دھرتی کے رشتے

میں بڑی درد مندی سے اور بڑے دکھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ ہم نے اپنے ساتھ کیا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اپنے رشتوں کو پہچاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ بات ہمیں بڑی ہی خوفناک جہنم کی طرف لیے چلی جا رہی ہے۔ میرے گھر کے باہر لگا ہوا شہتوت کا درخت میرا دوست، میرا عزیز اور رشتہ دار ہے اور وہ فاختائیں جو ہماری منڈیر پر آتی ہیں، میں انہیں جانتا ہوں۔ وہ مجھے جانتی ہیں لیکن میں انسانوں کو نہیں پہچانتا۔ میں ان سے دور ہو گیا ہوں۔ میں ان کے ساتھ ایک عجیب طرح کی نفرت میں مبتلا ہو گیا ہوں۔ بہار کے موسم میں جب بہار اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہوتی ہے اور گرمیوں کا شروع ہوتا ہے اس وقت ایک سہارا ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ وہ برکھا رُت کا سہارا ہوتا ہے۔ ساون کا سہارا ہوتا ہے کہ بارشیں آئیں گی، مینہ برسیں گے اور پھر ہم جسمانی طور پر نہ سہی ذہنی طور پر پورے کے پورے برہنہ ہو کر برستی ہوئی بارشوں میں نہائیں گے اور پھر سے اپنے پیارے بچپن میں پہنچ جائیں گے۔ پچھلے دنوں تمام عالم میں “ Water Day “ منایا گیا۔ سنا ہے کہ دنیا سے پانی کم ہو رہا ہے۔ یہ بڑی خوفناک سی بات ہے۔ باوصف اس کے کہ انسان کی خدمت کے لیے سارے پہاڑ، بڑی بڑی کروڑوں ٹن کی پگڑیاں باندھے ہر روز صبح اٹھ کر سورج کی خوشامد کرتے ہیں کہ خدا کے واسطے دو تین کرنیں ہماری طرف پھینکو ہم نے انسانوں کو پانی بھیجنا ہے۔ ہمارے بابا اور بزرگ بتاتے ہیں کہ جتنی بھی بے جان چیزیں ہیں یہ انسان کی خدمت کے لیے دیوانہ وار چل رہی ہیں۔ آدمی آدمی کی خدمت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے لیکن سورج بہت پریشان ہے وہ کہتا ہے کہ میری ساری کرنیں لے لو لیکن اے پہاڑو انسان کو کسی نہ کسی صورت پانی پہنچنا چاہیے۔ ایک ہمارا مزدور بابا ہے وہ مجھے کہتا ہے کہ اشفاق صاحب آپ کو پتہ نہیں ہے کہ صبح کے وقت سطح کے اوپر سوئی گیس ہوتی ہے۔ وہ نیچے کی سوئی گیس کو آواز دے کر کہتی ہے کہ “ لڑکیو جلدی کرو اوپر کی طرف آؤ۔ لوگوں نے ناشتے بنانے ہیں۔ باہر نکلو اور انسانوں کی خدمت کرو۔“ وہ گیس پھر فٹا فٹ نکلتی چلی آتی ہے لیکن انسان بے چارہ اپنے ساتھیوں کی خدمت نہیں کرتا۔

جب ہم یہ پروگرام کر رہے ہیں اور آپ یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں اس وقت بہاولپور سے بکریوں کا ایک ریوڑ چلتا ہوا ملتان کی طرف آ رہا ہے اور چھوٹے چھوٹے پٹھوروں (بکری کے کمسن بچے) کی مائیں اور لیلوں ( بھیڑ کے ننھے بچے) کی مائیں اونچی آواز میں کہہ رہی ہیں کہ بچو جلدی جلدی قدم اٹھاؤ صبح جا کر ذبح ہونا ہے اور ہمارا گوشت لاہور تک جانا ہے۔ پتوکی، ساہیوال اور کئی جگہوں پر جانا ہے اس لیے جلدی جلدی ملتان پہنچو۔ وہ کہتے ہیں کہ اماں چل تو رہے ہیں آپ ہمیں اور تیز چلنے پر کیوں مجبور کرتی ہیں۔ آگے سے وہ جواب دیتی ہیں کہ ہم انسان کی خدمت پر معمور ہیں۔ اس طرح جتنے بھی جمادات، حیوانات اور اللہ کی جتنی بھی مخلوق ہے وہ ساری کی ساری انسان پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے اور روز قربان ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جب میں نے ملتان کا ذکر کیا تو مجھے خیال آیا کہ پاکستان کے اندر جتنے بھی ثمر بہشت یا آموں کی دوسری قسمیں موجود ہیں آج تک کسی آم نے خود کو چوس کر نہیں دیکھا۔ کبھی اپنی مٹھاس خود محسوس نہیں کی۔ اپنا سارا کا سارا وجود انسان کو دے دیا ہے۔ بس یہ تو ہماری بدقسمتی ہے کہ انسان انسان کے ساتھ والی محبت اور پیار نہیں کرتا جیسی کہ بے جان چیزیں رکھتی ہیں۔ جب پانی کا دن منایا گیا اور اس خوف کا اظہار کیاگیا کہ پانی آئندہ اور کم ہو جاۓ گا تو مجھے اپنے بچپن کا وہ ساون یاد آ گیا جب ہم نیکریں پہن کر بے تحاشا بھاگا کرتے تھے اور اپنے گاؤں کی گلیوں کے چکر لگایا کرتے تھے اور اوپر سے پانی برسا کرتا تھا۔ ہم خوشی سے گاتے :


کالیاں اِٹاں، کالے روڑ مینہ برسا دے زور و زور

ہمیں ان باتوں کا مطلب نہیں آتا تھا لیکن ہم بس گایا کرتے تھے۔ ہماری جو چھوٹی بہنیں تھیں وہ اپنی گڑیا جو انہیں بہت پیاری ہوتی ہے اسے لے کر روتی ہوئیں پانچ چھ کے تعداد میں آنسو بہاتی ہوئی چلتی تھیں اور موتی میں لپٹی ہوئی پیاری گڑیا کو ماتھے سے لگا کر جلا دیتی تھیں اور وہ قافلہ بارش کی دعا مانگتا ہوا اور روتا ہوا چلتا تھا اور یہ گاتا تھا :

تُو دس وے بدلا کالیا اساں گُڈی پٹولا ساڑیا

(یہ ایک طرح کا بچوں کا شگون تھا کہ اس طرح گڑیا اور کپڑے سے بنے کھلونے جلانے سے بارش آ جاتی ہے)۔

وہ چھوٹی چھوٹی پیاری بچیاں انسانوں کے سکھ کے لیے اللہ میاں سے دعا کرتی تھیں حالانکہ انہیں بارش کے فائدے یا نقصان کا علم نہیں تھا۔ اب پانی کی کمی کا دکھ بہت زیادہ خوف پیدا کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اے اللہ میرے پوتے اور نواسے اس برکھا رُت سے واقف نہیں ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں ساون کیا ہوتا ہے۔ انہیں معلوم نہیں سڑک کے کنارے کس طرح مینڈک آ کر بیٹھتے ہیں۔ کیسے مینڈکوں کی آوازیں آتی ہیں اور وہ سخت بارش کے بعد کس طرح سے آوازیں نکالتے ہیں۔

میں جب پانچویں چھٹی میں ہوتا تھا مینڈک کی آواز کو بڑی اچھی طرح سمجھتا تھا اور مجھے پتہ ہوتا تھا کہ اب مینڈکیاں بولی ہیں اور اب یہ مینڈک بولے ہیں۔ اب بڑے سائز کے مینڈک بولے ہیں۔ اب درمیانے سائز کے مینڈک بولے ہیں اور وہ قطار در قطار بیٹھے بولنا شروع کر دیتے تھے۔ جب ہم سکول جاتے تھے تو میری پھوپھی کہا کرتی تھیں کہ “ اشفاق جاتے ہوۓ ڈڈواں (مینڈکوں) نوں سلام کر کے جانا۔“

ہمارا ڈڈو کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ تھا اور ہم سکول جاتے ہوۓ پھوپھی کے حکم کے مطابق “ڈڈو سلام، ڈڈو سلام “ کہہ کر جاتے تھے اور وہ سڑک کنارے بیٹھے ہوۓ ایک آواز نکالتے تھے ۔ اس زمانے میں ہم مینڈکوں کی بولی جاننے کی بھی کوشش کیا کرتے تھے اور ہم سے جو سینئر سٹوڈنٹ ہوتے تھے وہ ہمیں بتاتے تھے کہ جب بڑا مینڈک بولتا ہے تو وہ کہتا ہے :

“ ویاہ کریے، ویاہ کریے “ پھر مینڈکیاں بولتیں “ کدوں تک، کدوں تک“ پھر مینڈکیاں ایک دوسرے سے کہتیں : “ نیوندرا پائیے، نیوندرا پائیے“ اور ساتھ ہی چھوٹی مینڈکی کہتی : “ کناں کناں کناں “ اور ایک بوڑھا ڈڈو بولتا اور کہتا : “ ٹکا، ٹکا، ٹکا، ٹکا “

اس طرح ایک پوری بولی ہوتی تھی جو ہم جانتے تھے اور مزید جاننے کو کوشش کرتے تھے۔ وہ خوبصورت زندگی ہوتی ہے جس سے ہم محروم ہو گۓ ہیں۔ ہم نے تو اب قتل و غارت گری کو اپنا لیا ہے۔ ہم کیا چڑیوں اور مینڈکوں سے ملیں گے۔ میرے گھر کے باہر جو شہتوت کا درخت ہے وہ پاکستان کا باشندہ ہے۔ وہ میرا عزیز ترین ہے لیکن میری آنکھیں اتنی غیر ہو گئی ہیں اور میرے دیدے بے نور ہو گۓ ہیں اور میں نے تو انسانیت سے محبت کرنی چھوڑ دی ہے۔ اس پیارے شہتوت کے ساتھ اور فاختاؤں کے ساتھ کیسے محبت کروں گا۔ ہم ہر روز ایسی ایسی خبریں پڑھتے ہیں جن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ آخر ہمیں ہو کیا گیا ہے۔ یہ کون ایسا ظالم ہے جس نے ہمارے اندر سے محبت اور شیرینی کی ساری خوشیاں اور انداز چھین لیے ہیں اور چاشنی چاٹ لی ہے۔

خواتین و حضرات یہ علاقے اور خطے جو ہوتے ہیں یہ انسان کی پہچان بنتے ہیں اور انسان ان خطوں کی پہچان بنتے ہیں۔ ہم علاقوں کو رسلے انسان، سنجیلے انسان اور غصیلے انسان کے طور پر دیکھتے ہیں اور جس طرح کے انسان ہوتے ہیں اس خطے کے بارے میں بھی ویسا یہ تاثر قائم کر لیا جاتا ہے۔ نباتات، جڑی بوٹیاں، اللہ کی طرف سے خود رو اگنے والے پودے اور جو ہم کوشش سے اگاتے ہیں ان کا بھی ہمارے ساتھ ایک رشتہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ گلاب چواسیدن شاہ کا ہے۔ اس سے اچھا گلاب دنیا میں کہیں نہیں اگتا۔ ترکی والے اپنے گلاب کے بہترین ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں اور وہاں کا گلاب ساری دنیا میں مشہور ہے۔ ان کی دنیا بھر میں گلاب کی بہت بڑی سپلائی ہے۔ میں نے ان کے گلابوں کے کھیتوں کو بھی دیکھا ہے۔ لیکن چواسیدن شاہ کا گلاب منفرد ہے۔ میں یہ اس لیے نہیں کہتا ہوں کہ میرا اور میرے پیارے وطن کا گلاب ہے بلکہ اس لیے کہ وہ بہت ہی اعلٰی درجے کا ہے۔ آپ نے قصور کی میتھی سنی ہو گی۔ وہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ میں چیخ چیخ کر کہتا ہوں کہ میرے پیارے سیالکوٹ کے رہنے والو، وہ گنا کہاں گیا جو اتنا نرم اور میٹھا ہوتا تھا کہ جی چاہتا کہ چوستے ہی رہیں۔ انسان کا علاقے اور جگہ کا رشتہ انسان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ میں صرف اپنے رشتہ داروں سے وابستہ ہوں۔ میرے اور کئی عزیز اور میرے بہت ہی قریبی عزیز ہیں۔ میرے صرف مسلمان، پارسی، شیعہ، سُنی، بابری، عیسائی، میگوار، گیری ہی عزیز و اقارب نہیں ہیں بلکہ وہ جانور بھی میرے عزیز رشتہ دار ہیں یہ مینا، اونٹ، فاختائیں، درخت، کیکر، شہتوت، طوطے بھی رشتہ دار ہیں۔ جب میں ایک پودا زمین میں بوتا ہوں تو میں اس کے ساتھ اپنے آپ کو بھی بوتا ہوں۔ کبھی آپ غور کر کے دیکھ لیں کہ وہ پودا بونے کے بعد میرے اندر بھی اس کی نشوونما شروع ہو جاتی ہے۔ جب آپ کسی چڑی مار سے طوطا لے کر اڑاتے ہیں اور وہ ٹیں ٹیں کرتا ہوا گھر کو جاتا ہے تو آپ بھی گھر کو جاتے ہیں۔ جب طوطا گھر پہنچ جاتا ہے تو آپ کی روح اور وجود بھی سکون کے گھر میں پہنچ جاتا ہے۔ لیکن میں ایک نہایت درد ناک انداز میں اور آنسو پی کر یہ بات کروں گا کہ ہم اس علاقے کے لوگ تو بڑی محبت کرنے والے لوگ تھے۔ سندھ اور پانچ دریاؤں کے علاقے کے لوگ تو محبتیں بانٹنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں کیا ہو گیا ہے۔ آج سے بیس پچیس برس پہلے جب ہمارے لسانی جھگڑے ہوۓ تو یہاں کے جو پرانے اور ان پڑھ لوگ تھے وہ کہتے تھے کہ سندھ میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ تو سائیں لوگ ہیں، پیارے لوگ ہیں۔ وہ کیسے جھگڑ سکتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو بہت سمجھاتے تھے لیکن وہ کہتے تھے کہ نہیں لسانی جھگڑے نہیں ہیں۔ ہم سے کوئی اور غلطی ہو گئی ہے۔ یہ غلطی کسی اور بندے کی ہے۔ وہاں تو درگاہوں پر گانے والے لوگ ہیں جو سلام کرنا اور رکوع میں جانا جانتے ہیں وہ کبھی ظلم نہیں کر سکتے۔ مجھے اس بات کا دکھ ہوتا ہے۔ خدا کے واسطے اس بات کو شدت سے محسوس کریں۔ گھروں سے نکل کر ہم نے زندہ رہنا کیوں چھوڑ دیا ہے۔ ہم ایک خوفزدہ قوم بن کر رہ گۓ ہیں۔ ہر وقت ڈر کے ساتھ وابستہ ہیں اور ٹوٹتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے روٹھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ میری آپا زبیدہ جو جہلم میں رہتی تھیں وہ بچوں کو تعلیم دیتی تھیں۔ بہت معروف ہستی تھیں۔ ان کے ملنے والی ایک خاتون تھیں یہ کوئی دس بارہ برس پہلے کی بات ہے۔ میں وہاں جہلم گیا تو وہ دونوں سہیلیاں وہاں گھر پر تھیں۔ وہاں آپا زبیدہ کی ملازمہ بی بی صغریٰ تھیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ دونوں کے گھر پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ اور یہ بی بی صغریٰ باوصف اس کے کہ کوئی علم نہیں رکھتی اور پڑھی لکھی نہیں ہے لیکن اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ بڑی آپا کہنے لگیں کہ ہاں اللہ رحیم و کریم ہے۔ وہ فضل کرنے والا ہے۔ اللہ رحٰمن ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ وہ کہنے لگی کہ میں اپنے بارے میں تو کچھ کہہ سکتی ہوں صغریٰ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتی کہ یہ بہشت میں جاۓ گی یا نہیں۔


خواتین و حضرات یہ پہلا موقع تھا کہ جب میں نے ان میں ایک شگاف اور خلیج محسوس کی کہ انسان کے اندر اس قدر قریب رہتے ہوۓ بھی اس قدر شگاف پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن کبھی اللہ ہم کو استطاعت دے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دے اور ہم اپنے بہت قریب دیکھ سکیں۔ آپ کو یہ بات سن کر بہت عجیب لگے گی کہ بہت سے ندی نالے اور پلیں بھی ہماری رشتہ دار ہیں۔ جب کبھی آپ ٹرین سے جاتے ہوۓ خالی پل یا نالے پر سے گزرتے ہیں تو اس کی جو Sound آپ کو محسوس ہوتی ہے وہ بڑے معانی اور مطالب لے کر آتی ہے اور وہ آپ سے بات کرتی ہے۔ اس کی وہ آواز صرف آپ ہی کے لیے ہوتی ہے۔ کبھی آپ آدھی رات کو اونچی آواز دے کر دیکھیں کسی سنسان جگہ پر تو اس کی صداۓ بازگشت آپ تک پھر لوٹ کر آۓ تو پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اندھیری رات کی آواز کیا ہوتی ہے اور دن کے وقت وہ آواز کیا ہوتی ہے۔ یہ گانے والے، راگ کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ٹکراتی ہوئی آواز اور ڈائریکٹ آواز میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ میرے منہ سے آنے والی اور لوٹ کر آنے والی آواز بھی میری ہے اور ہم ایک رشتے میں بندھے ہوۓ ہیں۔ خدا کے واسطے سمجھنے کو کوشش کریں کہ ہم نے اپنے ساتھ یہ کیا کرنا شروع کر دیا ہے؟ اور کیوں کرنا شروع کر دیا ہے؟ اس کے پیچھے کون آدمی ہے؟

آپ اپنے رشتوں کو پہچاننے کو کوشش کریں اور انسانوں کے ساتھ یہ ایک عجیب طرح کی نفرت کا رحجان ہے۔ ہم اس مرض میں مبتلا کیوں ہو گۓ ہیں۔ پچھلے دنوں ملتان کے ایک بینک میں ایک اکاؤنٹ میں دردانہ عزیز احمد کے نام کا چیک آیا۔ بینک والوں نے اس چیک کو پاس کر دیا پھر اس کے ساتھ ہی اس پاس کرنے والے نے کہا کہ یہ دستخط تو دردانہ عزیز کے ہی ہیں لیکن اس پر جو اکاؤنٹ نمبر درج ہے یہ وہ نہیں ہے۔ پچھلے چیک انہوں نے نکال کر دیکھے ان میں سیاہی کا رنگ بھی وہی تھا اور دستخط بھی وہی تھے۔

اب تحقیق شروع ہو گئی یہ کیسے ممکن ہے۔ بعد ازاں پتہ یہ چلا کہ کہیں گڑبڑ نہیں ہوئی مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس بینک میں دو دردانہ عزیز ہیں۔ اب جو چیک آیا ہے یہ اس کا نہیں ہے جس کا خیال کیا جا رہا تھ۔ بینک منیجر نے مزید تصدیق کے لیے اور آئندہ کوئی غلطی کا احتمال نہ رہ جانے کی وجہ سے دونوں کو بینک بلایا۔ وہ دونوں بینک آئیں۔ منیجر نے مجھے بتایا کہ جب وہ دونوں بینک میں داخل ہوئیں تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گۓ کہ ان دونوں کا قد ایک جیسا تھا اور دونوں نے تقریباً ایک جیسے کپڑے پہن رکھے تھے۔ ایک ذرا سی گوری تھی اور دوسری کا رنگ ذرا گندمی تھا۔ ان کے دستخط بالکل ایک دوسری کے ساتھ ملتے تھے اور جو نیلے رنگ کی سیاہی ایک استعمال کرتی تھی، دوسری بھی وہی رنگ استعمال کرتی تھی۔ ان کی کاریں بھی ایک ہی ماڈل، ایک ہی کمپنی اور ایک ڈیزائن کی تھیں۔ بس ان کی کاروں کے نمبر میں فرق تھا۔ ایک کا گاڑی کا نمبر MN 1715 تھا جبکہ دوسری کی کار کا نمبر MN 1571 تھا۔ وہ دونوں بھی ایک دوسری سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور وہ آپس میں سہیلیاں بن گئیں۔ دونوں کے خاوندوں کا نام بھی عزیز احمد تھا، دونوں چشتیہ سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔

اللہ فرماتا ہے کہ “ اے لوگو ایک دوسرے کے قریب آ جاؤ اور ایک دوسرے کو اپنے رشتہ دار جانو۔“

خواتین و حضرات ! کسی نہ کسی حوالے سے اور کسی نہ کسی طریقے سے ہم ایک دوسرے کے رشتہ دار تو ہیں آخر۔

ہم جتنی بھی بھاگنے کی کوشش کریں ہم نے آخر کار تو بابا آدم تک ہی جانا ہے۔ ہمارا حساب “ ڈارون “ کے حساب کی طرح نہیں ہے بلکہ ہمیں لوٹ کر وہیں جانا پڑتا ہے جہاں سے چلے تھے۔ ہم اب اس برکھا رُت کی دعا کرتے ہیں اور اللہ سے فریاد کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے لیے ویسی ہی بارشیں بھیج جیسی بارشوں میں ہم گلی محلوں اور کھیتوں میں بھاگا کرتے تھے۔ وہ ساون بھیج جس ساون میں ہم “ پوڑے “ (میٹھی روٹیاں) پکایا کرتے تھے۔ وہ موسم عطا فرما جس کی تلاش میں ہم انتظار کی آنکھیں پھاڑ کر بیٹھا کرتے تھے۔ یہ ساری چیزیں ہم سے ناراض ہو گئی ہیں۔ ان کو ہم سے پھر سے ملا دے اور ٹوٹے رشتے بحال کر دے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر دست بستہ رکوع میں جا کر یہ کہا جاۓ کہ “ اے پروردگار تو ہمارے موسموں کو پھر ہمارے پاس لا دے۔ ہمیں وہی پانی دے جو ہم کو شیرینی اور ٹھنڈک عطا کرتے ہیں اور ہماری فصلیں پکاتے ہیں۔“

لیکن یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب انسان انسان کے اتنا ہی قریب آۓ جس قدر آنے کی ضرورت ہے۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور میری بڑی آرزو ہے کہ اللہ ان آسانیوں کو تقسیم کرنے کا بھی شرف عطا فرماۓ تا کہ ہم لوٹ کر پھر اس انسانی مقام پر پہنچ سکیں جہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ اللہ حافظ۔
بشکریہ: اردو لائبریری
ٹائپنگ: شمشاد
پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود