پگڑی، تسبیح اور نار سنگھ

میں نے اس سے اس وقت ایسی حالت میں دیکھا تھا جسے اسے کسی "نار سنگھ"نے گھیر لیا، اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میں اس گھر کی چوکھٹ پر دھونی رما کر بیٹھ گیا تھا کہ اس نفسا نفسی کے دور میں مجھ جیسا سادھو ملنا محال تھا۔ اور یہ میرا فرض بنتا تھا کہ میں اس کی مشکل آسان کروں۔
کیا ہوا تمھیں، تمھاری وہ پگڑی نظر نہیں آ رہی؟ جس کی اونچائی کی وجہ سے تمھیں ہر دروازے سے گزرتے ہوئے سر جھکانا پڑتا تھا، ماسوائے مسجد کے۔۔۔ خیریت؟
مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی پھر وہ اپنی آنکھیں میرے دائیں بائیں، پیچھے اور اوپر گھمانے لگا۔ جب وہ یہ کام کر چکا تو مجھ سے مخاطب ہوا؛
مجھے اپنی پگڑی اور تمھاری تسبیح پر افسوس ہوتا ہے بابا، تمھاری انگلیاں جس انداز سے تسبیح کے دانے گرا رہی ہیں، کبھی اس انداز سے میں اپنی مونچھوں اور پگڑی کو بل دیا کرتا تھا۔ تم نے اپنی عبادت کو عقیدت و محبت سے خالی کر دیا ہے، تم نے صدا حق کو اپنے عصا کی چوٹ کا محتاج بنا رکھا ہے اور تمھارا کسہ تمھاری خود پسندی کے سکوں سے بھر چکا ہے۔ وہ ہنسنے لگا، وہ اس حالت میں بھی ہنس سکتا تھا مجھے اس کا حوصلہ شرمندہ کیے جا رہا تھا۔
اک پل کو خیال آیا، میں اپنی تسبیح کا تار توڑ دوں تا کہ اسے دیکھ سکوں پر خیال آیا ایسا تو پہلے بھی ہو چکا تھا۔ اب میں نے اس تسبیح کا پھندہ بنا کر گلے میں ڈال لیا تھا اور اب میں بھی اپنے گرد موجود "نار سنگھ" کو دیکھنے لگا تھا۔
بشکریہ: عابد علی وسیر عابد