

جب میں زندگی میں پہلی مرتبہ ہانگ کانگ گیا تو جیسے ہر نۓ ملک اور شہر میں جانے کا ایک نیا تجربہ ہوتا ہے اس طرح میرا ہانگ کانگ جانے کا تجربہ بھی میری زندگی کے ساتھ ایسے چھوتے ہوۓ گزرا کہ میرے اندر تو شاید وہ سب کچھ تھا جسے اجاگر ہونے کی ضرورت تھی لیکن وہ باہر برآمد نہیں ہوپاتا تھا۔ مجھے وہاں جس دفتر میں جانا تھا وہاں کے باس جس سے میں نے براڈ کاسٹنگ کے سلسلے میں ملاقات کرنا تھی وہ بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہوچکے تھے اور اس کے دفتر والے کچھ پریشان تھے۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے یا کمر کے مہرے ایک دوسرے پر چڑھ گۓ تھے۔ میں نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن دفتر والوں نے کہا کہ وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں اور کافی تکلیف میں ہیں۔ ان صاحب کا دفتر جو بڑا اچھا اور خوبصورت دفتر تھا۔ اس میں کچھ تبدیلی ہورہی تھی۔ اس کی سیکرٹری چیزوں کو ہٹانے ، رکھنے یا جگہ بدلنے بارے ہدایت دے رہی تھی۔ وہاں ایک چھوٹے سے قد کا آدمی بھی آیا ہوا تھا جو Instructions دے رہا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ آپ لوگ کیا کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم دفتر کی “فونگ شوئی“ کر رہے ہیں اور یہ شخص “فونگ شوئی“ کے Expert ہیں۔…

جیرا بلیڈ، ڈاکیا اور علم

اس پروگرام کے شروع ہونے سے ذرا پہلے میں ایک نیا کیلنڈر دیکھ رہا تھا جس کے اوپر ایک بڑے شیر کی تصویر تھی اور وہ شیر ایسا خوفناک تھا جو میں نے یا آپ نے کبھی چڑیا گھر میں اپنی نظر سے نہیں دیکھا۔ اس کے نوکیلے دانت خنجر کی طرح ہوتے ہیں اور اس کا چہرہ بہت ہی خوفناک ہوتا ہے۔ یہ شیر اب تو نایاب ہے۔ یہ ڈائنوسار کے زمانے میں ہوا کرتا تھا اور اپنے آس پاس، ارد گرد جانورں کو اٹھا کر خوراک کے لیے لے جاتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ جانور کس طرح سے انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور پھر کس طرح سے ہمارے اوپر حاوی بھی ہوتا رہا ہے اور کن کن خصوصیات کی بنا پر یہ انسان سے بہتر ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ماضی، حال اور مستقبل کا جانور یہ انسانوں سے یوں بہتر ہے کہ اس میں دیکھنے کی صلاحیت ہم آپ سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی بصارت بڑی تیز ہوتی ہے۔ آپ ایک گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا یا بوٹی زمین پر رکھ دیں تو میل بھر اونچی اڑتی ہوئی چیل فوراً جھپٹا مار کر اس بوٹی کو اچک لے گی لیکن وہ مجھے یا آپ کو نظر نہیں آ سکتی ہے۔ کبھی آپ صبح اٹھ کر چڑیوں کو دانہ ڈالیں تو دور اڑتی ہوئی چڑیاں بڑی جلدی ان دانوں کو دیکھ ل…

پگڑی، تسبیح اور نار سنگھ

میں نے اس سے اس وقت ایسی حالت میں دیکھا تھا جسے اسے کسی "نار سنگھ"نے گھیر لیا، اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میں اس گھر کی چوکھٹ پر دھونی رما کر بیٹھ گیا تھا کہ اس نفسا نفسی کے دور میں مجھ جیسا سادھو ملنا محال تھا۔ اور یہ میرا فرض بنتا تھا کہ میں اس کی مشکل آسان کروں۔ کیا ہوا تمھیں، تمھاری وہ پگڑی نظر نہیں آ رہی؟ جس کی اونچائی کی وجہ سے تمھیں ہر دروازے سے گزرتے ہوئے سر جھکانا پڑتا تھا، ماسوائے مسجد کے۔۔۔ خیریت؟ مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی پھر وہ اپنی آنکھیں میرے دائیں بائیں، پیچھے اور اوپر گھمانے لگا۔ جب وہ یہ کام کر چکا تو مجھ سے مخاطب ہوا؛ مجھے اپنی پگڑی اور تمھاری تسبیح پر افسوس ہوتا ہے بابا، تمھاری انگلیاں جس انداز سے تسبیح کے دانے گرا رہی ہیں، کبھی اس انداز سے میں اپنی مونچھوں اور پگڑی کو بل دیا کرتا تھا۔ تم نے اپنی عبادت کو عقیدت و محبت سے خالی کر دیا ہے، تم نے صدا حق کو اپنے عصا کی چوٹ کا محتاج بنا رکھا ہے اور تمھارا کسہ تمھاری خود پسندی کے سکوں سے بھر چکا ہے۔ وہ ہنسنے لگا، وہ اس حالت میں بھی ہنس سکتا تھا مجھے اس کا حوصلہ شرمندہ کیے جا رہا تھا۔ اک پل کو خیال آ…

ہمارا اور ابلیس کا دکھ

ایک دفعہ کسی بزرگ نے دیکھا کہ بغداد کی دانہ منڈی کے باہر ایک پتھر کے اوپر شیطان بیٹھا رو رہا تھا۔ بزرگ بڑے حیران ہوئے، وہ اس کے قریب گئے اور کہنے لگے کے ابلیس کیا ہے۔۔ تو رو رہا ہے؟ اس نے کہا، جی میرا بہت برا حال ہے ۔ تو انھوں نے کہا نہ بھائی، تو نہ رو، تمھیں تو اتنے کام بگاڑنے ہیں لوگوں کے، اگر تو ہی رونے لگ گیا تو کیا ہو گا؟ اس نے کہا کہ، جی میرا کچھ دکھ ہے۔ بابا جی نے کہا کہ کیا دکھ ہے؟ کہنے لگا، جی میرا دکھ یہ ہے کہ میں اچھا ہونا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے ہوا نہیں جاتا۔ تو یہ دکھ تو ہم سب کا ہے، ہم زور تو لگاتے ہیں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ ہم کس لیے اچھے ہونا چاہتے ہیں، ہوا نہیں جاتا؟ چاہیے یہ کہ ہم ہونے کی کوشش تو کریں، خواہش تو کریں کہ ہم اچھے ہو جائیں تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ ہماری بات تو ہوتی رہتی ہے، گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم روئے کبھی بھی نہیں۔ ابلیس ہم سے بہتر تھا کہ سچ مچ رو دیا، وہ بازی لے گیا۔
زاویہ سے اقتباس بشکریہ: زین خان