نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

پگڑی، تسبیح اور نار سنگھ

میں نے اس سے اس وقت ایسی حالت میں دیکھا تھا جسے اسے کسی "نار سنگھ"نے گھیر لیا، اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میں اس گھر کی چوکھٹ پر دھونی رما کر بیٹھ گیا تھا کہ اس نفسا نفسی کے دور میں مجھ جیسا سادھو ملنا محال تھا۔ اور یہ میرا فرض بنتا تھا کہ میں اس کی مشکل آسان کروں۔
کیا ہوا تمھیں، تمھاری وہ پگڑی نظر نہیں آ رہی؟ جس کی اونچائی کی وجہ سے تمھیں ہر دروازے سے گزرتے ہوئے سر جھکانا پڑتا تھا، ماسوائے مسجد کے۔۔۔ خیریت؟
مجھے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی پھر وہ اپنی آنکھیں میرے دائیں بائیں، پیچھے اور اوپر گھمانے لگا۔ جب وہ یہ کام کر چکا تو مجھ سے مخاطب ہوا؛
مجھے اپنی پگڑی اور تمھاری تسبیح پر افسوس ہوتا ہے بابا، تمھاری انگلیاں جس انداز سے تسبیح کے دانے گرا رہی ہیں، کبھی اس انداز سے میں اپنی مونچھوں اور پگڑی کو بل دیا کرتا تھا۔ تم نے اپنی عبادت کو عقیدت و محبت سے خالی کر دیا ہے، تم نے صدا حق کو اپنے عصا کی چوٹ کا محتاج بنا رکھا ہے اور تمھارا کسہ تمھاری خود پسندی کے سکوں سے بھر چکا ہے۔ وہ ہنسنے لگا، وہ اس حالت میں بھی ہنس سکتا تھا مجھے اس کا حوصلہ شرمندہ کیے جا رہا تھا۔
اک پل کو خیال آیا، میں اپنی تسبیح کا تار توڑ دوں تا کہ اسے دیکھ سکوں پر خیال آیا ایسا تو پہلے بھی ہو چکا تھا۔ اب میں نے اس تسبیح کا پھندہ بنا کر گلے میں ڈال لیا تھا اور اب میں بھی اپنے گرد موجود "نار سنگھ" کو دیکھنے لگا تھا۔
بشکریہ: عابد علی وسیر عابد

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"بغداد کا نوجوان "

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا ۔ نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا۔  لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟  اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے ۔  اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے ۔ "  اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ 
اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی …

"مشکلات"

اگر آپ غور کریں گے تو مصائب اور مشکلات اتنی ہی شدید ہوتی ہیں ،جتنا آپ نے ان کو بنا دیا ہوتا ہے ،اور وہ ساری زندگی کا اک حصہ ہوتی ہیں ۔ساری زندگی نہیں ہوتی ،بندہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ ساری کی ساری میری زندگی ہے اور وہ  برباد ہو گئی تباہ ہو گئی۔

اشفاق احمد زاویہ سے اقتباس 

" نا شکری "

پیارے بچو! ہم سارے موسموں سے اس لیے پیار کرنا شروع کر دیں کہ گرمی سے گندم پکتی ہے ۔ چونسا اور لنگڑا پک کر آتا ہے ۔ یہ کس قدر مہربان موسم ہے ۔ سردی میں مونگ پھلی کے نظارے ہیں بادام اور چلغوزہ تیار ہوگا بارش برسے گی تو دریاؤں نہروں میں پانی آئے گا ۔ کھیت سر سبز ہوں گے خوشحالی آئے گی ۔ کہیں کہ خزان کتنی اچھی ہے بہار کی نوید لاتی ہے ۔
ہم بجائے کسی بات کے نیگیٹو لینے کے پازیٹو لینا شروع کر دیں اور آدھے خالی دریا کو آدھا بھرا دریا کہنا شروع کر دیں تو جو بہتری ممکن ہے وہ ہمارے کئی منصوبوں اور اسکیموں سے بھی نا ممکن ہے ۔ 
اشفاق احمد زاویہ 3  نا شکری کا عارضہ صفحہ 15