ہمارا اور ابلیس کا دکھ

ایک دفعہ کسی بزرگ نے دیکھا کہ بغداد کی دانہ منڈی کے باہر ایک پتھر کے اوپر شیطان بیٹھا رو رہا تھا۔ بزرگ بڑے حیران ہوئے، وہ اس کے قریب گئے اور کہنے لگے کے ابلیس کیا ہے۔۔ تو رو رہا ہے؟
اس نے کہا، جی میرا بہت برا حال ہے ۔ تو انھوں نے کہا نہ بھائی، تو نہ رو، تمھیں تو اتنے کام بگاڑنے ہیں لوگوں کے، اگر تو ہی رونے لگ گیا تو کیا ہو گا؟
اس نے کہا کہ، جی میرا کچھ دکھ ہے۔ بابا جی نے کہا کہ کیا دکھ ہے؟
کہنے لگا، جی میرا دکھ یہ ہے کہ میں اچھا ہونا چاہتا ہوں، وہ مجھ سے ہوا نہیں جاتا۔
تو یہ دکھ تو ہم سب کا ہے، ہم زور تو لگاتے ہیں بڑے کمال کی بات یہ ہے کہ ہم کس لیے اچھے ہونا چاہتے ہیں، ہوا نہیں جاتا؟
چاہیے یہ کہ ہم ہونے کی کوشش تو کریں، خواہش تو کریں کہ ہم اچھے ہو جائیں تو اس سے بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔
ہماری بات تو ہوتی رہتی ہے، گفتگو بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم روئے کبھی بھی نہیں۔ ابلیس ہم سے بہتر تھا کہ سچ مچ رو دیا، وہ بازی لے گیا۔

زاویہ سے اقتباس
بشکریہ: زین خان